20% OFF

تفہیم سنت

مصنف: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

Rs: 1,600 Rs: 1,920
نام کتاب: تفہیمِ سنت
مصنف علامہ غلام مصطفی ظہیر محدث امن پوری حفظہ اللّٰہ۔
آج کے دور میں جب احادیثِ نبویہ پر شکوک و شبہات، اعتراضات اور ظاہری تعارضات کو بنیاد بنا کر سنتِ رسول ﷺ کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، ایسے ماحول میں تفہیمِ سنت ایک نہایت اہم، بروقت اور وقیع علمی کاوش ہے۔یہ کتاب بنیادی طور پر مشکل الحدیث پر مبنی ہے۔
احادیثِ رسول ﷺ پر وارد کیے جانے والے اشکالات،
دو ظاہری متعارض روایات یا دلائل کے باہمی تعارض،
اور منکرینِ حدیث یا متجددین کے شبہات۔۔۔۔
ان سب کا دلائلِ شرعیہ، فہمِ سلف اور علمی تحقیق کی روشنی میں مدلل اور مسکت جواب دیا گیا ہے۔
کتاب کے اسلوب کے بارے میں فاضل مصنف لکھتے ہیں:
"کتاب ہذا میں ہم نے کچھ ایسے مضامین کا ذکر کیا ہے جو سلف کے ہاں طے ہو چکے ہیں اور ان پر کچھ لوگوں نے اعتراضات کیے ہیں ویسے تو محدثین کے علم کے خلاف ہونا ہی ان کے غلط ہونے کو کافی ہے لیکن ساتھ ہم نے تحقیقی بحث بھی کر دی ہے تاکہ کوئی فہم سلف کے عظیم قاعدے کو تقلید محض سے جوڑنے کی غلطی نہ کر بیٹھے۔
کتاب سوال جواب کے انداز میں لکھی گئی ہے اور وہ تمام اشکالات جو احادیث کے بارے میں شکوک وشبہات کے جواب کیلئے دقیق علمی بحث کی بجائے عام فہم انداز اختیار کیا گیا ہے تاکہ علماء و طلباء کے ساتھ ساتھ عام قاری بھی مستفید ہوسکے۔
کتاب 𝟐𝟎 ابواب پر مشتمل ہے:
1-قرآنیات، 2-حجیت حدیث ، 3-انبیاء کرام ، 4-عقائد، 5-قیامت ، 6-فضائل، 7-نماز، 8-مسائلِ طہارت ، 9-جنائز ،10-روزہ ، 11-حلال و حرام ،12-کھانے پینے کا بیان، 13-جہاد ،14-نکاح ،15-حج، 16-حدود، 17-وراثت، 18-اذکار اور دعائیں،19-مسائل زکوۃ،20-متفرقات۔
بطور نمونہ چند اہم سوالات.
