فہم دین پروگرام
عقیدہ وحدت الوجود
عقیدہ وحدت الوجود

« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »

وحدت الوجود ایک صوفیانہ عقیدہ ہے جس کی رو سے جو کچھ اس دنیا میں نظر آتا ہے وہ خالق حقیقی کی ہی مختلف شکلیں ہیں اور خالق حقیقی کے وجود کا ایک حصہ ہے۔ اس عقیدے کا اسلام کی اساس سے کوئی تعلق نہیں، قران و حدیث میں اس کا کوئی حوالہ نہیں ملتا اور اکثر مسلمان علماء اس عقیدے کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ چونکہ اس عقیدے کی ابتدا مسلم صوفیا کے یہاں سے ہوئی اس لیے اسے اسلام سے متعلق سمجھا جاتا ہے۔

مولانا اقبال کیلانی لکھتے ہیں:بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسان عبادت و ریاضت کے ذریعے اس مقام پر پہنچ جاتاہے کہ اسے کائنات کی ہر چیز میں اللہ نظر آنے لگتا ہے یا وہ ہر چیز کو اللہ کی ذات کا جز سمجھنے لگتا ہےاس عقیدے کو وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ عبادت اور ریاضت میں ترقی کرنے کے بعد انسان اللہ کی ہستی میں مدغم ہو جاتی ہے، اور وہ دونوں (خدا اور انسان) ایک ہو جاتے ہیں، اس عقیدے کو وحدت الشھود یا فنا فی اللہ کہا جاتا ہے، عبادت اور ریاضت میں مزید ترقی سے انسان کا آئینہ دل اس قدر لطیف اور صاف ہو جاتا ہے کہ اللہ کی ذات خود اس انسان میں داخل ہو جاتی ہے جسے حلول کہا جاتا ہے۔ ان تینوں اصطلاحات کے الفاظ میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہے لیکن نتیجہ کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی ذات کا جزء اور حصہ ہے یہ عقیدہ ہر زمانے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا، ہندومت کے عقیدہ اوتار بدھ مت کے عقیدہ نرواں اور جین مت کے ہاں بت پرستی کی بنیاد یہی فلسفہ وحدت الوجود اور حلول ہے۔ (یہودیوں نے اسی فلسفہ حلول کے تحت عزیر علیہ الصلاۃ والسلام کو اور عیسائیوں نے عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کو اللہ کا بیٹا (جزء) قرار دیا۔

﴿وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ [30]
اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کا اپنے مونہوں کا کہنا ہے، وہ ان لوگوں کی بات کی مشابہت کر رہے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ انھیں مارے، کدھر بہکائے جا رہے ہیں [30]
[سورۃ التوبۃ 9، آیت نمبر 30]

اہل تصوف کے عقائد کی بنیاد بھی یہی فلسفہ وحدت الوجود اور حلول ہے [1]

مولانا عبد الرحمن کیلانی لکھتے ہیں: انسان چلہ کشی اور ریاضتوں کے ذریعہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اسے کائنات کی ہر چیز میں خدا نظر آنے لگتا ہے، بلکہ وہ ہر چیز کو خدا کی ذات کا حصہ سمجھنے لگتا ہے، اس قدر مشترک کے لحاظ سے ایک بدکار انسان اور ایک بزرگ، ایک درخت اور ایک بچھو، لہلہاتے باغ اور ایک غلاظت کا ڈھیر سب برابر ہوتے ہیں،کیونکہ ان سب میں خدا موجود ہے۔ [2]

شیخ عبد الرحمن عبد الخالق لکھتے ہیں کہ:- اللہ کے بارے میں اہل تصوف کے مختلف عقیدے ہیں۔ ایک عقیدہ حلول کا ہے، یعنی اللہ اپنی کسی مخلوق میں اترآتا ہے، یہ حلاج صوفی کا عقیدہ تھا۔ ایک عقیدہ وحدت الوجود کا ہے یعنی خالق مخلوق جدا نہیں، یہ عقیدہ تیسری صدی سے لے کر موجودہ زمانہ تک رائج رہا، اور آخر میں اسی پر تمام اہل تصوف کا اتفاق ہوگیا ہے۔ اس عقیدے کے چوٹی کے حضرات میں ابن عربی، ابن سبعین، تلمسانی، عبد الکریم جیلی، عبد الغنی نابلسی ہیں۔ اور جدید طرق تصوف کے افراد بھی اسی پر کار بند ہیں۔ [3]

اہل سنت و الجماعت کا نقطۂ نگاہ

وحدت الوجود اور اللہ تعالٰی کا کسی مخلوق میں حلول کرنا یا مخلوق اور خالق کے یکجان ہونے کا عقیدہ رکھنا دین سے خارج کر دینے والا کفر ہے، [4]

امام ابن تیمیہ کا نظریہ

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ وحدت الوجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور ان کا استدلال یہ تھا کہ یہ نت نئی چیزیں ہیں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے دور میں نہ تھیں۔ لہٰذا پیروان ابن عربی کے متعلق ایک جگہ پر فرمایا: ان لوگوں کے عقائد اس بنیاد پر قائم ہیں کہ تمام مخلوقات عالم، جن میں شیطان، کافر، فاسق، کتا، سور وغیرہ خدا کا عین ہیں۔ یہ سب چیزیں مخلوق ہونے کے باوجود ذات خداوندی سے متحد ہیں اور یہ کثرت جو نظر آ رہی ہے فریب نظر ہے۔
[رسالہ حقیقۃ مذہب الاتحادین، ص 160]

اسی رسالے میں انہوں نے ابن عربی کا ایک شعر نقل کیا ہے

« الرب حق و العبد حق
یا لیتَ شعری مَن المکلف
»


جس کا ترجمہ ہے کہ رب بھی خدا ہے اور انسان بھی خدا ہے۔ کاش! مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ان میں سے مکلف (یعنی دوسرے کو احکام کی پابندی کا حکم دینے والا) کون ہے۔ اسی جیسے عقائد کی بنا پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، ابن عربی کو کافر قرار دیتے ہیں۔

فنا کے تین درجات

بعض صوفیا کے ہاں اتحاد یا وحدت الوجود سے مراد اللہ کی ذات میں فنا ہو جانا ہے۔ امام کے ہاں فنا کے تین درجات ہیں۔

اول۔ مناہی کو ترک کر کے اوامر کی تعمیل میں ڈوب جانا
دوم۔ عبادت کرتے کرتے اللہ کی ذات میں فنا ہو جانا
سوم۔ اپنے آپ کو عین خدا سمجھنا

