|
|
فہم دین پروگرام
کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرنے، اور قربانی کرنے اور شیطان کو کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لینے، اور طواف کو ان سب سے پہلے کرنے کا جواز
[صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3156]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَقَالَ:" اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ"، ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ"، قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ، إِلَّا قَالَ:" افْعَلْ وَلَا حَرَجَ"
امام مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے رہے وہ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں سمجھ نہ سکا (کہ پہلے کیا ہے) اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اب) قربانی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے پتہ نہ چلا اور میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی؟ آپ نے فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق جس میں تقدیم یا تاخیر کی گئی نہیں پوچھا گیا مگر آپ نے (یہی) فرمایا: ”(اب) کر لو کوئی حرج نہیں۔
تخریج الحدیث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
Reference: View