فہم دین پروگرام
حکمران کی فرمانبرداری
حکمران کی فرمانبرداری

« الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعد »

1. ہم پر ظلم ہو تو ہم کیا کریں؟

صبر کریں۔

حوالہ:

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں زید بن وہب نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔ (یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا)۔
[صحيح بخاری: 3603]

‏‏‏‏‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد حق تلفی ہو گی اور ایسی باتیں ہوں گی جن کو تم برا جانو گے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ایسے وقت میں جو رہے اس کو آپ کیا حکم کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادا کرو اس حق کو جو تم پر ہے (یعنی اطاعت اور فرمانبرداری) اور جو تمہارا حق ہے اس پروردگار سے مانگو (کہ اللہ اس کو ہدایت کرے یا اس کو بدل کر عادل حاکم تم کو دے دے)۔
[صحيح مسلم: 1843]

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: انصار کے چند لوگوں نے حنین کے دن کہا، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اموال ہوازن میں سے کچھ مال بغیر لڑے بھڑے دلوا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں کو قریش میں سے سو اونٹ دئیے تو انصار کے لوگ کہنے لگے: اللہ اپنے رسول کہ بخشے کہ وہ قریش کو دیتے ہیں ہمیں چھوڑ کر اور ہماری تلواریں ابھی تک قریش کا خون ٹپکا رہی ہیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا بھیجا اور ان کو چمڑے کے خیمے میں جمع کیا پھر جب سب جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ کیا بات ہے جو تمہارے طرف سے مجھے پہنچی ہے؟“ تب ان میں سے سمجھ دار لوگوں نے کہا کہ جو ہم میں فہمیدہ لوگ ہیں یارسول اللہ انہوں نے تو کچھ بھی نہیں کہا، کم سن لوگ ہم میں سے بولے کہ اللہ بخشے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے اور ہماری تلواریں ان کے خون ابھی تک ٹپکا رہی ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی کافر تھے ان کا دل خوش کرنے کو اور تم لوگ خوش نہیں ہوتے اس سے کہ لوگ تو مال لے کر اپنے گھر چلے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ۔ سو البتہ قسم ہے اللہ تعالیٰ کی تم جو لے کر گھر جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر گھر جائیں گے۔“ (البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن ساری دنیا سے بہتر ہے) پھر سب انصار نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ہم راضی ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے تم پر بہت لوگ مقدم کیئے جائیں گے۔ (یعنی تمہیں چھوڑ کر اوروں کو دیں گے) تو تم صبر کرنا یہاں تک کہ ملاقات کرو تم اللہ سے اور اس کے رسول سے کہ میں حوض کوثر پر ہوں گا۔“ انہوں نے کہا: اب ہم صبر کریں گے۔ (بعون الله و قوته) ‏‏‏‏‏‏‏‏
[صحيح مسلم: 2436]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=2&hadith_number=2436
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=3603
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-t2-.php?tarqeem=1843&bookid=2 ]


2. آخر کب تک؟

جب تک موت نہیں آ جاتی۔

حوالہ:

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے کہ ایک انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں شخص کی طرح مجھے بھی آپ حاکم بنا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد (دنیاوی معاملات میں) تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔“
[صحيح البخاري: 3792]

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن جابر نے بیان کیا، ان سے بسر بن عبیداللہ الخصرمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوادریس خولانی سے سنا، انہوں نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری زندگی میں ہی شر نہ پیدا ہو جائے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے دور میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر سے نوازا تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن اس خیر میں کمزوری ہو گی۔ میں نے پوچھا کہ کمزوری کیا ہو گی؟ فرمایا کہ کچھ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے خلاف چلیں گے، ان کی بعض باتیں اچھی ہوں گی لیکن بعض میں تم برائی دیکھو گے۔ میں نے پوچھا کیا پھر دور خیر کے بعد دور شر آئے گا؟ فرمایا کہ ہاں جہنم کی طرف سے بلانے والے دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس میں انہیں جھٹک دیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان کی کچھ صفت بیان کیجئے۔ فرمایا کہ وہ ہمارے ہی جیسے ہوں گے اور ہماری ہی زبان (عربی) بولیں گے۔ میں نے پوچھا: پھر اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔ میں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو؟ فرمایا کہ پھر ان تمام لوگوں سے الگ ہو کر خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت آ جائے۔
[صحيح البخاري: 7084]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=3792
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=7084 ]


