|
|
فہم دین پروگرام
علم غیب
علم غیب پر قرآن مجید سے دلائل
« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »
﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا [113] ﴾
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے تو تجھے بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا، مگر دراصل یہ اپنے آپ کو ہی گمراه کرتے ہیں، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب وحکمت اتاری ہے اور تجھے وه سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے [113]
[سورۃ النساء 4، آیت نمبر 113]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=606]
﴿ قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ [50] ﴾
آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی اتباع کرتا ہوں آپ کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہو سکتا ہے۔ سو کیا تم غور نہیں کرتے؟ [50]
[سورۃ انعام 6، آیت نمبر 50]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=839]
﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ [188] ﴾
کہہ دیجئے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ [188]
[سورۃ الاعراف 7، آیت نمبر 188]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=1142]
﴿وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ [61] ﴾
اور آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔ اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذره برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اورنہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے۔ [61]
[سورۃ یونس 10، آیت نمبر 61]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=1425]
﴿قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ مَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا [26] ﴾
آپ کہہ دیں اللہ ہی کو ان کے ٹھہرے رہنے کی مدت کا بخوبی علم ہے، آسمانوں اور زمینوں کا غیب صرف اسی کو حاصل ہے وه کیا ہی اچھا دیکھنے سننے واﻻ ہے۔ سوائے اللہ کے ان کا کوئی مددگار نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ [26]
[سورۃ الکہف 18، آیت نمبر 26]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=2166]
﴿قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ [65] ﴾
کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟ [65]
[سورۃ النمل 27، آیت نمبر 65]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=3224]
﴿وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ [24] ﴾
اور یہ غیب کی باتوں کو بتلانے میں بخیل بھی نہیں۔ [24]
[سورۃ التکویر 81، آیت نمبر 24]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=5824]
﴿مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ [179] ﴾
جس حال میں تم ہو اسی پر اللہ ایمان والوں کو نہ چھوڑ دے گا جب تک کہ پاک اور ناپاک کو الگ الگ نہ کر دے، اور نہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ تمہیں غیب سے آگاه کر دے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لیتا ہے، اس لئے تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو، اگر تم ایمان ﻻؤ اور تقویٰ کرو تو تمہارے لئے بڑا بھاری اجر ہے۔ [179]
[سورۃ آل عمران 3، آیت نمبر 179]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=472]
﴿تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَا أَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ [49] ﴾
یہ خبریں غیب کی خبروں میں سے ہیں جن کی وحی ہم آپ کی طرف کرتے ہیں انہیں اس سے پہلے آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم، اس لئے آپ صبر کرتے رہیئے (یقین مانیئے) کہ انجام کار پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے۔ [49]
[سورۃ ھود 11، آیت نمبر 49]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=1522]
﴿ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ [102] ﴾
یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے پاس نہ تھے جب کہ انہوں نے اپنی بات ٹھان لی تھی اور وه فریب کرنے لگے تھے [102]
[سورۃ یوسف 12، آیت نمبر 102]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=1698]
﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا [26] إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا [27] ﴾
وه غیب کا جاننے واﻻ ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا [26] سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کر لے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کر دیتا ہے۔ [27]
[سورۃ جن 72، آیت نمبر 26، 27]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=5473]
وضاحت
اوپر بیان کی گئیں غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ میں آپ نوٹ فرمائیں کہ ایک موقعہ پر بھی بیان نہیں کہ"اللہ کے رسول غیب جانتے ہیں" بلکہ"مطلع کیا گیا" یا"غیب کی خبریں وحی کی گئیں" کا بیان ہے۔
فریق مخالف کا کہنا ہے کہ مخالفین کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں غیب نہیں جانتا، یا فقہاءکرام فرماتے ہیں جو غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ مانے وہ کافر ہے۔
فریق مخالف کا کہنا ہے کہ یہ دلائل تو خود مخالفین کے خلاف ہیں کیوں کہ بعض غیب تو وہ بھی مانتے ہیں، اور اختلاف تو"جمیع کان وما یکون (یعنی جو ہوچکا ہے یا جو کچھ ہونے والا ہے)" پر ہے۔ تو یہ حضرات فرماتے ہیں کہ پھر اس فتوی کی زد سے تو مخالفین بھی نہیں بچ سکتے کیوں کہ ایک بات کا بھی علم ماننا تو ان کے دلائل کے خلاف ہوا۔
یہاں ہم فریق مخالف کی اس غلط فہمی کی دو حصوں میں وضاحت کریں گے۔
یہاں پہلے تو"بعض غیب" کا مفہوم سمجھیں۔ اور یہ بات سمجھیں کہ"اللہ تعالیٰ نے بعض غیب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا" سے کیا مراد ہے؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ [3] ﴾
[سورة البقرة، آیت نمبر: 3]
جو لوگ غيب پر ايمان لاتے هيں
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایمان کسی چیز کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔ (تفسیر طبری 1/335)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ (تفسیر طبری 1/235)
حضرت زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایمان کہتے ہیں عمل کو۔ (تفسیر طبری 1/235)
ربیع بن انس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں ایمان لانے سے مراد ڈرنا ہے۔ (تفسیر طبری 1/235)
ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سب اقوال مل جائیں تو مطلب یہ ہو گا کہ زبان سے، دل سے، عمل سے غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا ڈر رکھتے ہیں۔ ایمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لانا شامل ہے، اور اس اقرار کی تصدیق عمل کے ساتھ بھی کرنا لازم ہے۔ مزید فرماتے ہیں لغت میں ایمان کہتے ہیں صرف سچا مان لینے کو۔
ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ غیب کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ غیب کا لفظ جو یہاں ہے اس کے معنی میں بھی مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں، اور وہ سب صحیح ہیں اور جمع ہو سکتے ہیں۔
ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر رسولوں پر، قیامت پر، جنت دوزخ پر، اللہ سے ملاقات پر، مرنے کے بعد جی اٹھنے پر ایمان لانا ہے۔
قتادہ ابن دعامہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔ (تفسیر طبری1/236)
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نظروں سے اوجھل ہیں جیسے جنت دوزخ وغیرہ، وہ امور جو قرآن پاک میں مذکور ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے وہ سب غیب میں داخل ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن ہے۔
عطاءابن ابو رباح رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ پر ایمان لانے والا غیب پر ایمان لانے والا ہے۔
اسماعیل بن ابو خالد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسلام کی تمام پوشیدہ چیزیں مراد ہیں۔
زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تقدیر پر ایمان لانا ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ پس یہ تمام اقوال معنی کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اس لئے کہ سب چیزیں پوشیدہ ہیں اور غیب کی تفسیر ان سب پر مشتمل ہے، ان سب پر ایمان لانا واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ کی کتابیں، اللہ کے رسول، فرشتے، مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت، روز آخرت، میدان محشر، اللہ سے ملاقات، حساب کتاب، پل صراط، جنت، جہنم، یہ سب غیب کی باتیں تو ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا۔ الحمد للہ جن پر ہم ایمان لاتے ہیں۔
اس کے علاوہ متعدد احادیث پاک ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی اطلاع دیں۔ (ہم اختصار کے ساتھ چند احادیث پاک پیش کر رہے ہیں)
"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت چھیننے کی کوشش کی اطلاع" (ترمذی ج 2 ص 212)
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر" (ترمذی ج 2 ص 221)
"حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت مدینہ طیبہ کے سفر میں آندھی کا آنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بڑے منافق کی موت کی خبر دی" (مشکوة ج 2 ص 536)
"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت جنت میں سب سے پہلے اہل بیت میں سے بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملاقات" (مشکوة ج 2 ص 563)
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ (نفیع بن الحارث المتوفی 49ھ) فرماتے ہیں:
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفی 50ھ)کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا (بخاری ج 2 ص 1053)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کچھ ایسے حکام پیدا ہوں گے جو میری سیرت اور میری سنت پر نہیں چلیں گے دل ان کے شیطانوں کے سے ہوں گے مگر شکل صورت میں انسان ہوں گے۔ (مسلم ج 2 ص127)
اس طرح اللہ تعالیٰ کی کتابیں، اللہ کے رسول، فرشتے، مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت کا قائم ہونا، روز آخرت، میدان محشر، اللہ سے ملاقات، حساب کتاب، پل صراط، جنت، جہنم
اور اس کے علاوہ بہت سی احادیث پاک ہیں جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں کی اطلاع دیں، اور بہت سی غیب کی خبروں کی اطلاع دیں (یہاں وہ تما م احادیث پاک شامل ہو جاتیں ہیں جن میں غیب کی خبروں کا بیان ہے اور فریق مخالف اپنے موقف میں بطور دلیل پیش فرماتے ہیں، الحمد للہ ہمارا تمام احادیث پاک پر ایمان ہے)
بزرگان دین ان غیب کی خبروں کو اخبار غیب یا انباء غیب فرماتے ہیں۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب، انبا ء الغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطا نہیں، اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔
اب آ جائیں اس نقطہ کے انتہائی اہم رخ کی طرف۔
بہت زیادہ توجہ کی درخواست ہے۔
فریق مخالف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیب کے اثبات میں اوپر بیان کی گئیں آیات مبارکہ سے دلیل پیش کرتے ہیں کہ"حضورصلی اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں"
جبکہ ایک آیات مبارکہ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غیب جاننے کا بیان موجود نہیں بلکہ مطلع کیا اور انباء غیب کا بیان ہے۔
اورفریق مخالف کو مغالطہ ہے کہ غیب کی خبروں پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل ہے۔
تو غور فرمائیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی خبروں سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو مطلع فرمایا۔
(فریق مخالف کی منطق سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی غیب کے جاننے والے ہوئے)
صحابہ کرام نے تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور تابعین کرام نے تبع تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور اسی طرح درجہ بد درجہ ائمہ کرام، بزرگان دین، محدثین حضرات ایک دوسرے کو مطلع فرماتے رہے
اور اسی طرح آج لاکھوں کروڑوں مسلمان غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے۔
ان غیب کی خبروں میں سے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں (جو غیب میں داخل ہیں) اور بہت سے واقعات ہونے والے ہیں (جو غیب میں ہی داخل ہیں)
تو فریق مخالف کی منطق سے اگر غیب پر مطلع ہونا، غیب جاننے کی دلیل ہے تو اس لحاظ سے وہ سب لوگ غیب جاننے والے ہوئے جو لوگ احادیث پاک سے مطلع ہوئے کہ کل کیا کیا ہوا؟ اور آنے والے کل کیا کیا ہو گا؟
یقینا ایسا عقیدہ کوئی بھی مسلمان نہیں رکھتا۔۔۔۔۔ لہذا واضح ہوتا ہے کہ غیب پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل نہیں۔۔۔۔ اور"علم غیب" (یعنی غیب جاننا) کی اصطلاح ذاتی علم غیب کے لئے استعمال ہوتی ہے۔۔۔۔ جس کا فریق مخالف بھی قائل نہیں ہے۔۔۔ بلکہ ہماری بات کی تصدیق خود فریق مخالف کے امام احمد رضا صاحب کے اس حوالہ سے بھی ہوتی ہے۔۔۔ احمد رضا صاحب فرماتے ہیں کہ
"علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جبکہ غیب کی خبر کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے" (ملفوضات حصہ سوم)
اور یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام رحمھم اللہ نے غیر اللہ کے لئے علم غیب کا عقیدہ رکھنے والے کی تکفیر فرمائی ہے۔
چناچہ ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کے لئے علم غیب پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
پھر تو جان لے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام غیب کی چیزوں کا علم نہیں رکھتے تھے مگر جتنا کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ان کو علم دے دیتا ہے اور حنفیوں نے تصریح کی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں تو وہ کافر ہے کیوں کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا معارضہ کیا کہ تو کہ دے کہ جو ہستیاں آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ غیب نہیں جانتی بجز پروردگار کے ایسا ہی مسایرہ میں ہے (مسائرہ مع المسامرہ ج 2 ص 88 طبع مصر) (شرح فقہ اکبر ص 185 طبع کانپور)
تو واضح ہوتا ہے کہ غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ ر کھنا کفر ہے۔
جبکہ بزرگان دین اور دیگر علماءکرام کے اقوال کے مفہوم یہ نہیں ہیں کہ"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں"
بلکہ بزرگان دین اور علماء کرام کے اقوال میں"بعض غیب پر مطلع ہوئے" وغیرہ کے ارشادات ہیں اور غیب پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل نہیں۔
« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »
﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا [113] ﴾
اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے تو تجھے بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا، مگر دراصل یہ اپنے آپ کو ہی گمراه کرتے ہیں، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب وحکمت اتاری ہے اور تجھے وه سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے [113]
[سورۃ النساء 4، آیت نمبر 113]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=606]
﴿ قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ [50] ﴾
آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی اتباع کرتا ہوں آپ کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہو سکتا ہے۔ سو کیا تم غور نہیں کرتے؟ [50]
[سورۃ انعام 6، آیت نمبر 50]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=839]
﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ [188] ﴾
کہہ دیجئے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ [188]
[سورۃ الاعراف 7، آیت نمبر 188]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=1142]
﴿وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ [61] ﴾
اور آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔ اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذره برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اورنہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے۔ [61]
[سورۃ یونس 10، آیت نمبر 61]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=1425]
﴿قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ مَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا [26] ﴾
آپ کہہ دیں اللہ ہی کو ان کے ٹھہرے رہنے کی مدت کا بخوبی علم ہے، آسمانوں اور زمینوں کا غیب صرف اسی کو حاصل ہے وه کیا ہی اچھا دیکھنے سننے واﻻ ہے۔ سوائے اللہ کے ان کا کوئی مددگار نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ [26]
[سورۃ الکہف 18، آیت نمبر 26]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=2166]
﴿قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ [65] ﴾
کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟ [65]
[سورۃ النمل 27، آیت نمبر 65]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=3224]
﴿وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ [24] ﴾
اور یہ غیب کی باتوں کو بتلانے میں بخیل بھی نہیں۔ [24]
[سورۃ التکویر 81، آیت نمبر 24]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=5824]
﴿مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ [179] ﴾
جس حال میں تم ہو اسی پر اللہ ایمان والوں کو نہ چھوڑ دے گا جب تک کہ پاک اور ناپاک کو الگ الگ نہ کر دے، اور نہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ تمہیں غیب سے آگاه کر دے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لیتا ہے، اس لئے تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو، اگر تم ایمان ﻻؤ اور تقویٰ کرو تو تمہارے لئے بڑا بھاری اجر ہے۔ [179]
[سورۃ آل عمران 3، آیت نمبر 179]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=472]
﴿تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَا أَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ [49] ﴾
یہ خبریں غیب کی خبروں میں سے ہیں جن کی وحی ہم آپ کی طرف کرتے ہیں انہیں اس سے پہلے آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم، اس لئے آپ صبر کرتے رہیئے (یقین مانیئے) کہ انجام کار پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے۔ [49]
[سورۃ ھود 11، آیت نمبر 49]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=1522]
﴿ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ [102] ﴾
یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے پاس نہ تھے جب کہ انہوں نے اپنی بات ٹھان لی تھی اور وه فریب کرنے لگے تھے [102]
[سورۃ یوسف 12، آیت نمبر 102]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=1698]
﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا [26] إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا [27] ﴾
وه غیب کا جاننے واﻻ ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا [26] سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کر لے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کر دیتا ہے۔ [27]
[سورۃ جن 72، آیت نمبر 26، 27]
[https://islamicurdubooks.com/tafseer/aayat-detail.php?faayat_id=5473]
وضاحت
اوپر بیان کی گئیں غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ میں آپ نوٹ فرمائیں کہ ایک موقعہ پر بھی بیان نہیں کہ"اللہ کے رسول غیب جانتے ہیں" بلکہ"مطلع کیا گیا" یا"غیب کی خبریں وحی کی گئیں" کا بیان ہے۔
فریق مخالف کا کہنا ہے کہ مخالفین کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں غیب نہیں جانتا، یا فقہاءکرام فرماتے ہیں جو غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ مانے وہ کافر ہے۔
فریق مخالف کا کہنا ہے کہ یہ دلائل تو خود مخالفین کے خلاف ہیں کیوں کہ بعض غیب تو وہ بھی مانتے ہیں، اور اختلاف تو"جمیع کان وما یکون (یعنی جو ہوچکا ہے یا جو کچھ ہونے والا ہے)" پر ہے۔ تو یہ حضرات فرماتے ہیں کہ پھر اس فتوی کی زد سے تو مخالفین بھی نہیں بچ سکتے کیوں کہ ایک بات کا بھی علم ماننا تو ان کے دلائل کے خلاف ہوا۔
یہاں ہم فریق مخالف کی اس غلط فہمی کی دو حصوں میں وضاحت کریں گے۔
یہاں پہلے تو"بعض غیب" کا مفہوم سمجھیں۔ اور یہ بات سمجھیں کہ"اللہ تعالیٰ نے بعض غیب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا" سے کیا مراد ہے؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ [3] ﴾
[سورة البقرة، آیت نمبر: 3]
جو لوگ غيب پر ايمان لاتے هيں
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایمان کسی چیز کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔ (تفسیر طبری 1/335)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ (تفسیر طبری 1/235)
حضرت زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایمان کہتے ہیں عمل کو۔ (تفسیر طبری 1/235)
ربیع بن انس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں ایمان لانے سے مراد ڈرنا ہے۔ (تفسیر طبری 1/235)
ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سب اقوال مل جائیں تو مطلب یہ ہو گا کہ زبان سے، دل سے، عمل سے غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا ڈر رکھتے ہیں۔ ایمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لانا شامل ہے، اور اس اقرار کی تصدیق عمل کے ساتھ بھی کرنا لازم ہے۔ مزید فرماتے ہیں لغت میں ایمان کہتے ہیں صرف سچا مان لینے کو۔
ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ غیب کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ غیب کا لفظ جو یہاں ہے اس کے معنی میں بھی مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں، اور وہ سب صحیح ہیں اور جمع ہو سکتے ہیں۔
ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر رسولوں پر، قیامت پر، جنت دوزخ پر، اللہ سے ملاقات پر، مرنے کے بعد جی اٹھنے پر ایمان لانا ہے۔
قتادہ ابن دعامہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔ (تفسیر طبری1/236)
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نظروں سے اوجھل ہیں جیسے جنت دوزخ وغیرہ، وہ امور جو قرآن پاک میں مذکور ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے وہ سب غیب میں داخل ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن ہے۔
عطاءابن ابو رباح رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ پر ایمان لانے والا غیب پر ایمان لانے والا ہے۔
اسماعیل بن ابو خالد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسلام کی تمام پوشیدہ چیزیں مراد ہیں۔
زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تقدیر پر ایمان لانا ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ پس یہ تمام اقوال معنی کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اس لئے کہ سب چیزیں پوشیدہ ہیں اور غیب کی تفسیر ان سب پر مشتمل ہے، ان سب پر ایمان لانا واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ کی کتابیں، اللہ کے رسول، فرشتے، مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت، روز آخرت، میدان محشر، اللہ سے ملاقات، حساب کتاب، پل صراط، جنت، جہنم، یہ سب غیب کی باتیں تو ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا۔ الحمد للہ جن پر ہم ایمان لاتے ہیں۔
اس کے علاوہ متعدد احادیث پاک ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی اطلاع دیں۔ (ہم اختصار کے ساتھ چند احادیث پاک پیش کر رہے ہیں)
"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت چھیننے کی کوشش کی اطلاع" (ترمذی ج 2 ص 212)
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر" (ترمذی ج 2 ص 221)
"حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت مدینہ طیبہ کے سفر میں آندھی کا آنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بڑے منافق کی موت کی خبر دی" (مشکوة ج 2 ص 536)
"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت جنت میں سب سے پہلے اہل بیت میں سے بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملاقات" (مشکوة ج 2 ص 563)
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ (نفیع بن الحارث المتوفی 49ھ) فرماتے ہیں:
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفی 50ھ)کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا (بخاری ج 2 ص 1053)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کچھ ایسے حکام پیدا ہوں گے جو میری سیرت اور میری سنت پر نہیں چلیں گے دل ان کے شیطانوں کے سے ہوں گے مگر شکل صورت میں انسان ہوں گے۔ (مسلم ج 2 ص127)
اس طرح اللہ تعالیٰ کی کتابیں، اللہ کے رسول، فرشتے، مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت کا قائم ہونا، روز آخرت، میدان محشر، اللہ سے ملاقات، حساب کتاب، پل صراط، جنت، جہنم
اور اس کے علاوہ بہت سی احادیث پاک ہیں جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں کی اطلاع دیں، اور بہت سی غیب کی خبروں کی اطلاع دیں (یہاں وہ تما م احادیث پاک شامل ہو جاتیں ہیں جن میں غیب کی خبروں کا بیان ہے اور فریق مخالف اپنے موقف میں بطور دلیل پیش فرماتے ہیں، الحمد للہ ہمارا تمام احادیث پاک پر ایمان ہے)
