فہم دین پروگرام
مشرکین مکہ کا عقیدہ اور آج کا مسلمان
مشرکین مکہ کا عقیدہ اور آج کا مسلمان
« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »
مسلمانوں کی کثیر تعداد کا خیال ہے کہ شاید مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے منکر تھے۔ اس لیے قرآن مجید نے انہیں مشرک اور کافر کے نام سے مخاطب کیا اور ان کے انجام کے بارے میں بتلایا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلتے اور چلّاتے رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرکین کے عقیدہ کے بارے میں یہ سوچ غلط فہمی اور کم علمی پر مبنی ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید کی درجنوں آیات میں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کو خالق، رازق، مالک اور معبود مانتے تھے گویا کہ وہ رب تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے قائل تھے۔ لیکن اس کے باوجود قرآن انہیں کافر اور مشرک کے لفظ سے پکارتا ہے اور ان کا انجام جہنم بتلاتا ہے۔ آئیں سب سے پہلے چند آیات کے حوالے سے مشرکین مکہ کا عقیدہ جانیں اور پھر یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیا غلط فہمیاں تھیں جس بنا پر وہ مشرک اور کافر قرار پائے اور ابدی جہنم کے سزاوار ٹھہرے۔

نبی اکرم کے بتائے ہوئے طریقے پر کفارِ مکہ نے چلنے سے انکار کر دیا۔ اللہ نے حکم فرمایا کہ ان سے اللہ کے بارے میں چند سوال پوچھو۔ جو جواب ان سے متوقع تھا وہ بھی نقل فرما دیا۔ فرمایا:

قرآن مجید سے دلائل ملاحضہ فرمائیں:

﴿وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ [61] اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ [62] وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ [63]
اور اگر آپ اُن سے پوچھیں کہ کون ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے۔ تو وہ لوگ یہی کہیں گے کہ وہ اللہ ہی ہے۔ پھر(یہ لوگ) کدھر اُلٹے چلے جا رہے ہی؟ [61] اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کیلئے چاہے روزی فراخ کر دیتا ہے۔ اور جس کیلئے چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ بیشک اللہ ہی سب چیزوں کے احوال سے واقف ہے۔ [62] اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کون ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے اور اُس سے مُردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے۔ تو وہ لوگ یہی کہیں گے کہ وہ بھی اللہ ہی ہے۔ آپ کہیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں مگر ان میں سے اکثر سمجھتے بھی نہیں۔ [63]
[سورة العنكبوت 29، آیت نمبر 61 - 63]

غور فرمائیں! میں بھی اکثر سوچتا تھا کہ اللہ کو سب کچھ مانتے بھی ہیں۔ جس کی گواہی خود اللہ پاک دے رہے ہیں تو پھر وہ بے عقل اور گُم کردہ راہ (بھٹکے ہو ئے) کیوں قرار پائے تھے؟ پھر میں نے اور بھی پڑھا:

﴿قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ [31]
آپ کہئے کہ تم کو آسمان اور زمین سے رزق کون بہم پہنچاتا ہے؟ قوتِ سماعت و بصارت کا مالک کون ہے؟ اور جاندار کو بے جان اور بے جان کو جاندار سے کون نکالتا ہے؟ اورکون ہے جو (تمام) کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ پس یہ فورًا کہیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ [31]
[سورۃ یونس 10، آیت نمبر 31]

میں حیران اس بات پر تھا کہ اس طرح اللہ کو ماننے میں کیا نقص ہے۔!! ہم بھی تو اسی طرح مانتے ہیں مگر اس طرح ماننے والوں کو ''نہ ڈرنے والے'' فرمایا گیا ہے۔ آخر کیوں؟

پھر ارشاد ہوا:

﴿وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ قُلِ الْحَمْدُلِلّٰهِ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَايَعْلَمُوْنَ [25]
اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ اللہ نے۔ آپ کہیے کہ تمام تعریفوں کے لائق تو اللہ ہی کی ذات ہے۔ مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ [25]
[سورۃ لقمان 31، آیت نمبر 25]

میں ان آیات کو دل میں جذبۂ جستجو دبائے ہوئے یکجا کرتا چلا گیا۔ حیران تھا کہ آخر نقص کیا ہے کہ ہماری طرح اللہ کو ماننے کے باوجود اِن لوگوں کو ''نہ جاننے والے'' قرار دیا گیا۔ پھر میں نے ارشادِ ربّا نی پڑھا۔