پہلا باب: قرآنیات۔
کیا نسخ کو ماننے سے قرآن میں نقص لازم آتا ہے؟
کیا سیدنا عثمان ؓ نے قرآن جلایا؟
بعض ملحدین کہتے ہیں کہ سورۃ فلق اور سورۃ ناس قرآن کا حصہ نہیں تھیں بلکہ یہ دم کے لیے پڑھی جاتی تھی مگر بعض لوگوں نے غلطی سے قرآن کریم کا حصہ بنا دیا اصلا یہ قران کریم نہیں ہے اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
دوسرا باب: حجیت حدیث
کیا خبر واحد سے بھی احکام شرعیہ ثابت ہوتے ہیں؟
اگر نبی کریمﷺ سے دو صحیح احادیث معارض معلوم ہوں تو جمع و توفیق کی کیا صورت ہے؟
تیسرا باب: انبیائے کرام علیہم السلام۔
کیا آزر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے یا چچا؟
سفر معراج پر انبیاء سے ملاقات کیسے؟
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کی آنکھ پھوڑ دینا؟ سیدنا سلیمان علیہ السلام کی کتنی بیویاں تھیں؟
نیک خواب نبوت کا جزو۔۔۔کیسے؟
کیا نوح علیہ السلام کی بعثت تمام اہل زمین کی طرف تھی؟۔
نزول عیسی علیہ السلام پر ایک شبہ کا ازالہ۔
چوتھا باب: عقائد۔
وجود باری تعالی
عقیدہ وحدت الوجود
عقیدہ حلول
کیا ابو طالب نے مرتے دم تک کلمہ نہیں پڑھا؟
عقیدہ تناسخ پر استدلال کا جائزہ۔
سلسلہ ولایت کی حقیقت
ساتواں باب نماز:
سیدنا بلال ؓ کو اکہری اذان اور اقامت کا حکم کس نے دیا؟
نبی کریمﷺ کا نواسی کو کندھوں پر اٹھا کر نماز پڑھنا
کیا نماز عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا نبی کریمﷺ کا خاصہ ہے؟
بعض کہتے ہیں کہ اگر شق قمر ہوا تھا تو اسے متواتر نقل کیوں نہ کیا گیا حالانکہ چاند ساری زمین پر دو ٹکڑے دکھایا گیا۔
نبی کریمﷺ پر جادو ہونا عصمت کے خلاف نہیں۔
جاوید احمد غامدی صاحب نے کہا ہے کہ آدم کو جنت میں کسی درخت کا پھل کھانے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ ایک وقت تک تناسل سے منع کیا گیا کہ وہ ایک عرصہ تک ازدواجی تعلقات قائم نہ کریں اس کی کیا حقیقت ہے ؟
نواں باب جنائز:
سیدہ ام کلثوم ؓ کی قبر میں سیدنا عثمان ؓ کیوں نہ اترے؟ منکرین عذاب قبر کے شبہ کا ازالہ
کیا عذاب قبر صرف زمین میں مدفون شخص کو ہوتا ہے؟
چودھواں باب نکاح:
عورت کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لکھوانا
حلالہ سے عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوتی
بیسواں باب:متفرقات:
یعفور نامی گدھا جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ باتیں کیا کرتا تھا۔۔اس روایت کی مکمل تحقیق۔
سوال:کیا سیدنا عثمان ؓ نے قرآن جلایا؟.کیا یہ قرآن کی بے حرمتی نہیں؟؟
جواب سیدنا عثمان ؓ بن عفان سے قرآن کریم جلانا ثابت نہیں یہ آپ پر بعض لوگوں کا اتہام ہے آپ جامع القران ہیں۔ سیدنا عثمان ؓ نے قرآن کو نہیں جلایا بلکہ قران کے وہ نسخے جلائے جو زوائد تھے اور امت کو ایک مصحف پر جمع کر دیا۔ ایسا انہوں نے قرآن کی حفاظت و صیانت کے لیے کیا۔ آپ نے مصحف کو مختلف علاقوں میں نشر کیا لہذا سیدنا عثمان ؓ قرآن کو پھیلانے والے تھے نہ کہ مٹانے والے۔
علامہ ابن بطال (449ھ) فرماتے ہیں:
فِي أَمْرِ عُثْمَانَ بِتَحْرِيقِ الصُّحُفِ وَالْمَصَاحِفِ حِينَ جَمْعِ الْقُرْآنِ جَوَازُ تَحْرِيقِ الْكُتُبِ الَّتِي فِيهَا أَسْمَاءُ اللَّهِ تَعَالَى، وَأَنَّ ذَلِكَ إِكْرَامٌ لَهَا وَصِيَانَةٌ مِنَ الْوَطْءِ بِالْأَقْدَامِ وَطَرْحِهَا فِي ضِيَاعٍ مِنَ الْأَرْضِ.