امام کے ہاں پہلی صورت محمود ہے اور باقی دونوں مذموم۔ کیونکہ ان کی تائید نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول سے ہوتی ہے اور نہ فعل سے۔

بریلوی نقطۂ نگاہ

مولوی محمد یار دربار محمدیہ گڑھی شریف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا قرار دیتے ہوے لکھتے ہیں:۔

گر محمد نے محمد کو خدا مان لیا
پھر تو سمجھو کہ مسلمان ہے دغاباز نہیں


بریلوی علامہ سید احمد سعید کاظمی اس شعر کی تشریح کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ قبلہ حضرت یار صاحب کا یہ شعر اور اس جیسی دوسری عبارات (جو مسلم بین الفریقین علماء کی کتب میں بکثرت پائی جاتی ہیں) مسئلہ وحدۃ الوجود پر مبنی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تعینات سے قطع نظر کر کے موجود حقیقی یعنی مابہ الموجودیت حق سبحانہ وتعالی کے سوا کچھ نہیں۔ مولانا یار صاحب کے شعر کا مضمون شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کے کلام میں ہے:۔

تم محمد عظیم الشان صلی اللہ علیہ وسلم کو محمد گمان کرتے ہو جیسے تم سراب کو دور سے دیکھ کر پانی سمجھتے ہو، وہ ظاہری نظر میں پانی ہی ہے مگر حقیقتًا آب نہیں ہے، بلکہ سراب ہے، جب تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آؤ گے تو تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پاؤ گے بلکہ صورت محمدیہ میں اللہ تعالٰی کو پاؤ گے، اور رویت محمدیہ میں اللہ تعالٰی کو دیکھو گے۔ [5]

دیوبندی نقطۂ نگاہ

دیوبندی علامہ انور شاہ کاشمیری اپنی کتاب فیض الباری میں لکھتے ہیں:۔

(کنت سمعہ الذی) کے یہ معنی بیان کرنا کہ بندہ کے کان، آنکھ وغیرہ اعضاء حکم الہی کی نافرمانی نہیں کرتے حق الفاظ سے عدول کرنا ہے، اس لیے کہ اللہ تعالٰی کے قول(کنت سمعہ الذی) میں کنت صیغۂ متکلم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ متقرب با النوافل یعنی بندہ میں سوائے جسد و صورت کے کوئی چیز باقی ہی نہیں رہی، اور اس میں صرف اللہ تعالٰی ہی متصرف ہے اور یہی وہ معنی ہیں جن کو صوفیائے کرام فنا فی اللہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ حدیث مذکور(کنت سمعہ) میں وحدۃ الوجود کی طرف چمکتا ہوا اشارہ ہے اور ہمارے شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی کے زمانے تک اس مسئلہ وحدۃ الوجود میں بڑے متشدد اور حریص تھے۔ میں اس کا قائل تو ہوں لیکن متشدد نہیں ہوں [6]

نا قابل فہم فلسفہ

قدیم و جدید صوفیاء کرام نے فلسفہ وحدت الوجود اور حلول کو درست ثابت کرنے کے لیے بڑی لمبی بحثیں کی ہیں، آج کے سائنسی دور میں عقل اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں، جس طرح عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث ایک میں سے تین اور تین میں سے ایک عام آدمی کے لیے نافہم ہے اسی طرح صوفیاء کا یہ فلسفہ کہ انسان اللہ میں یا اللہ انسان میں حلول کیے ہوے ہے، ناقابل فہم ہے اگر یہ فلسفہ درست ہے تو اس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ انسان ہی درحقیقت اللہ ہے اور اللہ ہی درحقیقت انسان ہے، اگر امر واقعہ یہ ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عابد کون ہے اور معبود کون؟ ساجد کون ہے اور مسجود کون؟ مرنے والا کون اور مارنے والا کون؟ زندہ ہونے والا کون اور زندہ کرنے والا کون؟ روز جزا حساب لینے والا کون ہے اور دینے والا کون؟ اور پھر جزاء یا سزا کے طور پر جنت یا جہنم میں جانے والے کون ہیں اور بھیجنے والا کون؟ اس فلسفہ کو تسلیم کر لینے کے بعد انسان کی تخلیق اور آخرت یہ ساری چیزیں کیا ایک معمہ اور چیستاں نہیں بن جاتیں؟ اگر اللہ تعالٰی کے ہاں یہ عقیدہ قابل ہے تو پھر یہودیوں اور عیسائیوں کا عقیدہ ابن اللہ کیوں قابل قبول نہیں؟ مشرکین کا یہ عقیدہ کہ انسان اللہ کا جزء ہے کیوں قابل قبول نہیں؟ وحدت الوجود کے قائل بت پرستوں کی بت پرستی کیوں قابل قبول نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو اللہ کی ذات کا جزء سمجھنا (یا اللہ کی ذات میں مدغم سمجھنا) یا اللہ تعالٰی کو کسی انسان میں مدغم سمجھنا ایسا کھلا شرک ہے جس پر اللہ تعالٰی کا شدید غضب بھڑک سکتا ہے۔ [7]

ڈاکٹر ابو عدنان سہیل لکھتے ہیں:۔ عقیدۂ وحدت الوجود کوئی نیا عقیدہ نہیں ہے بلکہ عقیدۂ تثلیث ہی کی بدلی ہوی شکل ہے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ اللہ، روح القدس اور عیسی علیہ السلام ایک ہیں، اور گمراہ مسلمان کہتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ ہے۔ کم علم زاہدوں اور عبادت گزاروں نے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر عابد اور معبود، خالق اور مخلوق اور حق اور باطل کے مطلب ہی کو سرے سے بدل دیا، ان کے نزدیک جو کچھ دکھائی دیتا ہے، وہ اللہ تعالٰی ہی کے مختلف مظاہر ہیں اور دنیا میں پائے جانے والے تمام ادیان و مذاہب رب تک پہنچنے کے مختلف برحق راستے ہیں۔ ایسے ہی ایک کم علم زاہد کا قول ہے: چونکہ ہر شئے میں اسی کا جلوہ ہے، ساری کائنات اسی کی جلوہ گاہ ہے، ہر شئی سے وہی ظاہر ہو رہا ہے، اس لیے ہر انسان مظہرِ ذات الہی ہے اور اس کی صفات انسان میں جلوہ گر ہیں۔ اگر ہندو میں اس کا جلوہ ہے تو مسلمان میں بھی وہی اللہ جلوہ گر ہے، اس لیے صوفی، جملہ انسانی افراد کو مظاہر ذات سمجھ کر سب سے یکساں محبت کرتا ہے، اسی لیے مسجد کے علاوہ گرجے، صومعے اور مندر کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ [8]

