|
|
فہم دین پروگرام
اللہ کہاں ہے
اللہ تعالیٰ عرش پر ہے
« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »
اللہ عرش پر ہے مسلمانوں کے اس عقیدے میں تبدیلی تقریبا تین سو ہجری میں معرض وجود میں آئی ہے کہ اللہ تعالٰی ہر جگہ موجود ہے اور اس کے موجد جھمیہ، معتزلہ اور صوفیاء ہیں جن سے یہ عقیدہ عام مسلمان کے ذہن میں راسخ ہو گیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس بار اسی موضوع کا انتخاب کیا ہے تاکہ یہ بات مسلمانوں پر واضح ہو جائےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم أجمعين، تابعین رحمہم اللہ علیہ، آئمہ محدثین سلف صالحین سب اس عقیدے پر متفق ہیں کہ اللہ عرش پر استوا ہے اور اس عقیدے کو ہم قرآن حدیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین سے ثابت کریں گے۔ توفیق باللہ
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالی اپنے عرش پر مستوی ہے۔ اور اسکا عرش اسکے تمام آسمانوں سے اوپر ہے اور وہ اپنی تمام مخلوقات سے الگ ہے۔ بلند و بالا بزرگ و برتر اپنی مخلوقات کی حالت میں نہیں ہے۔ وہی ہے جو سب سے اعلی و ارفع اپنی تمام تر مخلوقات سے اوپر پاک و مقدس ذات ہے۔
یہی عقیدہ کتاب و سنت کے دلائل سے، اجماع صحابہ سے، تابعین و تبع تابعین سے، اور ان کے بعد آنے والے تمام علماء و محققین سے ثابت ہے۔
اللہ رب العزت نے قرآن کے مختلف مقامات پر اس بات کو واضح کیا۔
قرآن سے دلائل
1۔ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [1] ﴾
اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر [1]
[سورۃ الاعلی87، آیت نمبر: 1]
2۔ ﴿يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ [50] ﴾
اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں [50]
[سورۃ النحل 16، آیت نمبر: 50 ]
3۔ ﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ [10] ﴾
تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے [10]
[سورۃ فاطر 35، آیت نمبر: 10]
4۔ ﴿بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا [158] ﴾
اور انھوں نے یقیناً اسے قتل نہیں کیا (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو) بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے [158]
[سورۃ النساء 4، آیت نمبر: 158]
5. ﴿إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ [55] ﴾
اس وقت اللہ نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کر کے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (و غالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کر دوں گا [55]
[سورة ال عمران 3, آیت نمبر: 55]
اس پر امت کا اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے اور وہ آسمان میں زندہ ہیں۔ آسمان سے اتریں گے اور دجال کو قتل کر دیں گے
6۔ ﴿أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ [16] ﴾
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے [16]
[سورۃ الملک 67، آیت نمبر: 16]
یہاں آسمان کا مطلب بلندی یا وہ معروف آسمان جو اوپر ہیں۔
اسی طرح یہاں « "فی""علی" » کے معنی میں استعمال ہوا ہے
یعنی « "فی السماء" » کا مطلب" آسمان میں" نہیں بلکہ" آسمان کے او پر" ہے۔
کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نہ تو کسی چیز سے محصور ہے اور نہ وہ اپنی مخلوقات میں سے کسی چیز کے اندر داخل ہے۔
اسکی مثال سورۃ الانعام کی آیت نمبر 11 میں اللہ نے فرمایا:
« قل سیروا فی الارض »
یعنی زمین پر چلو نہ کہ زمین میں چلو۔
اور یہ واضح ہے کے انسان زمین کے اوپر ہی چلتا ہے نہ کی زمین کے اندر۔
جس طرح یہاں فی کامطلب علی استعمال ہوا ہے اسی طرح اوپر کی آیت میں بھی « "فی" » کا معنی « "علی" » استعمال ہوا ہے۔
اس کی دوسری مثال سورۃ طہ میں جو اللہ تعالی نے فرعون کی بات نقل کرتے ہوے فرمایا کہ
« وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ »
میں تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھا دوں گا
میں بھی « "فی""علی" » کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
وہ آیتیں جن میں صریحاً اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا آسمانوں کے اوپر اور عرش پر مستوی ہونا مذکور ہے.