قرآن کو کتابی شکل میں جمع کرنے کے بعد سیدنا عثمان ؓ کا بقیہ تمام صحائف کو جلا دینے کا حکم دینے میں جواز ہے کہ ان کتب کو جلانا جائز ہے جن میں اللہ کے نام درج ہوتے ہیں یہ ان کتب کی عزت اور پاؤں میں روندے جانے سے حفاظت ہے۔ نیز یہ بھی جائز ہے کہ ان کتب کو غیر آباد زمینوں کے سپرد کر دیا جائے"
(شرح صحیح بخاری10/226)
علامہ زرکشی رحمۃ اللہ علیہ (794ھ) نقل کرتے ہیں:
أَمَّا تَعَلُّقُ الرَّوَافِضِ بِأَنَّ عُثْمَانَ أَحْرَقَ الْمَصَاحِفَ، فَإِنَّهُ جَهْلٌ مِنْهُمْ وَعَمًى، فَإِنَّ هَذَا مِنْ فَضَائِلِهِ وَعِلْمِهِ، فَإِنَّهُ أَصْلَحَ وَلَمَّ الشَّعَثَ، وَكَانَ ذَلِكَ وَاجِبًا عَلَيْهِ، وَلَوْ تَرَكَهُ لَعَصَى لِمَا فِيهِ مِنَ التَّضْيِيعِ، وَحَاشَاهُ مِنْ ذَلِكَ.
أَمَّا قَوْلُهُمْ إِنَّهُ أَحْرَقَ الْمَصَاحِفَ، فَإِنَّهُ أَحْرَقَ مَصَاحِفَ قَدْ أُودِعَتْ مَا لَا يَحِلُّ قِرَاءَتُهُ، وَفِي الْجُمْلَةِ إِنَّهُ إِمَامُ عَدْلٍ غَيْرُ مُعَانِدٍ، وَلَا طَاعِنٍ فِي التَّنْزِيلِ، وَلَمْ يُحْرِقْ إِلَّا مَا يَجِبُ إِحْرَاقُهُ، وَلِهَذَا لَمْ يُنْكَرْ عَلَيْهِ أَحَدٌ ذَلِكَ.
روافض کا یہ اعتراض کہ سیدنا عثمان ؓ نے مصاحف کو جلا دیا تھا تو ان کی جہالت اور اندھا پن ہے کیونکہ یہ تو سیدنا عثمان ؓ کے فضائل اور علم میں سے ہے کہ انہوں نے اصلاح کی اور بکھرے ہوئے کو جمع کیا ایسا کرنا ان پر واجب تھا اگر وہ نہ کرتے تو گنہگار ٹھہرتے کیونکہ اس میں قرآن کا ضیاع ہے اور وہ ہرگز ایسا نہ ہونے دیتے۔۔۔۔ روافض کا یہ کہنا کہ سیدنا عثمان ؓ نے مصاحف کو جلا دیا۔۔۔۔۔ (تو اس کا جواب یہ ہے کہ) سیدنا عثمان نے قرآن کے ان نسخوں کو جلایا جن کو پڑھنا درست نہ تھا۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیدنا عثمان ؓ عادل خلیفہ تھے قرآن کریم کے دشمن یا اس پر طعن کرنے والے نہ تھے آپ نے قرآن کے انہی نسخوں کو جلایا جن کو جلانا واجب تھا اسی لیے کسی نے سیدنا عثمان ؓ کے اس عمل پر انکار نہیں کیا۔
(تفہیم سنت ص33، البرھان فی علوم القرآن 1/240)
اس طرح کتاب ھٰذا میں 𝟐𝟓𝟏 سوالات کی شکل میں علم کا ایک وسیع ذخیرہ قارئین کے ذوق کی نظر کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی شیخ محترم کے علم و عمل میں مزید برکتوں کا نزول فرمائے۔ صحت و عافیت والی لمبی زندگی نصیب فرمائے۔علماء،طلباء اور محققین کیلئے یوں ہی علمی جواہر پارے پیش کرتے رہیں۔آمین۔
Rs: 1,600

دیگر کتب (Other Books)