حوالہ جات

[ 1۔ مولانا اقبال کیلانی، کتاب التوحید، حدیث پبلیکیشنز،2شیش محل روڈ لاہور، ص: 70-71
2۔ مولانا عبد الرحمن کیلانی،"2۔دین طریقت کے نظریات وعقائد"، شریعت وطریقت، 1، مکتبۃ السلام۔سٹریٹ20 وسن پورہ لاہور، ص: 63-64
3۔ شیخ عبد الرحمن عبد الخالق کویت، مترجم:مولانا صفی الرحمن مبارکپوری، اہل تصوف کی کارستانیاں، مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ پاکستان، ص: 27
4۔ ناصر بن عبد الکریم العقل، اصول اہلسنت والجماعت، ص: 3
5۔ فتوحات مکیہ جلد ثانی ص:127
6۔ فیض الباری جلد رابع ص:428
7۔ کتاب التوحید از مولانا اقبال کیلانی
8۔ ڈاکٹر ابوعدنان سہیل، اسلام میں بدعت وضلالت کے محرکات]
وحدت الوجود کیا ہے؟ اور اس کا شرعی حکم

« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »

اردو لغت کی ایک مشہور کتاب میں وحدت الوجود کا مطلب ان الفاظ میں لکھا ہوا ہے:

"تمام موجودات کو اللہ تعالیٰ کا وجود خیال کرنا۔ اور وجود ماسویٰ کو محض اعتباری سمجھنا جیسے قطرہ، حباب، موج اور قعر وغیرہ سب کو پانی معلوم کرنا"
[حسن اللغات فارسی اردو ص941]

وارث سرہندی کہتے ہیں:"صوفیوں کی اصطلاح میں تمام موجودات کو خدا تعالیٰ کا وجود ماننا اور ماسوا کے وجود کو محض اعتباری سمجھنا۔"
[علمی اردو لغت ص1551]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

« "وَأَمَّا" الِاتِّحَادُ الْمُطْلَقُ" الَّذِي هُوَ قَوْلُ أَهْلِ وَحْدَةِ الْوُجُودِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّ وُجُودَ الْمَخْلُوقِ: هُوَ عَيْنُ وُجُودِ الْخَالِقِ" »
اور اتحاد مطلق اسے کہتے ہیں جو وحدت الوجود والوں کا قول ہے: جو سمجھتے ہیں کہ مخلوق کا وجود عین خالق کا وجود ہے۔
[مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ج10 ص59]

حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

« "قال وصاحب هذا الكتاب الذي هو فصوص الحكم وامثاله مثل صاحبه الغرنوي والتلمساني وابن سبعين والسنكري واتباعهم مذهبهم الذي هم عليه ان الوجود واحد ويسمون اهل وحدة الوجود، ويدّعون التحقيق والعرفان فهم يجعلون وجود الخالق عين وجود المخلوقات" »
کتاب مذکور جو فصوص الحکم ہے، کا مصنف اور اس جیسے دوسرے مثلاً قونوی، تلمسانی، ابن سبعین، ششتری، ابن فارض اور ان کے پیروکار، ان کا مذہب یہ ہے کہ وجود ایک ہے۔ انھیں وحدت الوجود والے کہاجاتا ہے اور وہ تحقیق و عرفان کا دعویٰ رکھتے ہیں اور یہ لوگ خالق کے وجود کو مخلوقات کے وجود کا عین قرار دیتے ہیں۔
[مجموع فتاویٰ ج2 ص123،124]

حافظ ابن حجر العسقلانی نے فرمایا:

« "الْمُرَاد بِتَوْحِيدِ اللَّه تَعَالَى الشَّهَادَة بِأَنَّهُ إِلَه وَاحِد وَهَذَا الَّذِي يُسَمِّيه بَعْض غُلَاة الصُّوفِيَّة تَوْحِيد الْعَامَّة , وَقَدْ اِدَّعَى طَائِفَتَانِ فِي تَفْسِير التَّوْحِيد أَمْرَيْنِ اِخْتَرَعُوهُمَا , أَحَدهمَا: تَفْسِير الْمُعْتَزِلَة كَمَا تَقَدَّمَ , ثَانِيهمَا: غُلَاة الصُّوفِيَّة فَإِنَّ أَكَابِرهمْ لَمَّا تَكَلَّمُوا فِي مَسْأَلَة الْمَحْو وَالْفَنَاء وَكَانَ مُرَادهمْ بِذَلِكَ الْمُبَالَغَة فِي الرِّضَا وَالتَّسْلِيم وَتَفْوِيض الْأَمْر , بَالَغَ بَعْضهمْ حَتَّى ضَاهَى الْمُرْجِئَة فِي نَفْي نِسْبَة الْفِعْل إِلَى الْعَبْد , وَجَرَّ ذَلِكَ بَعْضهمْ إِلَى مَعْذِرَة الْعُصَاة , ثُمَّ غَلَا بَعْضهمْ فَعَذَرَ الْكُفَّار , ثُمَّ غَلَا بَعْضهمْ فَزَعَمَ أَنَّ الْمُرَاد بِالتَّوْحِيدِ اِعْتِقَادوَحْدَة الْوُجُود" »
"اللہ تعالیٰ کی توحید سے مراد اس بات کی گواہی دینا ہے کہ وہی ایک الٰہ ہے اور اسے بعض غالی صوفی: عوام کی توحید کہتے ہیں۔ دو گروہوں نے توحید کی تشریح میں دو باتیں گھڑی ہیں: ایک معتزلہ کی تفسیر جیسا کہ گزر چکا ہے۔ دوسرے غالی صافی جن کے اکابر نے جب محووفناء کے مسئلے میں کلام کیا اور ان کی اس سے مراد تسلیم و رضا اور معاملات کو اللہ کے سپرد کرنے میں مبالغہ تھا، ان میں سے بعض نے مبالغہ کر کے بندے سے نسبتِ فعل کی نفی کر کے مرجئہ سے برابری کی اور اس بات نے بعض کو گناہ گاروں کے معذور ہونے پر آمادہ کر لیا، پھر بعض نے غلو کر کے کفار کو بھی معذور قرار دیا پھر بعض نے غلو کر کے یہ دعویٰ کیا کہ توحید سے مراد وحدت الوجود کا عقیدہ ہے۔
[فتح الباری ج13 ص 348 کتاب التوحید باب:1]