1۔ ﴿اِنَّ رَبَّكُمُ اﷲَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ ايَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي العَرْشِ [54] ﴾
تحقیق تمہارا رب اﷲہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پید اکیا پھر عرش پر مستوی ہوا [54]
[سورۃ الاعراف 7، آیت نمبر: 54]
2۔ ﴿اِنَّ رَبُكُمُ اﷲُ الَّذِي خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضَ فِي سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي العَرْشِ [3] ﴾
یقینا تمہارا رب اﷲ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں بنایا، پھر عرش پر مستوی ہوا [3]
[سورۃ یونس10، آیت نمبر: 3]
3۔ ﴿اَﷲُ الَّذِي رَفَعَ السَمٰوٰتِ بِغَيرِ عَمَدٍ تَرَونَهَا ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ [2] ﴾
اﷲ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر جنہیں تم دیکھو اونچا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوا [2]
[سورۃ الرعد 13، آیت نمبر: 2]
4۔ ﴿اَلرَّحْمٰنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰي [5] ﴾
رحمان نے عرش پر استواء کیا [5]
[سورۃ طہ 20، آیت نمبر: 5]
5۔ ﴿اَلَّذِي خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ اَلرَّحْمٰن فَسْئَلْ بِهٖ خَبِيْرًا [59] ﴾
اﷲ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے مابین کو چھ ایّام میں پیدا کیا، پھر رحمان نے عرش پر استوا کیا اس کے بارے میں خبر والے سے پوچھ [59]
[سورۃ الفرقان 25، آیت نمبر: 59]
6۔ ﴿اَﷲُ الَّذِي خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ [4] ﴾
اﷲ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں چھ دنوں میں پیدا کیں، پھر عرش پر استوا کیا [4]
[سورۃ السجدۃ 32، آیت نمبر: 4]
7۔ ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ [4] ﴾
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے مابین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر استوا کیا [4]
[سورۃ الحدید 57، آیت نمبر: 4]
« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »
اللہ عرش پر ہے مسلمانوں کے اس عقیدے میں تبدیلی تقریبا تین سو ہجری میں معرض وجود میں آئی ہے کہ اللہ تعالٰی ہر جگہ موجود ہے اور اس کے موجد جھمیہ، معتزلہ اور صوفیاء ہیں جن سے یہ عقیدہ عام مسلمان کے ذہن میں راسخ ہو گیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس بار اسی موضوع کا انتخاب کیا ہے تاکہ یہ بات مسلمانوں پر واضح ہو جائےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم أجمعين، تابعین رحمہم اللہ علیہ، آئمہ محدثین سلف صالحین سب اس عقیدے پر متفق ہیں کہ اللہ عرش پر استوا ہے اور اس عقیدے کو ہم قرآن حدیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین سے ثابت کریں گے۔ توفیق باللہ
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالی اپنے عرش پر مستوی ہے۔ اور اسکا عرش اسکے تمام آسمانوں سے اوپر ہے اور وہ اپنی تمام مخلوقات سے الگ ہے۔ بلند و بالا بزرگ و برتر اپنی مخلوقات کی حالت میں نہیں ہے۔ وہی ہے جو سب سے اعلی و ارفع اپنی تمام تر مخلوقات سے اوپر پاک و مقدس ذات ہے۔
یہی عقیدہ کتاب و سنت کے دلائل سے، اجماع صحابہ سے، تابعین و تبع تابعین سے، اور ان کے بعد آنے والے تمام علماء و محققین سے ثابت ہے۔
اللہ رب العزت نے قرآن کے مختلف مقامات پر اس بات کو واضح کیا۔
قرآن سے دلائل
1۔ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [1] ﴾
اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر [1]
[سورۃ الاعلی87، آیت نمبر: 1]
2۔ ﴿يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ [50] ﴾
اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں [50]
[سورۃ النحل 16، آیت نمبر: 50 ]
3۔ ﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ [10] ﴾
تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے [10]
[سورۃ فاطر 35، آیت نمبر: 10]
4۔ ﴿بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا [158] ﴾
اور انھوں نے یقیناً اسے قتل نہیں کیا (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو) بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے [158]
[سورۃ النساء 4، آیت نمبر: 158]
5. ﴿إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ [55] ﴾
اس وقت اللہ نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کر کے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (و غالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کر دوں گا [55]
[سورة ال عمران 3, آیت نمبر: 55]
اس پر امت کا اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے اور وہ آسمان میں زندہ ہیں۔ آسمان سے اتریں گے اور دجال کو قتل کر دیں گے
6۔ ﴿أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ [16] ﴾
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے [16]
[سورۃ الملک 67، آیت نمبر: 16]
یہاں آسمان کا مطلب بلندی یا وہ معروف آسمان جو اوپر ہیں۔
اسی طرح یہاں « "فی""علی" » کے معنی میں استعمال ہوا ہے
یعنی « "فی السماء" » کا مطلب" آسمان میں" نہیں بلکہ" آسمان کے او پر" ہے۔
کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نہ تو کسی چیز سے محصور ہے اور نہ وہ اپنی مخلوقات میں سے کسی چیز کے اندر داخل ہے۔
اسکی مثال سورۃ الانعام کی آیت نمبر 11 میں اللہ نے فرمایا:
« قل سیروا فی الارض »
یعنی زمین پر چلو نہ کہ زمین میں چلو۔
اور یہ واضح ہے کے انسان زمین کے اوپر ہی چلتا ہے نہ کی زمین کے اندر۔
جس طرح یہاں فی کامطلب علی استعمال ہوا ہے اسی طرح اوپر کی آیت میں بھی « "فی" » کا معنی « "علی" » استعمال ہوا ہے۔
اس کی دوسری مثال سورۃ طہ میں جو اللہ تعالی نے فرعون کی بات نقل کرتے ہوے فرمایا کہ
« وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ »
میں تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھا دوں گا
میں بھی « "فی""علی" » کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
وہ آیتیں جن میں صریحاً اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا آسمانوں کے اوپر اور عرش پر مستوی ہونا مذکور ہے.