بزرگان دین ان غیب کی خبروں کو اخبار غیب یا انباء غیب فرماتے ہیں۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب، انبا ء الغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطا نہیں، اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔
اب آ جائیں اس نقطہ کے انتہائی اہم رخ کی طرف۔
بہت زیادہ توجہ کی درخواست ہے۔
فریق مخالف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیب کے اثبات میں اوپر بیان کی گئیں آیات مبارکہ سے دلیل پیش کرتے ہیں کہ"حضورصلی اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں"
جبکہ ایک آیات مبارکہ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غیب جاننے کا بیان موجود نہیں بلکہ مطلع کیا اور انباء غیب کا بیان ہے۔
اورفریق مخالف کو مغالطہ ہے کہ غیب کی خبروں پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل ہے۔
تو غور فرمائیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی خبروں سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو مطلع فرمایا۔
(فریق مخالف کی منطق سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی غیب کے جاننے والے ہوئے)
صحابہ کرام نے تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور تابعین کرام نے تبع تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور اسی طرح درجہ بد درجہ ائمہ کرام، بزرگان دین، محدثین حضرات ایک دوسرے کو مطلع فرماتے رہے
اور اسی طرح آج لاکھوں کروڑوں مسلمان غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے۔
ان غیب کی خبروں میں سے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں (جو غیب میں داخل ہیں) اور بہت سے واقعات ہونے والے ہیں (جو غیب میں ہی داخل ہیں)
تو فریق مخالف کی منطق سے اگر غیب پر مطلع ہونا، غیب جاننے کی دلیل ہے تو اس لحاظ سے وہ سب لوگ غیب جاننے والے ہوئے جو لوگ احادیث پاک سے مطلع ہوئے کہ کل کیا کیا ہوا؟ اور آنے والے کل کیا کیا ہو گا؟
یقینا ایسا عقیدہ کوئی بھی مسلمان نہیں رکھتا۔۔۔۔۔ لہذا واضح ہوتا ہے کہ غیب پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل نہیں۔۔۔۔ اور"علم غیب" (یعنی غیب جاننا) کی اصطلاح ذاتی علم غیب کے لئے استعمال ہوتی ہے۔۔۔۔ جس کا فریق مخالف بھی قائل نہیں ہے۔۔۔ بلکہ ہماری بات کی تصدیق خود فریق مخالف کے امام احمد رضا صاحب کے اس حوالہ سے بھی ہوتی ہے۔۔۔ احمد رضا صاحب فرماتے ہیں کہ
"علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جبکہ غیب کی خبر کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے" (ملفوضات حصہ سوم)
اور یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام رحمھم اللہ نے غیر اللہ کے لئے علم غیب کا عقیدہ رکھنے والے کی تکفیر فرمائی ہے۔
چناچہ ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کے لئے علم غیب پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
پھر تو جان لے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام غیب کی چیزوں کا علم نہیں رکھتے تھے مگر جتنا کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ان کو علم دے دیتا ہے اور حنفیوں نے تصریح کی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں تو وہ کافر ہے کیوں کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا معارضہ کیا کہ تو کہ دے کہ جو ہستیاں آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ غیب نہیں جانتی بجز پروردگار کے ایسا ہی مسایرہ میں ہے (مسائرہ مع المسامرہ ج 2 ص 88 طبع مصر) (شرح فقہ اکبر ص 185 طبع کانپور)
تو واضح ہوتا ہے کہ غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ ر کھنا کفر ہے۔
جبکہ بزرگان دین اور دیگر علماءکرام کے اقوال کے مفہوم یہ نہیں ہیں کہ"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں"
بلکہ بزرگان دین اور علماء کرام کے اقوال میں"بعض غیب پر مطلع ہوئے" وغیرہ کے ارشادات ہیں اور غیب پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل نہیں۔
مسئلہ علم غیب پر چند مغالطے اور ان کی وضاحتیں
«الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم - بسم الله الرحمن الرحيم»
اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب، انباء الغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطا نہیں، اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہیں، نہ تو کلی علم غیب پر مطلع ہیں۔
قرآن اور حدیث میں متعدد مقامات پر یہ مسئلہ صراحت سے واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کلی علم غیب نہ تھا۔
اور ساتھ ہی اس کی تائید میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، حضرات تابعین کرام، تبع تابعین کرام، محدثین کرام، مفسرین کرام، فقہائے کرام رحمہم اللہ کے واضح اور صاف صاف اقوال بھی موجود ہیں۔
لیکن ان تمام ٹھوس حقائق کے باوجود ایک مخصوص طبقہ کا دعویٰ ہے کہ ”جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے آفرینش سے إلى يوم القيامة اور پھر دخول جنت اور جہنم تک کے کلی علم غیب (یعنی شروع سے لے کر آخر تک ذرے ذرے کا علم) عطا کیا گیا۔“
بہ الفاظ دیگر:اللہ تعالیٰ نے جب سے اس کائنات کو پیدا فرمایا اور زمین اور آسمان بنایا اس وقت سے لے کر کائنات کے اختتام تک، یعنی جب قیامت آ جائے گی اور زمین اور آسمان ختم ہو جائیں گے، اس وقت تک زمین اور آسمان میں جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے، اور جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے، چاہے وہ زمین میں انٹارکٹیکا کا انتہائی برفانی علاقہ ہو (اور انتہائی برفانی علاقے میں موجود کوئی معمولی سا برف کا ذرہ ہو یا کوئی مخلوق ہو)، یا افریقہ کے انتہائی گھنے جنگلات ہوں (اور ان گھنے جنگلات کے کسی بھی کونے میں باریک سے باریک کوئی کیڑا ہو)، یا عرب کے وسیع و عریض صحرا ہوں (اور ان صحرا کے کسی کونے میں پڑا معمولی سا ریت کا ذرہ ہو یا کوئی مخلوق ہو)، یا دنیا کے ہزاروں میل پھیلے ہوئے طویل سمندر ہوں (اور ان وسیع اور عریض سمندر کے بیچ پانی کا معمولی سا قطرہ ہو یا بیچ سمندر کوئی بھی مخلوق ہو)، یا سمندر کی انتہائی گہرائیاں ہوں (اور ان انتہائی گہرائیوں میں کوئی چھوٹی سی چھوٹی مخلوق ہو)، یا زمین کی انتہائی گہرائیاں ہوں (اور ان گہر گہرائیوں میں موجود ایسی باریک مخلوق ہو جن کو انسانی آنکھ بھی نہ دیکھ سکے)، یا آسمانوں کی ہزاروں سال کی مسافت دور آسمانوں میں جتنی بھی مخلوقات ہیں حتی کہ ذرہ برابر کی بھی کوئی بھی مخلوق ہو، ان تمام ذرے ذروں کا علم عطا کیا گیا؟
ہو سکتا ہے ہماری یہ بات اس مخصوص طبقہ کے بہت سے پیروکاروں کے لیے بھی حیرت انگیز انکشاف لگے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس مخصوص طبقہ کے اکابرین اپنے دلائل سے یہی کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں، جس کی تفصیل إن شاء الله آگے آئے گی۔
آئیے ہم اپنے موضوع کی طرف چلتے ہیں۔
فریق مخالف بھی بظاہر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ”عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔“
لیکن دوسری طرف یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائے آفرینش سے إلى يوم القيامة اور اس کے بعد دخول جنت اور نار تک کے ذرے ذرے کا علم غیب جانتے ہیں۔“
یعنی فریق مخالف نے ایک طرف یہ عقیدہ بیان کیا کہ ”غیب کا جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔“ دوسری طرف ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی غیب کا جاننے والا مانا۔“
اور اس عقیدے کے مخالفین کے اعتراضات اور اپنے پیروکاروں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات اور شک و شبہات کو دور کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرتے ہیں اس کی مختصر تفصیل حاضر ہے۔
اس موضوع پر اگر کوئی دلیل نہ بھی پیش کی جائے اور صرف فریق مخالف کے دلائل کے یہ مختلف مختلف ٹکڑے پیش کیے جائیں کہ فریق مخالف نے کس طرح ”کلی علم غیب جاننے“ کے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے کتنے جتن کیے ہیں؟ تو دوستو ”حق“ اور ”باطل“ میں تمیز کرنے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ زمینوں اور آسمانوں کے ذرے ذرے کا کلی غیب ثابت کرنے کے لیے مختلف مختلف باتوں کو جوڑ جوڑ کر اپنا موقف درست نہیں ثابت کیا جاتا۔
بلکہ ملاحظہ فرمائیں کہ زمینوں اور آسمانوں کا کلی غیب جاننے کا بیان قرآن پاک میں کتنے مختصر الفاظ، سادہ، جامع اور وضاحت والا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿له غيب السماوات والأرض ۖ أبصر به وأسمع الخ﴾ [الكهف 26 پارہ 15]
”ترجمہ: اسی کو معلوم ہیں سب غیب (چھپی باتیں) آسمانوں کی اور زمین کی، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا۔“
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں علامہ جلال الدین محلی (المتوفی 864ھ) اور علامہ ابو السعود محمد بن محمد العمادی (المتوفی 982ھ) اور علامہ نسفی اور علامہ خازن لکھتے ہیں:”یعنی اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کے باشندوں کے حالات سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے، اور بس وہ تنہا ان کو جاننے والا ہے۔“ [تفسير جلالين صفحہ 184] [ابو السعود جلد 6 صفحہ 58] [تفسير مدارک جلد 3 صفحہ 9] [تفسير خازن جلد 6 صفحہ 169]
اور جب فریق مخالف کے سامنے سب سے اہم سوال سامنے آیا (جس سے فریق مخالف کے پیروکاروں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا کہ کہیں ہم غلطی پر تو نہیں؟) کہ فریق مخالف اور اس کے پیروکار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ زمین اور آسمانوں کے ذرے ذرے غیب صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے اور فریق مخالف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ذرے ذرے غیب کا علم ثابت کرتا ہے۔ تو یہ علم الٰہی کی برابری ہے؟
ملاحظہ فرمائیں کہ فریق مخالف نے کس طرح اپنے پیروکاروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی؟
(8) فریق مخالف نے دلیل پیش کی کہ ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو علم الٰہی سے کوئی نسبت نہیں۔ کلی علم غیب کا مطلب یہ نہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کا علم ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب حاصل ہے۔ بلکہ مخلوقات اور لوح محفوظ کے کل علوم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا علم لوح محفوظ پر منحصر نہیں ہے بلکہ کروڑوں الوح بھی اللہ تعالیٰ کے علوم غیر متناہیہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔“
یعنی ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب (عملی اعتبار سے، جبکہ لفظی اطلاق کو یہ حضرات بھی درست نہیں سمجھتے) بھی ثابت کیا گیا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے علوم لامتناہیہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے موقف کا دفاع بھی کرنے کی کوشش کی گئی کہ فریق مخالف اللہ تعالیٰ کے کل علوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ثابت نہیں کرتے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ذرے ذرے کا کلی علم غیب ثابت کرنے سے برابری نہیں۔
(9) اور اسی طرح فریق مخالف نے اللہ تعالیٰ کے علوم لامتناہیہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے پیروکاروں کے سامنے یہ موقف پیش کیا کہ ”ہم بھی صرف اللہ تعالیٰ کو عالم الغیب مانتے ہیں۔“
(10) اور فریق مخالف نے اپنے پیروکاروں کے ذہنوں سے ہر طرح کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے اور اپنے پیروکاروں کو اپنے پیش کیے ہوئے موقف پر بالکل مطمئن کر کے اور اپنے دلائل پر مخالفین کی وضاحتوں پر کسی بھی قسم کے غور و فکر یا سوچنے سمجھنے سے دور رکھنے کے لیے سب سے زبردست مغالطہ یہ پیش کیا کہ ”یہ امت شرک نہیں کر سکتی۔“ (یعنی اب تم لوگ ہمارے پیش کیے گئے تمام (اختلافی) عقیدوں پر آنکھیں بند کر کے ایمان لا سکتے ہو)
یہ ایسا حربہ ہے کہ جس سے فریق مخالف کے پیروکار آنکھیں بند کر کے اپنے علماء کی طرف سے پیش کیا ہوا ہر عقیدہ من و عن قبول کر لیتے ہیں۔
اور کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے کہ عمل کرنا یہ نہ کرنا ہمارا اپنا اختیار ہے چلو کبھی دیگر علماء کرام کا موقف بھی سن لیا جائے۔
اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ کبھی کبھی کسی واقعہ کا 99.99 فیصد ہو جانے کے یقین کے باوجود اس یقین کے برعکس واقعہ رونما ہو جاتا ہے یا ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیے دنیا کے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا وہ چاہے بت پرست ہو، یا یہود ہو، یا نصاریٰ ہو، یا قادیانی ہو، منکر حدیث ہو، دنیا کا ہر مذہب والا اپنے آپ کو سیدھی راہ پر ہی سمجھتا ہے، اور باقی سب کو گمراہ سمجھتا ہے، اور دنیا کا ہر مذہب والے کے پاس اپنے مذہب کو سچا ثابت کرنے کے لیے بے شمار دلائل اور جواز بھی ہوتے ہیں، جن سے ایک طرف وہ اپنے پیروکاروں کو مطمئن کرتے ہیں، تو دوسری طرف اپنے مخالفین کی طرف سے پیش کیے گئے اعتراضات اور دلائل کے جوابات دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن کیونکہ جھوٹ مٹنے کے لیے ہی ہے اس لیے جب حق سامنے آتا ہے تو آخر کار ایک موقعہ ایسا بھی آتا ہے کہ جہاں دنیا کے ہر باطل مذہب والے کو لاجواب ہونا پڑتا ہی ہے۔ جس کے بعد دنیا کے ہر باطل مذہب والے کو اپنے اپنے نام نہاد عقائد کے تحفظ اور بقاء کے لیے بالآخر ”ضد اور ہٹ دھرمی“ کا سہارا لینا ہی پڑتا ہے، جس کا یقینا کوئی علاج اور جواب نہیں ہوتا، اور ایسے موقعہ پر، اور ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آنے والوں کے لیے ہزاروں دلائل بھی ناکافی ہوتے ہیں۔
اس چھوٹی سی تمہید باندھنے کا مقصد صرف چند باتوں کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ایک تو یہ کہ محض کسی کا صراط مستقیم پر ہونے کے دعوے کرنا حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اپنے مخالفین کے اعتراضات اور دلائل کے محض زبانی کلامی جوابات دے دینا بھی حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ بلکہ غیر جانبدار ہو کر فریقین کے دلائل میں سے وزنی اور ٹھوس دلائل کا تعین کر کے ہی حق اور باطل کی پہچان کی جا سکتی ہے۔ ساتھ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرنی چاہیے۔ کیونکہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔
عمل کرنا یا نہ کرنا یہ سب کا اپنا اپنا اختیار ہے۔ کوئی کسی کو کسی بات پر مجبور نہیں کر سکتا۔ لیکن اپنے مخالفین کی بات ضرور سن لینی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی اچھی بات آپ کے علم میں آ جائے۔ یا ہو سکتا ہے کہ مخالف کی بات سن کر آپ مخالف کی کوئی غلط فہمی دور کر دیں۔
ہم اپنی بات شروع کرنے سے پہلے جو ہمارے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ان تمام حضرات سے ایک درخواست کرنا چاہیں گے کہ ہماری وضاحتوں میں ہماری غلطیوں کی نشاندہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کر لیں۔ لیکن اگر ہماری وضاحتوں میں سچائی مل جائے اور آپ کا ضمیر گواہی دے کہ ہماری پیش کی ہوئی وضاحتیں درست ہیں تو ”حق“ قبول کرنے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ نہ کیجیے گا۔ یاد رکھیے کہ کامیابی اپنے موقف کی جیت میں نہیں بلکہ کامیابی تو اللہ تعالیٰ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات میں ہے۔ دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین۔
«الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم - بسم الله الرحمن الرحيم»
اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب، انباء الغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطا نہیں، اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہیں، نہ تو کلی علم غیب پر مطلع ہیں۔
قرآن اور حدیث میں متعدد مقامات پر یہ مسئلہ صراحت سے واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کلی علم غیب نہ تھا۔
اور ساتھ ہی اس کی تائید میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، حضرات تابعین کرام، تبع تابعین کرام، محدثین کرام، مفسرین کرام، فقہائے کرام رحمہم اللہ کے واضح اور صاف صاف اقوال بھی موجود ہیں۔
لیکن ان تمام ٹھوس حقائق کے باوجود ایک مخصوص طبقہ کا دعویٰ ہے کہ ”جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے آفرینش سے إلى يوم القيامة اور پھر دخول جنت اور جہنم تک کے کلی علم غیب (یعنی شروع سے لے کر آخر تک ذرے ذرے کا علم) عطا کیا گیا۔“
بہ الفاظ دیگر:اللہ تعالیٰ نے جب سے اس کائنات کو پیدا فرمایا اور زمین اور آسمان بنایا اس وقت سے لے کر کائنات کے اختتام تک، یعنی جب قیامت آ جائے گی اور زمین اور آسمان ختم ہو جائیں گے، اس وقت تک زمین اور آسمان میں جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے، اور جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے، چاہے وہ زمین میں انٹارکٹیکا کا انتہائی برفانی علاقہ ہو (اور انتہائی برفانی علاقے میں موجود کوئی معمولی سا برف کا ذرہ ہو یا کوئی مخلوق ہو)، یا افریقہ کے انتہائی گھنے جنگلات ہوں (اور ان گھنے جنگلات کے کسی بھی کونے میں باریک سے باریک کوئی کیڑا ہو)، یا عرب کے وسیع و عریض صحرا ہوں (اور ان صحرا کے کسی کونے میں پڑا معمولی سا ریت کا ذرہ ہو یا کوئی مخلوق ہو)، یا دنیا کے ہزاروں میل پھیلے ہوئے طویل سمندر ہوں (اور ان وسیع اور عریض سمندر کے بیچ پانی کا معمولی سا قطرہ ہو یا بیچ سمندر کوئی بھی مخلوق ہو)، یا سمندر کی انتہائی گہرائیاں ہوں (اور ان انتہائی گہرائیوں میں کوئی چھوٹی سی چھوٹی مخلوق ہو)، یا زمین کی انتہائی گہرائیاں ہوں (اور ان گہر گہرائیوں میں موجود ایسی باریک مخلوق ہو جن کو انسانی آنکھ بھی نہ دیکھ سکے)، یا آسمانوں کی ہزاروں سال کی مسافت دور آسمانوں میں جتنی بھی مخلوقات ہیں حتی کہ ذرہ برابر کی بھی کوئی بھی مخلوق ہو، ان تمام ذرے ذروں کا علم عطا کیا گیا؟
ہو سکتا ہے ہماری یہ بات اس مخصوص طبقہ کے بہت سے پیروکاروں کے لیے بھی حیرت انگیز انکشاف لگے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس مخصوص طبقہ کے اکابرین اپنے دلائل سے یہی کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں، جس کی تفصیل إن شاء الله آگے آئے گی۔
آئیے ہم اپنے موضوع کی طرف چلتے ہیں۔
فریق مخالف بھی بظاہر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ”عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔“
لیکن دوسری طرف یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائے آفرینش سے إلى يوم القيامة اور اس کے بعد دخول جنت اور نار تک کے ذرے ذرے کا علم غیب جانتے ہیں۔“
یعنی فریق مخالف نے ایک طرف یہ عقیدہ بیان کیا کہ ”غیب کا جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔“ دوسری طرف ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی غیب کا جاننے والا مانا۔“
اور اس عقیدے کے مخالفین کے اعتراضات اور اپنے پیروکاروں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات اور شک و شبہات کو دور کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرتے ہیں اس کی مختصر تفصیل حاضر ہے۔
اس موضوع پر اگر کوئی دلیل نہ بھی پیش کی جائے اور صرف فریق مخالف کے دلائل کے یہ مختلف مختلف ٹکڑے پیش کیے جائیں کہ فریق مخالف نے کس طرح ”کلی علم غیب جاننے“ کے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے کتنے جتن کیے ہیں؟ تو دوستو ”حق“ اور ”باطل“ میں تمیز کرنے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ زمینوں اور آسمانوں کے ذرے ذرے کا کلی غیب ثابت کرنے کے لیے مختلف مختلف باتوں کو جوڑ جوڑ کر اپنا موقف درست نہیں ثابت کیا جاتا۔
بلکہ ملاحظہ فرمائیں کہ زمینوں اور آسمانوں کا کلی غیب جاننے کا بیان قرآن پاک میں کتنے مختصر الفاظ، سادہ، جامع اور وضاحت والا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿له غيب السماوات والأرض ۖ أبصر به وأسمع الخ﴾ [الكهف 26 پارہ 15]
”ترجمہ: اسی کو معلوم ہیں سب غیب (چھپی باتیں) آسمانوں کی اور زمین کی، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا۔“
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں علامہ جلال الدین محلی (المتوفی 864ھ) اور علامہ ابو السعود محمد بن محمد العمادی (المتوفی 982ھ) اور علامہ نسفی اور علامہ خازن لکھتے ہیں:”یعنی اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کے باشندوں کے حالات سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے، اور بس وہ تنہا ان کو جاننے والا ہے۔“ [تفسير جلالين صفحہ 184] [ابو السعود جلد 6 صفحہ 58] [تفسير مدارک جلد 3 صفحہ 9] [تفسير خازن جلد 6 صفحہ 169]
اور جب فریق مخالف کے سامنے سب سے اہم سوال سامنے آیا (جس سے فریق مخالف کے پیروکاروں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا کہ کہیں ہم غلطی پر تو نہیں؟) کہ فریق مخالف اور اس کے پیروکار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ زمین اور آسمانوں کے ذرے ذرے غیب صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے اور فریق مخالف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ذرے ذرے غیب کا علم ثابت کرتا ہے۔ تو یہ علم الٰہی کی برابری ہے؟
ملاحظہ فرمائیں کہ فریق مخالف نے کس طرح اپنے پیروکاروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی؟
(8) فریق مخالف نے دلیل پیش کی کہ ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو علم الٰہی سے کوئی نسبت نہیں۔ کلی علم غیب کا مطلب یہ نہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کا علم ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب حاصل ہے۔ بلکہ مخلوقات اور لوح محفوظ کے کل علوم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا علم لوح محفوظ پر منحصر نہیں ہے بلکہ کروڑوں الوح بھی اللہ تعالیٰ کے علوم غیر متناہیہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔“
یعنی ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب (عملی اعتبار سے، جبکہ لفظی اطلاق کو یہ حضرات بھی درست نہیں سمجھتے) بھی ثابت کیا گیا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے علوم لامتناہیہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے موقف کا دفاع بھی کرنے کی کوشش کی گئی کہ فریق مخالف اللہ تعالیٰ کے کل علوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ثابت نہیں کرتے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ذرے ذرے کا کلی علم غیب ثابت کرنے سے برابری نہیں۔
(9) اور اسی طرح فریق مخالف نے اللہ تعالیٰ کے علوم لامتناہیہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے پیروکاروں کے سامنے یہ موقف پیش کیا کہ ”ہم بھی صرف اللہ تعالیٰ کو عالم الغیب مانتے ہیں۔“
(10) اور فریق مخالف نے اپنے پیروکاروں کے ذہنوں سے ہر طرح کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے اور اپنے پیروکاروں کو اپنے پیش کیے ہوئے موقف پر بالکل مطمئن کر کے اور اپنے دلائل پر مخالفین کی وضاحتوں پر کسی بھی قسم کے غور و فکر یا سوچنے سمجھنے سے دور رکھنے کے لیے سب سے زبردست مغالطہ یہ پیش کیا کہ ”یہ امت شرک نہیں کر سکتی۔“ (یعنی اب تم لوگ ہمارے پیش کیے گئے تمام (اختلافی) عقیدوں پر آنکھیں بند کر کے ایمان لا سکتے ہو)
یہ ایسا حربہ ہے کہ جس سے فریق مخالف کے پیروکار آنکھیں بند کر کے اپنے علماء کی طرف سے پیش کیا ہوا ہر عقیدہ من و عن قبول کر لیتے ہیں۔
اور کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے کہ عمل کرنا یہ نہ کرنا ہمارا اپنا اختیار ہے چلو کبھی دیگر علماء کرام کا موقف بھی سن لیا جائے۔
اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ کبھی کبھی کسی واقعہ کا 99.99 فیصد ہو جانے کے یقین کے باوجود اس یقین کے برعکس واقعہ رونما ہو جاتا ہے یا ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیے دنیا کے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا وہ چاہے بت پرست ہو، یا یہود ہو، یا نصاریٰ ہو، یا قادیانی ہو، منکر حدیث ہو، دنیا کا ہر مذہب والا اپنے آپ کو سیدھی راہ پر ہی سمجھتا ہے، اور باقی سب کو گمراہ سمجھتا ہے، اور دنیا کا ہر مذہب والے کے پاس اپنے مذہب کو سچا ثابت کرنے کے لیے بے شمار دلائل اور جواز بھی ہوتے ہیں، جن سے ایک طرف وہ اپنے پیروکاروں کو مطمئن کرتے ہیں، تو دوسری طرف اپنے مخالفین کی طرف سے پیش کیے گئے اعتراضات اور دلائل کے جوابات دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن کیونکہ جھوٹ مٹنے کے لیے ہی ہے اس لیے جب حق سامنے آتا ہے تو آخر کار ایک موقعہ ایسا بھی آتا ہے کہ جہاں دنیا کے ہر باطل مذہب والے کو لاجواب ہونا پڑتا ہی ہے۔ جس کے بعد دنیا کے ہر باطل مذہب والے کو اپنے اپنے نام نہاد عقائد کے تحفظ اور بقاء کے لیے بالآخر ”ضد اور ہٹ دھرمی“ کا سہارا لینا ہی پڑتا ہے، جس کا یقینا کوئی علاج اور جواب نہیں ہوتا، اور ایسے موقعہ پر، اور ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آنے والوں کے لیے ہزاروں دلائل بھی ناکافی ہوتے ہیں۔
اس چھوٹی سی تمہید باندھنے کا مقصد صرف چند باتوں کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ایک تو یہ کہ محض کسی کا صراط مستقیم پر ہونے کے دعوے کرنا حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اپنے مخالفین کے اعتراضات اور دلائل کے محض زبانی کلامی جوابات دے دینا بھی حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ بلکہ غیر جانبدار ہو کر فریقین کے دلائل میں سے وزنی اور ٹھوس دلائل کا تعین کر کے ہی حق اور باطل کی پہچان کی جا سکتی ہے۔ ساتھ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرنی چاہیے۔ کیونکہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔
عمل کرنا یا نہ کرنا یہ سب کا اپنا اپنا اختیار ہے۔ کوئی کسی کو کسی بات پر مجبور نہیں کر سکتا۔ لیکن اپنے مخالفین کی بات ضرور سن لینی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی اچھی بات آپ کے علم میں آ جائے۔ یا ہو سکتا ہے کہ مخالف کی بات سن کر آپ مخالف کی کوئی غلط فہمی دور کر دیں۔
ہم اپنی بات شروع کرنے سے پہلے جو ہمارے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ان تمام حضرات سے ایک درخواست کرنا چاہیں گے کہ ہماری وضاحتوں میں ہماری غلطیوں کی نشاندہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کر لیں۔ لیکن اگر ہماری وضاحتوں میں سچائی مل جائے اور آپ کا ضمیر گواہی دے کہ ہماری پیش کی ہوئی وضاحتیں درست ہیں تو ”حق“ قبول کرنے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ نہ کیجیے گا۔ یاد رکھیے کہ کامیابی اپنے موقف کی جیت میں نہیں بلکہ کامیابی تو اللہ تعالیٰ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات میں ہے۔ دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین۔
علم غیب پر اثبات اور نفی پر مبنی قرآنی آیات
«الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم - بسم الله الرحمن الرحيم»
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح اور صاف صاف فرمان کہ ”غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله وما يشعرون أيان يبعثون﴾ [النمل 65 پارہ 20]
”ترجمہ: کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا، اور انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے۔“
علامہ بغوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا تھا۔ [معالم التنزيل جلد 5 صفحہ 128]
اور یہی شان نزول تفسیر جلالین صفحہ 321، مدارک جلد 2 صفحہ 167، اور جامع البیان صفحہ 321 وغیرہ میں مذکور ہے۔
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرا دیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی، غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں۔
مزید لکھتے ہیں کہ یہاں استثناء منقطع ہے، یعنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی انسان، جن، فرشتہ غیب داں نہیں۔ [تفسير ابن كثير جلد 3 صفحہ 372]
علامہ خازن رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
”مطلب آیت کا یہ ہے کہ بس اللہ تعالیٰ ہی کو علم غیب ہے اور وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی اور ان کو یہ خبر نہیں کہ وہ کب دوبارہ زندہ کیے جائیں گے یعنی جو مخلوق کہ آسمانوں میں ہے اور وہ فرشتے ہیں اور جو زمین میں ہیں یعنی بنی آدم (اور جنات وغیرہ) ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہی اس کے علم کے ساتھ متفرد ہے۔“ (یعنی اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) [تفسير خازن جلد 5 صفحہ 125]
قاضی ثناء اللہ الحنفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرما دیجیے کہ غیب بجز اللہ تعالیٰ کے نہیں جانتے وہ جو آسمانوں میں ہیں یعنی فرشتے، اور جو زمین میں ہیں یعنی جن اور انسان اور انہی انسانوں میں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام بھی ہیں۔“ [تفسير مظهري جلد 7 صفحہ 126]
غیب پر مطلع ہونا، انباء غیب اور غیب جاننے کا فرق
اس موضوع کا یہ نقطہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ یہ نقطہ ہی سمجھنے کی غلط فہمی علم غیب پر اختلافات کی بنیاد ہے۔ اور فریق مخالف کے دلائل کی بنیادیں اسی نقطہ پر رکھی گئیں ہیں۔ اس لیے آپ تمام دوستوں سے خصوصی توجہ کی درخواست ہے۔
اب یہاں ہم سب سے پہلے فریق مخالف کی طرف سے پیش کی ہوئی غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ پیش کرتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے। ﴿وما كان الله ليطلعكم على الغيب ولكن الله يجتبي من رسله من يشاء ۖ فآمنوا بالله ورسله﴾ [آل عمران 179 پارہ 4]
”ترجمہ: اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ مطلع کرے تم کو غیب پر، لیکن ہاں جس کو خود چاہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں، ان کو منتخب فرما لیتا ہے۔“
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿عالم الغيب فلا يظهر على غيبه أحدا ﴿٢٦﴾ إلا من ارتضى من رسول﴾ [الجن 26، 27 پارہ 29]
”ترجمہ: غیب کا جاننے والا وہ ہی ہے، سو مطلع نہیں فرماتا وہ اپنے غیب پر کسی کو، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔“
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿ذلك من أنباء الغيب نوحيه إليك﴾ [يوسف 102 پارہ 13]
”ترجمہ: یہ غیب کی خبریں ہیں جو وحی کر رہے ہیں ہم تمہاری طرف۔“
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿تلك من أنباء الغيب نوحيها إليك ۖ ما كنت تعلمها أنت ولا قومك من قبل هذا﴾ [هود 49 پارہ 12]
”ترجمہ: یہ خبریں ہیں غیب کی جو ہم وحی کر رہے ہیں تمہاری طرف (اے نبی) نہیں جانتے تھے یہ باتیں تم اور نہ تمہاری قوم اس سے پہلے۔“
اوپر بیان کی گئیں غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ میں آپ نوٹ فرمائیں کہ ایک موقعہ پر بھی بیان نہیں کہ ”اللہ کے رسول غیب جانتے ہیں۔“ بلکہ ”مطلع کیا گیا“ یا ”غیب کی خبریں وحی کی گئیں“ کا بیان ہے۔
یہ بہت ہی خاص بات ہے، آپ لوگ اپنے ذہن میں رکھیں إن شاء الله آگے مزید وضاحت آئے گی۔
اب یہاں نیچے والی آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیں کہ غیب کی نفی میں واضح طور پر ”غیب جاننے کی نفی“ ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله﴾ [النمل 65 پارہ 20]
”ترجمہ: کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا۔“
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿قل لا أملك لنفسي نفعا ولا ضررا إلا ما شاء الله ۚ ولو كنت أعلم الغيب لاستكثرت من الخير وما مسني السوء﴾ [الأعراف 188 پارہ 9]
”ترجمہ: کہہ دو کہ میں نہیں اختیار رکھتا میں اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع اور نہ کسی نقصان کا، مگر یہ کہ چاہے اللہ، اور ہوتا مجھے علم غیب کا تو ضرور حاصل کر لیتا میں بہت فائدے اور نہ پہنچتا مجھے کوئی نقصان۔“
ہم یہاں آیات مبارکہ کی تفاسیر اس لیے پیش نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد اس وقت صرف غیب کے اثبات اور غیب میں نفی میں آیات مبارکہ میں اس فرق کو واضح کرنا ہے کہ فریق مخالف کا موقف ہے کہ ”حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں۔“
اور دلیل میں جو آیات مبارکہ پیش فرماتے ہیں ان میں غیب پر مطلع ہونا یا انباء غیب کا بیان ہے۔
اب آ جائیں فریق مخالف کے کچھ اعتراضات کی طرف۔
فریق مخالف کا کہنا ہے کہ ”مخالفین کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں غیب نہیں جانتا، یا فقہاء کرام فرماتے ہیں جو غیر اللہ کے لیے غیب جاننے کا عقیدہ مانے وہ کافر ہے۔“
فریق مخالف کا کہنا ہے کہ یہ دلائل تو خود مخالفین کے خلاف ہیں کیونکہ بعض غیب تو وہ بھی مانتے ہیں، اور اختلاف تو ”جمیع كان وما يكون (یعنی جو ہو چکا ہے یا جو کچھ ہونے والا ہے)“ پر ہے۔ تو یہ حضرات فرماتے ہیں کہ پھر اس فتوے کی زد سے تو مخالفین بھی نہیں بچ سکتے کیونکہ ایک بات کا بھی علم مانا تو ان کے دلائل کے خلاف ہوا۔
یہاں ہم فریق مخالف کی اس غلط فہمی کی دو حصوں میں وضاحت کریں گے۔
یہاں پہلے تو ”بعض غیب“ کا مفہوم سمجھیں۔ اور یہ بات سمجھیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے بعض غیب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا“ سے کیا مراد ہے؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿الذين يؤمنون بالغيب﴾ [البقرة 3 پارہ 1]
”ترجمہ: جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔“
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایمان کسی چیز کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔ [تفسير طبري 1/335]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ [تفسير طبري 1/235]
حضرت زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایمان کہتے ہیں عمل کو۔ [تفسير طبري 1/235]
ربیع بن انس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں ایمان لانے سے مراد ڈرنا ہے۔ [تفسير طبري 1/235]
ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سب اقوال مل جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ زبان سے، دل سے، عمل سے غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا ڈر رکھتے ہیں۔ ایمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لانا شامل ہے، اور اس اقرار کی تصدیق عمل کے ساتھ بھی کرنا لازم ہے۔ مزید فرماتے ہیں لغت میں ایمان کہتے ہیں صرف سچا مان لینے کو۔
ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ غیب کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ غیب کا لفظ جو یہاں ہے اس کے معنی میں بھی مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں، اور وہ سب صحیح ہیں اور جمع ہو سکتے ہیں۔
ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، رسولوں پر، قیامت پر، جنت دوزخ پر، اللہ سے ملاقات پر، مرنے کے بعد جی اٹھنے پر ایمان لانا ہے۔
قتادہ ابن دعامہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے। [تفسير طبري 1/236]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نظروں سے اوجھل ہیں جیسے جنت دوزخ وغیرہ، وہ امور جو قرآن پاک میں مذکور ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے وہ سب غیب میں داخل ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن ہے۔
عطاء ابن ابو رباح رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ پر ایمان لانے والا غیب پر ایمان لانے والا ہے۔
اسماعیل بن ابو خالد رحمتہ اللہ علیہ اسلام کی تمام پوشیدہ چیزیں مراد ہیں۔
زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تقدیر پر ایمان لانا ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ پس یہ تمام اقوال معنی کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اس لیے کہ سب چیزیں پوشیدہ ہیں اور غیب کی تفسیر ان سب پر مشتمل ہے، ان سب پر ایمان لانا واجب ہے۔
میرے بھائیوں دوستوں بزرگوں!
اللہ تعالیٰ کی کتابیں، اللہ کے رسول، فرشتے، مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت، روز آخرت، میدان محشر، اللہ سے ملاقات، حساب کتاب، پل صراط، جنت، جہنم، یہ سب غیب کی باتیں تو ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا۔ الحمد لله جن پر ہم ایمان لاتے ہیں۔
اس کے علاوہ متعدد احادیث پاک ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی اطلاع دیں۔ (ہم اختصار کے ساتھ چند احادیث پاک پیش کر رہے ہیں)
”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت چھینے کی کوشش کی اطلاع۔“ [ترمذي جلد 2 صفحہ 212]
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر۔“ [ترمذي جلد 2 صفحہ 221]
”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت مدینہ طیبہ کے سفر میں آندھی کا آنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بڑے منافق کی موت کی خبر دی۔“ [مشكوة جلد 2 صفحہ 536]
”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت جنت میں سب سے پہلے اہل بیت میں سے بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملاقات۔“ [مشكوة جلد 2 صفحہ 563]
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ (نفیع بن الحارث المتوفی 49ھ) فرماتے ہیں:
”جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفی 50ھ) کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔“ [بخاري جلد 2 صفحہ 1053]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے:
”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کچھ ایسے حکام پیدا ہوں گے جو میری سیرت اور میری سنت پر نہیں چلیں گے دل ان کے شیطانوں کے سے ہوں گے مگر شکل صورت میں انسان ہوں گے۔“ [مسلم جلد 2 صفحہ 127]
اس طرح اللہ تعالیٰ کی کتابیں، اللہ کے رسول، فرشتے، مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت کا قائم ہونا، روز آخرت، میدان محشر، اللہ سے ملاقات، حساب کتاب، پل صراط، جنت، جہنم
اور اس کے علاوہ بہت سی احادیث پاک ہیں جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں کی اطلاع دیں، اور بہت سی غیب کی خبروں کی اطلاع دیں (یہاں وہ تمام احادیث پاک شامل ہو جاتی ہیں جن میں غیب کی خبروں کا بیان ہے اور فریق مخالف اپنے موقف میں بطور دلیل پیش فرماتے ہیں، الحمد لله ہمارا تمام احادیث پاک پر ایمان ہے)
بزرگان دین ان غیب کی خبروں کو اخبار غیب یا انباء غیب فرماتے ہیں۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب، انباء الغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطا نہیں، اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔
اب آ جائیں اس نقطہ کے انتہائی اہم رخ کی طرف۔
بہت زیادہ توجہ کی درخواست ہے۔
فریق مخالف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غیب کے اثبات میں اوپر بیان کی گئیں آیات مبارکہ سے دلیل پیش کرتے ہیں کہ ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں۔“
جبکہ ایک آیات مبارکہ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غیب جاننے کا بیان موجود نہیں بلکہ مطلع کیا اور انباء غیب کا بیان ہے۔
اور فریق مخالف کو مغالطہ ہے کہ غیب کی خبروں پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل ہے۔
تو غور فرمائیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی خبروں سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو مطلع فرمایا۔
(فریق مخالف کی منطق سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی غیب کے جاننے والے ہوئے)
صحابہ کرام نے تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور تابعین کرام نے تبع تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور اسی طرح درجہ بدرجہ ائمہ کرام، بزرگان دین، محدثین حضرات ایک دوسرے کو مطلع فرماتے رہے
اور اسی طرح آج لاکھوں کروڑوں مسلمان غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے۔
ان غیب کی خبروں میں سے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں (جو غیب میں داخل ہیں) اور بہت سے واقعات ہونے والے ہیں (جو غیب میں ہی داخل ہیں)
تو فریق مخالف کی منطق سے اگر غیب پر مطلع ہونا، غیب جاننے کی دلیل ہے تو اس لحاظ سے وہ سب لوگ غیب جاننے والے ہوئے جو لوگ احادیث پاک سے مطلع ہوئے کہ کل کیا کیا ہوا؟ اور آنے والے کل کیا کیا ہوگا؟
یقینا ایسا عقیدہ کوئی بھی مسلمان نہیں رکھتا۔ لہذا واضح ہوتا ہے کہ غیب پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل نہیں۔ اور ”علم غیب“ (یعنی غیب جاننا) کی اصطلاح ذاتی علم غیب کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جس کا فریق مخالف بھی قائل نہیں ہے۔ بلکہ ہماری بات کی تصدیق خود فریق مخالف کے امام احمد رضا صاحب کے اس حوالہ سے بھی ہوتی ہے۔ احمد رضا صاحب فرماتے ہیں کہ:
”علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جبکہ غیب کی خبر کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے۔“ [ملفوظات حصہ سوم]
اور یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے غیر اللہ کے لیے علم غیب کا عقیدہ رکھنے والے کی تکفیر فرمائی ہے۔
چنانچہ ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کے لیے علم غیب پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”پھر تو جان لے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام غیب کی چیزوں کا علم نہیں رکھتے تھے مگر جتنا کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ان کو علم دے دیتا ہے اور حنفیوں نے تصریح کی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں تو وہ کافر ہے کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا معارضہ کیا کہ تو کہہ دے کہ جو ہستیاں آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ غیب نہیں جانتی بجز پروردگار کے ایسا ہی مسايرة میں ہے۔“ [مسايرة مع المسامرة جلد 2 صفحہ 88 طبع مصر] [شرح فقہ أكبر صفحہ 185 طبع کانپور]
تو واضح ہوتا ہے کہ غیر اللہ کے لیے غیب جاننے کا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔
جبکہ بزرگان دین اور دیگر علماء کرام کے اقوال کے مفہوم یہ نہیں ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں۔“
بلکہ بزرگان دین اور علماء کرام کے اقوال میں ”بعض غیب پر مطلع ہوئے“ وغیرہ کے ارشادات ہیں۔ اور غیب پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل نہیں۔
«الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم - بسم الله الرحمن الرحيم»
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح اور صاف صاف فرمان کہ ”غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله وما يشعرون أيان يبعثون﴾ [النمل 65 پارہ 20]
”ترجمہ: کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا، اور انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے۔“
علامہ بغوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا تھا۔ [معالم التنزيل جلد 5 صفحہ 128]
اور یہی شان نزول تفسیر جلالین صفحہ 321، مدارک جلد 2 صفحہ 167، اور جامع البیان صفحہ 321 وغیرہ میں مذکور ہے۔
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرا دیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی، غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں۔
مزید لکھتے ہیں کہ یہاں استثناء منقطع ہے، یعنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی انسان، جن، فرشتہ غیب داں نہیں۔ [تفسير ابن كثير جلد 3 صفحہ 372]
علامہ خازن رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
”مطلب آیت کا یہ ہے کہ بس اللہ تعالیٰ ہی کو علم غیب ہے اور وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی اور ان کو یہ خبر نہیں کہ وہ کب دوبارہ زندہ کیے جائیں گے یعنی جو مخلوق کہ آسمانوں میں ہے اور وہ فرشتے ہیں اور جو زمین میں ہیں یعنی بنی آدم (اور جنات وغیرہ) ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہی اس کے علم کے ساتھ متفرد ہے۔“ (یعنی اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) [تفسير خازن جلد 5 صفحہ 125]
قاضی ثناء اللہ الحنفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرما دیجیے کہ غیب بجز اللہ تعالیٰ کے نہیں جانتے وہ جو آسمانوں میں ہیں یعنی فرشتے، اور جو زمین میں ہیں یعنی جن اور انسان اور انہی انسانوں میں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام بھی ہیں۔“ [تفسير مظهري جلد 7 صفحہ 126]
غیب پر مطلع ہونا، انباء غیب اور غیب جاننے کا فرق
اس موضوع کا یہ نقطہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ یہ نقطہ ہی سمجھنے کی غلط فہمی علم غیب پر اختلافات کی بنیاد ہے۔ اور فریق مخالف کے دلائل کی بنیادیں اسی نقطہ پر رکھی گئیں ہیں۔ اس لیے آپ تمام دوستوں سے خصوصی توجہ کی درخواست ہے۔
اب یہاں ہم سب سے پہلے فریق مخالف کی طرف سے پیش کی ہوئی غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ پیش کرتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے। ﴿وما كان الله ليطلعكم على الغيب ولكن الله يجتبي من رسله من يشاء ۖ فآمنوا بالله ورسله﴾ [آل عمران 179 پارہ 4]
”ترجمہ: اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ مطلع کرے تم کو غیب پر، لیکن ہاں جس کو خود چاہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں، ان کو منتخب فرما لیتا ہے۔“
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿عالم الغيب فلا يظهر على غيبه أحدا ﴿٢٦﴾ إلا من ارتضى من رسول﴾ [الجن 26، 27 پارہ 29]
”ترجمہ: غیب کا جاننے والا وہ ہی ہے، سو مطلع نہیں فرماتا وہ اپنے غیب پر کسی کو، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔“
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿ذلك من أنباء الغيب نوحيه إليك﴾ [يوسف 102 پارہ 13]
”ترجمہ: یہ غیب کی خبریں ہیں جو وحی کر رہے ہیں ہم تمہاری طرف۔“
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿تلك من أنباء الغيب نوحيها إليك ۖ ما كنت تعلمها أنت ولا قومك من قبل هذا﴾ [هود 49 پارہ 12]
”ترجمہ: یہ خبریں ہیں غیب کی جو ہم وحی کر رہے ہیں تمہاری طرف (اے نبی) نہیں جانتے تھے یہ باتیں تم اور نہ تمہاری قوم اس سے پہلے۔“
اوپر بیان کی گئیں غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ میں آپ نوٹ فرمائیں کہ ایک موقعہ پر بھی بیان نہیں کہ ”اللہ کے رسول غیب جانتے ہیں۔“ بلکہ ”مطلع کیا گیا“ یا ”غیب کی خبریں وحی کی گئیں“ کا بیان ہے۔
یہ بہت ہی خاص بات ہے، آپ لوگ اپنے ذہن میں رکھیں إن شاء الله آگے مزید وضاحت آئے گی۔
اب یہاں نیچے والی آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیں کہ غیب کی نفی میں واضح طور پر ”غیب جاننے کی نفی“ ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله﴾ [النمل 65 پارہ 20]
”ترجمہ: کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا۔“
اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿قل لا أملك لنفسي نفعا ولا ضررا إلا ما شاء الله ۚ ولو كنت أعلم الغيب لاستكثرت من الخير وما مسني السوء﴾ [الأعراف 188 پارہ 9]
”ترجمہ: کہہ دو کہ میں نہیں اختیار رکھتا میں اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع اور نہ کسی نقصان کا، مگر یہ کہ چاہے اللہ، اور ہوتا مجھے علم غیب کا تو ضرور حاصل کر لیتا میں بہت فائدے اور نہ پہنچتا مجھے کوئی نقصان۔“
ہم یہاں آیات مبارکہ کی تفاسیر اس لیے پیش نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد اس وقت صرف غیب کے اثبات اور غیب میں نفی میں آیات مبارکہ میں اس فرق کو واضح کرنا ہے کہ فریق مخالف کا موقف ہے کہ ”حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں۔“
اور دلیل میں جو آیات مبارکہ پیش فرماتے ہیں ان میں غیب پر مطلع ہونا یا انباء غیب کا بیان ہے۔
اب آ جائیں فریق مخالف کے کچھ اعتراضات کی طرف۔
فریق مخالف کا کہنا ہے کہ ”مخالفین کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں غیب نہیں جانتا، یا فقہاء کرام فرماتے ہیں جو غیر اللہ کے لیے غیب جاننے کا عقیدہ مانے وہ کافر ہے۔“
فریق مخالف کا کہنا ہے کہ یہ دلائل تو خود مخالفین کے خلاف ہیں کیونکہ بعض غیب تو وہ بھی مانتے ہیں، اور اختلاف تو ”جمیع كان وما يكون (یعنی جو ہو چکا ہے یا جو کچھ ہونے والا ہے)“ پر ہے۔ تو یہ حضرات فرماتے ہیں کہ پھر اس فتوے کی زد سے تو مخالفین بھی نہیں بچ سکتے کیونکہ ایک بات کا بھی علم مانا تو ان کے دلائل کے خلاف ہوا۔
یہاں ہم فریق مخالف کی اس غلط فہمی کی دو حصوں میں وضاحت کریں گے۔
یہاں پہلے تو ”بعض غیب“ کا مفہوم سمجھیں۔ اور یہ بات سمجھیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے بعض غیب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا“ سے کیا مراد ہے؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿الذين يؤمنون بالغيب﴾ [البقرة 3 پارہ 1]
”ترجمہ: جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔“
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایمان کسی چیز کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔ [تفسير طبري 1/335]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ [تفسير طبري 1/235]
حضرت زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایمان کہتے ہیں عمل کو۔ [تفسير طبري 1/235]
ربیع بن انس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں ایمان لانے سے مراد ڈرنا ہے۔ [تفسير طبري 1/235]
ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سب اقوال مل جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ زبان سے، دل سے، عمل سے غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا ڈر رکھتے ہیں۔ ایمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لانا شامل ہے، اور اس اقرار کی تصدیق عمل کے ساتھ بھی کرنا لازم ہے۔ مزید فرماتے ہیں لغت میں ایمان کہتے ہیں صرف سچا مان لینے کو۔
ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ غیب کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ غیب کا لفظ جو یہاں ہے اس کے معنی میں بھی مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں، اور وہ سب صحیح ہیں اور جمع ہو سکتے ہیں۔
ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، رسولوں پر، قیامت پر، جنت دوزخ پر، اللہ سے ملاقات پر، مرنے کے بعد جی اٹھنے پر ایمان لانا ہے۔
قتادہ ابن دعامہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے। [تفسير طبري 1/236]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نظروں سے اوجھل ہیں جیسے جنت دوزخ وغیرہ، وہ امور جو قرآن پاک میں مذکور ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے وہ سب غیب میں داخل ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن ہے۔
عطاء ابن ابو رباح رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ پر ایمان لانے والا غیب پر ایمان لانے والا ہے۔
اسماعیل بن ابو خالد رحمتہ اللہ علیہ اسلام کی تمام پوشیدہ چیزیں مراد ہیں۔
زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تقدیر پر ایمان لانا ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ پس یہ تمام اقوال معنی کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اس لیے کہ سب چیزیں پوشیدہ ہیں اور غیب کی تفسیر ان سب پر مشتمل ہے، ان سب پر ایمان لانا واجب ہے۔
میرے بھائیوں دوستوں بزرگوں!