3. تو حکمرانوں کو کون پوچھے گا؟

اللہ تعالیٰ۔

حوالہ:

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے فرات قزار نے بیان کیا، انہوں نے ابوحازم سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں پانچ سال تک بیٹھا ہوں۔ میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب بھی ان کا کوئی نبی ہلاک ہو جاتا تو دوسرے ان کی جگہ آ موجود ہوتے، لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں میرے نائب ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ان کے متعلق آپ کا ہمیں کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے جس سے بیعت کر لو، بس اسی کی وفاداری پر قائم رہو اور ان کا جو حق ہے اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا۔“
[صحيح البخاري: 3455]

‏‏‏‏ علقمہ بن وائل حضرمی سے روایت ہے، انہوں نے سنا اپنے باپ سے کہا کہ سلمیٰ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا نبی اللہ! اگر ہمارے امیر ایسے مقرر ہوں جو اپنا حق ہم سے طلب کریں اور ہمارا حق نہ دیں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا پھر پوچھا: جواب نہ دیا۔ پھر پوچھا تو اشعث بن قیس نے سلمہ رضی اللہ عنہ کو گھسیٹا اور کہا: ”سنو اور اطاعت کرو ان پر ان کے عملوں کا بوجھ ہے اور تم پر تمہارے اعمال کا۔“
[صحيح مسلم: 1846]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=3455
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-t2-.php?tarqeem=1846&bookid=2 ]


4. اپنے حقوق کیلیے نکلنا بھی غلط ہے؟

جی ہاں!

حوالہ:

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں زید بن وہب نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔ (یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا)۔
[صحيح بخاری: 3603]

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد حق تلفی ہو گی اور ایسی باتیں ہوں گی جن کو تم برا جانو گے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ایسے وقت میں جو رہے اس کو آپ کیا حکم کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادا کرو اس حق کو جو تم پر ہے (یعنی اطاعت اور فرمانبرداری) اور جو تمہارا حق ہے اس پروردگار سے مانگو (کہ اللہ اس کو ہدایت کرے یا اس کو بدل کر عادل حاکم تم کو دے دے)۔
[صحيح مسلم: 1843]

‏‏‏‏ علقمہ بن وائل حضرمی سے روایت ہے، انہوں نے سنا اپنے باپ سے کہا کہ سلمیٰ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا نبی اللہ! اگر ہمارے امیر ایسے مقرر ہوں جو اپنا حق ہم سے طلب کریں اور ہمارا حق نہ دیں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا پھر پوچھا: جواب نہ دیا۔ پھر پوچھا تو اشعث بن قیس نے سلمہ رضی اللہ عنہ کو گھسیٹا اور کہا: ”سنو اور اطاعت کرو ان پر ان کے عملوں کا بوجھ ہے اور تم پر تمہارے اعمال کا۔“
[صحيح مسلم: 1846]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-t2-.php?tarqeem=1843&bookid=2
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-t2-.php?tarqeem=1846&bookid=2
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=3603 ]


5. ہم تو اپنا حق چھین کر لیں گے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔

حوالہ:

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں زید بن وہب نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔ (یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا)۔
[صحيح البخاري: 3603]

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو عبادہ بن الولید نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے خبر دی، ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی، خوشی اور ناخوشی دونوں حالتوں میں۔
[صحيح البخاري: 7199]

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد حق تلفی ہو گی اور ایسی باتیں ہوں گی جن کو تم برا جانو گے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ایسے وقت میں جو رہے اس کو آپ کیا حکم کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادا کرو اس حق کو جو تم پر ہے (یعنی اطاعت اور فرمانبرداری) اور جو تمہارا حق ہے اس پروردگار سے مانگو (کہ اللہ اس کو ہدایت کرے یا اس کو بدل کر عادل حاکم تم کو دے دے)۔
[صحيح مسلم: 1843]

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ تم پر امیر مقرر ہوں تم ان کے اچھے کام بھی دیکھو گے اور برے کام بھی پھر جو کوئی برے کام کو پہچان لے وہ بری ہوا (اگر اس کو روکے ہاتھ یا زبان یا دل سے) اور جس نے برے کام کو برا جانا وہ بھی بچ گیا لیکن جو راضی ہوا برے کام سے اور پیروی کی اس کی (تباہ ہوا)۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسے امیروں سے لڑائی نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک وہ نماز پڑھا کریں۔“ (اور نماز بھی چھوڑ دیں تو ان کو مارو اور امارت سے موقوف کر دو۔)
[صحيح مسلم: 1854]