1۔ ﴿اِنَّ رَبَّكُمُ اﷲَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ ايَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي العَرْشِ [54] ﴾
تحقیق تمہارا رب اﷲہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پید اکیا پھر عرش پر مستوی ہوا [54]
[سورۃ الاعراف 7، آیت نمبر: 54]
2۔ ﴿اِنَّ رَبُكُمُ اﷲُ الَّذِي خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضَ فِي سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي العَرْشِ [3] ﴾
یقینا تمہارا رب اﷲ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں بنایا، پھر عرش پر مستوی ہوا [3]
[سورۃ یونس10، آیت نمبر: 3]
3۔ ﴿اَﷲُ الَّذِي رَفَعَ السَمٰوٰتِ بِغَيرِ عَمَدٍ تَرَونَهَا ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ [2] ﴾
اﷲ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر جنہیں تم دیکھو اونچا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوا [2]
[سورۃ الرعد 13، آیت نمبر: 2]
4۔ ﴿اَلرَّحْمٰنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰي [5] ﴾
رحمان نے عرش پر استواء کیا [5]
[سورۃ طہ 20، آیت نمبر: 5]
5۔ ﴿اَلَّذِي خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ اَلرَّحْمٰن فَسْئَلْ بِهٖ خَبِيْرًا [59] ﴾
اﷲ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے مابین کو چھ ایّام میں پیدا کیا، پھر رحمان نے عرش پر استوا کیا اس کے بارے میں خبر والے سے پوچھ [59]
[سورۃ الفرقان 25، آیت نمبر: 59]
6۔ ﴿اَﷲُ الَّذِي خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ [4] ﴾
اﷲ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں چھ دنوں میں پیدا کیں، پھر عرش پر استوا کیا [4]
[سورۃ السجدۃ 32، آیت نمبر: 4]
7۔ ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ [4] ﴾
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے مابین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر استوا کیا [4]
[سورۃ الحدید 57، آیت نمبر: 4]
احادیث سے دلائل
« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »
اب ہم احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اس عقیدے کو واضح کرتے ہیں
1۔ صحیح مسلم میں معاویہ بن الحکم السلمی کی وہ روایت جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی لونڈی کو آزاد کرنے کا پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے میرے پاس لاؤ، آپ نے اس لونڈی سے پوچھا کہ"اللہ کہاں ہے؟" تو اس نے کہا کہ آسمان پر۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ"مین کون ہوں" تو اس نے کہا کہ اللہ کے رسول۔
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کر دو بے شک یہ مومنہ ہے۔
یہی حدیث 15 مختلف روایات میں موجود ہے جن میں سے چند یہ ہیں۔
[ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1199، ترقیم دارالسلام: 537
سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 930، 3282
سلسلہ احادیث صحیحہ، حدیث نمبر: 112، رقم الحديث ترقيم الباني: 3161 سنن نسائی، حدیث نمبر: 3683 ]
2۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن اپنے خطبہ میں فرمایا کہ لوگو، کیا میں نے اللہ کا پیغام پنہچا دیا؟ تو سب نے کہا جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی مبارک کو آسمان کی طرف اٹھاتے اور پھر لوگوں کی طرف کرتے ہوے فرماتے"اے اللہ تو گواہ ہو جا"
[صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2950، ترقیم فوادعبدالباقی: 1218
سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 1905 ]
3۔ حضرت ابو ھریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے آگے پیچھے زمین پر آتے جاتے ہیں۔ ان میں کچھ رات کے فرشتے ہیں اور کچھ دن کے یہ سب فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے جنہوں نے تمہارے پاس رات گذاری ہو اسکی طرف"یعنی اللہ ﷻ کی طرف" اوپر چڑھتے ہیں۔ پھر اللہ ﷻ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خود جانتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟
فرشتے کہتے ہیں جب ہم ان کے پاس گئے تو انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ اور جب ہم نے انہیں چھوڑا تو بھی نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا۔
[ صحیح بخاری، حدیث نمبر: 555، 7429، 7486، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1432، ترقیم فوادعبدالباقی: 632، سنن نسائی، حدیث نمبر: 446 ]
4۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ زمین والوں پر تم رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔
[ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 4941 ]
5۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت زینب بنت جحشؓ اس بات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ میری شادی ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اللہ رب العزت نے کروائ ہے۔
[ صحیح بخاری، حدیث نمبر: 7421، سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3213 ]
6۔ حضرت ابی سعید الخدری ؓ فرماتے ہیں کہ ایک موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تم مجھے امین تسلیم نہیں کرتے؟ حالانکہ مجھے اس نے امین تسلیم کیا جو آسمان پر ہے۔ میرے پاس آسمان سے خبر صبح و شام آتی ہے۔
[ صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4351 ]
7۔ حضرت ابو ھریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جسکے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر کسی عورت کا خاوند اسے اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو آسمان کے اوپر والا اس عورت پر اس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک اسکا خاوند اس سے راضی نہ ہو جائے۔
[ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 3540، ترقیم فوادعبدالباقی: 1436 ]
8۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج کا واقعہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر مجھے ساتوں آسمانوں کے اوپر لے جایا گیا سدرۃ المنتھی کے پاس۔ وہاں میں نے اللہ ﷻ کو سجدہ کیا پھر اللہ تعالی نے پچاس نمازوں کا حکم دیا۔ الی آخرہ۔
[ سنن نسائی، حدیث نمبر 451، کتاب الصلاۃ، باب فَرْضُ الصَّلَاةِ وَذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاخْتِلَافُ أَلْفَاظِهِمْ فِيه۔ ]
9۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہنا کہ اللہ ﷻ نے آپ کی برأت ساتوں آسمانوں کے اوپر سے نازل کی ہے۔
[ مسند احمد، حدیث نمبر 2496، 3262 ]
10۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن، میرے سینے اور حلق کے درمیان ہوئی اس دن عبدالرحمن بن ابی بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں تازہ مسواک تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی عمدگی کے ساتھ مسواک فرمائی کہ اس سے پہلے میں نے اس طرح مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اوپر کر کے وہ مجھے دینے لگے تو وہ مسواک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے گرگئی، یہ دیکھ کر میں وہ دعائیں پڑھنے لگیں جو حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے موقع پر پڑھتے تھے لیکن اس موقع پر انہوں نے وہ دعائیں نہیں پڑھی تھیں، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا رفیق اعلیٰ، رفیق اعلیٰ اور اسی دم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک پرواز کرگئی، ہر حال میں اللہ کا شکر ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دن میرے اور ان کے لعاب کو جمع فرمایا۔
[ مسند احمد، حدیث نمبر 24216 ]
11۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سعد بن معاذ ؓ کو بنی قریظہ کے درمیان فیصلہ کرنے پر یہ فرمانا کہ یہی فیصلہ اللہ تعالی کا ساتوں آسمانوں کے اوپر سے ہے۔
[ السنن الکبری للبیہقی، باب أخذ السلاح وغيره بغير اذن الامام، جلد 9 ص 63 ]
« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »
اب ہم احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اس عقیدے کو واضح کرتے ہیں
1۔ صحیح مسلم میں معاویہ بن الحکم السلمی کی وہ روایت جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی لونڈی کو آزاد کرنے کا پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے میرے پاس لاؤ، آپ نے اس لونڈی سے پوچھا کہ"اللہ کہاں ہے؟" تو اس نے کہا کہ آسمان پر۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ"مین کون ہوں" تو اس نے کہا کہ اللہ کے رسول۔
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کر دو بے شک یہ مومنہ ہے۔
یہی حدیث 15 مختلف روایات میں موجود ہے جن میں سے چند یہ ہیں۔
[ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1199، ترقیم دارالسلام: 537
سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 930، 3282
سلسلہ احادیث صحیحہ، حدیث نمبر: 112، رقم الحديث ترقيم الباني: 3161 سنن نسائی، حدیث نمبر: 3683 ]
2۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن اپنے خطبہ میں فرمایا کہ لوگو، کیا میں نے اللہ کا پیغام پنہچا دیا؟ تو سب نے کہا جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی مبارک کو آسمان کی طرف اٹھاتے اور پھر لوگوں کی طرف کرتے ہوے فرماتے"اے اللہ تو گواہ ہو جا"
[صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2950، ترقیم فوادعبدالباقی: 1218
سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 1905 ]
3۔ حضرت ابو ھریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے آگے پیچھے زمین پر آتے جاتے ہیں۔ ان میں کچھ رات کے فرشتے ہیں اور کچھ دن کے یہ سب فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے جنہوں نے تمہارے پاس رات گذاری ہو اسکی طرف"یعنی اللہ ﷻ کی طرف" اوپر چڑھتے ہیں۔ پھر اللہ ﷻ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خود جانتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟
فرشتے کہتے ہیں جب ہم ان کے پاس گئے تو انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ اور جب ہم نے انہیں چھوڑا تو بھی نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا۔
[ صحیح بخاری، حدیث نمبر: 555، 7429، 7486، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1432، ترقیم فوادعبدالباقی: 632، سنن نسائی، حدیث نمبر: 446 ]
4۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ زمین والوں پر تم رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔
[ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 4941 ]
5۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت زینب بنت جحشؓ اس بات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ میری شادی ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اللہ رب العزت نے کروائ ہے۔
[ صحیح بخاری، حدیث نمبر: 7421، سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3213 ]
6۔ حضرت ابی سعید الخدری ؓ فرماتے ہیں کہ ایک موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تم مجھے امین تسلیم نہیں کرتے؟ حالانکہ مجھے اس نے امین تسلیم کیا جو آسمان پر ہے۔ میرے پاس آسمان سے خبر صبح و شام آتی ہے۔
[ صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4351 ]
7۔ حضرت ابو ھریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جسکے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر کسی عورت کا خاوند اسے اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو آسمان کے اوپر والا اس عورت پر اس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک اسکا خاوند اس سے راضی نہ ہو جائے۔
[ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 3540، ترقیم فوادعبدالباقی: 1436 ]
8۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج کا واقعہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر مجھے ساتوں آسمانوں کے اوپر لے جایا گیا سدرۃ المنتھی کے پاس۔ وہاں میں نے اللہ ﷻ کو سجدہ کیا پھر اللہ تعالی نے پچاس نمازوں کا حکم دیا۔ الی آخرہ۔
[ سنن نسائی، حدیث نمبر 451، کتاب الصلاۃ، باب فَرْضُ الصَّلَاةِ وَذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاخْتِلَافُ أَلْفَاظِهِمْ فِيه۔ ]
9۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہنا کہ اللہ ﷻ نے آپ کی برأت ساتوں آسمانوں کے اوپر سے نازل کی ہے۔
[ مسند احمد، حدیث نمبر 2496، 3262 ]
10۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن، میرے سینے اور حلق کے درمیان ہوئی اس دن عبدالرحمن بن ابی بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں تازہ مسواک تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی عمدگی کے ساتھ مسواک فرمائی کہ اس سے پہلے میں نے اس طرح مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اوپر کر کے وہ مجھے دینے لگے تو وہ مسواک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے گرگئی، یہ دیکھ کر میں وہ دعائیں پڑھنے لگیں جو حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے موقع پر پڑھتے تھے لیکن اس موقع پر انہوں نے وہ دعائیں نہیں پڑھی تھیں، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا رفیق اعلیٰ، رفیق اعلیٰ اور اسی دم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک پرواز کرگئی، ہر حال میں اللہ کا شکر ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دن میرے اور ان کے لعاب کو جمع فرمایا۔
[ مسند احمد، حدیث نمبر 24216 ]
11۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سعد بن معاذ ؓ کو بنی قریظہ کے درمیان فیصلہ کرنے پر یہ فرمانا کہ یہی فیصلہ اللہ تعالی کا ساتوں آسمانوں کے اوپر سے ہے۔
[ السنن الکبری للبیہقی، باب أخذ السلاح وغيره بغير اذن الامام، جلد 9 ص 63 ]
اب اس سلسلے میں ہم ائمہ کے اقوال ذکر کرتے ہیں
« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »
1۔ ابو مطیع البلخی نے امام ابو حنیفہ سے پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو شخص یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ آسمان پر ہے یا زمین پر؟
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: بلا شبہ اس نےکفر کیا
اس لیے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اس کا عرش ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے۔
ابو مطیع بلخی کہتے ہیں: میں نے کہا اچھا اگر وہ کہے کہ اللہ عرش پر ہے لیکن اسے نہیں پتا کہ عرش آسمان پر ہے یا زمین پر؟
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: وہ کافر ہے اس لیے کہ اس نے عرش کے آسمان پر ہونے کا انکار کیا
[شرح عقیدہ الطحاویہ ص:387 از- امام ابن ابی العز الحنفی۔۔۔طبع: موسسہ الرسالہ]
2۔ امام مالک نے کہا: اللہ عرش پہ ہے اور اس کا علم پوری کائنات میں ہے کوئی بھی جگہ اس کے علم سے خالی نہیں۔
[مسائل الامام احمد از ابو داؤد۔ باب فی الجھمیہ۔ صفحہ 353]
3۔ « عَن عبد الرَّحْمَن بن مهْدي عَن مَالك أَن الله تَعَالَى مستو على عَرْشه الْمجِيد كَمَا أخبر وَأَن علمه فِي كل مَكَان وَلَا يخلوا شَيْء من علمه »
امام مالک فرماتے ہیں: اللہ عرش پر مستوی ہے جیسا ہمیں (قرآن اور سنت) سے معلوم ہوا اور اس کا علم ہر جگہ موجود ہے اور اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
[جلد1 ص 108 باب استواہ جل شانہ العقيدة رواية أبي بكر الخلال
أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)]
4۔ « وَقَالَ أَبُو عُمَرَ بْنُ عَبْدِ الْبَرِّ أَيْضًا: أَجْمَعَ عُلَمَاءُ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ الَّذِينَ حُمِلَ عَنْهُمْ التَّأْوِيلَ قَالُوا فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ:" مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ" هُوَ عَلَى الْعَرْشِ وَعِلْمُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ »
ابن عبدالبر فرماتے ہیں: علماء تابعین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس آیت پر اجماع ہے (جب تم تین سرگوشی کرتے ہو تو چوتھا وہ(اللہ)ہوتا ہے) کی تاویل یہی ہے کہ اللہ عرش پر ہے اور اس کا علم ہر جگہ ہے۔
[فتاوی امام ابن تیمیہ جلد 5 ص193]
5۔ « اَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ قَالَ: هُوَ عَلَى الْعَرْشِ كَمَا وَصَفَ فِي كِتَابِهِ؛ وَعِلْمُهُ وَقُدْرَتُهُ وَسُلْطَانُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ. وَرُوِيَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ الرَّازِي أَنَّهُ لَمَّا سُئِلَ عَنْ تَفْسِيرِ قَوْلِهِ: ["الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى"] فَقَالَ: تَفْسِيرُهُ كَمَا يُقْرَأُ هُوَ عَلَى الْعَرْشِ وَعِلْمُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ (ایضا ص 50) »
امام ترمذی فرماتے ہیں: وہ (اللہ) عرش پر ہے جیسا یہ وصف اس کی کتاب میں موجود ہے اور اس کا علم قدرت اور اس کی بادشاہی ہے ہر جگہ موجود ہے اور ابو زرعہ فرماتے ہیں اس آیت کی تفسیر (رحمن عرش پر استوا ہے) کہ اللہ عرش پر ہے اور اس کا علم ہر جگہ ہے۔
6۔ یوسف بن موسیٰ القطان جو کہ ابوبکر خلال کے شیخ ہیں انہوں نے کہا کہ ابو عبداللہ (احمد بن حنبل) سے کہا گیا: اللہ ساتوں آسمانوں سے اوپر اپنی مخلوقات سے جدا اور علیحدہ اپنے عرش پر ہے اور اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے؟
انہوں (احمد بن حنبل) نے کہا: ہاں، وہ اپنے عرش پر ہے، کوئی چیز اس کے علم سے بچ نہیں سکتی (یعنی کوئی چیز اس کے علم سے خالی نہیں اور وہ سب کچھ جانتا ہے)۔
[مختصر العلو للعلی الغفار للذھبی۔ صفحہ 189]
7۔ « لإمام أحمد رحمه الله تعالى:"لا يوصف الله إلا بما وصف به نفسه أو وصفه به رسوله صلى الله عليه وسلم لا نتجاوز القرآن والسنة" وبناءاً على هذه القاعدة كان مذهب السلف في صفة الاستواء أنهم يثبتون استواء الله على عرشه استواءاً يليق بجلاله وعظمته، ويناسب كبريائه »
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ نے جو وصف اپنا خود بیان کیا ہے یا جو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا اور ہم قرآن اور سنت سے تجاوز نہیں کرتے اورصفت استوا کا قانون سلف سے منقول ہے کہ اللہ اپنے جلال عظمت اورشان کبریائی کے ساتھ عرش پر استوا ہے۔
[امام ذہبی کتاب العرش مذہب السلف فی استواء ص188]
8۔ « قال الشَّافِعِي رحمه الله: ثم معنى قوله في الكتاب: (مَن فِى السمَآءِ) مَنْ فوق السماء على العرش، كما قال: [الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى] الآية، وكل ما علا فهو سماء والعرش أعلا السماوات، فهو على العرش سبحانه وتعالى كما أخبر بلا كيف »
(جو آسمان میں) اور آسمان سے اوپر عرش ہے جیسا اللہ نے فرمایا (رحمٰن عرش پر استوا ہے) اور ہر چیز کے اوپر آسمان ہے اور عرش آسمانوں سے اوپر ہے اور وہ (اللہ) بغیر کیفیت عرش پر ہے۔
[تفسیر الشافعی سورہ طھ5]
9۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے اوزاعی کو یہ کہتے سنا: ہمارا عقیدہ اور سب تابعین کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، ہم اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات کو مانتے ہیں جو احادیث میں آئی ہیں۔
[الاسماٰء والصفات للبیھقی۔ ص 29] )
10۔ امام عثمان بن سعید الدارمی فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالی آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔
11۔ الإمام قتيبة بن سعيد (المتوفى سنه 240هـ) فرماتے ہیں: کہ آئیمہ اسلام اور اھل السنۃ والجماعۃ کا یہ قول ہے کہ اللہ تعالی ساتویں آسمان کے اوپر اپنے عرش پر ہے جیسا کہ اس نے قرآن میں فرمایا « "الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى" » ۔
12۔ امام ابن عبد البر حافظ المغرب (المتوفى سنة 463هـ) اپنی کتاب التمهيد (6/ 124) میں حدیث نزول کی شرح میں فرماتے ہیں اور یہ حدیث بہت سے متواتر اور عادل رواۃ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، جس میں یہ دلیل ہے کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔ اور محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اس دلیل « "الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى" » کو معتزلۃ اور جھمیۃ کی بات"کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے" کے رد میں واضح کیا ہے۔
13۔ امام الحافظ أبو نعيم صاحب الحلية اپنی كتاب محجة الواثقين میں فرماتے ہیں: کہ تمام محدثین کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالی تمام آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔ اور اس کے اوپر کوئی چیز مستوی نہیں جیسا کہ جھمیۃ کا یہ کہنا کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔
14۔ راوی کہتا ہے کہ شقیق نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: ہم اپنے رب کو کیسے پہچانیں؟ (عبداللہ بن مبارک نے) کہا: اس طرح کہ وہ ساتوں آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر ہے اور وہ اپنی مخلوقات سے جداء ہے۔
[الرد علی الجھمیہ از عثمان بن سعید دارمی۔صفحہ 39،40]
« عبد الله بن المبارك كيف نعرف ربنا؟ قال: في السماء السابعة على عرشه" »