اللہ تعالیٰ کی کتابیں، اللہ کے رسول، فرشتے، مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت، روز آخرت، میدان محشر، اللہ سے ملاقات، حساب کتاب، پل صراط، جنت، جہنم، یہ سب غیب کی باتیں تو ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا۔ الحمد لله جن پر ہم ایمان لاتے ہیں۔
اس کے علاوہ متعدد احادیث پاک ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی اطلاع دیں۔ (ہم اختصار کے ساتھ چند احادیث پاک پیش کر رہے ہیں)
”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت چھینے کی کوشش کی اطلاع۔“ [ترمذي جلد 2 صفحہ 212]
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر۔“ [ترمذي جلد 2 صفحہ 221]
”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت مدینہ طیبہ کے سفر میں آندھی کا آنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بڑے منافق کی موت کی خبر دی۔“ [مشكوة جلد 2 صفحہ 536]
”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت جنت میں سب سے پہلے اہل بیت میں سے بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملاقات۔“ [مشكوة جلد 2 صفحہ 563]
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ (نفیع بن الحارث المتوفی 49ھ) فرماتے ہیں:
”جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفی 50ھ) کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔“ [بخاري جلد 2 صفحہ 1053]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے:
”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کچھ ایسے حکام پیدا ہوں گے جو میری سیرت اور میری سنت پر نہیں چلیں گے دل ان کے شیطانوں کے سے ہوں گے مگر شکل صورت میں انسان ہوں گے۔“ [مسلم جلد 2 صفحہ 127]
اس طرح اللہ تعالیٰ کی کتابیں، اللہ کے رسول، فرشتے، مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت کا قائم ہونا، روز آخرت، میدان محشر، اللہ سے ملاقات، حساب کتاب، پل صراط، جنت، جہنم
اور اس کے علاوہ بہت سی احادیث پاک ہیں جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں کی اطلاع دیں، اور بہت سی غیب کی خبروں کی اطلاع دیں (یہاں وہ تمام احادیث پاک شامل ہو جاتی ہیں جن میں غیب کی خبروں کا بیان ہے اور فریق مخالف اپنے موقف میں بطور دلیل پیش فرماتے ہیں، الحمد لله ہمارا تمام احادیث پاک پر ایمان ہے)
بزرگان دین ان غیب کی خبروں کو اخبار غیب یا انباء غیب فرماتے ہیں۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب، انباء الغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطا نہیں، اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔
اب آ جائیں اس نقطہ کے انتہائی اہم رخ کی طرف۔
بہت زیادہ توجہ کی درخواست ہے۔
فریق مخالف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غیب کے اثبات میں اوپر بیان کی گئیں آیات مبارکہ سے دلیل پیش کرتے ہیں کہ ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں۔“
جبکہ ایک آیات مبارکہ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غیب جاننے کا بیان موجود نہیں بلکہ مطلع کیا اور انباء غیب کا بیان ہے۔
اور فریق مخالف کو مغالطہ ہے کہ غیب کی خبروں پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل ہے۔
تو غور فرمائیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی خبروں سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو مطلع فرمایا۔
(فریق مخالف کی منطق سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی غیب کے جاننے والے ہوئے)
صحابہ کرام نے تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور تابعین کرام نے تبع تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور اسی طرح درجہ بدرجہ ائمہ کرام، بزرگان دین، محدثین حضرات ایک دوسرے کو مطلع فرماتے رہے
اور اسی طرح آج لاکھوں کروڑوں مسلمان غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے۔
ان غیب کی خبروں میں سے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں (جو غیب میں داخل ہیں) اور بہت سے واقعات ہونے والے ہیں (جو غیب میں ہی داخل ہیں)
تو فریق مخالف کی منطق سے اگر غیب پر مطلع ہونا، غیب جاننے کی دلیل ہے تو اس لحاظ سے وہ سب لوگ غیب جاننے والے ہوئے جو لوگ احادیث پاک سے مطلع ہوئے کہ کل کیا کیا ہوا؟ اور آنے والے کل کیا کیا ہوگا؟
یقینا ایسا عقیدہ کوئی بھی مسلمان نہیں رکھتا۔ لہذا واضح ہوتا ہے کہ غیب پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل نہیں۔ اور ”علم غیب“ (یعنی غیب جاننا) کی اصطلاح ذاتی علم غیب کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جس کا فریق مخالف بھی قائل نہیں ہے۔ بلکہ ہماری بات کی تصدیق خود فریق مخالف کے امام احمد رضا صاحب کے اس حوالہ سے بھی ہوتی ہے۔ احمد رضا صاحب فرماتے ہیں کہ:
”علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جبکہ غیب کی خبر کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے۔“ [ملفوظات حصہ سوم]
اور یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے غیر اللہ کے لیے علم غیب کا عقیدہ رکھنے والے کی تکفیر فرمائی ہے۔
چنانچہ ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کے لیے علم غیب پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”پھر تو جان لے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام غیب کی چیزوں کا علم نہیں رکھتے تھے مگر جتنا کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ان کو علم دے دیتا ہے اور حنفیوں نے تصریح کی ہے کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں تو وہ کافر ہے کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا معارضہ کیا کہ تو کہہ دے کہ جو ہستیاں آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ غیب نہیں جانتی بجز پروردگار کے ایسا ہی مسايرة میں ہے۔“ [مسايرة مع المسامرة جلد 2 صفحہ 88 طبع مصر] [شرح فقہ أكبر صفحہ 185 طبع کانپور]
تو واضح ہوتا ہے کہ غیر اللہ کے لیے غیب جاننے کا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔
جبکہ بزرگان دین اور دیگر علماء کرام کے اقوال کے مفہوم یہ نہیں ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں۔“
بلکہ بزرگان دین اور علماء کرام کے اقوال میں ”بعض غیب پر مطلع ہوئے“ وغیرہ کے ارشادات ہیں۔ اور غیب پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل نہیں۔
مفاتح الغیب
«الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم»
السلام علیکم ورحمة الله! محترم قارئین کرام اس سے قبل کہ ہم فریق مخالف کے کچھ مزید دلائل کی وضاحتیں پیش کریں، مناسب ہے کہ یہاں ایک اور اہم نکتہ کی وضاحت پیش کر دی جائے۔
ارشاد باری تعالى ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾
[لقمان: 34، پارہ 21]
“ترجمہ: سمجھ رکھو کہ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے، اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا کچھ کرے گا نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا، یاد رکھو اللہ پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔”
اس آیت میں پانچ چیزوں کا ذکر ہے جنہیں اللہ تعالى کے سوا کوئی نہیں جانتا: وقت قیامت کا علم۔ بارش کے نزول کا علم۔ ماں کے پیٹ کا علم۔ آنے والے کل کا علم۔ اور ہر ذی نفس کی موت کا علم۔
یعنی قیامت آ کر رہے گی مگر کب آئے گی؟ اس کا علم اللہ تعالى کے سوا کسی کو نہیں، نہ معلوم کب یہ کارخانہ توڑ پھوڑ کر برابر کر دیا جائے۔ زمین کی ساری رونق اور مادی برکت (جس پر مخلوق کی خوشحالی کا دارومدار ہے) آسمانی بارش پر موقوف ہے، سال دو سال مینہ نہ برسے تو خاک اڑنے لگے۔ مگر یہ بارش کب ہوگی، کہاں ہوگی، کتنی مقدار میں ہوگی، کن کن نتائج کی حامل ہوگی اس کو بھی صرف اللہ تعالى ہی جانتا ہے۔ اور اس کا علم بھی اللہ تعالى ہی کو ہے کہ ارحام کے اندر کیا ہے، لڑکے ہیں یا لڑکیاں ہیں، گورے ہیں یا کالے ہیں، صحیح الاعضاء ہیں یا ناقص الاعضاء ہیں، پیدا ہونے کے بعد ان کی عمر کیا ہوگی، روزی کتنی ملے گی، کیا کیا کام کریں گے، سعید ہوں گے یا شقی وغیرہ وغیرہ۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا (خود ساختہ پروگرام کا سوال نہیں ہے) نفع کمائے گا یا نقصان، نیکی کرے گا یا بدی اور کچھ کرنے کے لئے زندہ بھی رہے گا یا نہیں۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کی موت کب آئے گی، کہاں آئے گی، کس نوعیت کی ہوگی، دفن ہوگا یا جانور کھا جائیں گے، کس جگہ دفن ہوگا وغیرہ۔
احادیث پاک میں ان پانچ چیزوں کو مفاتح الغیب کہا گیا ہے جن کا علم کلی بجز اللہ تعالى کے اور کسی کو نہیں ہے۔ اللہ تعالى نے جناب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو احکام غیبیہ کا علم عطا فرمایا ہے اور اکوان غیبیہ میں سے بہت سے جزئیات کو علم بھی آپ صلى الله عليه وسلم کو عطا کیا گیا۔ ہاں اکوان غیبیہ کی کلیات اور اصول کا علم بجز اللہ تعالى کے اور کوئی نہیں جانتا۔
رہی ان پانچ اشیاء کی تخصیص، تو اس کی کئی وجوہ ہیں:
اول: کیوں کہ سوال کرنے والوں نے ان ہی پانچ چیزوں کے متعلق سوال کیا تھا لہذا جواب میں ان پانچ اشیاء کو ہی ملحوظ رکھا گیا۔ چنانچہ حافظ ابن كثير رحمة الله عليه، علامہ بغوي رحمة الله عليه، علامہ عيني رحمة الله عليه، علامہ سيوطي رحمة الله عليه، علامہ آلوسی رحمة الله عليه، ملا احمد جيون الحنفي رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
«نقل في نزولها أن حارث بن عمر جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال أخبرني عن الساعة أيان مرساها وقد زرعت بذا فأخبرني متى ينزل الغيث وأمرأتي حاملة فأخبرني عما في بطنها ذكر أم أنثى وعلم ما وقع أمس وأخبرني عما يقع غدا وعملت أرضا ولدت فيها أخبرني عما أدفن فيه فنزلت الآية المذكورة في جوابه يعني أن هذه الخمسة في خزانة غيب الله لا يطلع عليه أحد من البشر والملك والجن أه»
[ابن كثير جلد 3 صفحہ 455] [معالم التنزيل جلد 3 صفحہ 156] [عمدة القاري جلد 11 صفحہ 519] [در منشور جلد 5 صفحہ 170] [روح المعاني جلد 21 صفحہ 97] [تفسير احمدي صفحہ 396]
یعنی اس کا شان نزول یہ نقل کیا گیا ہے کہ حارث بن عمر رضی اللہ عنہ حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے سوال کیا مجھے بتائیے کہ قیامت کب آئے گی اور کب اس کا قیام ہوگا، اور میں نے کھیتی بو کر اس میں بیج ڈالا ہے بتائیے بارش کب ہوگی، اور میری بیوی حاملہ ہے فرمائیے کہ اس کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی، مجھے تو یہ علم ہے کہ گذشتہ کل میں کیا ہوا، آپ حضور صلى الله عليه وسلم مجھے بتائیے کہ آنے والے کل میں کیا کچھ ہوگا؟ اور مجھے علم ہے کہ میں کس زمین میں پیدا ہوا آپ مجھے یہ بتائیے کہ میں کہاں دفن ہوں گا۔ آپ کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئیں کہ یہ پانچ چیزیں اللہ تعالى کے خزانہ غیب میں ہیں ان پر نہ تو کوئی بشر اور فرشتہ مطلع ہو سکا ہے اور نہ جن۔
(معالم التنزيل، عمدة القاري اور روح المعاني وغیرہ میں حارث کی بجائے وارث اور عمر کی جگہ عمرو آیا ہے) جو بھی ہو مطلب واضح ہے کہ چونکہ سوال ہی ان پانچ اشیاء کے متعلق ہوا تھا اس لئے جواب میں بھی انہی پر اقتصار کیا گیا ہے۔ اگرچہ ہزاروں اور لاکھوں ہی نہیں بلکہ کروڑوں چیزیں ایسی ہیں جن کا تفصیلی علم صرف اللہ تعالى کی ذات ہی کو حاصل ہے۔
امام رازي رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
“اس آیت مبارک کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ بس انہی پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالى سے مخصوص ہے کیوں کہ اس کا ذرہ بے مقدار کا علم بھی اللہ ہی کو ہے جو مثلا طوفان نوح کے زمانے میں ریت کے کسی ٹیلے میں تھا اور بعد میں ہوا نے اس کو بارہا مشرق سے مغرب کی طرف منتقل کیا۔” [تفسير كبير جلد 6 صفحہ 503]
دوسری وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ حافظ ابن حجر، علامہ بدر الدين عيني اور مفتي عبدہ لکھتے ہیں، جس کا خلاصہ ہماری عبارت میں یوں ہے:
ان پانچ چیزوں کے اندر حصر کی حکمت یہ ہے کہ عالم پانچ قسم کے ہیں:
عالم حیوان“يعلم ما في الأرحام”اسی کی طرف اشارہ ہے۔
عالم نباتات یا بالفاظ دیگر عالم علوی جو نباتات کا سبب اور ذریعہ ہے“وينزل الغيث”میں اسی طرف اشارہ ہے۔
عالم سفلی یا بالفاظ دیگر عالم برزخ“بأي أرض تموت”میں اسی طرف اشارہ ہے۔
عالم زمان اور جو کچھ اس میں حوادث ہوتے ہیں“ماذا تكسب غدا”میں اسی طرف اشارہ ہے۔
اور عالم آخرت اور“عنده علم الساعة”اسی طرف مشیر ہے۔
[فتح الباري جلد 13 صفحہ 309] [عمدة القاري جلد 11 صفحہ 519] [تفسير المنار جلد 7 صفحہ 468]
اور الشيخ احمد المدعو بملا جيون الحنفي رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
«فإن قلت فما فائدة ذكر الخمسة لأن جميع المغيبات كذلك قلت فائدته أن هذه الخمسة معظم الغيوبات لأنها مفاتيحها فإنه إذا وقف مثلا على ما في غد وقف على موت زيد وتولد عمرو وفتح بكر ومقهورية خالد وقدوم بشر وغير ذلك مما في الغد وهكذا القياس»
[التفسيرات الأحمدية صفحہ 397]
“یعنی اگر تو یہ کہے کہ ان پانچ اشیاء کے ذکر کرنے میں کیا فائدہ ہے، حالانکہ سب مغیبات اسی طرح ہیں تو میں جواب کہوں گا، ان پانچ اشیاء کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ معظم غیوبات بلکہ غیوبات کی چابیاں ہی یہی ہیں، کیوں کہ اگر مثلا کوئی شخص کل کے حوادث پر آگاہ ہو گیا تو زید کی موت، عمرو کی ولادت، بکر کی فتح، خالد کی شکست اور بشر کی آمد پر اور اسی طرح جو کچھ جو کل ہونے والا ہے اس سب پر آگاہ ہو گیا (تو کوئی چیز باقی رہی ہی نہیں) اور اسی طرح باقی (چار چیزوں) پر اس کا قیاس کرو۔”
یعنی بزرگوں نے ان پانچ چیزوں کی یہ حکمت بیان کی ہے کہ ان پانچ چیزوں کی کنجیوں سے غیوب کے خزانے نکلتے ہیں۔ (والله واعلم)
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر احادیث پاک پیش کر دی جائیں۔
حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم ما تغيض الأرحام إلا الله ولا يعلم متى يأتي المطر أحد إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله»
[بخاري جلد 1 صفحہ 141، جلد 2 صفحہ 681، جلد 2 صفحہ 1097] [مسلم ومسند احمد جلد 2 صفحہ 24، جلد 2 صفحہ 52، جلد 2 صفحہ 58] [در منشور جلد 3 صفحہ 15، جلد 5 صفحہ 170] [موارد الظمآن صفحہ 434]
“یعنی حضور سرور عالم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مفاتح الغیب یہ پانچ چیزیں ہیں جن کو بجز اللہ تعالى کے اور کوئی نہیں جانتا اللہ تعالى کے بغیر کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا واقعات رونما ہوں گے، اور سوا اللہ کے کوئی نہیں جانتا کہ ارحام (بچہ دانیوں) میں کیا ہے (مثلا نر یا مادہ ایک یا زیادہ وغیرہ) اور اس کے سوا کسی کو خبر نہیں کہ بارش کب ہوگی؟ اور کسی نفس کو معلوم نہیں کہ اس کی موت کس سرزمین میں واقع ہوگی اور خدا تعالى کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب ہوگی؟”
حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ جناب نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
“أتيت مفاتيح كل شيء إلا الخمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام إلى قوله خبير”
[كنز العمال جلد 6 صفحہ 106] [مسند احمد جلد 2 صفحہ 85] [در منشور جلد 5 صفحہ 170] [ابن كثير جلد 3 صفحہ 454] [خصائص الكبرى جلد 2 صفحہ 195 بسند صحيح] [السراج المنير جلد 2 صفحہ 79] [روح المعاني جلد 21 صفحہ 99 بسند صحيح]
“یعنی مجھے ہر چیز کی چابیاں عطا کی گئیں ہیں مگر ان پانچ چیزوں کی (عطا نہیں کی گئیں)، اللہ ہی کے پاس ہیں علم قیامت کا اور بارش نازل کرنے کا اور ما في الأرحام کا۔ خبير تک (جو سورہ لقمان کی آخری آیتیں ہیں)۔”
اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے:
«أوتي لنبيكم مفاتيح الغيب إلا الخمس ثم تلا هذه الآية إن الله عنده علم الساعة»
[طيالسي صفحہ 249] [خصائص الكبرى جلد 2 صفحہ 195 وقال أخرجه أحمد والطبراني بسند صحيح]
حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ (المتوفى 32 ہجری) فرماتے ہیں:
«أعطي نبيكم صلى الله عليه وسلم مفاتيح الغيب إلا الخمس إن الله عنده علم الساعة إلى آخر السورة»
[طيالسي صفحہ 51] [فتح الباري جلد 8 صفحہ 395] [مسند احمد جلد 4 صفحہ 438]
“یعنی تمہارے نبی حضور صلى الله عليه وسلم غیب کے خزانے عطا کئے گئے ہیں مگر یہ پانچ امور عطا نہیں کئے گئے جو سورہ لقمان کی آخر میں ہیں۔”
نیز فرماتے ہیں کہ:
“أوتي نبيكم صلى الله عليه وسلم كل شيء سوى هذه الخمس”
[فتح الباري جلد 1 صفحہ 115، جلد 8 صفحہ 395، جلد 13 صفحہ 308] [تفسير ابن كثير جلد 3 صفحہ 454 وقال هذا إسناد حسن] [در منشور جلد 5 صفحہ 170]
“یعنی نبی کریم حضور صلى الله عليه وسلم کو ہر چیز کا علم عطا کیا گیا ہے سوائے ان پانچ چیزوں کے (کہ ان کا علم کسی کو بھی عطا نہیں ہوا)۔”
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ (المتوفى 62 ہجری) فرماتے ہیں:
“سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول خمس لا يعلمهن إلا الله إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبير۔”
[مسند احمد جلد 5 صفحہ 353] [داروه الضياء المقدسي سند صحيح، در منشور جلد 5 صفحہ 170] [فتح الباري جلد 10 صفحہ 132 وقال ابن حجر صحيح، ابن حبان والحاكم] [تفسير ابن كثير جلد 3 صفحہ 454 وقال هذا حديث صحيح الإسناد]
“یعنی میں نے جناب نبی کریم حضور صلى الله عليه وسلم سے سنا آپ حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پانچ چیزیں ہیں جن کو اللہ تعالى کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، بے شک اللہ تعالى ہی کے پاس ہے علم قیامت کا، اور وہی (اپنے علم کے مطابق) اتارتا ہے بارش اور وہی جانتا ہے جو کچھ ارحام میں ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کل کیا کرے گا، اور کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کس زمین میں مرے گا، یقینا اللہ تعالى ہی ان چیزوں کا جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔”
حضرت ایاس بن سلمہ رحمة الله عليه (المتوفى 119 ہجری) اپنے والد حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ (المتوفى 74 ہجری) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے حضور صلى الله عليه وسلم سے چند سوالات کئے، ایک یہ بھی تھا:
“قال متى تقوم الساعة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم غيب وما يعلم الغيب إلا الله”
[مستدرك جلد 1 صفحہ 7 قال الحاكم والذهبي على شرط مسلم]
“یعنی قیامت کب آئے گی؟ تو حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا (قیامت کا علم) غیب ہے اور غیب کو اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔”
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“هذه الخمسة لا يعلمها ملك مقرب ولا نبي مصطفى فمن ادعى أنه يعلم شيئا من هذا فقد كفر بالقرآن لأنه خالفه”
[تفسير خازن جلد 5 صفحہ 183]
“یعنی یہ پانچ چیزیں وہ ہیں کہ ان کا علم نہ تو کسی مقرب فرشتہ کو ہے اور نہ جناب نبی کریم حضور صلى الله عليه وسلم کو، تو جو کوئی ان میں سے کسی چیز کے علم کا دعوی کرے تو اس نے قرآن کریم کا انکار کیا، کیوں کہ اس نے اس کی مخالفت کی ہے۔”
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
“لم يعلم على نبيكم صلى الله عليه وسلم إلا الخمس من سرائر الغيب هذه الآية في آخر لقمان إلى آخر الآية”
[در منشور جلد 5 صفحہ 170]
“یعنی تمہارے نبی حضور صلى الله عليه وسلم پر اسرار غیب سے بس یہی پانچ چیزیں مخفی رکھی گئیں ہیں جو سورہ لقمان کی آخری آیت میں مذکور ہیں۔”
ابو امامہ رضی اللہ عنہ (المتوفى 86 ہجری) سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:
«إن أعرابيا وقف على النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر على ناقة له عشراء فقال يا محمد ما في بطن ناقتي هذه فقال له رجل من الأنصار دع عنك رسول الله صلى الله عليه وسلم وهلم إلي حتى أخبرك وقعت أنت عليها وفي بطنها ولد منك فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال إن الله يحب كل حيي كريم متكره ويبغض كل لئيم متفحش ثم أقبل على الأعرابي فقال خمس لا يعلمهن إلا الله إن الله عنده علم الساعة»