‏‏‏‏ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر حاکم تمہارے وہ ہیں جن کو تم چاہتے ہو اور وہ تم کو چاہتے ہیں وہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تم ان کے لیے دعا کرتے ہو۔ اور برے حاکم تمہارے وہ ہیں جن کے تم دشمن ہو اور وہ تمہارے دشمن ہیں تم ان پر لعنت کرتے ہو وہ تم پر لعنت کرتے ہیں۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسے برے حاکموں کو تلوار سے نہ دفع کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک وہ نماز کو تم میں قائم کرتے رہیں اور جب تم کوئی بات اپنے حاکموں سے دیکھو تو دل سے اس کو برا جانو لیکن ان کی اطاعت سے باہر نہ ہو۔“ (یعنی بغاوت نہ کرو)۔
[صحيح مسلم: 1855]

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ایسے حاکم ہوں گے جن سے تم معروف (نیک اعمال) ہوتے بھی دیکھو گے اور منکر (خلاف شرع امور) بھی دیکھو گے، تو جس نے منکر کا انکار کیا، (ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی روایت میں «بلسانہ» کا لفظ بھی ہے (جس نے منکر کا) اپنی زبان سے انکار کیا) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ (سلیمان ابن داود طیالسی) کی روایت میں ہے: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔‏‏‏‏“
[سنن ابو داؤد: 4760]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=3603
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=7199
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-t2-.php?tarqeem=1843&bookid=2
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-t2-.php?tarqeem=1854&bookid=2
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-t2-.php?tarqeem=1855&bookid=2
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=3&hadith_number=4760 ]


6. لیکن پر امن احتجاج تو کیا جا سکتا ہے۔

اپنا احتجاج اللہ کی بارگاہ میں رکھیں۔

حوالہ:

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں زید بن وہب نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔ (یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا)۔
[صحيح البخاري: 3603]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=3603 ]

7. اور کلمۂ حق کون کہے گا؟

وہ حکمران کے منہ پر کہا جائے گا، سڑکوں پر نہیں۔

حوالہ:

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ یا ظالم حاکم کے پاس انصاف کی بات کہنی ہے۔‏‏‏‏“
[سنن أبي داؤد: 4344، السنة لابن ابي عاصم: 1096]

عیاض بن غنم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی صاحب منصب کو نصیحت کا ارادہ کرے تو اسے علانیہ ظاہر نہ کرے بلکہ اس کا ہاتھ تھامے اور اسے اکیلے میں لے جائے، اگر وہ اس کی بات سن لے تو ٹھیک ورنہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی۔
[السنۃ لابن ابی عاصم حدیث نمبر 1096]
نیز البانی نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=3&hadith_number=4344 ]

8. یہ تو ہمارے ہاں ممکن نہیں۔

پھر آپ اس کے مکلف (جواب دہ) بھی نہیں۔

حوالہ:

سعید بن جمہان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت تک ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے بتایا کہ میں سعید بن جمہان ہوں، انہوں نے پوچھا کہ تمہارے والد صاحب کیسے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں تو" ازارقہ" نے قتل کردیا ہے انہوں نے دو مرتبہ فرمایا ازارقہ پر لعنت الٰہی نازل ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ جہنم کے کتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس سے صرف" ازارقہ" فرقے کے لوگ مراد ہیں یا تمام خوارج ہیں؟ انہوں نے فرمایا تمام خوارج" مراد ہیں پھر میں نے عرض کیا بعض اوقات بادشاہ بھی عوام کے ساتھ ظلم اور ناانصافی وغیرہ کرتا ہے انہوں نے میرا ہاتھ زور سے دبایا اور بہت تیز چٹکی کاٹی اور فرمایا اے ابن جمہان! تم پر افسوس ہے سواد اعظم کی پیروی کرو سواد اعظم کی پیروی کرو اگر بادشاہ تمہاری بات سنتا ہے تو اس کے گھر میں اس کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے وہ ذکر کرو جو تم جانتے ہو اگر وہ قبول کرلے تو بہت اچھا ورنہ تم اس سے بڑے عالم نہیں ہو۔
[مسند أحمد: 19415]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=24&hadith_number=19415 ]

9. لیکن یہ جمہوری ریاست ہے۔

جمہوری ریاست شرعی احکام سے ماورا نہیں ہوتی۔

حوالہ:

ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سنو اور اطاعت کرو، خواہ تم پر کسی ایسے حبشی غلام کو ہی عامل بنایا جائے جس کا سر منقیٰ کی طرح چھوٹا ہو۔“
[صحيح البخاري: 7142]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=7142 ]

10. قانون خود اجازت دیتا ہے۔

اللہ کا قانون اجازت نہیں دیتا۔

حوالہ:

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر ایک صاحب عبداللہ بن حذافہ سہمی کو بنایا، پھر (اس نے کیا کیا کہ) آگ جلوائی اور (لشکریوں سے) کہا کہ اس میں داخل ہو جاؤ۔ جس پر بعض لوگوں نے داخل ہونا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم آگ ہی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا کہ اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو اس میں قیامت تک رہتے۔ اور دوسرے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت حلال نہیں ہے اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے۔
[صحيح البخاري: 7257]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=7257 ]

11. پھر انکارِ منکر کیسے ہو گا؟

بھڑکاؤ پروگرام اور فتنۂ و فساد کے بغیر۔

حوالہ:

ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان نے کہ میں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے کہا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ) سے گفتگو کیوں نہیں کرتے (کہ عام مسلمانوں کی شکایات کا خیال رکھیں) انہوں نے کہا کہ میں نے (خلوت میں) ان سے گفتگو کی ہے لیکن (فتنہ کے) دروازہ کو کھولے بغیر کہ اس طرح میں سب سے پہلے اس دروازہ کو کھولنے والا ہوں گا میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ کسی شخص سے جب وہ دو آدمیوں پر امیر بنا دیا جائے یہ کہوں کہ تو سب سے بہتر ہے۔ جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو (قیامت کے دن) لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر وہ اس میں اس طرح چکی پیسے گا جیسے گدھا پیستا ہے۔ پھر دوزخ کے لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں! کیا تم نیکیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکا نہیں کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا کہ میں اچھی بات کے لیے کہتا تو ضرور تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور بری بات سے روکتا بھی تھا لیکن خود کرتا تھا۔
[صحيح البخاري: 7098]

عیاض بن غنم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی صاحب منصب کو نصیحت کا ارادہ کرے تو اسے علانیہ ظاہر نہ کرے بلکہ اس کا ہاتھ تھامے اور اسے اکیلے میں لے جائے، اگر وہ اس کی بات سن لے تو ٹھیک ورنہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی۔
[السنۃ لابن ابی عاصم حدیث نمبر 1096]
نیز البانی نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=7098 ]

12. لیکن یہ حکمران تو شریعت پر نہیں چلتے۔

بھلے نہ چلتے ہوں۔

حوالہ:

‏‏‏‏ سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلی باتوں کو پوچھا کرتے اور میں بری بات کو پوچھتا اس ڈر سے کہیں برائی میں نہ پڑ جاؤں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور برائی میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ بھلائی دی (یعنی اسلام) اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن اس میں دھبہ ہے۔“ میں نے کہا: وہ دھبہ کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت پر نہیں چلیں گے اور میرے طریقہ کے سوا اور راہ پر چلیں گے ان میں اچھی باتیں بھی ہوں گی اور بری بھی۔“ میں نے عرض کیا، پھر اس کے بعد برائی ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو جہنم کے دروازے کی طرف لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی بات مانے گا اس کو جہنم میں ڈال دیں گے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا رنگ ہمارا سا ہی ہو گا اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس زمانہ کو میں پاؤں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہ اور ان کے امام کے ساتھ رہ۔“ کہا: اگر جماعت اور امام نہ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو سب فرقوں کو چھوڑ دے اور اگرچہ ایک درخت کی جڑ دانت سے چباتا رہے مرتے دم تک۔“
[صحيح مسلم: 1847]

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ تم پر امیر مقرر ہوں تم ان کے اچھے کام بھی دیکھو گے اور برے کام بھی پھر جو کوئی برے کام کو پہچان لے وہ بری ہوا (اگر اس کو روکے ہاتھ یا زبان یا دل سے) اور جس نے برے کام کو برا جانا وہ بھی بچ گیا لیکن جو راضی ہوا برے کام سے اور پیروی کی اس کی (تباہ ہوا)۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسے امیروں سے لڑائی نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک وہ نماز پڑھا کریں۔“ (اور نماز بھی چھوڑ دیں تو ان کو مارو اور امارت سے موقوف کر دو۔)
[صحيح مسلم: 1854]