عبداللہ بن مبارک سے کسی نے پوچھا ہمارا رب کہاں ہے آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے عرش پر ہے جو سات آسمانوں کے اوپر ہے۔
[العرش للذہبی جلد 2 ص239اقوال تابعین]
15۔ امام الذهبي اپنی کتاب"العلو" کے آخر میں فرماتے ہیں اور اللہ تعالی اپنے عرش کے اوپر ہے جیسا کہ تمام صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کا اس بات پر اجماع ہے۔
16۔ « وقد رواه محمد بن جرير الطبري في تفسيره لهذه الآية عن مجاهد وغيره، وقال:"ليس في فرق المسلمين من ينكر هذا، لا من يقر أن الله فوق العرش ولا من ينكره" »
تفسیر طبری نے مجاہد رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی ایک نے بھی اس بات کا انکار نہیں کیا ہے کہ اللہ عرش پر ہے۔
17۔ « وَقَدْ كَانَ السَّلَفُ الْأَوَّلُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ لَا يَقُولُونَ بِنَفْيِ الْجِهَةِ وَلَا يَنْطِقُونَ بِذَلِكَ، بَلْ نَطَقُوا هُمْ وَالْكَافَّةُ بِإِثْبَاتِهَا لِلَّهِ تَعَالَى كَمَا نَطَقَ كِتَابُهُ وَأَخْبَرَتْ رُسُلُهُ. وَلَمْ يُنْكِرْ أَحَدٌ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِ أَنَّهُ اسْتَوَى عَلَى عَرْشِهِ حَقِيقَةً. »
امام قرطبی فرماتے ہیں: یقینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی جھت کی نفی نہیں کی ہے اورنہ اس پر کہتے تھے بلکہ وہ اس کے اثبات میں بیان کرتے تھے جیسا قرآن میں ہے اورسنت نے اس کی خبر دی ہے اور سلف اور صالحین میں سے کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہیں کیا کہ اللہ حقییقی طور پر عرش پر ہے۔
[تفسیر قرطبی سورہ اعراف آیت 54]
« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »
1۔ ابو مطیع البلخی نے امام ابو حنیفہ سے پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو شخص یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ آسمان پر ہے یا زمین پر؟
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: بلا شبہ اس نےکفر کیا
اس لیے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اس کا عرش ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے۔
ابو مطیع بلخی کہتے ہیں: میں نے کہا اچھا اگر وہ کہے کہ اللہ عرش پر ہے لیکن اسے نہیں پتا کہ عرش آسمان پر ہے یا زمین پر؟
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: وہ کافر ہے اس لیے کہ اس نے عرش کے آسمان پر ہونے کا انکار کیا
[شرح عقیدہ الطحاویہ ص:387 از- امام ابن ابی العز الحنفی۔۔۔طبع: موسسہ الرسالہ]
2۔ امام مالک نے کہا: اللہ عرش پہ ہے اور اس کا علم پوری کائنات میں ہے کوئی بھی جگہ اس کے علم سے خالی نہیں۔
[مسائل الامام احمد از ابو داؤد۔ باب فی الجھمیہ۔ صفحہ 353]
3۔ « عَن عبد الرَّحْمَن بن مهْدي عَن مَالك أَن الله تَعَالَى مستو على عَرْشه الْمجِيد كَمَا أخبر وَأَن علمه فِي كل مَكَان وَلَا يخلوا شَيْء من علمه »
امام مالک فرماتے ہیں: اللہ عرش پر مستوی ہے جیسا ہمیں (قرآن اور سنت) سے معلوم ہوا اور اس کا علم ہر جگہ موجود ہے اور اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
[جلد1 ص 108 باب استواہ جل شانہ العقيدة رواية أبي بكر الخلال
أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)]
4۔ « وَقَالَ أَبُو عُمَرَ بْنُ عَبْدِ الْبَرِّ أَيْضًا: أَجْمَعَ عُلَمَاءُ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ الَّذِينَ حُمِلَ عَنْهُمْ التَّأْوِيلَ قَالُوا فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ:" مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ" هُوَ عَلَى الْعَرْشِ وَعِلْمُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ »
ابن عبدالبر فرماتے ہیں: علماء تابعین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس آیت پر اجماع ہے (جب تم تین سرگوشی کرتے ہو تو چوتھا وہ(اللہ)ہوتا ہے) کی تاویل یہی ہے کہ اللہ عرش پر ہے اور اس کا علم ہر جگہ ہے۔
[فتاوی امام ابن تیمیہ جلد 5 ص193]
5۔ « اَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ قَالَ: هُوَ عَلَى الْعَرْشِ كَمَا وَصَفَ فِي كِتَابِهِ؛ وَعِلْمُهُ وَقُدْرَتُهُ وَسُلْطَانُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ. وَرُوِيَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ الرَّازِي أَنَّهُ لَمَّا سُئِلَ عَنْ تَفْسِيرِ قَوْلِهِ: ["الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى"] فَقَالَ: تَفْسِيرُهُ كَمَا يُقْرَأُ هُوَ عَلَى الْعَرْشِ وَعِلْمُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ (ایضا ص 50) »
امام ترمذی فرماتے ہیں: وہ (اللہ) عرش پر ہے جیسا یہ وصف اس کی کتاب میں موجود ہے اور اس کا علم قدرت اور اس کی بادشاہی ہے ہر جگہ موجود ہے اور ابو زرعہ فرماتے ہیں اس آیت کی تفسیر (رحمن عرش پر استوا ہے) کہ اللہ عرش پر ہے اور اس کا علم ہر جگہ ہے۔
6۔ یوسف بن موسیٰ القطان جو کہ ابوبکر خلال کے شیخ ہیں انہوں نے کہا کہ ابو عبداللہ (احمد بن حنبل) سے کہا گیا: اللہ ساتوں آسمانوں سے اوپر اپنی مخلوقات سے جدا اور علیحدہ اپنے عرش پر ہے اور اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے؟
انہوں (احمد بن حنبل) نے کہا: ہاں، وہ اپنے عرش پر ہے، کوئی چیز اس کے علم سے بچ نہیں سکتی (یعنی کوئی چیز اس کے علم سے خالی نہیں اور وہ سب کچھ جانتا ہے)۔