[در منشور جلد 5 صفحہ 170]
“یعنی غزوہ بدر کے دن ایک اعرابی اپنی دس ماہ کی گابھن اونٹنی پر سوار ہو کر جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے محمد صلى الله عليه وسلم بتائیے کہ میری اس اونٹنی کے پیٹ میں کیا ہے؟ ایک انصاری نے (طیش میں آ کر) اس سے کہا کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے ہٹ کر میرے پاس آ تاکہ میں تجھے بتلاوں تونے اس اونٹنی سے مجامعت کی ہے اور اس کے پیٹ میں تیرا بچہ ہے، آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے یہ سن کر اس انصاری کی طرف سے منہ پھیر لیا اور فرمایا کہ اللہ تعالى ہر صاحب حیا اور صاحب وقار کو جو گندی باتوں سے کنارہ کشی کرتا ہو پسند کرتا ہے اور ہر کمینہ اور بدزبان کو مبغوض رکھتا ہے، پھر حضور اقدس صلى الله عليه وسلم اس اعرابی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا پانچ چیزیں وہ ہیں جن کا علم بجز اللہ تعالى کے اور کسی کو نہیں پھر آپ نے سورہ لقمان کی یہ آخری آیت پڑھی“إن الله عنده علم الساعة”الآية۔”
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ (المتوفى 74 ہجری) سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
“كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبة حمراء إذ جاء رجل على فرس فقال من أنت قال أنا رسول الله، قال متى الساعة؟ قال غيب وما يعلم الغيب إلا الله قال ما في بطن فرسي؟ قال غيب وما يعلم الغيب إلا الله قال فمتى يمطر؟ قال غيب وما يعلم الغيب إلا الله”
[در منشور جلد 5 صفحہ 170]
“یعنی جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم ایک سرخ رنگ کے خیمہ میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص گھوڑی پر سوار ہو کر آیا اور دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں خدا تعالى کا رسول ہوں، اس نے دریافت کیا قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا یہ غیب کی بات ہے اور اللہ تعالى کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا، پھر اس نے سوال کیا میری گھوڑی کے پیٹ میں کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ غيب ہے اور غیب اللہ تعالى کے سوا کوئی نہیں جانتا، پھر اس نے کہا کہ بارش کب ہوگی؟ آپ نے فرمایا کہ یہ بھی غیب ہے اور اس کو خدا تعالى کے سوا کوئی نہیں جانتا۔”
حضرت لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث میں آتا ہے کہ:
«قلت يا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حاجتي فلا تعجلن علي قال سل عما شئت قلت يا رسول الله صلى الله عليه وسلم هل عندك من علم الغيب فضحك لعمر الله وهز رأسه وعلم أني أبتغي بسقطة فقال ضن ربك بمفاتيح خمس من الغيب لا يعلمهن إلا الله وأشار بيده»
[مستدرك جلد 4 صفحہ 561 قال الحاكم صحيح الإسناد والبداية والنهاية جلد 5 صفحہ 80]
“یعنی میں نے کہا یا رسول الله صلى الله عليه وسلم میں آپ سے اپنی ایک حاجت کے بارے میں سوال کرتا ہوں سو آپ مجھ پر جلدی نہ کریں، آپ نے فرمایا جو چاہتا ہے پوچھ؟ میں نے کہا کہ یا رسول الله صلى الله عليه وسلم کیا آپ کے پاس علم غیب ہے؟ بخدا آپ زور سے ہنسے اور سر مبارک کو حرکت دی اور آپ کو خیال گذرا کہ شاید میں نے آپ کی منزلت کو گرانے کے درپے ہوں تو آپ نے فرمایا کہ مفاتح الغیب کو بتانے میں اللہ تعالى نے رازداری سے کام لیا ہے ان کو اللہ تعالى کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، پھر اپنے ہاتھ سے ان مفاتح الغیب کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ پانچ ہیں۔”
(حافظ ابن كثير رحمة الله عليه نے تصریح فرمائی ہے کہ لقیط بن عامر ابو رزین العقیلی کا یہ سوال رجب 9 ہجری کو پیش آیا تھا) [البداية والنهاية جلد 5 صفحہ 40، 80]
حضرت ربعی بن خراش (المتوفى 100 ہجری) سے روایت ہے:
«حدثني رجل من بني عامر أنه قال يا رسول الله صلى الله عليه وسلم هل بقي من العلم شيء لا تعلمه قال قد علمني الله عزوجل الخمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام»
[رواه أحمد في مسند] [ابن كثير جلد 3 صفحہ 455 وقال هذا إسناد صحيح] [در منشور جلد 5 صفحہ 170]
“یعنی مجھ سے بنی عامر کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ علم میں سے کوئی ایسی چیز بھی باقی ہے جس کو آپ نہ جانتے ہوں، حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالى نے مجھے بہت سی خیر کی تعلیم دی ہے اور بے شک علوم میں سے وہ بھی ہیں جن کو اللہ تعالى کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا چنانچہ پانچ باتیں جو سورہ لقمان کی آخری آیت میں مذکور ہیں، ان کا پورا علم بس اللہ تعالى ہی کو ہے کسی دوسرے کو نہیں۔”
حضرت امام بخاري رحمة الله عليه (المتوفى 256 ہجری) کی روایت میں یوں آتا ہے کہ:
“بے شک اللہ تعالى نے خیر کی تعلیم دی ہے لیکن ایسا علم بھی جس کا علم اللہ تعالى کے سوا کسی کو نہیں۔”(جیسا کہ سورہ لقمان کی آخری آیت میں ہے) [أدب المفرد صفحہ 159]
حضرت مجاہد رحمة الله عليه (المتوفى 102 ہجری) فرماتے ہیں:
«وهي مفاتيح الغيب التي قال الله تعالى وعنده مفاتيح الغيب لا يعلمها إلا هو»
[ابن كثير جلد 3 صفحہ 455]
“یہ پانچ چیزیں وہی مفاتح الغیب ہیں جن کے متعلق اللہ تعالى نے فرمایا کہ مفاتح الغیب کا علم صرف اللہ کو ہے اس کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا۔”
میرے مسلمان بھائیو، دوستو اور بزرگو! اوپر پیش کی گئی سورہ لقمان کی آیت مبارکہ اور اس کی تفسیر میں پیش کی گئی صحیح احادیث پاک اور آثار صحابہ سے یہ بات بالکل آئینہ کی طرح صاف و شفاف ہو جاتی ہے کہ سورہ لقمان میں بیان ہوئی ان پانچ چیزوں کا علم سوائے اللہ رب العزت کے سوا کسی کو نہیں۔
اب یہاں یہ اشکال سامنے آتا ہے کہ مثلا کہ احادیث پاک، آثار صحابہ یا بزرگان دین کے اقوال میں ان پانچ چیزوں میں سے کئی چیزوں کی خبر انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام، صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعين یا اولیاء کرام رحمھم الله نے دیں ہیں پھر اس آیات مبارکہ میں“حصر”کیسے صحیح ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں؟
اس اہم ترین نکتہ کو سمجھنے کے لئے آپ تمام قارئین کرام سے توجہ کی درخواست ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ (لقمان: 34) میں جس علم کی اللہ تعالى کی ذات ستودہ صفات کے ساتھ تخصیص کی گئی ہے، وہ علم کلی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان اشیاء کے کلیات کا بطور کلی علم صرف ذات خداوندی کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور بعض احادیث پاک اور آثار اور اقوال علماء میں سے ان میں سے جن بعض جزئیات کا علم غیر اللہ کے لئے ثابت ہوا ہے تو وہ صرف علم جزئی ہے۔ اور ایجاب جزئی اور رفع ایجاب کلی میں کوئی منافات نہیں ہوتی۔
چنانچہ علامہ آلوسی رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
«فاللائق أن لا يعتبر في الآية سلب العموم بل يعتبر عموم السلب ويلتزم أن القاعدة أغلبية وكذا يقال في السلب والعموم في جانب الفاعل»
[روح المعاني جلد 20 صفحہ 12]
“یعنی یہ امر قابل غور ہے اور لائق فکر ہے کہ آیت میں سلب عموم معتبر نہیں ہے بلکہ عموم سلب مراد ہے اور یہ بات بھی قابل التزام ہے کہ یہ قاعدہ اکثریہ ہے اور اسی طرح جانب فاعل میں سلب اور عموم کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔”
بلکہ اس سے بھی زیادہ صاف اور واشگاف الفاظ میں یوں لکھتے ہیں:
«إنه يجوز أن يطلع الله تعالى بعض أصفيائه على أحدى هذه الخمس ويرزقه عزوجل العلم بذلك في الجملة وعلمها الخاص به جل وعلا ما كان على وجه الإحاطة والشمول لأحوال كل منها وتفصيلها على الوجه الأتم وفي شرح المناوي للجامع الصغير في الكلام على حديث بريدة السابق خمس لا يعلمهن إلا الله على وجه الإحاطة والشمول كليا وجزئيا فلا نية فيه إطلاع الله تعالى بعض خواصه على بعض المغيبات حتى من هذه الخمس لأنها جزئيات معدودة أه»
[تفسير روح المعاني جلد 21 صفحہ 100]
“یعنی یہ جائز کہ اللہ تعالى اپنے بعض برگزیدہ بندوں کو ان پانچ امور میں سے کسی چیز پر مطلع کر دے اور اللہ تعالى ان کو فی الجملہ ان کا علم عطا فرما دے ان علوم خمسہ میں سے جو علم اللہ تعالى سے مخصوص ہے وہ ایسا علم ہے جو على وجه الإحاطة اور على سبيل الشمول ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا على وجه الأتم تفصیلی علم اس پر مشتمل ہو، جامعہ صغیر کی شرح میں علامہ مناوي رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم سوائے باری تعالى کے کسی اور کو نہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ ان تمام کلیات اور جزئیات کا على سبيل الإحاطة والشمول علم صرف اللہ تعالى ہی کو ہے اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ اللہ تعالى اپنے بعض خاص خاص بندوں کو ان پانچ میں سے بعض مغیبات پر مطلع کر دے، کیوں کہ یہ تو چند گنے چنے واقعات اور معدودہ چند جزئیات ہیں۔”
اور اسی طرح ملا علي قاري رحمة الله عليه ارشاد فرماتے ہیں:
«فإن قلت قد أخبر الأنبياء والأولياء بشيء كثير من ذلك فكيف الحصر قلت الحصر باعتبار كلياتها دون جزئياتها»
[مرقات جلد 1 صفحہ 66] [فتح الملھم جلد 1 صفحہ 172]
“اگر تو یہ کہے کہ حضرات انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام اور اولیاء عظام نے ان پانچ میں سے بہت سی چیزوں کے بارے میں خبر دی ہے تو یہ حصر کیسے صحیح ہے کہ اللہ ہی کے پاس اس کا علم ہے؟ تو میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ حصر کلیات کے اعتبار سے ہے جزئیات کے اعتبار سے نہیں۔”
میرے مسلمان بھائیوں، دوستو اور بزرگو! یہ وہ اہم نکتہ ہے کہ جس کو نہ سمجھتے ہوئے فریق مخالف اپنے دعوی میں اور ان صریح آیت مبارکہ میں پیدا ہونے والے واضح تعارض کو (یعنی فریق مخالف کلی علم غیب کی عطاء کا مدعی ہے جبکہ اس صریح آیت مبارکہ میں واضح ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالى کے سوا کسی کو نہیں اور اسی طرح صحیح احادیث پاک میں بھی تصریح ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالى کے سوا کسی کو نہیں) محض ذاتی اور عطائی کہہ کر دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ جیسا کہ ملا علي قاري رحمة الله عليه اور علامہ آلوسی رحمة الله عليه کے اقوال سے بھی واضح ہے کہ فرق کلیات اور جزئیات کا ہے۔ یعنی اللہ تعالى انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام یا اولیاء کرام کو بعض جزئیات پر مطلع فرماتا ہے۔ جبکہ فریق مخالف ان جزئیات کی مثالوں کو لے کر کھرب ہا کھرب پر مشتمل کلی علم غیب کی عطاء کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حضرت قتادہ بن دعامہ رحمة الله عليه مشہور تابعی اس آیت (لقمان: 34) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
«أشياء من الغيب استأثر الله بهن فلم يطلع عليهن ملكا مقرب ولا نبيا مرسلا إن الله عنده علم الساعة فلا يدري أحد من الناس متى تقوم الساعة في أي سنة أو في أي شهر أو ليل أو نهار وينزل الغيث فلا يعلم أحد متى ينزل الغيث ليلا أو نهارا ينزل ويعلم ما في الأرحام أذكرا أو أنثى أحمرا أو أسودا وما هو وما تدري يا ابن آدم متى تموت لعلك الميت غدا المصاب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت ليس أحد من الناس يدري أين مضجعه من الأرض في بحر وبر أو سهل أو جبل»
[ابن جرير جلد 21 صفحہ 88 واللفظ له، ابن كثير جلد 3 صفحہ 455، در منشور جلد 5 صفحہ 170، السراج المنير جلد 3 صفحہ 200، روح المعاني جلد 21 صفحہ 99]
“یعنی کئی چیزیں غیب میں سے ہیں جن کو اللہ تعالى نے اپنے لئے مختص کر لیا ہے اس نے ان پر نہ تو کسی فرشتہ مقرب کو اطلاع دی ہے اور نہ کسی نبی مرسل کو، بے شک قیامت کا علم بس اللہ تعالى ہی کو ہے، پس کوئی بھی انسانوں میں سے نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی؟ کس سال اور کس مہینہ میں رات میں یا دن میں؟ اور وہی نازل کرتا ہے بارش کو سو کسی کو خبر نہیں کہ کب بارش نازل ہوگی رات کو یا دن کو، وہی جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے سو کسی کو علم نہیں کہ نر ہے یا مادہ؟ سرخ ہے یا سیاہ؟ اور پھر وہ کیا ہے؟ (سعید ہے یا شقی وغیرہ) اور کسی کو نہیں پتہ کہ کل وہ کیا کرے گا اچھا کرے گا یا برا، اور اے فرزند آدم تو کیا جانتا ہے کہ شاید تو کل مرنے والا ہو اور شاید کہ کل ہی تجھ پر کوئی مصیبت نازل ہو اور کوئی نفس خبردار نہیں کہ کس زمین میں اس کو موت آئے گی، یعنی کسی انسان کو پتہ نہیں کہ زمین کے کس حصے میں اس کی قبر ہوگی آیا دریا میں یا خشکی میں نرم زمین میں یا پہاڑ اور سخت جگہ میں (بس اللہ تعالى ہی ان باتوں کا جاننے والا اور خبردار ہے)۔”
یہ ہیں“غیوب خمسہ”کے کلیات۔ یعنی ایک طرف تمام کی تمام مخلوقات کی مادہ کے پیٹ کی خبر۔ تو دوسری طرف اس پیٹ میں جو کچھ ہے اس کے ہر ہر پہلو کی بھی خبر (یعنی نر، مادہ، سرخ، کالا ہونا، اور انسانوں اور جنات میں سعید یا شقی ہونا وغیرہ)۔ اسی طرح قیامت کس سال، کس ماہ، کس دن (یہاں یہ یاد رکھیے کہ قیامت کے متعلق اللہ تعالى نے حضور صلى الله عليه وسلم کو اتنا علم عطا فرمایا ہے کہ وہ جمعہ کے دن ہوگی۔ دیکھیے مسلم جلد 1 صفحہ 282) لیکن وہ کس سال یا کس ماہ کا کون سا جمعہ ہوگا یعنی ایک ماہ میں کم و بیش 4 جمعہ ہوتے ہیں) رات کو یا دن کو قیامت قائم ہوگی۔ اس خاص گھڑی کا جاننے والا صرف اللہ تعالى ہے۔ (قیامت کی نشانیاں اور چیز ہیں)۔ اسی طرح ہر ہر بارش کے نزول کی یقینی خبر (محکمہ موسمیات وغیرہ کی پیش گوئیاں نہیں جو کبھی صحیح ہو گئیں تو کبھی غلط)۔ اسی طرح کل کے حوادث کے ذرے ذرے کی خبر۔ ہر ہر پہلو کی خبر۔ ہر ہر مخلوق کی زندگی، موت کی خبر۔ اور قیامت تک جتنے انسان دنیا میں آئیں گے ہر ایک کی خبر کہ کس نے کس زمین پر مرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔
اللہ تعالى ان کھرب ہا کھرب خبروں میں سے اگر ایک کروڑ خبروں پر بھی انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام یا اولیاء کرام کو مطلع یا منکشف فرما دیتا ہے۔ تب بھی یہ محض چند خبریں ہی کہلائیں گی۔ اس طرح احادیث پاک، اقوال صحابہ، سلف صالحین کے اقوال میں غیر اللہ کے لئے“بعض غیوب خمسہ”پر مطلع یا منکشف ہونے کا ذکر آتا ہے۔ لیکن فریق مخالف ان“بعض جزئیات”پر مطلع یا منکشف ہونے پر احادیث، اقوال صحابہ، اور اقوال سلف صالحین کو لے کر“کلیات غیوب خمسہ”(جو کھرب ہا کھرب ہیں) جاننا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ ہی ہمارا فریق مخالف سے اختلاف ہے۔ کہ غیوب خمسہ کے اصول اور کلیات کا جاننے والا تنہا اللہ رب العزت ہے۔ اور اللہ تعالى جس قدر چاہتا دعوؤں دعوؤں غنیبات غدا انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام اور اولیاء کرام کو مطلع یا منکشف فرما دیتا ہے۔
قرآن و حدیث کی صریح نصوص کے جواب میں فریق مقابل نے اپنے کلی علم غیب کی عطاء کے دعوے کے دفاع میں یہ میدان (کلی مفاتح الغیب کی عطاء) سر کرنے کا بہت آسان راستہ ڈھونڈا اور قرآن کریم کی کہا کہ“ان پانچوں غیبوں کا (کلی) علم عطا ہوا لیکن چھپانے کا حکم ہوا۔”اور اس“تاویل”کی تائید کے لئے کہیں غیر معتبر مجہول صوفی حضرات کے اقوال کا سہارا لیا۔ تو کہیں معتبر بزرگوں کی غیر واضح اور مبہم عبارتوں کو لے کر توڑ مروڑ کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ملاحظہ فرمائیے فریق مخالف کے چند دلائل:
احمد رضا صاحب علامہ عثماوي کی کتاب مستطاب عجب العجائب سے نقل کرتے ہیں کہ:
“یعنی کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم كو يخرج في أخبار ان پانچون غيبون كا بهي علم عطا ہو گيا، مگر ان كو چھپانے كا حكم تھا اور يهي قول صحيح ہے۔” [خالص الاعتقاد صفحہ 53]
نیز احمد رضا صاحب اور مفتی احمد یار نعیمی وغیرہ فرماتے ہیں کہ:
علامہ حسن بن علي اور فاضل ابن عطية نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو علم قیامت عطا ہونے کے باب میں فرماتے ہیں کہ:
“یعنی حق مذہب وہ ہے جو ایک جماعت علماء نے فرمایا کہ اللہ عزوجل ہمارے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو دنیا سے نہ لے گیا یہاں تک کہ جو کچھ حضور صلى الله عليه وسلم سے مخفی رہا اس سب کا علم حضور صلى الله عليه وسلم کو عطا فرما دیا ہاں بعض علوم کی نسبت حضور صلى الله عليه وسلم کو حکم دیا کہ کسی کو نہ بتائیے اور بعض کو بتانے کا حکم دیا۔” [خالص الاعتقاد صفحہ 52, 53] [جاء الحق صفحہ 112]
نیز لکھتے ہیں کہ:
علامہ ابراھيم بيجوري شرح بردہ شریف میں فرماتے ہیں کہ:
“نبی صلى الله عليه وسلم دنیا سے نہ تشریف لے گئے مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالى نے حضور صلى الله عليه وسلم کو ان پانچوں غیبوں کا علم دے دیا بلکہ علامہ شنوائي نے جمع النهاية میں اسے بطور حدیث بیان کیا کہ بے شک وارد ہوا کہ اللہ تعالى نبی صلى الله عليه وسلم کو دنیا سے نہ لے گیا جب تک حضور صلى الله عليه وسلم کو تمام اشیاء کا علم نہ فرما دیا۔” [خالص الاعتقاد صفحہ 50] [جاء الحق صفحہ 111, 112]
(نوٹ: علامہ شنوائي کے حوالہ سے عرض ہے کہ ہم لفظ“کل”کی تفصیلی وضاحت پیش کر چکے ہیں کہ لفظ“کل”استغراق حقیقی میں نص قطعی نہیں)
مفتی احمد یار نعيمي صاحب لکھتے ہیں کہ:
تفسير عرايس البيان زیر آیت“يعلم ما في الأرحام”میں ہے:
“میں نے بعض اولیاء کو سنا کہ انہوں نے پیٹ کے بچہ لڑکی یا لڑکے کی خبر دی اور ہم نے اپنی آنکھوں سے وہ دیکھا جس کو انہوں نے خبر دی۔” [جاء الحق صفحہ 109]
(واضح رہے کہ اللہ تعالى اپنے محبوب بندوں کو امور خمسہ کے بعض بعض جزئیات پر مطلع فرما دے اس پر نزاع نہیں ہمارا نزاع امور خمسہ کے کلیات پر ہے۔)
نیز لکھتے ہیں کہ:
تفسير روح البيان یہ ہی آیت بعض مشائخ ادھر گئے ہیں کہ نبی عليه السلام قیامت کے وقت کو جانتے تھے اللہ تعالى کے بتانے سے اور یہ قول اس آیت کے حصر کے خلاف نہیں، روح البيان میں یہ ہی عبارت پارہ 9 زیر آیت“يسألونك كأنك حفي عنها”میں بھی ہے اور وہاں یہ بھی ہے کہ دنیا کی کل عمر 7 ہزار سال ہے یہ بروایت صحیحہ ثابت ہے جس سے معلوم ہوا کہ حضور عليه السلام کو قیامت کا علم ہے۔ [جاء الحق صفحہ 104]
مولوی عمر صاحب لکھتے ہیں کہ:
“تفسير صاوي (جلد 2 صفحہ 111) میں ہے“اور جس کے ساتھ ایمان واجب ہے یہ ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم دنیا سے نہ منتقل ہوئے یہاں تک کہ اللہ تعالى نے آپ کو جمیع مغیبات کا علم سکھایا”“كأنك حفي عنها”کے ماتحت ملاحظہ ہو۔” [مقیاس حنفیت صفحہ 384]
معزز قارئین کرام! یہ ہے فریق مخالف کے دلائل کا ایک چھوٹا سا نمونہ۔ یعنی قرآن کریم کی نصوص قطعیہ اور متواتر احادیث کے جواب میں چند لوگوں کے اقوال کہ فلاں نے کہا کہ ان پانچوں غیبوں کا (کلی) علم بھی عطا ہوا اور چھپانے کا حکم تھا؟ حتی کہ فریق مخالف اپنے دعوی کو ثابت کرنے کی جستجو میں اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ اس کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ صحیح احادیث پاک میں جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم کا واضح اور صراحت کے ساتھ فرمان ہے کہ“مجھے سب چیز کی چابیاں دی گئیں مگر ان پانچ چیزوں کی عطا نہیں کی گئیں۔”(جو سورہ لقمان کی آخری آیات ہیں) اور میں کیا ثابت کرنا چاہ رہا ہوں؟ ویسے تو فریق مخالف بزعم خود اپنے آپ کو سب سے بڑا عاشق رسول سمجھتا ہے۔ لیکن دوسری طرف محبوب صلى الله عليه وسلم کا واضح فرمان“مگر ان پانچ چیزوں کی عطا نہیں کی گئیں”کو نظر انداز کرتے ہوئے خود سے ادھر ادھر کی تاویلیں پیش کر کے“ان پانچ چیزوں کی چابیاں عطا ہونا”ثابت کرنے کی کوشش کی؟ اور کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ“ان پانچ چیزوں کو دوسروں کے سامنے سرعام کھول کر بیان کرنے کے لئے چابیاں نہ ملیں۔”کیا یہی ہے عشق رسول صلى الله عليه وسلم؟ کیا اس طرح کیا جاتا ہے محبوب سے محبت کا دعوی؟ کہ محبوب صلى الله عليه وسلم کا تو فرمان ہے کہ“ان پانچ چیزوں کی چابیاں نہیں ملیں۔”اور نام نہاد عاشق کہے“ان پانچ چیزوں کی چابیاں ملیں”؟ آگے ہم کچھ نہیں کہیں گے۔ فیصلہ آپ قارئین کرام پر چھوڑا۔