معلوم ہوا کہ ابن حجر کے نزدیک وحدۃ الوجود کا عقیدہ رکھنے والے بے حد غالی صوفی ہیں۔

ایک پیر نے اپنے مرید سے کہا:

« "اعتقد ان جميع الاشياء باعتبار باطنها متحد مع الله تعاليٰ وباعتبار ظاهرها مغاير له وسواه" »
"یہ عقیدہ رکھو کہ تمام چیزیں باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ متحد ہیں اور ظاہری لحاظ سے اس کے علاوہ اور اس کا مغائر(غیر) ہیں۔

اس کے بارے میں ملاعلی قاری حنفی نے کہا:

« "هذا كلام ظاهر الفساد مائل إلى وحدة الوجود أو الإتحاد كما هو مذهب أهل الإلحاد" »
اس کلام کا فاسد ہونا ظاہر ہے، یہ وحدت الوجود یا اتحاد کی طرف مائل ہے، جیسا کہ ملحدین کا مذہب ہے۔
[الرد علی القائلین بوحدۃ الوجود لملاعلی قاری ص13،مطبوعہ دارالمامون المتراث دمشق،الشام]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے وحدت الوجود کے رد پر ایک رسالہ بنام:

« "إبطال وحدة الوجود والرد على القائلين بها" ‎ »
لکھا ہے جو تقریباً ایک سو اٹھائیس(128) صفحات پر مشتمل ہے، جسے کویت کے ایک مکتبے نے فہرست اور تحقیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔

ابن عربی (الحلولی) کی طرف منسوب کتاب فصوص الحکم میں لکھا ہوا ہے:

« "فانت عبد وانت رب
لمن له فيه انت عبد" ‎
»

"بس تو بندہ ہے اور تو رب ہے۔ کس کا بندہ! اس کا بندہ جس میں تو فنا ہو گیا ہے"
[فصوص الحکم اردو ص 157،فص حکمت علیۃ فی کلمۃ اسماعیلیۃ،مترجم عبدالقدیر صدیقی،دوسرا نسخہ ص 77 مع شرح الجامی ص 202تنبیہ الغبی الی التکفیر ابن عربی للامام العلامۃ المحدث برہان الدین البقاعی رحمۃ اللہ علیہ ص71]

کتب لغت اور علماء کے ان چند حوالوں سے معلوم ہوا کہ ابن عربی(اور حسین بن منصور الحلاج) کے مقلدین کے عقیدے وحدت الوجود سے خالق اور مخلوق کا ایک ہونا، حلولیت اور اتحاد ظاہر ہے یعنی ان لوگوں کے نزدیک بندہ خدا اور خدا بندہ ہے۔ اب آپ کے سامنے وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والوں کی دس عبارتیں پیش خدمت ہیں جن سے درج بالا نتیجے کی تصدیق ہوتی ہے:

تھانہ بھون کے حاجی امداد اللہ ولد حافظ محمد امین ولد شیخ بڈھا تھانوی عرف مہاجر مکی نے لکھا ہے:"اور اس کے بعد اس کو ہو، ہو کے ذکر میں اسقدر منہمک ہو جانا چاہیے کہ خود مذکور یعنی (اللہ) ہو جائے اور فنا در فنا کے یہی معنی ہیں اس حالت کے حاصل ہو جانے پر وہ سراپا نور ہو جائے گا۔"
[کلیات امدادیہ ص18،ضیاء القلوب]

تنبیہ:۔
بریکٹ میں اللہ کا لفظ اسی طرح کلیات امدادیہ میں لکھا ہوا ہے۔

حاجی امداد اللہ صاحب ایک آیت:

﴿وَ فِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلا تُبْصِرُونَ [21]
اور خود تمہاری اپنے وجود میں ہیں (نشانیاں) کیا تم کو سوجھتا نہیں [21]
[سورۃ الزاریات 51، آیت نمبر: 21]

کا غلط ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"خدا تم میں ہے کیا تم نہیں دیکھتے ہو"
[کلیات امدادیہ ص31،ضیاء القلوب]

تنبیہ:۔
آیت مذکورہ کا ترجمہ کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ الدہلوی لکھتے ہیں:

« "ودرذات شمانشا نہاست۔۔۔۔۔آیا نمی نگرید" ‎ »
یعنی اور تمہاری ذات میں نشانیاں ہیں کیا تم نہیں دیکھتے؟
[ترجمہ شاہ ولی اللہ ص627]

شاہ ولی اللہ کے ترجمے کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس آیت سے پہلی آیت میں آیات یعنی نشانیوں کا لفظ آیا ہے۔

حاجی امداد اللہ تھانہ بھونوی صاحب مزید لکھتے ہیں:

"اس مرتبہ میں خدا کا خلیفہ ہو کر لوگوں کو اس تک پہنچاتا ہے اور ظاہر میں بندہ اور باطن میں خدا ہو جاتا ہے اس مقام کو برزخ البرازخ کہتے ہیں اور اس میں وجوب و امکان مساوی ہیں کسی کو کسی پر غلبہ نہیں"
[کلیات امدادیہ ص35،36 ضیاء القلوب]

عاشق الٰہی میرٹھی دیوبندی لکھتے ہیں:"ایک روز حضرت مولانا خلیل احمد صاحب زید مجدہ نے دریافت کیا کہ حضرت یہ حافظ لطافت علی عرف حافظ مینڈھو شیخ پوری کیسے شخص تھے۔

حضرت نے فرمایا:"پکا کافر تھا" اور اس کے بعد مسکرا کر ارشاد فرمایا کہ:"ضامن علی جلال آبادی تو توحید ہی میں غرق تھے۔"
[تذکرۃ الرشید جلد2 ص242]

عبارت مذکورہ میں حضرت سے مراد رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد سے مراد بزل المجہود، براہین قاطعہ اور المہند کے مصنف خلیل احمد انبیٹھوی سہارنپوری ہیں۔