[مختصر العلو للعلی الغفار للذھبی۔ صفحہ 189]
7۔ « لإمام أحمد رحمه الله تعالى:"لا يوصف الله إلا بما وصف به نفسه أو وصفه به رسوله صلى الله عليه وسلم لا نتجاوز القرآن والسنة" وبناءاً على هذه القاعدة كان مذهب السلف في صفة الاستواء أنهم يثبتون استواء الله على عرشه استواءاً يليق بجلاله وعظمته، ويناسب كبريائه »
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ نے جو وصف اپنا خود بیان کیا ہے یا جو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا اور ہم قرآن اور سنت سے تجاوز نہیں کرتے اورصفت استوا کا قانون سلف سے منقول ہے کہ اللہ اپنے جلال عظمت اورشان کبریائی کے ساتھ عرش پر استوا ہے۔
[امام ذہبی کتاب العرش مذہب السلف فی استواء ص188]
8۔ « قال الشَّافِعِي رحمه الله: ثم معنى قوله في الكتاب: (مَن فِى السمَآءِ) مَنْ فوق السماء على العرش، كما قال: [الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى] الآية، وكل ما علا فهو سماء والعرش أعلا السماوات، فهو على العرش سبحانه وتعالى كما أخبر بلا كيف »
(جو آسمان میں) اور آسمان سے اوپر عرش ہے جیسا اللہ نے فرمایا (رحمٰن عرش پر استوا ہے) اور ہر چیز کے اوپر آسمان ہے اور عرش آسمانوں سے اوپر ہے اور وہ (اللہ) بغیر کیفیت عرش پر ہے۔
[تفسیر الشافعی سورہ طھ5]
9۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے اوزاعی کو یہ کہتے سنا: ہمارا عقیدہ اور سب تابعین کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، ہم اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات کو مانتے ہیں جو احادیث میں آئی ہیں۔
[الاسماٰء والصفات للبیھقی۔ ص 29] )
10۔ امام عثمان بن سعید الدارمی فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالی آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔
11۔ الإمام قتيبة بن سعيد (المتوفى سنه 240هـ) فرماتے ہیں: کہ آئیمہ اسلام اور اھل السنۃ والجماعۃ کا یہ قول ہے کہ اللہ تعالی ساتویں آسمان کے اوپر اپنے عرش پر ہے جیسا کہ اس نے قرآن میں فرمایا « "الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى" » ۔
12۔ امام ابن عبد البر حافظ المغرب (المتوفى سنة 463هـ) اپنی کتاب التمهيد (6/ 124) میں حدیث نزول کی شرح میں فرماتے ہیں اور یہ حدیث بہت سے متواتر اور عادل رواۃ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، جس میں یہ دلیل ہے کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔ اور محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اس دلیل « "الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى" » کو معتزلۃ اور جھمیۃ کی بات"کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے" کے رد میں واضح کیا ہے۔
13۔ امام الحافظ أبو نعيم صاحب الحلية اپنی كتاب محجة الواثقين میں فرماتے ہیں: کہ تمام محدثین کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالی تمام آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔ اور اس کے اوپر کوئی چیز مستوی نہیں جیسا کہ جھمیۃ کا یہ کہنا کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔
14۔ راوی کہتا ہے کہ شقیق نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: ہم اپنے رب کو کیسے پہچانیں؟ (عبداللہ بن مبارک نے) کہا: اس طرح کہ وہ ساتوں آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر ہے اور وہ اپنی مخلوقات سے جداء ہے۔
[الرد علی الجھمیہ از عثمان بن سعید دارمی۔صفحہ 39،40]
« عبد الله بن المبارك كيف نعرف ربنا؟ قال: في السماء السابعة على عرشه" »
عبداللہ بن مبارک سے کسی نے پوچھا ہمارا رب کہاں ہے آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے عرش پر ہے جو سات آسمانوں کے اوپر ہے۔
[العرش للذہبی جلد 2 ص239اقوال تابعین]
15۔ امام الذهبي اپنی کتاب"العلو" کے آخر میں فرماتے ہیں اور اللہ تعالی اپنے عرش کے اوپر ہے جیسا کہ تمام صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کا اس بات پر اجماع ہے۔
16۔ « وقد رواه محمد بن جرير الطبري في تفسيره لهذه الآية عن مجاهد وغيره، وقال:"ليس في فرق المسلمين من ينكر هذا، لا من يقر أن الله فوق العرش ولا من ينكره" »
تفسیر طبری نے مجاہد رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی ایک نے بھی اس بات کا انکار نہیں کیا ہے کہ اللہ عرش پر ہے۔
17۔ « وَقَدْ كَانَ السَّلَفُ الْأَوَّلُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ لَا يَقُولُونَ بِنَفْيِ الْجِهَةِ وَلَا يَنْطِقُونَ بِذَلِكَ، بَلْ نَطَقُوا هُمْ وَالْكَافَّةُ بِإِثْبَاتِهَا لِلَّهِ تَعَالَى كَمَا نَطَقَ كِتَابُهُ وَأَخْبَرَتْ رُسُلُهُ. وَلَمْ يُنْكِرْ أَحَدٌ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِ أَنَّهُ اسْتَوَى عَلَى عَرْشِهِ حَقِيقَةً. »
امام قرطبی فرماتے ہیں: یقینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی جھت کی نفی نہیں کی ہے اورنہ اس پر کہتے تھے بلکہ وہ اس کے اثبات میں بیان کرتے تھے جیسا قرآن میں ہے اورسنت نے اس کی خبر دی ہے اور سلف اور صالحین میں سے کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہیں کیا کہ اللہ حقییقی طور پر عرش پر ہے۔
[تفسیر قرطبی سورہ اعراف آیت 54]