محترم قارئین کرام! اس“تاویل”کے جواب میں خود احمد رضا صاحب کے یہ الفاظ ہی کافی ہیں:
وقف کے ایک اختلافی مسئلہ پر بعض علماء نے ایک مالكي المذہب عالم عبد الرحمن ابن القاسم (المتوفى 191 ہجری) کی عبارت پیش کی تھی۔ جس پر احمد رضا صاحب سیخ پا ہو کر ارشاد فرماتے ہیں کہ“ذرا براہ مہربانی تھوڑی دیر کو ہوش میں آ کر فرمائیے کہ ابن القاسم نے کہا کہ مقبرے کو بعد بے نشانی کر دینا اور ابو القاسم محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مقابر پر مسجد بنانا حرام۔ آپ کے نزدیک یہ دونوں حکم حالت واحد پر وارد جب تو آپ کا ایمان ہے کہ ابن القاسم کی بات حق جانیں اور ابو القاسم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد نہ مانیں۔” [إهلاك الوهابين صفحہ 33]
تو فریق مخالف سے اب پوچھنا یہ ہے کہ:
اگر کسی بزرگ یا صوفی اور مولوی کے کسی قول سے یہ ثابت ہو تا ہو کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کو امور خمسہ کا علم حاصل تھا اور اس کو چھپانے کا حکم ہوا؟ اور اللہ تعالى اور اس کا رسول برحق صلى الله عليه وسلم یہ ارشاد فرمائیں کہ ان امور کا علم اللہ تعالى کے بغیر کسی اور کو حاصل نہیں۔ تو فریق مخالف انصاف سے یہ ارشاد فرمائیں کہ کس کا قول و ارشاد کو تسلیم کرنا ہوگا؟ اور یہ دونوں حکم حالت واحد پر وارد ہیں۔ تو فیصلہ کریں کس کی بات ماننی ہے؟
محترم قارئین کرام! فریق مخالف کی اس“تاویل”کا جواب سمجھنے کے لئے دوسرا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ:
[شرح مواقف صفحہ 727 و شرح فقہ اكبر صفحہ 68، مسامرہ جلد 2 صفحہ 78، شرح عقائد صفحہ 101 و فتح الباري جلد 8 صفحہ 431 وغیرہ میں ہے واللفظ له]
«الأحاديث إذا كانت في مسائل عملية يكفي الأخذ بها صحتها أفادتها الظن أما إذا كانت في العقائد فلا يكفي فيها إلا ما يفيدا القطع»
“یعنی جن مسائل کا تعلق عمل کے ساتھ ہے ان میں صحیح احادیث سے استدلال کافی ہے کیوں کہ اعمال کے لئے ظنی دلائل ہی کافی ہیں لیکن جب عقائد کی باری آئے گی تو ان میں صرف وہ حدیثیں قابل قبول ہوں گی جو یقین کا فائدہ دیں (مثلا یہ کہ متواتر ہوں)۔”
یعنی عقیدت اور چیز ہے اور عقیدہ اور چیز ہے۔ اثبات عقیدہ کے لئے نص قطعی یا خبر متواتر درکار ہے۔ یہاں خبر واحد صحیح سے بھی گاڑی نہیں چل سکتی اور قرآن کریم کے مقابلہ میں خبر واحد کا پیش کرنا ہی درست نہیں۔
فریق مخالف کے امام احمد رضا صاحب خود فرماتے ہیں:
«إن نصوص القرآن لا تعارض بالأحاد»
[الفيوض المكية صفحہ 22]
“یعنی اخبار احاد نصوص قرآن کے معارضہ میں نہیں پیش کی جا سکتیں۔”
نیز لکھتے ہیں کہ:
“اور نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول رہیں گے بے دلیل شرعی تخصیص و تاویل کی اجازت نہیں ورنہ شریعت سے امان اٹھ جائے نہ حدیث احاد اگرچہ کیسی ہی اعلى درجہ کی صحیح ہو عموم قرآن کی تخصیص کر سکے بلکہ اس کے حضور مضمحل ہو جائے گی بلکہ تخصیص متراخی نسخ ہے اور اخبار کا نسخ ناممکن اور تخصیص عقلی عام کو قطعیت سے نازل نہیں کرتی نہ اس اعتماد سے کسی ظنی سے تخصیص ہو سکے۔” [إنباء المصطفى صفحہ 4]
بلکہ یہ ہی خان صاحب لکھتے ہیں کہ:
“عموم آیات قرآنیہ کی مخالفت میں اخبار احاد سے استناد محض ہرزہ بانی (ہے)۔” [إنباء المصطفى صفحہ 4]
اور مفتی احمد یار صاحب دوسروں سے مطالبہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
“وہ آیت قطعی الدلالت ہو جس کے معنی میں چند اور احتمال نہ نکل سکتے ہوں اور حدیث ہو تو متواتر ہو۔” [جاء الحق صفحہ 40]
(إن شاء الله تعالى عقائد کے لئے ان اصول و ضوابط کی اہمیت کی تفصیل آگے اپنے مقام پر عرض کی جائے گی)
محترم قارئین کرام! کوئی ان فریق مخالف سے یہ پوچھے کہ احمد رضا صاحب اور مفتی احمد یار صاحب تو دوسروں سے مطالبہ قطعی الدلالت آیت اور حدیث متواتر کا کرتے ہیں اور خود اپنے دعوی پر دلیل بیجوري، عثماوي اور صاوي وغیرہ جیسے حاطب لیل متفسرین اور متصوفین کی عبارتوں سے قرآن کریم کی قطعی الدلالت اور صحیح احادیث کو رد کرتے پھریں؟ فریق مخالف کو کس نے اس تخصیص اور نسخ کا حق دیا ہے؟ اور کیا اخبار میں ان کے اقوال سے نسخ جائز ہے؟ عقیدہ اور نصوص قطعیہ کے مقابلہ میں تو تمہارے مسلمات کے رو سے بھی صحیح حدیث جبکہ خبر واحد ہو نہیں پیش کی جا سکتی تو پھر فریق مخالف کی بیجوري اور صاوي وغیرہ کو کون پوچھتا ہے؟
امام بيھقي رحمة الله عليه (المتوفى 456 ہجری) نے کیا خوب ارشاد فرمایا ہے کہ:
«ولم يكلفنا الله تعالى أن نأخذ ديننا عمن لا نعرفه»
[كتاب القراءة صفحہ 127]
“یعنی ہمیں اللہ تعالى نے اس بات کا ہرگز مکلف نہیں ٹہرایا کہ ہم اپنا دین غیر معروف لوگوں سے حاصل کریں۔”
باقی فریق مخالف اپنے دعوی کی تائید میں چند معتبر بزرگان دین کی مبہم اور غیر واضح عبارتیں لے کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے چند مثالیں:
فریق مخالف کے وکیل مولوی عمر فرماتے ہیں کہ:
خصائص كبرى (جلد 2 صفحہ 195) میں ہے کہ:
“بعض اس طرف گئے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کو پانچ چیزوں کا بھی علم دیا گیا ہے، قیامت کے وقت بھی اور روح کا بھی اور آپ کو ان کے چھپانے کا حکم دیا گیا۔” [مقیاس حنفیت صفحہ 385]
الجواب: ہم اپنی پچھلی پوسٹ میں واضح کر چکے ہیں کہ غیوب خمسہ کے جزئیات کی عطا پر اختلاف نہیں بلکہ ہمارا اختلاف غیوب خمسہ کے اصول و کلیات پر ہے۔ اور جہاں تک قیامت کے وقت کی عطا کا تعلق ہے تو امام سيوطي رحمة الله عليه نے ایک مستقل کتاب لکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ یہ جو لوگ یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے وہ غلط کار ہیں اور یہ روایت جھوٹی ہے، اللہ تعالى نے قیامت کا علم اور تو اور جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم کو بھی نہیں دیا۔ اس رسالہ کا نام ہے“الكشف عن مجاوزة الأمة عن الألف”جس کا یہ مضمون ملا علي قاري رحمة الله عليه نے موضوعات كبير صفحہ 119 میں نقل فرمایا ہے۔
احمد رضا صاحب اور مفتی احمد یار نعيمي صاحب فرماتے ہیں کہ:
“علامہ قسطلاني رحمة الله عليه تفسير سورہ رعد کی تفسير میں لکھتے ہیں کہ“کوئی غیر خدا نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی سوا اس کے پسندیدہ رسولوں کے کہ اللہ انہیں اپنے جس غیب پر چاہے اطلاع دیتا ہے یعنی وقت قیامت کا علم ان پر بند نہیں ہے”۔” [خالص الاعتقاد صفحہ 52] [جاء الحق صفحہ 110]
الجواب: حالانکہ علامہ قسطلاني رحمة الله عليه کی صریح عبارت دوسرے مقام پر موجود ہے کہ:
«ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله فلم يعلم ذلك نبي مرسل ولا ملك مقرب»
[قسطلاني شرح بخاري جلد 10 صفحہ 296]
“یعنی کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی بجز اللہ تعالى کے نہ تو قیام ساعت کا وقت کسی نبی مرسل کو معلوم ہے اور نہ فرشتہ مقرب کو۔”
نیز خان صاحب لکھتے ہیں کہ:
“شيخ محقق عبد الحق محدث دہلوي رحمة الله عليه شرح مشكوة میں اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ‘مراد یہ ہے کہ قیامت وغیرہ غیب بے خدا کے بتائے معلوم نہیں ہوتے۔’” [خالص الاعتقاد صفحہ 50]
نیز مدارج النبوة جلد دوم صفحہ 40 و“فصل إيذاء رساني كفار فقراء صحابہ”میں ہے:
«وبعضي علماء علم ساعت نيز مثل إين معنی گفتہ اند»
“یعنی بعض علماء نے روح کی طرح حضور صلى الله عليه وسلم کو قیامت کا علم بھی مانا ہے۔”
الجواب: ایک حدیث پاک کی شرح میں شيخ رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
“حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے حضور صلى الله عليه وسلم کی وفات سے ایک ماہ قبل سنا، حضور صلى الله عليه وسلم فرماتے تھے کہ تم مجھ سے قیامت کے آنے کا وقت دریافت کرتے ہو حالانکہ اس کے وقت معین کا علم اللہ تعالى کے سوا کسی کو نہیں یعنی قیامت کبری آنے کا وقت خود مجھ کو معلوم نہیں اور اس کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔” [إشعة اللمعات جلد 4 صفحہ 377]
مفتی احمد یار نعيمي صاحب فرماتے ہیں کہ:
تفسيرات احمدية زیر آیت مذکورہ:
“اور تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ ان پانچوں باتوں کو اگرچہ خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن جائز ہے کہ خدائے پاک اپنے ولیوں اور محبوبوں میں سے جس کو چاہے سکھائے۔ اس قول کے قرینہ سے کہ اللہ تعالى جاننے والا بتانے والا ہے خبير بمعنی مخبر۔” [جاء الحق صفحہ 109]
الجواب: حضرت ملا جيون رحمة الله عليه کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ان پانچوں چیزوں کے کلیات کا علم حضرات اولیاء الله کو حاصل ہے بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ ان میں سے بعض بعض جزئیات کی اطلاع اللہ تعالى اپنے محبوب بندوں کو دے دیتا ہے۔ چنانچہ اس کی مبسوط بحث کرتے ہوئے قاضي بيضاوي رحمة الله عليه کا حوالہ اپنی تائید میں پیش کر کے آخر میں لکھتے ہیں کہ:
«فلم من كلامه أن الله يطلع الأولياء على بعض ما يشاء من الغيوب الخمسة»
[تفسيرات الأحمدية صفحہ 397]
“یعنی قاضی صاحب کے کلام سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالى غیوب خمسہ میں سے بعض پر جس مقدار میں چاہے حضرات اولیاء کرام کو مطلع کر دیتا ہے۔”
محترم قارئین کرام! اسی طرح فریق مخالف کے اور بھی ایسے ہی کچھ دلائل اور بھی ہیں۔ جن کا حال بھی تقریبا ایسا ہی ہے جیسا ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ جن کو ہم طولت کے خوف سے نقل نہیں کر رہے۔ لیکن قابل غور و فکر بات یہ ہے کہ قارئین کرام باآسانی ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہر مقام پر فریق مخالف کو اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے تاویل سے ہی کام لینا پڑتا ہے۔ یعنی فریق مخالف کے پاس نہ تو اپنے دعوی پر کوئی صریح دلیل موجود ہے۔ اور نہ ہی اپنے دعوی کی تائید میں کسی ایک بھی معتبر بزرگ کا صریح اور واضح قول موجود ہے؟ حتی کہ بزرگوں کی لکھی ہوئی دو جلدوں سے لے کر بیس بیس جلدوں پر مشتمل شروحات اور تفاسیر کے ہوتے ہوئے بھی فریق مخالف کوئی ایک بھی صریح اور واضح عبارت اپنے مدعے کی تائید میں نہیں پیش کر سکتا۔ جس سے آپ حضرات فریق مخالف کے دلائل کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فریق مخالف کے دلائل کی بنیادیں کس حد تک مضبوط ہیں؟
اب آ جاتے ہیں امور خمسہ پر فریق مخالف کے چند مختصر دلائل اور ان کی وضاحتوں کی طرف:
علم قیامت
مولوی محمد عمر صاحب لکھتے ہیں کہ:
“صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعين کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ آپ کو علم قیامت ہے۔ مستدرك جلد 4 صفحہ 567 عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے قیامت کا بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ یہ دن کون سا ہے؟ تو صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعين نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعين کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ آپ کو علم قیامت ہے۔” [مقیاس حنفیت صفحہ 384, 385]
الجواب: یہ حدیث اس پر ہرگز دلالت نہیں کرتی کہ قیام ساعت کا وقت جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم کو معلوم تھا بلکہ اسی حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے کہ:
«فينادي ربه فيقول يا آدم ابعث بعث النار من كل ألف تسع مائة وتسعين في النار وواحد في الجنة»
[مستدرك جلد 4 صفحہ 567]
“یعنی اللہ تعالى حضرت آدم عليه السلام کو ندا کر کے فرمائے گا اے آدم دوزخ کے گروہ کو کھڑا کر تو ایک ہزار میں سے نو سو نناوے دوزخ میں اور صرف ایک جنت میں داخل کیا جائے گا۔”
تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ تو قیام ساعت کے بعد کا واقعہ ہے جو محشر میں اللہ تعالى کی عدالت میں پیش آئے گا، قیامت کی خاص گھڑی کا (جس میں نزاع ہے) اس سے کیا تعلق ہے؟
مولوی عمر صاحب نے اس حدیث سے کہ:
“قیامت جمعہ کے دن آئے گی۔”یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کو وقت قیامت کا علم تھا۔
یہ ٹھیک ہے کہ قیامت جمعہ کے دن آئے گی مگر وہ جمعہ کتنے سالوں بعد آئے گا اور کس مہینے کا کون سا جمعہ ہوگا؟ اور جمعہ کے دن کس وقت قیامت قائم ہو گی وغیرہ وغیرہ امور اس سے نہیں حل ہوتے۔
اور مفتی احمد یار نعیمی صاحب لکھتے ہیں کہ:
“حضور صلى الله عليه وسلم نے قیامت قائم ہونے کا دن بتایا ہے، مشکوٰة باب الجمعہ میں ہے کہ: ‘قیامت قائم نہ ہوگی مگر جمعہ کے دن۔’ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر فرمایا کہ: ‘ہم اور قیامت اس طرح ملے ہوئے بھیجے گئے ہیں۔’ یعنی ہمارے زمانے کے بعد بس قیامت ہی ہے اور اس قدر علامات قیامت ارشاد فرمائیں کہ ایک بات بھی نہ چھوڑی، آج قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ابھی قیامت نہیں آ سکتی کیوں کہ نہ ابھی دجال آیا اور نہ مسیح و مہدی نہ آفتاب مغرب سے نکلا ان علامات نے قیامت کو بالکل ظاہر فرما دیا پھر قیامت کا علم نہ ہونے کے کیا معنی؟ بس زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سنہ نہ بتایا کہ فلاں سنہ میں قیامت ہوگی لیکن حضور عليه الصلاة والسلام کے زمانہ پ
«الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم»
السلام علیکم ورحمة الله! محترم قارئین کرام اس سے قبل کہ ہم فریق مخالف کے کچھ مزید دلائل کی وضاحتیں پیش کریں، مناسب ہے کہ یہاں ایک اور اہم نکتہ کی وضاحت پیش کر دی جائے۔
ارشاد باری تعالى ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾
[لقمان: 34، پارہ 21]
“ترجمہ: سمجھ رکھو کہ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے، اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا کچھ کرے گا نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا، یاد رکھو اللہ پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔”
اس آیت میں پانچ چیزوں کا ذکر ہے جنہیں اللہ تعالى کے سوا کوئی نہیں جانتا: وقت قیامت کا علم۔ بارش کے نزول کا علم۔ ماں کے پیٹ کا علم۔ آنے والے کل کا علم۔ اور ہر ذی نفس کی موت کا علم۔
یعنی قیامت آ کر رہے گی مگر کب آئے گی؟ اس کا علم اللہ تعالى کے سوا کسی کو نہیں، نہ معلوم کب یہ کارخانہ توڑ پھوڑ کر برابر کر دیا جائے۔ زمین کی ساری رونق اور مادی برکت (جس پر مخلوق کی خوشحالی کا دارومدار ہے) آسمانی بارش پر موقوف ہے، سال دو سال مینہ نہ برسے تو خاک اڑنے لگے۔ مگر یہ بارش کب ہوگی، کہاں ہوگی، کتنی مقدار میں ہوگی، کن کن نتائج کی حامل ہوگی اس کو بھی صرف اللہ تعالى ہی جانتا ہے۔ اور اس کا علم بھی اللہ تعالى ہی کو ہے کہ ارحام کے اندر کیا ہے، لڑکے ہیں یا لڑکیاں ہیں، گورے ہیں یا کالے ہیں، صحیح الاعضاء ہیں یا ناقص الاعضاء ہیں، پیدا ہونے کے بعد ان کی عمر کیا ہوگی، روزی کتنی ملے گی، کیا کیا کام کریں گے، سعید ہوں گے یا شقی وغیرہ وغیرہ۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا (خود ساختہ پروگرام کا سوال نہیں ہے) نفع کمائے گا یا نقصان، نیکی کرے گا یا بدی اور کچھ کرنے کے لئے زندہ بھی رہے گا یا نہیں۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کی موت کب آئے گی، کہاں آئے گی، کس نوعیت کی ہوگی، دفن ہوگا یا جانور کھا جائیں گے، کس جگہ دفن ہوگا وغیرہ۔
احادیث پاک میں ان پانچ چیزوں کو مفاتح الغیب کہا گیا ہے جن کا علم کلی بجز اللہ تعالى کے اور کسی کو نہیں ہے۔ اللہ تعالى نے جناب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو احکام غیبیہ کا علم عطا فرمایا ہے اور اکوان غیبیہ میں سے بہت سے جزئیات کو علم بھی آپ صلى الله عليه وسلم کو عطا کیا گیا۔ ہاں اکوان غیبیہ کی کلیات اور اصول کا علم بجز اللہ تعالى کے اور کوئی نہیں جانتا۔
رہی ان پانچ اشیاء کی تخصیص، تو اس کی کئی وجوہ ہیں:
اول: کیوں کہ سوال کرنے والوں نے ان ہی پانچ چیزوں کے متعلق سوال کیا تھا لہذا جواب میں ان پانچ اشیاء کو ہی ملحوظ رکھا گیا۔ چنانچہ حافظ ابن كثير رحمة الله عليه، علامہ بغوي رحمة الله عليه، علامہ عيني رحمة الله عليه، علامہ سيوطي رحمة الله عليه، علامہ آلوسی رحمة الله عليه، ملا احمد جيون الحنفي رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
«نقل في نزولها أن حارث بن عمر جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال أخبرني عن الساعة أيان مرساها وقد زرعت بذا فأخبرني متى ينزل الغيث وأمرأتي حاملة فأخبرني عما في بطنها ذكر أم أنثى وعلم ما وقع أمس وأخبرني عما يقع غدا وعملت أرضا ولدت فيها أخبرني عما أدفن فيه فنزلت الآية المذكورة في جوابه يعني أن هذه الخمسة في خزانة غيب الله لا يطلع عليه أحد من البشر والملك والجن أه»
[ابن كثير جلد 3 صفحہ 455] [معالم التنزيل جلد 3 صفحہ 156] [عمدة القاري جلد 11 صفحہ 519] [در منشور جلد 5 صفحہ 170] [روح المعاني جلد 21 صفحہ 97] [تفسير احمدي صفحہ 396]
یعنی اس کا شان نزول یہ نقل کیا گیا ہے کہ حارث بن عمر رضی اللہ عنہ حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے سوال کیا مجھے بتائیے کہ قیامت کب آئے گی اور کب اس کا قیام ہوگا، اور میں نے کھیتی بو کر اس میں بیج ڈالا ہے بتائیے بارش کب ہوگی، اور میری بیوی حاملہ ہے فرمائیے کہ اس کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی، مجھے تو یہ علم ہے کہ گذشتہ کل میں کیا ہوا، آپ حضور صلى الله عليه وسلم مجھے بتائیے کہ آنے والے کل میں کیا کچھ ہوگا؟ اور مجھے علم ہے کہ میں کس زمین میں پیدا ہوا آپ مجھے یہ بتائیے کہ میں کہاں دفن ہوں گا۔ آپ کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئیں کہ یہ پانچ چیزیں اللہ تعالى کے خزانہ غیب میں ہیں ان پر نہ تو کوئی بشر اور فرشتہ مطلع ہو سکا ہے اور نہ جن۔
(معالم التنزيل، عمدة القاري اور روح المعاني وغیرہ میں حارث کی بجائے وارث اور عمر کی جگہ عمرو آیا ہے) جو بھی ہو مطلب واضح ہے کہ چونکہ سوال ہی ان پانچ اشیاء کے متعلق ہوا تھا اس لئے جواب میں بھی انہی پر اقتصار کیا گیا ہے۔ اگرچہ ہزاروں اور لاکھوں ہی نہیں بلکہ کروڑوں چیزیں ایسی ہیں جن کا تفصیلی علم صرف اللہ تعالى کی ذات ہی کو حاصل ہے۔
امام رازي رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
“اس آیت مبارک کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ بس انہی پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالى سے مخصوص ہے کیوں کہ اس کا ذرہ بے مقدار کا علم بھی اللہ ہی کو ہے جو مثلا طوفان نوح کے زمانے میں ریت کے کسی ٹیلے میں تھا اور بعد میں ہوا نے اس کو بارہا مشرق سے مغرب کی طرف منتقل کیا۔” [تفسير كبير جلد 6 صفحہ 503]
دوسری وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ حافظ ابن حجر، علامہ بدر الدين عيني اور مفتي عبدہ لکھتے ہیں، جس کا خلاصہ ہماری عبارت میں یوں ہے:
ان پانچ چیزوں کے اندر حصر کی حکمت یہ ہے کہ عالم پانچ قسم کے ہیں:
عالم حیوان“يعلم ما في الأرحام”اسی کی طرف اشارہ ہے۔
عالم نباتات یا بالفاظ دیگر عالم علوی جو نباتات کا سبب اور ذریعہ ہے“وينزل الغيث”میں اسی طرف اشارہ ہے۔
عالم سفلی یا بالفاظ دیگر عالم برزخ“بأي أرض تموت”میں اسی طرف اشارہ ہے۔
عالم زمان اور جو کچھ اس میں حوادث ہوتے ہیں“ماذا تكسب غدا”میں اسی طرف اشارہ ہے۔
اور عالم آخرت اور“عنده علم الساعة”اسی طرف مشیر ہے۔
[فتح الباري جلد 13 صفحہ 309] [عمدة القاري جلد 11 صفحہ 519] [تفسير المنار جلد 7 صفحہ 468]
اور الشيخ احمد المدعو بملا جيون الحنفي رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
«فإن قلت فما فائدة ذكر الخمسة لأن جميع المغيبات كذلك قلت فائدته أن هذه الخمسة معظم الغيوبات لأنها مفاتيحها فإنه إذا وقف مثلا على ما في غد وقف على موت زيد وتولد عمرو وفتح بكر ومقهورية خالد وقدوم بشر وغير ذلك مما في الغد وهكذا القياس»
[التفسيرات الأحمدية صفحہ 397]