﴿قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهَآ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ [84] سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ قُلْاَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [85] قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ [86] سَيَقُوْلُوْنَ ِﷲِ قُلْاَفَلَا تَتَّقُوْنَ [87] قُلْ مَنْم بِيَدِه مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْئٍ وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ [88] سَيَقُوْلُوْنَ ِﷲِ قُلْ فَاَنّٰي تُسْحَرُوْنَ [89]
ان کو فرمائیں کہ اگر تم کو کچھ علم ہے تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کے لیے ہیں [84] تو یہ فورًا کہیں گے کہ اللہ ہی کے لیے ان کو فرمائیں کیا تم کچھ نصیحت نہیں لیتے ہو؟ [85] ان کو فرمائیں کہ سات آسمانوں اور عرشِ عظیم کا پروردگار کون ہے؟ [86] تو فورًاکہیں گے کہ اللہ۔ ان کو فرمائیں کہ کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ [87] ان سے پوچھیے کہ اگر تم کو کچھ علم ہے تو بتاؤ کہ کس کے دست قدرت میں ہر چیز کی بادشاہی ہے؟ وہ پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابل کوئی پناہ نہیں دے سکتا [88] یہ فورًاکہیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ ان کو فرمائیں کہ تم پر جادو کہاں سے چل گیا ہے؟ [89]
[سورۃ المؤمنون 23، آیات نمبر 84 - 89]

جب میں نے یہ آیات پڑھیں تو دوسری باتوں کے علاوہ مجھے اس شعر کی صحت پر بھی سخت اختلاف ہوا:

خدا کا پکڑا چھڑا لے محمد(ا)
محمد(ا) کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا

آخر کیوں اور کس طرح؟ جب کہ اللہ کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ اگر آپ غور فرمائیں تو مندرجہ بالا آیات کو پڑھنے سے یہ بات صاف صاف سمجھ میں آتی ہے کہ کُفّارِ مکہ آسمان و زمین کا خالق، شمس و قمر کا پابندِ ضابطہ کرنے والا، رزق دینے کے علاوہ اس میں کمی و بیشی کرنے والا، ہر چیز کا کامل اور مکمل علم رکھنے والا، آسمانوں سے پانی نازل فرمانے والا، اس سے مردہ زمین کو جِلا بخشنے والا، مالکِ قوتِ سماعت و بصارت، مردہ چیز سے زندہ اور زندہ سے مردہ کا خالق، اس نا پیدا کنار کائنات کی منصوبہ بندی کرنے والا، زمین اور اس کے اندر کی ہر چیز کا مالک، سات آسمانوں اور عرشِ عظیم کا پروردگار جس کے دست قدرت میں ہر چیز ہے۔ ہر کسی کو پناہ دینے والا اور وہ جس سے کوئی بھی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ اللہ ہی کو مانتے تھے۔ اسی طرح جس طرح آج میں اور آپ مانتے ہیں۔ بلکہ میں قرآن میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا تھا کہ کفارِ مکہ دعائیں بھی اسی ایک اللہ سے مانگتے تھے۔ جس سے میں اور آپ مانگتے ہیں۔ لیجیے آپ بھی پڑھیے۔

﴿وَاِذْقَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَالْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْعَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآئِ اَوِئْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ [32]
اور جب انہوں نے کہا کہ اے ہمارے اللہ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا کوئی درد ناک عذاب ہم پر لے آ۔ [32]
[سورۃ الأنفال 8، آیت نمبر 32]

یہ اس وقت کی بات ہے جب کفارِ مکہ ہمارے نبی اکرم کی تبلیغ کے بڑھتے ہوئے اثر کو روک نہ سکے تو تھک ہار کر ابوجہل نے خانۂ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے اس کے غلاف کو پکڑ کر یہ دعا مانگی تھی۔ مگر آپ اس بحث میں نہ پڑیں کہ یہ کون تھا اور اس نے کس وقت کس حالت میں دعا مانگی تھی۔ آیت صاف بتا رہی ہے کہ کوئی منکرِ قرآن ہی تھا۔ پھر میں نے پڑھا:

﴿وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ [16]
اور(یہ لوگ) کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارا حصہ یومِ حساب سے قبل ہم کو دے ڈال۔ [16]
[سورۃ صٰ 38، آیت نمبر 16]