ضامن علی جلال آبادی کون تھے اور کس توحید میں غرق تھے؟ اس کے بارے میں گنگوہی"صاحب ارشاد فرماتے ہیں:"ضامن علی جلال آبادی کی سہارنپور میں بہت رنڈیاں مرید تھیں ایک بار یہ سہارنپور میں کسی رنڈی کے مکان پر ٹھرے ہوئے تھے سب مریدنیاں اپنے میاں صاحب کی زیارت کے لیے حاضر ہوئیں مگر ایک رنڈی نہیں آئی میاں صاحب بولے کہ فلانی کیوں نہیں آئی رنڈیوں نے جواب دیا"میاں صاحب ہم نے اُس سے بہتیرا کہا کہ چل میاں صاحب کی زیارت کو اُس نے کہا میں بہت گناہگار ہوں اور بہت روسیاہ ہوں میاں صاحب کو کیا منہ دکھاؤں، میں زیارت کے قابل نہیں۔ میاں صاحب نے کہا نہیں جی تم اُسے ہمارے پاس ضرور لانا چنانچہ رنڈیاں اُسے لیکر آئیں جب وہ سامنے آئی تو میاں صاحب نے پوچھا: بی تم کیوں نہیں آئی تھیں؟ اُس نے کہا حضرت روسیاہی کی وجہ سے زیارت کو آتی ہوئی شرماتی ہوں۔میاں صاحب بولے: بی تم شرماتی کیوں ہو کرنے والاکون اور کرانے والا کون؟ وہ تو وہی ہے۔ رنڈی یہ سن کر آگ ہو گئی اور خفا ہو کر کہا « لاحول ولا قوۃ ‎ » اگرچہ میں روسیاہ و گناہگار ہوں مگر ایسے پیر کے مُنہ پر پیشاب بھی نہیں کرتی۔ میاں صاحب تو شرمندہ ہو کر سرنگوں رہ گئے اور وہ اُٹھ کر چلدی۔
[تذکرۃ الرشید ج2 ص242]

اس طویل عبارت اور قصے سے معلوم ہوا کہ گنگوہی صاحب کے نزدیک توحید میں غرق پیر کا یہ عقیدہ تھا کہ زنا کرنے والا اور کرانے والا وہی یعنی خدا ہے۔ « معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ (نعوذ باللہ) ‎ »

اللہ کی قسم! وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والے وجودیوں کی ایسی عبارات نقل کرنے سے دل ڈرتا اور قلم کانپتا ہے لیکن صرف احقاق حق اور ابطال باطل کے پیش نظر یہ حوالے پیش کیے جاتے ہیں اور صرف عام مسلمانوں کو ان کااصلی چہرہ اور باطنی عقیدہ دکھانا مقصود ہے۔

ضامن علی جلال آبادی کو توحید میں غرق سمجھنے والے رشید احمد گنگوہی نے اپنے پیر حاجی امداد اللہ کو ایک خط لکھا تھا جس کے آخر میں وہ لکھتے ہیں:

"یا اللہ معاف فرمانا کہ حضرت کے ارشاد سے تحریر ہوا ہے۔ جھوٹا ہوں، کچھ نہیں ہوں۔ تیرا ہی ظل ہے۔ تیرا ہی وجود ہے میں کیا ہوں، کچھ نہیں ہوں۔ اور وہ جو میں ہوں وہ تو ہے اور میں اور تو خود شرک در شرک ہے۔ « استغفراللہ ‎ »
[فضائل صدقات از زکریا کاندھلوی دیوبندی حصہ دوم ص556 واللفظ لہ مکاتیب رشیدیہ ص10] میں(گنگوہی) اور تُو (خدا) کا ایک ہونا وہ عقیدہ ہے جو وحدت الوجود کے پیروکار اور ابن عربی وغیرہ کے مقلدین کئی سو سالوں سے مسلسل پیش کر رہے ہیں۔

خواجہ غلام فرید، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا رد کرنے، عقیدہ استوی علی العرش کو غلط اور عقیدہ وحدت الوجود کو حق قرار دینے کے بعد کہتے ہیں:

"وحدت الوجود کو حق تسلیم کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خدا کے سوا کسی اور کا کوئی وجود ہی نہیں بلکہ سب خدا کا وجود ہے تو پھر بت پرستی کیوں ممنوع ہے؟ اس کا جواب یہ ہے: بت خدا نہیں بلکہ خدا سے جدا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر زید کاہاتھ زید نہیں ہے لیکن زید سے جدا نہیں ہے۔
[مقابیس المجالس عرف اشاراتِ فریدی ص218]

خواجہ محمد یار فریدی کہتے ہیں:

"گرمحمد نے محمد کو خدا مان لیا۔پھر تو سمجھو کہ مسلمان ہے دغا باز نہیں"
[دیوان محمدی ص 156]

یہ وحدت الوجود ہی کا عقیدہ ہے جس کی وجہ سے محمد یار صاحب نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا مان لیا ہے۔

﴿سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا [43]
پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں [43]
[سورۃ الإسراء 17، آیت نمبر: 43]

محمد قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی اور اشرف علی تھانوی کے پیر حاجی امداد اللہ کہتے ہیں:

"حرمین مین بعض امور عجیب و پسندیدہ ہیں (1) وحدۃ الوجود لوگوں میں بہت مرُتکز ہے میں مدینہ میں مسجد قبا کی زیارت کو گیا ایک آدمی کو دیکھا کہ اندر مسجد کے جاروب کشی میں مشغول ہے جب زیارت سے فارغ ہو کر میں باہر آیا اور جوتے پہننے کا قصد کیا تو سنا کہ کہتا ہے۔ یا اللہ یا موجود اور دوسرا جو بیرون مسجد تھا کہتا تھا بل فی کل الوجود اس کو سن کر مجھ پر ایک حالت طاری ہوئی، بعدہ لڑکوں کو شغدف میں دیکھا کہ کھیل رہے ہیں اور ایک لڑکا کہہ رہا ہے اس سے میں نہایت بے تاب ہوا اور کہا کہ کیوں ذبح کرتے ہو۔
[شمائم امدادیہ ص71،72،امداد المشتاق ص95 فقرہ:191]

ہر وجود میں اللہ کوموجود سمجھنا وحدت الوجود کا بنیادی عقیدہ ہے۔

حاجی امداد اللہ تھانہ بھونوی کہتے ہیں:

"ایک موحد سے لوگوں نے کہا کہ اگرحلوا و غلیظ ایک ہیں تو دونوں کو کھاؤ انہوں نے بشکل خنزیر ہو کر گوہ کو کھا لیا۔ پھر بصورت آدمی ہو کر حلوا کھایا اس کو حفظ مراتب کہتے ہیں جو واجب ہے۔
[شمائم امدادیہ ص75،امداد المشتاق ص101،فقرہ:224،واللفظ لہ]

شمائم کے مطبوعہ نسخے میں غلیظ کے بجائے غلیط لکھا ہوا ہے جس کی اصلاح امداد المشتاق سے کر دی گئی ہے۔ گُوہ پاخانے کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ وجودیوں کے نزدیک پاک و ناپاک سب ایک ہے۔