“یعنی اگر تو یہ کہے کہ ان پانچ اشیاء کے ذکر کرنے میں کیا فائدہ ہے، حالانکہ سب مغیبات اسی طرح ہیں تو میں جواب کہوں گا، ان پانچ اشیاء کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ معظم غیوبات بلکہ غیوبات کی چابیاں ہی یہی ہیں، کیوں کہ اگر مثلا کوئی شخص کل کے حوادث پر آگاہ ہو گیا تو زید کی موت، عمرو کی ولادت، بکر کی فتح، خالد کی شکست اور بشر کی آمد پر اور اسی طرح جو کچھ جو کل ہونے والا ہے اس سب پر آگاہ ہو گیا (تو کوئی چیز باقی رہی ہی نہیں) اور اسی طرح باقی (چار چیزوں) پر اس کا قیاس کرو۔”
یعنی بزرگوں نے ان پانچ چیزوں کی یہ حکمت بیان کی ہے کہ ان پانچ چیزوں کی کنجیوں سے غیوب کے خزانے نکلتے ہیں۔ (والله واعلم)
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر احادیث پاک پیش کر دی جائیں۔
حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم ما تغيض الأرحام إلا الله ولا يعلم متى يأتي المطر أحد إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله»
[بخاري جلد 1 صفحہ 141، جلد 2 صفحہ 681، جلد 2 صفحہ 1097] [مسلم ومسند احمد جلد 2 صفحہ 24، جلد 2 صفحہ 52، جلد 2 صفحہ 58] [در منشور جلد 3 صفحہ 15، جلد 5 صفحہ 170] [موارد الظمآن صفحہ 434]
“یعنی حضور سرور عالم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مفاتح الغیب یہ پانچ چیزیں ہیں جن کو بجز اللہ تعالى کے اور کوئی نہیں جانتا اللہ تعالى کے بغیر کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا واقعات رونما ہوں گے، اور سوا اللہ کے کوئی نہیں جانتا کہ ارحام (بچہ دانیوں) میں کیا ہے (مثلا نر یا مادہ ایک یا زیادہ وغیرہ) اور اس کے سوا کسی کو خبر نہیں کہ بارش کب ہوگی؟ اور کسی نفس کو معلوم نہیں کہ اس کی موت کس سرزمین میں واقع ہوگی اور خدا تعالى کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب ہوگی؟”
حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ جناب نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
“أتيت مفاتيح كل شيء إلا الخمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام إلى قوله خبير”
[كنز العمال جلد 6 صفحہ 106] [مسند احمد جلد 2 صفحہ 85] [در منشور جلد 5 صفحہ 170] [ابن كثير جلد 3 صفحہ 454] [خصائص الكبرى جلد 2 صفحہ 195 بسند صحيح] [السراج المنير جلد 2 صفحہ 79] [روح المعاني جلد 21 صفحہ 99 بسند صحيح]
“یعنی مجھے ہر چیز کی چابیاں عطا کی گئیں ہیں مگر ان پانچ چیزوں کی (عطا نہیں کی گئیں)، اللہ ہی کے پاس ہیں علم قیامت کا اور بارش نازل کرنے کا اور ما في الأرحام کا۔ خبير تک (جو سورہ لقمان کی آخری آیتیں ہیں)۔”
اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے:
«أوتي لنبيكم مفاتيح الغيب إلا الخمس ثم تلا هذه الآية إن الله عنده علم الساعة»
[طيالسي صفحہ 249] [خصائص الكبرى جلد 2 صفحہ 195 وقال أخرجه أحمد والطبراني بسند صحيح]
حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ (المتوفى 32 ہجری) فرماتے ہیں:
«أعطي نبيكم صلى الله عليه وسلم مفاتيح الغيب إلا الخمس إن الله عنده علم الساعة إلى آخر السورة»
[طيالسي صفحہ 51] [فتح الباري جلد 8 صفحہ 395] [مسند احمد جلد 4 صفحہ 438]
“یعنی تمہارے نبی حضور صلى الله عليه وسلم غیب کے خزانے عطا کئے گئے ہیں مگر یہ پانچ امور عطا نہیں کئے گئے جو سورہ لقمان کی آخر میں ہیں۔”
نیز فرماتے ہیں کہ:
“أوتي نبيكم صلى الله عليه وسلم كل شيء سوى هذه الخمس”
[فتح الباري جلد 1 صفحہ 115، جلد 8 صفحہ 395، جلد 13 صفحہ 308] [تفسير ابن كثير جلد 3 صفحہ 454 وقال هذا إسناد حسن] [در منشور جلد 5 صفحہ 170]
“یعنی نبی کریم حضور صلى الله عليه وسلم کو ہر چیز کا علم عطا کیا گیا ہے سوائے ان پانچ چیزوں کے (کہ ان کا علم کسی کو بھی عطا نہیں ہوا)۔”
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ (المتوفى 62 ہجری) فرماتے ہیں:
“سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول خمس لا يعلمهن إلا الله إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبير۔”
[مسند احمد جلد 5 صفحہ 353] [داروه الضياء المقدسي سند صحيح، در منشور جلد 5 صفحہ 170] [فتح الباري جلد 10 صفحہ 132 وقال ابن حجر صحيح، ابن حبان والحاكم] [تفسير ابن كثير جلد 3 صفحہ 454 وقال هذا حديث صحيح الإسناد]
“یعنی میں نے جناب نبی کریم حضور صلى الله عليه وسلم سے سنا آپ حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پانچ چیزیں ہیں جن کو اللہ تعالى کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، بے شک اللہ تعالى ہی کے پاس ہے علم قیامت کا، اور وہی (اپنے علم کے مطابق) اتارتا ہے بارش اور وہی جانتا ہے جو کچھ ارحام میں ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کل کیا کرے گا، اور کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کس زمین میں مرے گا، یقینا اللہ تعالى ہی ان چیزوں کا جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔”
حضرت ایاس بن سلمہ رحمة الله عليه (المتوفى 119 ہجری) اپنے والد حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ (المتوفى 74 ہجری) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے حضور صلى الله عليه وسلم سے چند سوالات کئے، ایک یہ بھی تھا:
“قال متى تقوم الساعة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم غيب وما يعلم الغيب إلا الله”
[مستدرك جلد 1 صفحہ 7 قال الحاكم والذهبي على شرط مسلم]
“یعنی قیامت کب آئے گی؟ تو حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا (قیامت کا علم) غیب ہے اور غیب کو اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔”
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“هذه الخمسة لا يعلمها ملك مقرب ولا نبي مصطفى فمن ادعى أنه يعلم شيئا من هذا فقد كفر بالقرآن لأنه خالفه”
[تفسير خازن جلد 5 صفحہ 183]
“یعنی یہ پانچ چیزیں وہ ہیں کہ ان کا علم نہ تو کسی مقرب فرشتہ کو ہے اور نہ جناب نبی کریم حضور صلى الله عليه وسلم کو، تو جو کوئی ان میں سے کسی چیز کے علم کا دعوی کرے تو اس نے قرآن کریم کا انکار کیا، کیوں کہ اس نے اس کی مخالفت کی ہے۔”
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
“لم يعلم على نبيكم صلى الله عليه وسلم إلا الخمس من سرائر الغيب هذه الآية في آخر لقمان إلى آخر الآية”
[در منشور جلد 5 صفحہ 170]
“یعنی تمہارے نبی حضور صلى الله عليه وسلم پر اسرار غیب سے بس یہی پانچ چیزیں مخفی رکھی گئیں ہیں جو سورہ لقمان کی آخری آیت میں مذکور ہیں۔”
ابو امامہ رضی اللہ عنہ (المتوفى 86 ہجری) سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:
«إن أعرابيا وقف على النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر على ناقة له عشراء فقال يا محمد ما في بطن ناقتي هذه فقال له رجل من الأنصار دع عنك رسول الله صلى الله عليه وسلم وهلم إلي حتى أخبرك وقعت أنت عليها وفي بطنها ولد منك فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال إن الله يحب كل حيي كريم متكره ويبغض كل لئيم متفحش ثم أقبل على الأعرابي فقال خمس لا يعلمهن إلا الله إن الله عنده علم الساعة»
[در منشور جلد 5 صفحہ 170]
“یعنی غزوہ بدر کے دن ایک اعرابی اپنی دس ماہ کی گابھن اونٹنی پر سوار ہو کر جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے محمد صلى الله عليه وسلم بتائیے کہ میری اس اونٹنی کے پیٹ میں کیا ہے؟ ایک انصاری نے (طیش میں آ کر) اس سے کہا کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے ہٹ کر میرے پاس آ تاکہ میں تجھے بتلاوں تونے اس اونٹنی سے مجامعت کی ہے اور اس کے پیٹ میں تیرا بچہ ہے، آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے یہ سن کر اس انصاری کی طرف سے منہ پھیر لیا اور فرمایا کہ اللہ تعالى ہر صاحب حیا اور صاحب وقار کو جو گندی باتوں سے کنارہ کشی کرتا ہو پسند کرتا ہے اور ہر کمینہ اور بدزبان کو مبغوض رکھتا ہے، پھر حضور اقدس صلى الله عليه وسلم اس اعرابی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا پانچ چیزیں وہ ہیں جن کا علم بجز اللہ تعالى کے اور کسی کو نہیں پھر آپ نے سورہ لقمان کی یہ آخری آیت پڑھی“إن الله عنده علم الساعة”الآية۔”
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ (المتوفى 74 ہجری) سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
“كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبة حمراء إذ جاء رجل على فرس فقال من أنت قال أنا رسول الله، قال متى الساعة؟ قال غيب وما يعلم الغيب إلا الله قال ما في بطن فرسي؟ قال غيب وما يعلم الغيب إلا الله قال فمتى يمطر؟ قال غيب وما يعلم الغيب إلا الله”
[در منشور جلد 5 صفحہ 170]
“یعنی جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم ایک سرخ رنگ کے خیمہ میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص گھوڑی پر سوار ہو کر آیا اور دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں خدا تعالى کا رسول ہوں، اس نے دریافت کیا قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا یہ غیب کی بات ہے اور اللہ تعالى کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا، پھر اس نے سوال کیا میری گھوڑی کے پیٹ میں کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ غيب ہے اور غیب اللہ تعالى کے سوا کوئی نہیں جانتا، پھر اس نے کہا کہ بارش کب ہوگی؟ آپ نے فرمایا کہ یہ بھی غیب ہے اور اس کو خدا تعالى کے سوا کوئی نہیں جانتا۔”
حضرت لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث میں آتا ہے کہ:
«قلت يا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حاجتي فلا تعجلن علي قال سل عما شئت قلت يا رسول الله صلى الله عليه وسلم هل عندك من علم الغيب فضحك لعمر الله وهز رأسه وعلم أني أبتغي بسقطة فقال ضن ربك بمفاتيح خمس من الغيب لا يعلمهن إلا الله وأشار بيده»
[مستدرك جلد 4 صفحہ 561 قال الحاكم صحيح الإسناد والبداية والنهاية جلد 5 صفحہ 80]
“یعنی میں نے کہا یا رسول الله صلى الله عليه وسلم میں آپ سے اپنی ایک حاجت کے بارے میں سوال کرتا ہوں سو آپ مجھ پر جلدی نہ کریں، آپ نے فرمایا جو چاہتا ہے پوچھ؟ میں نے کہا کہ یا رسول الله صلى الله عليه وسلم کیا آپ کے پاس علم غیب ہے؟ بخدا آپ زور سے ہنسے اور سر مبارک کو حرکت دی اور آپ کو خیال گذرا کہ شاید میں نے آپ کی منزلت کو گرانے کے درپے ہوں تو آپ نے فرمایا کہ مفاتح الغیب کو بتانے میں اللہ تعالى نے رازداری سے کام لیا ہے ان کو اللہ تعالى کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، پھر اپنے ہاتھ سے ان مفاتح الغیب کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ پانچ ہیں۔”
(حافظ ابن كثير رحمة الله عليه نے تصریح فرمائی ہے کہ لقیط بن عامر ابو رزین العقیلی کا یہ سوال رجب 9 ہجری کو پیش آیا تھا) [البداية والنهاية جلد 5 صفحہ 40، 80]
حضرت ربعی بن خراش (المتوفى 100 ہجری) سے روایت ہے:
«حدثني رجل من بني عامر أنه قال يا رسول الله صلى الله عليه وسلم هل بقي من العلم شيء لا تعلمه قال قد علمني الله عزوجل الخمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام»
[رواه أحمد في مسند] [ابن كثير جلد 3 صفحہ 455 وقال هذا إسناد صحيح] [در منشور جلد 5 صفحہ 170]
“یعنی مجھ سے بنی عامر کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ علم میں سے کوئی ایسی چیز بھی باقی ہے جس کو آپ نہ جانتے ہوں، حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالى نے مجھے بہت سی خیر کی تعلیم دی ہے اور بے شک علوم میں سے وہ بھی ہیں جن کو اللہ تعالى کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا چنانچہ پانچ باتیں جو سورہ لقمان کی آخری آیت میں مذکور ہیں، ان کا پورا علم بس اللہ تعالى ہی کو ہے کسی دوسرے کو نہیں۔”
حضرت امام بخاري رحمة الله عليه (المتوفى 256 ہجری) کی روایت میں یوں آتا ہے کہ:
“بے شک اللہ تعالى نے خیر کی تعلیم دی ہے لیکن ایسا علم بھی جس کا علم اللہ تعالى کے سوا کسی کو نہیں۔”(جیسا کہ سورہ لقمان کی آخری آیت میں ہے) [أدب المفرد صفحہ 159]
حضرت مجاہد رحمة الله عليه (المتوفى 102 ہجری) فرماتے ہیں:
«وهي مفاتيح الغيب التي قال الله تعالى وعنده مفاتيح الغيب لا يعلمها إلا هو»
[ابن كثير جلد 3 صفحہ 455]
“یہ پانچ چیزیں وہی مفاتح الغیب ہیں جن کے متعلق اللہ تعالى نے فرمایا کہ مفاتح الغیب کا علم صرف اللہ کو ہے اس کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا۔”
میرے مسلمان بھائیو، دوستو اور بزرگو! اوپر پیش کی گئی سورہ لقمان کی آیت مبارکہ اور اس کی تفسیر میں پیش کی گئی صحیح احادیث پاک اور آثار صحابہ سے یہ بات بالکل آئینہ کی طرح صاف و شفاف ہو جاتی ہے کہ سورہ لقمان میں بیان ہوئی ان پانچ چیزوں کا علم سوائے اللہ رب العزت کے سوا کسی کو نہیں۔
اب یہاں یہ اشکال سامنے آتا ہے کہ مثلا کہ احادیث پاک، آثار صحابہ یا بزرگان دین کے اقوال میں ان پانچ چیزوں میں سے کئی چیزوں کی خبر انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام، صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعين یا اولیاء کرام رحمھم الله نے دیں ہیں پھر اس آیات مبارکہ میں“حصر”کیسے صحیح ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں؟
اس اہم ترین نکتہ کو سمجھنے کے لئے آپ تمام قارئین کرام سے توجہ کی درخواست ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ (لقمان: 34) میں جس علم کی اللہ تعالى کی ذات ستودہ صفات کے ساتھ تخصیص کی گئی ہے، وہ علم کلی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان اشیاء کے کلیات کا بطور کلی علم صرف ذات خداوندی کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور بعض احادیث پاک اور آثار اور اقوال علماء میں سے ان میں سے جن بعض جزئیات کا علم غیر اللہ کے لئے ثابت ہوا ہے تو وہ صرف علم جزئی ہے۔ اور ایجاب جزئی اور رفع ایجاب کلی میں کوئی منافات نہیں ہوتی۔
چنانچہ علامہ آلوسی رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
«فاللائق أن لا يعتبر في الآية سلب العموم بل يعتبر عموم السلب ويلتزم أن القاعدة أغلبية وكذا يقال في السلب والعموم في جانب الفاعل»
[روح المعاني جلد 20 صفحہ 12]
“یعنی یہ امر قابل غور ہے اور لائق فکر ہے کہ آیت میں سلب عموم معتبر نہیں ہے بلکہ عموم سلب مراد ہے اور یہ بات بھی قابل التزام ہے کہ یہ قاعدہ اکثریہ ہے اور اسی طرح جانب فاعل میں سلب اور عموم کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔”
بلکہ اس سے بھی زیادہ صاف اور واشگاف الفاظ میں یوں لکھتے ہیں:
«إنه يجوز أن يطلع الله تعالى بعض أصفيائه على أحدى هذه الخمس ويرزقه عزوجل العلم بذلك في الجملة وعلمها الخاص به جل وعلا ما كان على وجه الإحاطة والشمول لأحوال كل منها وتفصيلها على الوجه الأتم وفي شرح المناوي للجامع الصغير في الكلام على حديث بريدة السابق خمس لا يعلمهن إلا الله على وجه الإحاطة والشمول كليا وجزئيا فلا نية فيه إطلاع الله تعالى بعض خواصه على بعض المغيبات حتى من هذه الخمس لأنها جزئيات معدودة أه»
[تفسير روح المعاني جلد 21 صفحہ 100]
“یعنی یہ جائز کہ اللہ تعالى اپنے بعض برگزیدہ بندوں کو ان پانچ امور میں سے کسی چیز پر مطلع کر دے اور اللہ تعالى ان کو فی الجملہ ان کا علم عطا فرما دے ان علوم خمسہ میں سے جو علم اللہ تعالى سے مخصوص ہے وہ ایسا علم ہے جو على وجه الإحاطة اور على سبيل الشمول ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا على وجه الأتم تفصیلی علم اس پر مشتمل ہو، جامعہ صغیر کی شرح میں علامہ مناوي رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم سوائے باری تعالى کے کسی اور کو نہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ ان تمام کلیات اور جزئیات کا على سبيل الإحاطة والشمول علم صرف اللہ تعالى ہی کو ہے اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ اللہ تعالى اپنے بعض خاص خاص بندوں کو ان پانچ میں سے بعض مغیبات پر مطلع کر دے، کیوں کہ یہ تو چند گنے چنے واقعات اور معدودہ چند جزئیات ہیں۔”
اور اسی طرح ملا علي قاري رحمة الله عليه ارشاد فرماتے ہیں:
«فإن قلت قد أخبر الأنبياء والأولياء بشيء كثير من ذلك فكيف الحصر قلت الحصر باعتبار كلياتها دون جزئياتها»
[مرقات جلد 1 صفحہ 66] [فتح الملھم جلد 1 صفحہ 172]
“اگر تو یہ کہے کہ حضرات انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام اور اولیاء عظام نے ان پانچ میں سے بہت سی چیزوں کے بارے میں خبر دی ہے تو یہ حصر کیسے صحیح ہے کہ اللہ ہی کے پاس اس کا علم ہے؟ تو میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ حصر کلیات کے اعتبار سے ہے جزئیات کے اعتبار سے نہیں۔”
میرے مسلمان بھائیوں، دوستو اور بزرگو! یہ وہ اہم نکتہ ہے کہ جس کو نہ سمجھتے ہوئے فریق مخالف اپنے دعوی میں اور ان صریح آیت مبارکہ میں پیدا ہونے والے واضح تعارض کو (یعنی فریق مخالف کلی علم غیب کی عطاء کا مدعی ہے جبکہ اس صریح آیت مبارکہ میں واضح ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالى کے سوا کسی کو نہیں اور اسی طرح صحیح احادیث پاک میں بھی تصریح ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالى کے سوا کسی کو نہیں) محض ذاتی اور عطائی کہہ کر دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ جیسا کہ ملا علي قاري رحمة الله عليه اور علامہ آلوسی رحمة الله عليه کے اقوال سے بھی واضح ہے کہ فرق کلیات اور جزئیات کا ہے۔ یعنی اللہ تعالى انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام یا اولیاء کرام کو بعض جزئیات پر مطلع فرماتا ہے۔ جبکہ فریق مخالف ان جزئیات کی مثالوں کو لے کر کھرب ہا کھرب پر مشتمل کلی علم غیب کی عطاء کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حضرت قتادہ بن دعامہ رحمة الله عليه مشہور تابعی اس آیت (لقمان: 34) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
«أشياء من الغيب استأثر الله بهن فلم يطلع عليهن ملكا مقرب ولا نبيا مرسلا إن الله عنده علم الساعة فلا يدري أحد من الناس متى تقوم الساعة في أي سنة أو في أي شهر أو ليل أو نهار وينزل الغيث فلا يعلم أحد متى ينزل الغيث ليلا أو نهارا ينزل ويعلم ما في الأرحام أذكرا أو أنثى أحمرا أو أسودا وما هو وما تدري يا ابن آدم متى تموت لعلك الميت غدا المصاب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت ليس أحد من الناس يدري أين مضجعه من الأرض في بحر وبر أو سهل أو جبل»
[ابن جرير جلد 21 صفحہ 88 واللفظ له، ابن كثير جلد 3 صفحہ 455، در منشور جلد 5 صفحہ 170، السراج المنير جلد 3 صفحہ 200، روح المعاني جلد 21 صفحہ 99]
“یعنی کئی چیزیں غیب میں سے ہیں جن کو اللہ تعالى نے اپنے لئے مختص کر لیا ہے اس نے ان پر نہ تو کسی فرشتہ مقرب کو اطلاع دی ہے اور نہ کسی نبی مرسل کو، بے شک قیامت کا علم بس اللہ تعالى ہی کو ہے، پس کوئی بھی انسانوں میں سے نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی؟ کس سال اور کس مہینہ میں رات میں یا دن میں؟ اور وہی نازل کرتا ہے بارش کو سو کسی کو خبر نہیں کہ کب بارش نازل ہوگی رات کو یا دن کو، وہی جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے سو کسی کو علم نہیں کہ نر ہے یا مادہ؟ سرخ ہے یا سیاہ؟ اور پھر وہ کیا ہے؟ (سعید ہے یا شقی وغیرہ) اور کسی کو نہیں پتہ کہ کل وہ کیا کرے گا اچھا کرے گا یا برا، اور اے فرزند آدم تو کیا جانتا ہے کہ شاید تو کل مرنے والا ہو اور شاید کہ کل ہی تجھ پر کوئی مصیبت نازل ہو اور کوئی نفس خبردار نہیں کہ کس زمین میں اس کو موت آئے گی، یعنی کسی انسان کو پتہ نہیں کہ زمین کے کس حصے میں اس کی قبر ہوگی آیا دریا میں یا خشکی میں نرم زمین میں یا پہاڑ اور سخت جگہ میں (بس اللہ تعالى ہی ان باتوں کا جاننے والا اور خبردار ہے)۔”
