|
|
فہم دین پروگرام
غیر اللہ سے مدد مانگنا / فوت شدگان کو پکارنا
غیراللہ سے مدد
«الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم»
قرآن کریم میں ااہل ایمان کو اللہ عزوجل نے تعلیم فرمایا کہ وہ اس بات کا اقرار و اظہار کرتے رہیں کہ:
﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ [5] ﴾
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں [5]
[سورۃ فاتحہ 1، آیت نمبر: 5]
نہ عبادت اللہ کے سوا کسی اور کی جائز ہے اور نہ مدد مانگنا کسی اور سے جائز ہے۔ ان الفاظ سے شرک کا سدباب کردیا گیا لیکن جن کے دلوں میں شرک کا روگ راہ پا گیا ہے وہ ما فوق الاسباب اور ما تحت الاسباب استعانت میں فرق کو نظر انداز کر کے عوام کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم بیمار ہوجاتے ہیں تو ڈاکٹر سے مدد حاصل کرتے ہیں بیوی سے مدد چاہتے ہیں ڈرائیور اور دیگر انسانوں سے مدد کے طالب ہوتے ہیں اس طرح وہ یہ باور کراتے ہیں کہ اللہ کے سوا اوروں سے مدد مانگنا بھی جائز ہے۔ حالانکہ اسباب کے ما تحت ایک دوسرے سے مدد چاہنا اور مدد کرنا یہ شرک نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ جس میں سارے کام ظاہر اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں حتی کہ انبیاء بھی انسانوں کی مدد حاصل کرتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (من انصاری الی اللہ) اللہ کے دین کیلئے کون میرا مددگار ہے؟
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فرمایا:
﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰي [2] ﴾
نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرو [2] [سورۃ المائدۃ 5، آیت نمبر: 2]
ظاہر بات ہے کہ یہ تعاون ممنوع ہے نہ شرک بلکہ مطلوب و محمود ہے۔ اسکا اصطلاحی شرک سے کیا تعلق؟ شرک تو یہ ہے کہ ایسے شخص سے مدد طلب کی جائے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے مدد نہ کرسکتا ہو جیسے کسی فوت شدہ شحص کو مدد کے لیے پکارنا اس کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا اسکو نافع وضار باور کرنا اور دور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے کی صلاحیت سے بہرہ ور تسلیم کرنا۔
اسکا نام ہے مافوق الاسباب طریقے سے مدد طلب کرنا اور اسے خدائی صفات سے متصف ماننا اسی کا نام شرک ہے جو بدقسمتی سے محبت اولیاء کے نام پر مسلمان ملکوں میں عام ہے۔
توحید کی تین قسمیں۔
اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی تین اہم قسمیں بھی مختصرا بیان کر دی جائیں۔
یہ قسمیں ہیں
توحید ربوبیت۔ توحید الوہیت۔ توحید صفات
١۔ توحید ربوبیت کا مطلب کہ اس کائنات کا مالک رازق اور مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہے اور اس توحید کو تمام لوگ مانتے ہیں، حتیٰ کہ مشرکین بھی اس کے قائل رہے ہیں اور ہیں، جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکین مکہ کا اعتراف نقل کیا۔ مثلا فرمایا۔
﴿قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ [31] ﴾
اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین میں رزق کون دیتا ہے، یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان کو کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ (اللہ) (یعنی سب کام کرنے والا اللہ ہے [31]
[سورۃ یونس 10، آیت نمبر: 31]
﴿قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهَآ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ [84] سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [85] قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ [86] سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ [87] قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ [88] سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ فَاَنّٰي تُسْحَرُوْنَ [89] ﴾
پوچھیئے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو؟ [84] فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجیئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے [85] دریافت کیجیئے کہ ساتوں آسمان کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟ [86] وه لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجیئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟ [87] پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟ [88] یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے، کہہ دیجیئے پھر تم کدھر سے جادو کر دیئے جاتے ہو؟ [89]
[سورۃ المؤمنون 23، آیت نمبر: 84-89]