میں جوں جوں یہ آیات پڑھتا گیا۔ میری حیرت بڑھتی گئی۔ یہ بات بھی عجب ہے کہ ایک قوم ہر چیز کا مالک و خالق بھی ہماری طرح اللہ ہی کو مانے اور ہر مشکل وقت پر دست ِ دعا بھی اسی کے سامنے دراز کرے۔ جس کے سامنے ہم کرتے ہیں۔ پھر بھی ہمیں تو اتنا دعوائے مسلمانی ہو، اور وہ کافر قرار پائے۔ اسے بات بات پر فرمایا جائے:

"تم کہاں گھوم رہے ہو؟"…"ان میں سے اکثر بے عقل ہیں" …"کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟" …"ان میں سے اکثر بے علم ہیں" …"کیا تم نصیحت نہیں لیتے ہو؟" …"تم کہاں سے سحرزدہ ہو گئے ہو؟"… وغیرہ وغیرہ۔ اس الجھن کو بھی قرآن کریم نے دور فرما دیا۔

کافر کیوں؟..............

میں کفارِ مکہ اور نبی اکرم کے درمیان جھگڑے کی اصل وجہ دریافت کرنے کے لیے بے قرار ہو گیا۔ یہ کتابِ مقدس جو کہ:

﴿هُدًي لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰي وَالْفُرْقَانِ [185]
یہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے،اور ہدایت کو بیان فرما کر حق و باطل میں فرق کو نمایاں کرنے والی کتاب ہے۔ [185]
[سورۃ البقرۃ 2، آیت نمبر 185]

اس میں، میں نے ایک آیت پڑھی۔ لیجئے،آپ بھی پڑھیں اور اپنی پریشانی میری طرح دور کر لیں۔

﴿وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَالَايَضُرُّهُمْ وَلَايَنْفَعُهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰؤُلَآئِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اﷲِ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اﷲَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ سُبْحٰنَه وَتَعٰلٰي عَمَّا يُشْرِكُوْنَ [18]
اور یہ اللہ کے سوا ان لوگوں کی عبادت کرتے ہیں۔ جو اِن کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی فائدہ دے سکتے ہیں۔ اور یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے حضور ہماری سفارش کرتے ہیں۔ ان کو فرما دیں کہ کیا تم اللہ کو آسمان اور زمین کی ان چیزوں کی خبر دے رہے ہو جن کا اس کو علم نہیں ہے؟ تمہارے شرک سے اللہ پاک اور بلند و بالا ہے۔ [18]
[سورۃ یونس 10، آیت نمبر 18]

غور فرمائیں! کہ اس آیت میں ان لوگوں کا اصل قصور بتایا گیا ہے۔ اور اللہ پاک کے ہاں کسی فوت شدہ بزرگ کی روح کو پکارنا کہ وہ سفارش کرے، اسی کو اللہ پاک نے شرک قرار دیا ہے۔ پھر اسی قرآن ہی میں لکھا ہوا میں نے پڑھا۔ لیجیے آپ بھی پڑھیں:

﴿وَالَّذِ يْنَ اتَّخَذُ وْمِنْ دُوْنِه اَوْلِيَآئَ مَا نَعْبُدُ هُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَي اﷲِ زُلْفٰي [3]
جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں کو ولی بنا رکھا ہے (ان کی بابت وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کی بندگی اس غرض کے لیے ہی کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کے قریب کر دیں۔ [3]
[سورۃ الزُّمر 39، آیت نمبر 3]

خلاصۂ کلام

قرآن پاک کے پڑھنے سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ کفارِ مکہ بھی ہندو کی طرح ایک اللہ کے منکر نہ تھے۔ جبکہ وہ اسی سے دعائیں مانگتے تھے مگر اس کے ساتھ بزرگوں کی عبادت بھی کرتے تھے۔ یعنی ان اولیاء کی نذر و نیاز اور چڑھاوے بھی دیتے تھے۔ ان کے نام کے وظیفے بھی کرتے تھے کہ ان کی روحوں کو خوش کر لیا جائے تو یہ ہماری سفارش کرتے ہیں اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہیں۔ ورنہ کہاں اللہ اور کہاں یہ آدمِ خاکی۔ بس یہ تھا فرق اور یہ تھا جھگڑا۔ ذرا غور کرنے پر میری روح لرز گئی کہ ہمارے مسلمان بھی تو یہی کچھ کر رہے ہیں۔ اگر آپ بھی ایسا کرتے ہیں تو آج ہی توبہ کر لیں۔