یہ ہیں“غیوب خمسہ”کے کلیات۔ یعنی ایک طرف تمام کی تمام مخلوقات کی مادہ کے پیٹ کی خبر۔ تو دوسری طرف اس پیٹ میں جو کچھ ہے اس کے ہر ہر پہلو کی بھی خبر (یعنی نر، مادہ، سرخ، کالا ہونا، اور انسانوں اور جنات میں سعید یا شقی ہونا وغیرہ)۔ اسی طرح قیامت کس سال، کس ماہ، کس دن (یہاں یہ یاد رکھیے کہ قیامت کے متعلق اللہ تعالى نے حضور صلى الله عليه وسلم کو اتنا علم عطا فرمایا ہے کہ وہ جمعہ کے دن ہوگی۔ دیکھیے مسلم جلد 1 صفحہ 282) لیکن وہ کس سال یا کس ماہ کا کون سا جمعہ ہوگا یعنی ایک ماہ میں کم و بیش 4 جمعہ ہوتے ہیں) رات کو یا دن کو قیامت قائم ہوگی۔ اس خاص گھڑی کا جاننے والا صرف اللہ تعالى ہے۔ (قیامت کی نشانیاں اور چیز ہیں)۔ اسی طرح ہر ہر بارش کے نزول کی یقینی خبر (محکمہ موسمیات وغیرہ کی پیش گوئیاں نہیں جو کبھی صحیح ہو گئیں تو کبھی غلط)۔ اسی طرح کل کے حوادث کے ذرے ذرے کی خبر۔ ہر ہر پہلو کی خبر۔ ہر ہر مخلوق کی زندگی، موت کی خبر۔ اور قیامت تک جتنے انسان دنیا میں آئیں گے ہر ایک کی خبر کہ کس نے کس زمین پر مرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔
اللہ تعالى ان کھرب ہا کھرب خبروں میں سے اگر ایک کروڑ خبروں پر بھی انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام یا اولیاء کرام کو مطلع یا منکشف فرما دیتا ہے۔ تب بھی یہ محض چند خبریں ہی کہلائیں گی۔ اس طرح احادیث پاک، اقوال صحابہ، سلف صالحین کے اقوال میں غیر اللہ کے لئے“بعض غیوب خمسہ”پر مطلع یا منکشف ہونے کا ذکر آتا ہے۔ لیکن فریق مخالف ان“بعض جزئیات”پر مطلع یا منکشف ہونے پر احادیث، اقوال صحابہ، اور اقوال سلف صالحین کو لے کر“کلیات غیوب خمسہ”(جو کھرب ہا کھرب ہیں) جاننا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ ہی ہمارا فریق مخالف سے اختلاف ہے۔ کہ غیوب خمسہ کے اصول اور کلیات کا جاننے والا تنہا اللہ رب العزت ہے۔ اور اللہ تعالى جس قدر چاہتا دعوؤں دعوؤں غنیبات غدا انبیاء کرام عليهم الصلوة والسلام اور اولیاء کرام کو مطلع یا منکشف فرما دیتا ہے۔
قرآن و حدیث کی صریح نصوص کے جواب میں فریق مقابل نے اپنے کلی علم غیب کی عطاء کے دعوے کے دفاع میں یہ میدان (کلی مفاتح الغیب کی عطاء) سر کرنے کا بہت آسان راستہ ڈھونڈا اور قرآن کریم کی کہا کہ“ان پانچوں غیبوں کا (کلی) علم عطا ہوا لیکن چھپانے کا حکم ہوا۔”اور اس“تاویل”کی تائید کے لئے کہیں غیر معتبر مجہول صوفی حضرات کے اقوال کا سہارا لیا۔ تو کہیں معتبر بزرگوں کی غیر واضح اور مبہم عبارتوں کو لے کر توڑ مروڑ کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ملاحظہ فرمائیے فریق مخالف کے چند دلائل:
احمد رضا صاحب علامہ عثماوي کی کتاب مستطاب عجب العجائب سے نقل کرتے ہیں کہ:
“یعنی کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم كو يخرج في أخبار ان پانچون غيبون كا بهي علم عطا ہو گيا، مگر ان كو چھپانے كا حكم تھا اور يهي قول صحيح ہے۔” [خالص الاعتقاد صفحہ 53]
نیز احمد رضا صاحب اور مفتی احمد یار نعیمی وغیرہ فرماتے ہیں کہ:
علامہ حسن بن علي اور فاضل ابن عطية نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو علم قیامت عطا ہونے کے باب میں فرماتے ہیں کہ:
“یعنی حق مذہب وہ ہے جو ایک جماعت علماء نے فرمایا کہ اللہ عزوجل ہمارے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو دنیا سے نہ لے گیا یہاں تک کہ جو کچھ حضور صلى الله عليه وسلم سے مخفی رہا اس سب کا علم حضور صلى الله عليه وسلم کو عطا فرما دیا ہاں بعض علوم کی نسبت حضور صلى الله عليه وسلم کو حکم دیا کہ کسی کو نہ بتائیے اور بعض کو بتانے کا حکم دیا۔” [خالص الاعتقاد صفحہ 52, 53] [جاء الحق صفحہ 112]
نیز لکھتے ہیں کہ:
علامہ ابراھيم بيجوري شرح بردہ شریف میں فرماتے ہیں کہ:
“نبی صلى الله عليه وسلم دنیا سے نہ تشریف لے گئے مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالى نے حضور صلى الله عليه وسلم کو ان پانچوں غیبوں کا علم دے دیا بلکہ علامہ شنوائي نے جمع النهاية میں اسے بطور حدیث بیان کیا کہ بے شک وارد ہوا کہ اللہ تعالى نبی صلى الله عليه وسلم کو دنیا سے نہ لے گیا جب تک حضور صلى الله عليه وسلم کو تمام اشیاء کا علم نہ فرما دیا۔” [خالص الاعتقاد صفحہ 50] [جاء الحق صفحہ 111, 112]
(نوٹ: علامہ شنوائي کے حوالہ سے عرض ہے کہ ہم لفظ“کل”کی تفصیلی وضاحت پیش کر چکے ہیں کہ لفظ“کل”استغراق حقیقی میں نص قطعی نہیں)
مفتی احمد یار نعيمي صاحب لکھتے ہیں کہ:
تفسير عرايس البيان زیر آیت“يعلم ما في الأرحام”میں ہے:
“میں نے بعض اولیاء کو سنا کہ انہوں نے پیٹ کے بچہ لڑکی یا لڑکے کی خبر دی اور ہم نے اپنی آنکھوں سے وہ دیکھا جس کو انہوں نے خبر دی۔” [جاء الحق صفحہ 109]
(واضح رہے کہ اللہ تعالى اپنے محبوب بندوں کو امور خمسہ کے بعض بعض جزئیات پر مطلع فرما دے اس پر نزاع نہیں ہمارا نزاع امور خمسہ کے کلیات پر ہے۔)
نیز لکھتے ہیں کہ:
تفسير روح البيان یہ ہی آیت بعض مشائخ ادھر گئے ہیں کہ نبی عليه السلام قیامت کے وقت کو جانتے تھے اللہ تعالى کے بتانے سے اور یہ قول اس آیت کے حصر کے خلاف نہیں، روح البيان میں یہ ہی عبارت پارہ 9 زیر آیت“يسألونك كأنك حفي عنها”میں بھی ہے اور وہاں یہ بھی ہے کہ دنیا کی کل عمر 7 ہزار سال ہے یہ بروایت صحیحہ ثابت ہے جس سے معلوم ہوا کہ حضور عليه السلام کو قیامت کا علم ہے۔ [جاء الحق صفحہ 104]
مولوی عمر صاحب لکھتے ہیں کہ:
“تفسير صاوي (جلد 2 صفحہ 111) میں ہے“اور جس کے ساتھ ایمان واجب ہے یہ ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم دنیا سے نہ منتقل ہوئے یہاں تک کہ اللہ تعالى نے آپ کو جمیع مغیبات کا علم سکھایا”“كأنك حفي عنها”کے ماتحت ملاحظہ ہو۔” [مقیاس حنفیت صفحہ 384]
معزز قارئین کرام! یہ ہے فریق مخالف کے دلائل کا ایک چھوٹا سا نمونہ۔ یعنی قرآن کریم کی نصوص قطعیہ اور متواتر احادیث کے جواب میں چند لوگوں کے اقوال کہ فلاں نے کہا کہ ان پانچوں غیبوں کا (کلی) علم بھی عطا ہوا اور چھپانے کا حکم تھا؟ حتی کہ فریق مخالف اپنے دعوی کو ثابت کرنے کی جستجو میں اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ اس کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ صحیح احادیث پاک میں جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم کا واضح اور صراحت کے ساتھ فرمان ہے کہ“مجھے سب چیز کی چابیاں دی گئیں مگر ان پانچ چیزوں کی عطا نہیں کی گئیں۔”(جو سورہ لقمان کی آخری آیات ہیں) اور میں کیا ثابت کرنا چاہ رہا ہوں؟ ویسے تو فریق مخالف بزعم خود اپنے آپ کو سب سے بڑا عاشق رسول سمجھتا ہے۔ لیکن دوسری طرف محبوب صلى الله عليه وسلم کا واضح فرمان“مگر ان پانچ چیزوں کی عطا نہیں کی گئیں”کو نظر انداز کرتے ہوئے خود سے ادھر ادھر کی تاویلیں پیش کر کے“ان پانچ چیزوں کی چابیاں عطا ہونا”ثابت کرنے کی کوشش کی؟ اور کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ“ان پانچ چیزوں کو دوسروں کے سامنے سرعام کھول کر بیان کرنے کے لئے چابیاں نہ ملیں۔”کیا یہی ہے عشق رسول صلى الله عليه وسلم؟ کیا اس طرح کیا جاتا ہے محبوب سے محبت کا دعوی؟ کہ محبوب صلى الله عليه وسلم کا تو فرمان ہے کہ“ان پانچ چیزوں کی چابیاں نہیں ملیں۔”اور نام نہاد عاشق کہے“ان پانچ چیزوں کی چابیاں ملیں”؟ آگے ہم کچھ نہیں کہیں گے۔ فیصلہ آپ قارئین کرام پر چھوڑا۔
محترم قارئین کرام! اس“تاویل”کے جواب میں خود احمد رضا صاحب کے یہ الفاظ ہی کافی ہیں:
وقف کے ایک اختلافی مسئلہ پر بعض علماء نے ایک مالكي المذہب عالم عبد الرحمن ابن القاسم (المتوفى 191 ہجری) کی عبارت پیش کی تھی۔ جس پر احمد رضا صاحب سیخ پا ہو کر ارشاد فرماتے ہیں کہ“ذرا براہ مہربانی تھوڑی دیر کو ہوش میں آ کر فرمائیے کہ ابن القاسم نے کہا کہ مقبرے کو بعد بے نشانی کر دینا اور ابو القاسم محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مقابر پر مسجد بنانا حرام۔ آپ کے نزدیک یہ دونوں حکم حالت واحد پر وارد جب تو آپ کا ایمان ہے کہ ابن القاسم کی بات حق جانیں اور ابو القاسم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد نہ مانیں۔” [إهلاك الوهابين صفحہ 33]
تو فریق مخالف سے اب پوچھنا یہ ہے کہ:
اگر کسی بزرگ یا صوفی اور مولوی کے کسی قول سے یہ ثابت ہو تا ہو کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کو امور خمسہ کا علم حاصل تھا اور اس کو چھپانے کا حکم ہوا؟ اور اللہ تعالى اور اس کا رسول برحق صلى الله عليه وسلم یہ ارشاد فرمائیں کہ ان امور کا علم اللہ تعالى کے بغیر کسی اور کو حاصل نہیں۔ تو فریق مخالف انصاف سے یہ ارشاد فرمائیں کہ کس کا قول و ارشاد کو تسلیم کرنا ہوگا؟ اور یہ دونوں حکم حالت واحد پر وارد ہیں۔ تو فیصلہ کریں کس کی بات ماننی ہے؟
محترم قارئین کرام! فریق مخالف کی اس“تاویل”کا جواب سمجھنے کے لئے دوسرا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ:
[شرح مواقف صفحہ 727 و شرح فقہ اكبر صفحہ 68، مسامرہ جلد 2 صفحہ 78، شرح عقائد صفحہ 101 و فتح الباري جلد 8 صفحہ 431 وغیرہ میں ہے واللفظ له]
«الأحاديث إذا كانت في مسائل عملية يكفي الأخذ بها صحتها أفادتها الظن أما إذا كانت في العقائد فلا يكفي فيها إلا ما يفيدا القطع»
“یعنی جن مسائل کا تعلق عمل کے ساتھ ہے ان میں صحیح احادیث سے استدلال کافی ہے کیوں کہ اعمال کے لئے ظنی دلائل ہی کافی ہیں لیکن جب عقائد کی باری آئے گی تو ان میں صرف وہ حدیثیں قابل قبول ہوں گی جو یقین کا فائدہ دیں (مثلا یہ کہ متواتر ہوں)۔”
یعنی عقیدت اور چیز ہے اور عقیدہ اور چیز ہے۔ اثبات عقیدہ کے لئے نص قطعی یا خبر متواتر درکار ہے۔ یہاں خبر واحد صحیح سے بھی گاڑی نہیں چل سکتی اور قرآن کریم کے مقابلہ میں خبر واحد کا پیش کرنا ہی درست نہیں۔
فریق مخالف کے امام احمد رضا صاحب خود فرماتے ہیں:
«إن نصوص القرآن لا تعارض بالأحاد»
[الفيوض المكية صفحہ 22]
“یعنی اخبار احاد نصوص قرآن کے معارضہ میں نہیں پیش کی جا سکتیں۔”
نیز لکھتے ہیں کہ:
“اور نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول رہیں گے بے دلیل شرعی تخصیص و تاویل کی اجازت نہیں ورنہ شریعت سے امان اٹھ جائے نہ حدیث احاد اگرچہ کیسی ہی اعلى درجہ کی صحیح ہو عموم قرآن کی تخصیص کر سکے بلکہ اس کے حضور مضمحل ہو جائے گی بلکہ تخصیص متراخی نسخ ہے اور اخبار کا نسخ ناممکن اور تخصیص عقلی عام کو قطعیت سے نازل نہیں کرتی نہ اس اعتماد سے کسی ظنی سے تخصیص ہو سکے۔” [إنباء المصطفى صفحہ 4]
بلکہ یہ ہی خان صاحب لکھتے ہیں کہ:
“عموم آیات قرآنیہ کی مخالفت میں اخبار احاد سے استناد محض ہرزہ بانی (ہے)۔” [إنباء المصطفى صفحہ 4]
اور مفتی احمد یار صاحب دوسروں سے مطالبہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
“وہ آیت قطعی الدلالت ہو جس کے معنی میں چند اور احتمال نہ نکل سکتے ہوں اور حدیث ہو تو متواتر ہو۔” [جاء الحق صفحہ 40]
(إن شاء الله تعالى عقائد کے لئے ان اصول و ضوابط کی اہمیت کی تفصیل آگے اپنے مقام پر عرض کی جائے گی)
محترم قارئین کرام! کوئی ان فریق مخالف سے یہ پوچھے کہ احمد رضا صاحب اور مفتی احمد یار صاحب تو دوسروں سے مطالبہ قطعی الدلالت آیت اور حدیث متواتر کا کرتے ہیں اور خود اپنے دعوی پر دلیل بیجوري، عثماوي اور صاوي وغیرہ جیسے حاطب لیل متفسرین اور متصوفین کی عبارتوں سے قرآن کریم کی قطعی الدلالت اور صحیح احادیث کو رد کرتے پھریں؟ فریق مخالف کو کس نے اس تخصیص اور نسخ کا حق دیا ہے؟ اور کیا اخبار میں ان کے اقوال سے نسخ جائز ہے؟ عقیدہ اور نصوص قطعیہ کے مقابلہ میں تو تمہارے مسلمات کے رو سے بھی صحیح حدیث جبکہ خبر واحد ہو نہیں پیش کی جا سکتی تو پھر فریق مخالف کی بیجوري اور صاوي وغیرہ کو کون پوچھتا ہے؟
امام بيھقي رحمة الله عليه (المتوفى 456 ہجری) نے کیا خوب ارشاد فرمایا ہے کہ:
«ولم يكلفنا الله تعالى أن نأخذ ديننا عمن لا نعرفه»
[كتاب القراءة صفحہ 127]
“یعنی ہمیں اللہ تعالى نے اس بات کا ہرگز مکلف نہیں ٹہرایا کہ ہم اپنا دین غیر معروف لوگوں سے حاصل کریں۔”
باقی فریق مخالف اپنے دعوی کی تائید میں چند معتبر بزرگان دین کی مبہم اور غیر واضح عبارتیں لے کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے چند مثالیں:
فریق مخالف کے وکیل مولوی عمر فرماتے ہیں کہ:
خصائص كبرى (جلد 2 صفحہ 195) میں ہے کہ:
“بعض اس طرف گئے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کو پانچ چیزوں کا بھی علم دیا گیا ہے، قیامت کے وقت بھی اور روح کا بھی اور آپ کو ان کے چھپانے کا حکم دیا گیا۔” [مقیاس حنفیت صفحہ 385]
الجواب: ہم اپنی پچھلی پوسٹ میں واضح کر چکے ہیں کہ غیوب خمسہ کے جزئیات کی عطا پر اختلاف نہیں بلکہ ہمارا اختلاف غیوب خمسہ کے اصول و کلیات پر ہے۔ اور جہاں تک قیامت کے وقت کی عطا کا تعلق ہے تو امام سيوطي رحمة الله عليه نے ایک مستقل کتاب لکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ یہ جو لوگ یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے وہ غلط کار ہیں اور یہ روایت جھوٹی ہے، اللہ تعالى نے قیامت کا علم اور تو اور جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم کو بھی نہیں دیا۔ اس رسالہ کا نام ہے“الكشف عن مجاوزة الأمة عن الألف”جس کا یہ مضمون ملا علي قاري رحمة الله عليه نے موضوعات كبير صفحہ 119 میں نقل فرمایا ہے۔
احمد رضا صاحب اور مفتی احمد یار نعيمي صاحب فرماتے ہیں کہ:
“علامہ قسطلاني رحمة الله عليه تفسير سورہ رعد کی تفسير میں لکھتے ہیں کہ“کوئی غیر خدا نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی سوا اس کے پسندیدہ رسولوں کے کہ اللہ انہیں اپنے جس غیب پر چاہے اطلاع دیتا ہے یعنی وقت قیامت کا علم ان پر بند نہیں ہے”۔” [خالص الاعتقاد صفحہ 52] [جاء الحق صفحہ 110]
الجواب: حالانکہ علامہ قسطلاني رحمة الله عليه کی صریح عبارت دوسرے مقام پر موجود ہے کہ:
«ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله فلم يعلم ذلك نبي مرسل ولا ملك مقرب»
[قسطلاني شرح بخاري جلد 10 صفحہ 296]
“یعنی کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی بجز اللہ تعالى کے نہ تو قیام ساعت کا وقت کسی نبی مرسل کو معلوم ہے اور نہ فرشتہ مقرب کو۔”
نیز خان صاحب لکھتے ہیں کہ:
“شيخ محقق عبد الحق محدث دہلوي رحمة الله عليه شرح مشكوة میں اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ‘مراد یہ ہے کہ قیامت وغیرہ غیب بے خدا کے بتائے معلوم نہیں ہوتے۔’” [خالص الاعتقاد صفحہ 50]
نیز مدارج النبوة جلد دوم صفحہ 40 و“فصل إيذاء رساني كفار فقراء صحابہ”میں ہے:
«وبعضي علماء علم ساعت نيز مثل إين معنی گفتہ اند»
“یعنی بعض علماء نے روح کی طرح حضور صلى الله عليه وسلم کو قیامت کا علم بھی مانا ہے۔”
الجواب: ایک حدیث پاک کی شرح میں شيخ رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
“حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے حضور صلى الله عليه وسلم کی وفات سے ایک ماہ قبل سنا، حضور صلى الله عليه وسلم فرماتے تھے کہ تم مجھ سے قیامت کے آنے کا وقت دریافت کرتے ہو حالانکہ اس کے وقت معین کا علم اللہ تعالى کے سوا کسی کو نہیں یعنی قیامت کبری آنے کا وقت خود مجھ کو معلوم نہیں اور اس کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔” [إشعة اللمعات جلد 4 صفحہ 377]
مفتی احمد یار نعيمي صاحب فرماتے ہیں کہ:
تفسيرات احمدية زیر آیت مذکورہ:
“اور تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ ان پانچوں باتوں کو اگرچہ خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن جائز ہے کہ خدائے پاک اپنے ولیوں اور محبوبوں میں سے جس کو چاہے سکھائے۔ اس قول کے قرینہ سے کہ اللہ تعالى جاننے والا بتانے والا ہے خبير بمعنی مخبر۔” [جاء الحق صفحہ 109]
الجواب: حضرت ملا جيون رحمة الله عليه کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ان پانچوں چیزوں کے کلیات کا علم حضرات اولیاء الله کو حاصل ہے بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ ان میں سے بعض بعض جزئیات کی اطلاع اللہ تعالى اپنے محبوب بندوں کو دے دیتا ہے۔ چنانچہ اس کی مبسوط بحث کرتے ہوئے قاضي بيضاوي رحمة الله عليه کا حوالہ اپنی تائید میں پیش کر کے آخر میں لکھتے ہیں کہ:
«فلم من كلامه أن الله يطلع الأولياء على بعض ما يشاء من الغيوب الخمسة»
[تفسيرات الأحمدية صفحہ 397]
“یعنی قاضی صاحب کے کلام سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالى غیوب خمسہ میں سے بعض پر جس مقدار میں چاہے حضرات اولیاء کرام کو مطلع کر دیتا ہے۔”
محترم قارئین کرام! اسی طرح فریق مخالف کے اور بھی ایسے ہی کچھ دلائل اور بھی ہیں۔ جن کا حال بھی تقریبا ایسا ہی ہے جیسا ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ جن کو ہم طولت کے خوف سے نقل نہیں کر رہے۔ لیکن قابل غور و فکر بات یہ ہے کہ قارئین کرام باآسانی ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہر مقام پر فریق مخالف کو اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے تاویل سے ہی کام لینا پڑتا ہے۔ یعنی فریق مخالف کے پاس نہ تو اپنے دعوی پر کوئی صریح دلیل موجود ہے۔ اور نہ ہی اپنے دعوی کی تائید میں کسی ایک بھی معتبر بزرگ کا صریح اور واضح قول موجود ہے؟ حتی کہ بزرگوں کی لکھی ہوئی دو جلدوں سے لے کر بیس بیس جلدوں پر مشتمل شروحات اور تفاسیر کے ہوتے ہوئے بھی فریق مخالف کوئی ایک بھی صریح اور واضح عبارت اپنے مدعے کی تائید میں نہیں پیش کر سکتا۔ جس سے آپ حضرات فریق مخالف کے دلائل کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فریق مخالف کے دلائل کی بنیادیں کس حد تک مضبوط ہیں؟
اب آ جاتے ہیں امور خمسہ پر فریق مخالف کے چند مختصر دلائل اور ان کی وضاحتوں کی طرف:
علم قیامت
مولوی محمد عمر صاحب لکھتے ہیں کہ:
“صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعين کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ آپ کو علم قیامت ہے۔ مستدرك جلد 4 صفحہ 567 عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے قیامت کا بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ یہ دن کون سا ہے؟ تو صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعين نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعين کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ آپ کو علم قیامت ہے۔” [مقیاس حنفیت صفحہ 384, 385]
الجواب: یہ حدیث اس پر ہرگز دلالت نہیں کرتی کہ قیام ساعت کا وقت جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم کو معلوم تھا بلکہ اسی حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے کہ:
«فينادي ربه فيقول يا آدم ابعث بعث النار من كل ألف تسع مائة وتسعين في النار وواحد في الجنة»
[مستدرك جلد 4 صفحہ 567]
“یعنی اللہ تعالى حضرت آدم عليه السلام کو ندا کر کے فرمائے گا اے آدم دوزخ کے گروہ کو کھڑا کر تو ایک ہزار میں سے نو سو نناوے دوزخ میں اور صرف ایک جنت میں داخل کیا جائے گا۔”
تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ تو قیام ساعت کے بعد کا واقعہ ہے جو محشر میں اللہ تعالى کی عدالت میں پیش آئے گا، قیامت کی خاص گھڑی کا (جس میں نزاع ہے) اس سے کیا تعلق ہے؟
مولوی عمر صاحب نے اس حدیث سے کہ:
“قیامت جمعہ کے دن آئے گی۔”یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کو وقت قیامت کا علم تھا۔
یہ ٹھیک ہے کہ قیامت جمعہ کے دن آئے گی مگر وہ جمعہ کتنے سالوں بعد آئے گا اور کس مہینے کا کون سا جمعہ ہوگا؟ اور جمعہ کے دن کس وقت قیامت قائم ہو گی وغیرہ وغیرہ امور اس سے نہیں حل ہوتے۔
اور مفتی احمد یار نعیمی صاحب لکھتے ہیں کہ:
“حضور صلى الله عليه وسلم نے قیامت قائم ہونے کا دن بتایا ہے، مشکوٰة باب الجمعہ میں ہے کہ: ‘قیامت قائم نہ ہوگی مگر جمعہ کے دن۔’ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی ملا کر فرمایا کہ: ‘ہم اور قیامت اس طرح ملے ہوئے بھیجے گئے ہیں۔’ یعنی ہمارے زمانے کے بعد بس قیامت ہی ہے اور اس قدر علامات قیامت ارشاد فرمائیں کہ ایک بات بھی نہ چھوڑی، آج قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ابھی قیامت نہیں آ سکتی کیوں کہ نہ ابھی دجال آیا اور نہ مسیح و مہدی نہ آفتاب مغرب سے نکلا ان علامات نے قیامت کو بالکل ظاہر فرما دیا پھر قیامت کا علم نہ ہونے کے کیا معنی؟ بس زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سنہ نہ بتایا کہ فلاں سنہ میں قیامت ہوگی لیکن حضور عليه الصلاة والسلام کے زمانہ پ