٢۔ توحید الوہیت کا مطلب ہے کہ عبادت کی تمام اقسام کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے اور عبادت ہر وہ کام ہے جو کسی مخصوص ہستی کی رضا کیلئے یا اس کی ناراضی کے خوف سے کیا جائے اس لئے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ صرف یہی عبادات نہیں ہیں بلکہ کسی مخصوص ہستی سے دعا والتجاء کرنا، اسکے نام کی نذر نیاز دینا اس کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا اس کا طواف کرنا اس سے طمع اور خوف رکھنا وغیرہ بھی عبادات ہیں۔ توحید الوہیت یہ کہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور مذکورہ عبادات کی بہت سی قسمیں وہ قبروں میں مدفون افراد اور فوت شدہ بزرگوں کے لئے بھی کرتے ہیں جو سراسر شرک ہے۔
٣۔ توحید صفات کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں انکو بغیر کسی تاویل اور تحریف کے تسلیم کریں اور وہ صفات اس انداز میں کسی اور کے اندر نہ مانیں۔ مثلا جس طرح اس کی صفت علم غیب ہے، یا دور اور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے پر وہ قادر ہے، کائنات میں ہر طرح کا تصرف کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے، یا اس قسم کی اور صفات الہیہ ان میں سے کوئی صفت بھی اللہ کے سوا کسی نبی ولی یا کسی بھی شخص کے اندر تسلیم نہ کی جائیں۔ اگر تسلیم کی جائیں گی تو یہ شرک ہوگا۔ افسوس ہے کہ قبر پرستوں میں شرک کی یہ قسم بھی عام ہے اور انہوں نے اللہ کی مذکورہ صفات میں بہت سے بندوں کو بھی شریک کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ ایسی اشیاء کے حصول کے لئے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں ہیں،، مخلوق میں سے کسی فرد کو پکارنا شرک ہے اور پھر مردہ کو جو نہ سن سکتا ہے اور نہ جواب دے سکتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ [106] ﴾
اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو جو نہ تجھے نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر تو نے یہ کام کیا تو ظالموں میں شمار ہو گا [106]
[سورۃ يونس 10، آیت نمبر: 106]
اس آ یت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا ہے کہ کوئی غیر اللہ کو اپنی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیے پکارے اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ اللہ کے سوا نہ کوئی کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔
﴿وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [108] ﴾
اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو کسی مصیبت میں مبتلا کر دے تو اس مصیبت کو دور کر نے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں [108]
[سورۃ يونس 10، آیت نمبر: 108]
﴿إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّـهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّـهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ [17] ﴾
بے شک جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، وہ تمھارے لیے رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ پس تم اللہ تعالیٰٰ کے ہاں سے رزق مانگو اور اس کی عبادت کرو [17]
[سورۃ العنكبوت 29، آیت نمبر: 17]
﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّـهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ [5] وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ [6] ﴾
اور ایسے لوگوں سے زیادہ کون گمراہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا ایسے لوگوں کو پکارتے ہیں جو قیامت تک ان کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کی آواز سے بھی بے خبر ہوں [5] اور جب سب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادات سے انکار کر دیں گے [6]
[سورۃ الأحقاف 46، آیت نمبر: 5-6]
اس آ یت سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ غیر اللہ کو حاجت روائی کے لیے پکارنا ان کی عبادت ہے حالانکہ انسان صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
﴿أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ [62] ﴾
”مجبور و بے بس شخص کی دعا کو قبول کرنے والا اور مشکل کو حل کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے؟ [62]
[سورۃ النمل 27، آیت نمبر:62]
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
«واعلم ان الامة لو اجتمعت على ان ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك»
جان لو! اگر ساری امت تجھے نفع پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو نفع نہیں پہنچا سکتی مگر وہ جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے
[سنن ترمذي، حدیث نمبر: 2516]
«الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم»
قرآن کریم میں ااہل ایمان کو اللہ عزوجل نے تعلیم فرمایا کہ وہ اس بات کا اقرار و اظہار کرتے رہیں کہ:
﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ [5] ﴾
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں [5]
[سورۃ فاتحہ 1، آیت نمبر: 5]
نہ عبادت اللہ کے سوا کسی اور کی جائز ہے اور نہ مدد مانگنا کسی اور سے جائز ہے۔ ان الفاظ سے شرک کا سدباب کردیا گیا لیکن جن کے دلوں میں شرک کا روگ راہ پا گیا ہے وہ ما فوق الاسباب اور ما تحت الاسباب استعانت میں فرق کو نظر انداز کر کے عوام کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم بیمار ہوجاتے ہیں تو ڈاکٹر سے مدد حاصل کرتے ہیں بیوی سے مدد چاہتے ہیں ڈرائیور اور دیگر انسانوں سے مدد کے طالب ہوتے ہیں اس طرح وہ یہ باور کراتے ہیں کہ اللہ کے سوا اوروں سے مدد مانگنا بھی جائز ہے۔ حالانکہ اسباب کے ما تحت ایک دوسرے سے مدد چاہنا اور مدد کرنا یہ شرک نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا نظام ہے۔ جس میں سارے کام ظاہر اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں حتی کہ انبیاء بھی انسانوں کی مدد حاصل کرتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (من انصاری الی اللہ) اللہ کے دین کیلئے کون میرا مددگار ہے؟
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فرمایا:
﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰي [2] ﴾
نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرو [2] [سورۃ المائدۃ 5، آیت نمبر: 2]
ظاہر بات ہے کہ یہ تعاون ممنوع ہے نہ شرک بلکہ مطلوب و محمود ہے۔ اسکا اصطلاحی شرک سے کیا تعلق؟ شرک تو یہ ہے کہ ایسے شخص سے مدد طلب کی جائے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے مدد نہ کرسکتا ہو جیسے کسی فوت شدہ شحص کو مدد کے لیے پکارنا اس کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا اسکو نافع وضار باور کرنا اور دور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے کی صلاحیت سے بہرہ ور تسلیم کرنا۔
اسکا نام ہے مافوق الاسباب طریقے سے مدد طلب کرنا اور اسے خدائی صفات سے متصف ماننا اسی کا نام شرک ہے جو بدقسمتی سے محبت اولیاء کے نام پر مسلمان ملکوں میں عام ہے۔
توحید کی تین قسمیں۔
اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی تین اہم قسمیں بھی مختصرا بیان کر دی جائیں۔
یہ قسمیں ہیں
توحید ربوبیت۔ توحید الوہیت۔ توحید صفات
١۔ توحید ربوبیت کا مطلب کہ اس کائنات کا مالک رازق اور مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہے اور اس توحید کو تمام لوگ مانتے ہیں، حتیٰ کہ مشرکین بھی اس کے قائل رہے ہیں اور ہیں، جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکین مکہ کا اعتراف نقل کیا۔ مثلا فرمایا۔
﴿قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ [31] ﴾
اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین میں رزق کون دیتا ہے، یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان کو کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ (اللہ) (یعنی سب کام کرنے والا اللہ ہے [31]
[سورۃ یونس 10، آیت نمبر: 31]
﴿قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهَآ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ [84] سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [85] قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ [86] سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ [87] قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ [88] سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ فَاَنّٰي تُسْحَرُوْنَ [89] ﴾
پوچھیئے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو؟ [84] فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجیئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے [85] دریافت کیجیئے کہ ساتوں آسمان کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟ [86] وه لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجیئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟ [87] پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟ [88] یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے، کہہ دیجیئے پھر تم کدھر سے جادو کر دیئے جاتے ہو؟ [89]
[سورۃ المؤمنون 23، آیت نمبر: 84-89]