10۔ ایک سوال کو نقل کرتے ہوئے حاجی امداد اللہ صاحب لکھتے ہیں:"سوال دوم اور دوسری جگہ ضیاء القلوب ہی میں ہے تا وقت یہ کہ ظاہر و مظہر میں فرق پیش نظر سالک ہے بوُئے شرک باقی ہے، اس مضمون سے معلوم ہوا کہ عابد و معبود میں فرق کرنا شرک ہے۔

جواب دوم کوئی شک نہیں ہے کہ فقیر نے یہ سب ضیاء القلوب میں لکھا ہے اگر کہیں کہ جو کچھ کہا نہیں جاتا ہے کیوں لکھا گیا جواب یہ ہے کہ اکابر دین اپنے مشکوفات کو تمثیلات محسوسات سے تعبیر کرتے ہیں تاکہ طالب صادق کو سمجھا دیں نہ یہ کہ كانه‘هُوَ کہہ دیتے ہیں
[شمائم امدادیہ ص34،35]

خلاصہ یہ کہ عابد و معبود کو ایک سمجھنا، اللہ تعالیٰ کو عرش پر مستوی نہ ماننا بلکہ اپنی ذات کے ساتھ ہر جگہ ہر وجود میں موجود ماننا اور حلولیت کا عقیدہ رکھنا مختصر الفاظ میں وحدت الوجود کہلاتا ہے۔

یہی وہ عقیدہ ہے جسے حسین بن منصور الحلاج مقتول اور ابن عربی صُوفی نے علانیہ پیش کیا۔

محدثین کرام علمائے عظام کے ان صریح فتووں کے ساتھ عرض ہے کہ اپنے اسلاف سے بے خبر بعض دیوبندی"علماء" نے بھی وحدت الوجود کا زبردست رد کیا ہے مثلاً:

حکیم میاں عبد القادر فاضل دیوبند لکھتے ہیں:"وحدۃ الوجود خود کو خدائی مسند پر جلوہ افروز ہونے والوں کا باطل عقیدہ و عمل ہے"
[تنزیہ الٰہ ص 185، مطبوعہ بیت الحکمت لوہاری منڈی لاہور، ملنے کا پتہ:کتب خانہ شان اسلام راحت مارکیٹ اردو بازار لاہور]

خان محمد شیرانی پنجیری دیوبندی (ژوب بلوچستان) نے وحدت الوجود کے رد میں « "کشف الجہود عقیدۃ وحدۃ الوجود"‎ » نامی کتاب لکھی ہے جس کے ٹائٹل پر لکھا ہوا ہے کہ"اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کا وحدۃ الوجود اور حلولی کا عقیدہ ہوتا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔"

آخر میں وحدت الوجود کے بڑے داعی اور مشہور حلولی صوفی ابن عربی کا مختصر و جامع رد پیش خدمت ہے:

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد امام (شیخ الاسلام) سراج الدین البلقینی سے ابن عربی کے بارے میں پوچھا تو ا نھوں نے فوراً جواب دیا کہ وہ کافر ہے۔
[لسان المیزان ج4 ص319،دوسرا نسخہ 5 ص213،تنبیہ الغی الی تکفیر ابن عربی للمحدث البقاعی رحمۃ اللہ علیہ ص 159]

ابن عربی کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کا ایک گمراہ شخص سے مباہلہ بھی ہوا تھا جس کا تذکرہ آگے آ رہا ہے۔ « ان شاءاللہ ‎ »

حافظ ابن دقیق العید نے ابو محمد عز الدین عبدالعزیز بن عبدالسلام السلمی الدمشقی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 660ھ) سے ابن عربی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:

« "شيخ سوء كذاب مقبوح يقول بقدم العالم ولا يرى تحريم الفرج" ‎ »

گندا، کذاب (اور) حق سے دُور (تھا) وہ عالم کے قدیم ہونے کا قائل تھا اور کسی شرمگاہ کو حرام نہیں سمجھتا تھا۔ الخ
[الوافی بالوفیات ج4ص 125،وسندہ صحیح تنبیہ الغی ص138]

ابن عبدالسلام کا یہ قول درج ذیل کتابوں میں بھی دوسری سندوں کے ساتھ مذکور ہے:

[ (تنبیہ الغی ص 139،وسندہ حسن) مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ(ج 2 ص244 وسندہ حسن)میزان الاعتدال(3/659)لسان المیزان(5/311،312،دوسرا نسخہ 6/398) ]

تنبیہ: الوافی بالوفیات میں کاتب کی غلطی سے"ابی بکر بن العربی" چھپ گیا ہے جبکہ صحیح لفظ ابی بکر کے بغیر"ابن عربی" ہے۔

ثقہ اور جلیل القدر امام ابو حیان محمد بن یوسف الاندلسی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 745ھ) نے فرمایا:

« "ومن ذهب من ملاحدتهم إلى القول بالاتحاد والوحدة، كالحلاج والشوذي وابن أحلى وابن عربي المقيم بدمشق وابن الفارض، وأتباع هؤلاء كابن سبعين وتلميذه التستري وابن المطرّف المقيم بمرسية والصفّار المقتول بغرناطة وابن لباج وابن الحسن المقيم بلوزقة، وممن رأيناه يُرمى بهذا المذهب الملعون العفيف التلمساني.....الخ" ‎ »
اور ان کے ملحدین میں سے جو اتحاد اور وحدت (یعنی وحدت الوجود) کا قائل ہے جیسے (حسین بن منصور) الحلاج، شوزی، ابن احلی، ابن عربی جو دمشق میں مقیم تھا، ابن فارض اور ان کے پیروکار جیسے ابن سبعین اور اس کا شاگرد تستری مرسیہ میں رہنے والا ابن مطرف اور غرناطہ میں قتل ہونے والا الصفار، ابناللباج اور لورقہ میں رہنے والا ابو الحسن اور ہم نے جنھیں اس ملعون مذہب کی تہمت کے ساتھ دیکھا ہے جیسے عفیف تلمسانی۔۔۔الخ
[تفسیرالبحر المیحط ج3 ص 464،465،سورۃ المائدہ:17]

تفسیر ابن کثیر کے مصنف حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

« "وله كتابه المسمى (بفصوص الحكم) فيه أشياء كثيرة ظاهرها كفر صريح" ‎ »
اور اس کی کتاب جس کا نام فصوص الحکم ہے، اس میں بہت سی چیزیں ہیں جن کا ظاہر کفر صریح ہے۔
[البدایہ والنہایہ ج13 ص167،وفیات 638ھ]

حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

« "وَلَمْ يَمْدَحْ الْحَيْرَةَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَدَحَهَا طَائِفَةٌ مِنْ الْمَلَاحِدَةِ.: كَصَاحِبِ" الْفُصُوصِ" ابْنِ عَرَبِيٍّ وَأَمْثَالِهِ مِنْ الْمَلَاحِدَةِ الَّذِينَ هُمْ حَيَارَى" ‎ »
اہل علم اور اہل ایمان میں سے کسی نے بھی حیرت کی تعریف نہیں کی لیکن ملحدین کے ایک گروہ نے اس کی تعریف کی ہے جیسے فصوص الحکم والا ابن عربی اور اس جیسے دوسرے ملحدین جو حیران و پریشان ہیں۔
[فتاویٰ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ج 11 ص 385]

حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے بارے میں ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں:

« "وَمَنْ طَالَعَ شَرْحَ مَنَازِلِ السَّائِرِينَ، تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُمَا كَانَا مِنْ أَكَابِرِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالجَمَاعَةِ، وَمِنْ أَوْلِيَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ" ‎ »
"اور جس نے منازل السائرین کی شرح کا مطالعہ کیا ہے تو اس پر واضح ہوا کہ وہ (ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ) دونوں اہل سنت و الجماعۃ کے اکابر اور اس امت کے اولیاء میں سے تھے۔
[جمع الوسائل فی شرح الشمائل ج1 ص 207]

محدث بقاعی لکھتے ہیں کہ ہمارے استاذ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ابن الامین نامی ایک شخص سے ابن عربی کے بارے میں مباہلہ ہوا۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ! اگر ابن عربی گمراہی پر ہے تو تو مجھ پر لعنت فرما۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اے اللہ! اگر ابن عربی ہدایت پر ہے تو تو مجھ پر لعنت فرما۔

وہ شخص اس مباہلے کے چند مہینے بعد رات کو اندھا ہو کر مر گیا۔ یہ واقعہ 797ھ کو زوالقعدہ میں ہوا تھا اور مباہلہ رمضان میں ہوا تھا۔
[تنبیہ الغی ص136،137]

ملا علی قاری حنفی کا حوالہ گزر چکا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ابن عربی کی جماعت کے کفر میں شک نہ کرو۔

قاضی تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی الشافعی نے شرح المنہاج کے باب الوصیہ میں کہا:

« "ومن كان من هؤلاء الصوفية المتأخرين، كابن العربي وأتباعه، فهم ضلاّل جهال، خارجون عن طريقة الإسلام" ‎ »
اور جو ان متاخرین صوفیہ میں سے ہے جیسے ابن عربی وغیرہ تو یہ گمراہ جاہل ہیں(جو) اسلام کے طریقے سے خارج ہیں۔
[تنبیہ الغی ص 143]

شمس الدین محمد العیزری الشافعی نے اپنی کتاب"الفتاویٰ المنتشرۃ" میں فصوص الحکم کے بارے میں کہا:

« " قال العلماء: جميع ما فيه كفر لأنه دائر مع عقيدة الاتحاد.....الخ" ‎ »
علماء نے کہا: اس میں سارے کا سارا کفر ہے کیونکہ یہ اتحاد کے عقیدے پر مشتمل ہے۔ الخ
[تنبیہ الغی ص 152]

10۔ محدث برہان الدین البقاعی نے تکفیر ابن عربی پر تنبیہ الغی کے نام سے کتاب لکھی ہے جس کے حوالے آپ کے سامنے پیش کیے گئے ہیں۔

معلوم ہوا کہ علماء اور جلیل القدر محدثین کرام کے نزدیک ابن عربی صوفی اور وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والے لوگ گمراہ اور گمراہ کرنے والے ہیں۔ جن علماء نے ابن عربی کی تعریف کی ہے یا اسے شیخ اکبر کے خود ساختہ لقب سے یاد کیا ہے، اُن کے دو گروہ ہیں:

اول: جنھیں ابن عربی کے بارے میں علم ہی نہیں ہے۔

دوم: جنھیں ابن عربی کے بارے میں علم ہے ان کے تین گروہ ہیں:

اول: جو ابن عربی کی کتابوں اور اس کی طرف منسوب کفریہ عبارات کا یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ یہ ابن عربی سے ثابت ہی نہیں ہیں۔

دوم: جو تاویلات کے ذریعے سے کفریہ عبارات کو مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوم: جو ان عبارات سے کلیتاً متفق ہیں۔ اس تیسرے گروہ اور ابن عربی کا ایک ہی حکم ہے اور پہلے دو گروہ اگر بذات خود صحیح العقیدہ ہیں تو جہالت کی وجہ سے لا علم ہیں۔

آخر میں عرض ہے کہ وحدت الوجود ایک غیر اسلامی عقیدہ ہے جس کی تردید قرآن مجید، احادیث صحیحہ، اجماع، آثار سلف صالحین اور عقل سے ثابت ہے۔ مثلاً ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ءَأَمِنتُم مَن فِى السَّماءِ أَن يَخسِفَ بِكُمُ الأَرضَ فَإِذا هِىَ تَمورُ [16]
کیا تم بے خوف ہو اُس سے جو آسمان پر ہے کہ تمھیں زمین میں دھنسا دے پھر وہ ڈولنے لگے؟ [16]
[ سورة الملك 67، آیت نمبر 16]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی سے پوچھا (أين الله؟) اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا:(فِي السَّمَاءِ) آسمان پر ہے۔ آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس لونڈی کے مالک سے فرمایا:(أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ) اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ ایمان والی ہے۔
[صحیح مسلم، حدیث نمبر:537، ترقیم دارالسلام:1199]

ابو عمرو الطلمنکی نے کہا: اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے اور معیت سے مراد اُس کا علم و قدرت ہے۔
[دیکھئے شرح حدیث النزول لابن تیمیہ ص 144،145،ملخصاً]

تنبیہ:۔
وحدت الوجود کے قائل حسین بن منصور الحلاج الحلولی کے بارے میں تفصیلی تحقیق کے لیے دیکھئے:
[ ماہنامہ الحدیث حضرو:21ص8۔11) (الحدیث:49) ]

« ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب ‎ »
نظریہ"وحدت الوجود" کفریہ اور شرکیہ عقیدہ

« الحمد للہ رب العٰلمين و الصلٰوة والسلام علٰي رسول الله وعلى آله وصحبه أجمعين - اما بعد فاعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم - بسم اللہ الرحمٰن الرحيم »