‏‏‏‏ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر حاکم تمہارے وہ ہیں جن کو تم چاہتے ہو اور وہ تم کو چاہتے ہیں وہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تم ان کے لیے دعا کرتے ہو۔ اور برے حاکم تمہارے وہ ہیں جن کے تم دشمن ہو اور وہ تمہارے دشمن ہیں تم ان پر لعنت کرتے ہو وہ تم پر لعنت کرتے ہیں۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسے برے حاکموں کو تلوار سے نہ دفع کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک وہ نماز کو تم میں قائم کرتے رہیں اور جب تم کوئی بات اپنے حاکموں سے دیکھو تو دل سے اس کو برا جانو لیکن ان کی اطاعت سے باہر نہ ہو۔“ (یعنی بغاوت نہ کرو)۔
[صحيح مسلم: 1855]

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ایسے حاکم ہوں گے جن سے تم معروف (نیک اعمال) ہوتے بھی دیکھو گے اور منکر (خلاف شرع امور) بھی دیکھو گے، تو جس نے منکر کا انکار کیا، (ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی روایت میں «بلسانہ» کا لفظ بھی ہے (جس نے منکر کا) اپنی زبان سے انکار کیا) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ (سلیمان ابن داود طیالسی) کی روایت میں ہے: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔‏‏‏‏“
[سنن ابو داؤد: 4760]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-t2-.php?tarqeem=1847&bookid=2
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-t2-.php?tarqeem=1854&bookid=2
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-t2-.php?tarqeem=1855&bookid=2
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=3&hadith_number=4760 ]


13. یہ ظالم و جابر، چور لٹیرے ہیں۔

بھلے ہوں۔

حوالہ:

ابوسلام سے روایت ہے، کہا: حضرت حذیفہ بن یمان نے کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم شر میں مبتلا تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیر عطا فرمائی، ہم اس خیر کی حالت میں ہیں، کیا اس خیر کے پیچھے شر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کی: کیا اس شر کے پیچھے خیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے پوچھا: کیا اس خیر کے پیچھے پھر شر ہو گا؟ فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے پوچھا: وہ کس طرح ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے امام (حکمران اور رہنما) ہوں گے جو زندگی گزارنے کے میرے طریقے پر نہیں چلیں گے اور میری سنت کو نہیں اپنائیں گے اور جلد ہی ان میں ایسے لوگ کھڑے ہوں گے جن کی وضع قطع انسانی ہو گی، دل شیطانوں کے دل ہوں گے۔“ (حضرت حذیفہ ؓ نے) کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر میں وہ زمانہ پاؤں (تو کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امیر کا حکم سننا اور اس کی اطاعت کرنا، چاہے تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال چھین لیا جائے پھر بھی سننا اور اطاعت کرنا۔“
[صحيح مسلم: 4785]

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن جابر نے، کہا کہ مجھ سے بسر بن عبیداللہ حضرمی نے، کہا کہ مجھ سے ابوادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں۔ تو میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر و برکت (اسلام کی) عطا فرمائی، اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، میں نے سوال کیا، اور اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، لیکن اس خیر پر کچھ دھواں ہو گا۔ میں نے عرض کیا وہ دھواں کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے۔ ان میں کوئی بات اچھی ہو گی کوئی بری۔ میں نے سوال کیا: کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں جھونک دیں گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کے اوصاف بھی بیان فرما دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ ہماری ہی قوم و مذہب کے ہوں گے۔ ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا، پھر اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے آپ کا حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا، میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان تمام فرقوں سے اپنے کو الگ رکھنا۔ اگرچہ تجھے اس کے لیے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ تیری موت آ جائے اور تو اسی حالت پر ہو (تو یہ تیرے حق میں ان کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہو گا)۔
[صحيح بخاری: 3606]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=2&hadith_number=4785
https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=3606 ]


14. یہ استعمار کے آلہ کار ہیں۔

بھلے ہوں، جب تک دائرہ اسلام میں ہیں تو یہی حکم ہے۔

حوالہ:

انہوں (عبادہ بن صامت) نے بیان کیا کہ جن باتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ خوشی و ناگواری، تنگی اور کشادگی اور اپنی حق تلفی میں بھی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور یہ بھی کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک ان کو اعلانیہ کفر کرتے نہ دیکھ لیں۔ اگر وہ اعلانیہ کفر کریں تو تم کو اللہ کے پاس سے دلیل مل جائے گی۔
[صحيح البخاري: 7056]

[ https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?tarqeem=1&bookid=1&hadith_number=7056 ]