٢۔ توحید الوہیت کا مطلب ہے کہ عبادت کی تمام اقسام کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے اور عبادت ہر وہ کام ہے جو کسی مخصوص ہستی کی رضا کیلئے یا اس کی ناراضی کے خوف سے کیا جائے اس لئے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ صرف یہی عبادات نہیں ہیں بلکہ کسی مخصوص ہستی سے دعا والتجاء کرنا، اسکے نام کی نذر نیاز دینا اس کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا اس کا طواف کرنا اس سے طمع اور خوف رکھنا وغیرہ بھی عبادات ہیں۔ توحید الوہیت یہ کہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور مذکورہ عبادات کی بہت سی قسمیں وہ قبروں میں مدفون افراد اور فوت شدہ بزرگوں کے لئے بھی کرتے ہیں جو سراسر شرک ہے۔
٣۔ توحید صفات کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں انکو بغیر کسی تاویل اور تحریف کے تسلیم کریں اور وہ صفات اس انداز میں کسی اور کے اندر نہ مانیں۔ مثلا جس طرح اس کی صفت علم غیب ہے، یا دور اور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے پر وہ قادر ہے، کائنات میں ہر طرح کا تصرف کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے، یا اس قسم کی اور صفات الہیہ ان میں سے کوئی صفت بھی اللہ کے سوا کسی نبی ولی یا کسی بھی شخص کے اندر تسلیم نہ کی جائیں۔ اگر تسلیم کی جائیں گی تو یہ شرک ہوگا۔ افسوس ہے کہ قبر پرستوں میں شرک کی یہ قسم بھی عام ہے اور انہوں نے اللہ کی مذکورہ صفات میں بہت سے بندوں کو بھی شریک کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ ایسی اشیاء کے حصول کے لئے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں ہیں،، مخلوق میں سے کسی فرد کو پکارنا شرک ہے اور پھر مردہ کو جو نہ سن سکتا ہے اور نہ جواب دے سکتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ [106] ﴾
اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو جو نہ تجھے نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر تو نے یہ کام کیا تو ظالموں میں شمار ہو گا [106]
[سورۃ يونس 10، آیت نمبر: 106]
اس آ یت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا ہے کہ کوئی غیر اللہ کو اپنی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیے پکارے اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ اللہ کے سوا نہ کوئی کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔
﴿وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [108] ﴾
اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو کسی مصیبت میں مبتلا کر دے تو اس مصیبت کو دور کر نے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں [108]
[سورۃ يونس 10، آیت نمبر: 108]
﴿إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّـهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّـهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ [17] ﴾
بے شک جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، وہ تمھارے لیے رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ پس تم اللہ تعالیٰٰ کے ہاں سے رزق مانگو اور اس کی عبادت کرو [17]
[سورۃ العنكبوت 29، آیت نمبر: 17]
﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّـهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ [5] وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ [6] ﴾
اور ایسے لوگوں سے زیادہ کون گمراہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا ایسے لوگوں کو پکارتے ہیں جو قیامت تک ان کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کی آواز سے بھی بے خبر ہوں [5] اور جب سب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادات سے انکار کر دیں گے [6]
[سورۃ الأحقاف 46، آیت نمبر: 5-6]
اس آ یت سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ غیر اللہ کو حاجت روائی کے لیے پکارنا ان کی عبادت ہے حالانکہ انسان صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
﴿أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ [62] ﴾
”مجبور و بے بس شخص کی دعا کو قبول کرنے والا اور مشکل کو حل کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے؟ [62]
[سورۃ النمل 27، آیت نمبر:62]
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
«واعلم ان الامة لو اجتمعت على ان ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك»
جان لو! اگر ساری امت تجھے نفع پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو نفع نہیں پہنچا سکتی مگر وہ جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے
[سنن ترمذي، حدیث نمبر: 2516]