باطل عقائد میں سے ایک نظریہ"وحدت الوجود" ہے یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ ہر موجود چیز بذات خود اللہ ہے

وحدت الوجود کے اس عقیدہ کو ابن العربی صوفی نے پروان چڑھایا ہے۔ وہ اپنی کتاب فصوص الحکم میں لکھتا ہے:

« فأنت عبد وأنت رب »
"یعنی تو بندہ ہے اور تو رب ہے"

خالق و مخلوق کا وجود ایک ہے۔ گویا انسان خالق بھی ہے مخلوق بھی (نعوذ باالله)

اس عقیدہ کے حاملین کو"اتحادیہ" بھی کہا جاتا ہے، یہ لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنی تمام مخلوقات کے ساتھ اس طرح ملا ہوا ہے کہ تمام موجودات متعدد وجود کی بجائے ایک ہی وجود بن گیا ہے۔

ان لوگوں کے ہاں اس عقیدے کا حامل ہی موحد ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسے لوگ توحید سے کوسوں دور ہیں۔

عقیدہ"وحدت الوجود" کے باطل ہونے پر علما کا اتفاق ہے، ان کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ عقیدہ کفریہ اور شرکیہ ہے، چونکہ یہ عقیدہ ایسے نظریات پر مشتمل ہے جو حقیقی عقیدہ توحید جو کہ دین اسلام کا نچوڑ اور خلاصہ ہے اسے ختم کر دیتا ہے، اس لئے علما اس عقیدہ کو ختم کرنے اور اس کے خلاف محاذ قائم کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

اس نظریے کہ باطل ہونے کے دلائل قرآن سے بے شمار تعداد میں ملتے ہیں، ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

﴿وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءاً إِنَّ الإِنسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ [15]
اور انھوں نے اس کے لیے اس کے بعض بندوں کو جز بنا ڈالا، بے شک انسان یقینا صریح نا شکرا ہے [15]
[سورۃ الزخرف 43, آیت نمبر: 15]

﴿وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ. سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ [159]
نیز ان لوگوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری بنا ڈالی، حالانکہ جن خوب جانتے ہیں کہ وہ [مجرم کی حیثیت سے] پیش کئے جائیں گے، اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں [159]
[سورۃ الصافات 37، آیت نمبر: 159]

دیکھیں: کیسے اللہ تعالی نے ان لوگوں پر کفر کا حکم لگایا ہے جنہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا حصہ قرار دیا، اور بعض مخلوق کی اللہ تعالی کیساتھ رشتہ داری بیان کی، تو اس شخص کا کیا حکم ہو گا جو خالق اور مخلوق کا ایک ہی وجود مانے؟

ایک مسلمان سے کیسے ممکن ہے کہ وہ وحدت الوجود کا عقیدہ رکھے حالانکہ اس کا ایمان ہے کہ اللہ تعالی ہر چیز کا خالق ہے، وہ کیسے قدیم اور ازلی خالق کو اور نو پید مخلوق کو ایک کہہ سکتا ہے؟ حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئاً [9]
پہلے میں نے تمہیں پیدا کیا حالانکہ تم معدوم تھے [9]
[سورۃ مریم 19، آیت نمبر: 9]

﴿أَوَلا يَذْكُرُ الإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا [67]
کیا انسان کو یہ یاد نہیں ہے کہ پہلے بھی ہم نے اسے پیدا کیا حالانکہ وہ معدوم تھا [67]
[سورۃ مریم 19، آیت نمبر: 67]

قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والا قرآن مجید کے نظم اور خطاب میں موجود مسلمہ واضح حقائق جان لے گا کہ مخلوق اور خالق ایک چیز نہیں ہو سکتے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ [73]
اللہ کے سوا جن چیزوں کو وہ پوجتے ہیں وہ چیزیں آسمانوں اور زمیں سے رزق مہیا کرنے کا بالکل اختیار نہیں رکھتیں [73]
[سورۃ النحل 16، آیت نمبر: 73]

چنانچہ جو اس حقیقت کی مخالفت کرتا ہے، تو وہ قرآن اور دین کی حتمی اور فیصلہ کن نصوص کی مخالفت کرتا ہے۔

مزید برآں جو قباحتیں وحدت الوجود کے دعوے سے لازم آتی ہیں، اس باطل عقیدے کی تردید کے لئے کافی ہیں، جو اس عقیدے پر ایمان لے آتا ہے تو اس کی حالت اسے بدکاری کے حلال اور ایمان و کفر کے درمیان برابری قرار دینے پر مجبور کر دے گی، کیونکہ ان کے وہم و گمان کے مطابق دعوی یہ ہے کہ عقائد کا انحصار ایک وجود کے ساتھ ایمان لانے پر ہے، اس عقیدے سے یہ بھی لازم آئے گا کہ اللہ عز و جل کی گھٹیا ترین مخلوقات، چوپاؤں، پلید اشیا وغیرہ کی طرف کی جائے، اللہ تعالی ان کے شاخسانوں سے بہت بلند و بالا ہے۔

اسی طرح ماضی و حال کے تمام اکابرین بھی صوفی مذہب کے بنیادی عقیدے وحدت الوجود کا انکار کرتے ہوئے اس کا زبردست رد کرتے ہیں۔ مثلاً:

نواب صدیق حسن خان رحمۃ اللہ مسئلہ وحدت الوجود کے متعلق اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں: اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ وحدت الوجود کا مسئلہ کتاب و سنت کے واضح اور صریح نصوص کی بنیاد پر بے شک و شبہ کفر بواح ہے۔
[ابقاء المنن،صفحہ 193]

عبداللہ بہالپوری رحمۃ اللہ بیان فرماتے ہیں: اب وحدت الوجود کا عقیدہ صوفیوں کا بنیادی عقیدہ ہے۔ آپ سب کچھ نہ کچھ سکو ل کی تعلیم رکھتے ہیں۔ یہ جدھر دیکھتا ہوں تو ہی تو ہے اور ہمہ اوست کا عقیدہ یہ وحدت الوجود کا عقیدہ اور یہ خالصتاً کفر ہے۔ ایسا گندہ عقیدہ ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں۔
[خطبات بہالپوری، جلد 1، صفحہ 327]

حافظ عبداللہ روپڑی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: اب رہی"توحید الہٰی" سو اس کے متعلق بہت دنیا بہکی ہوئی ہے۔ بعض تو اس کا مطلب ''ہمہ اوست'' سمجھتے ہیں یعنی ہر شے عین خدا ہے۔
[فتاویٰ اہلحدیث، جلد 1، صفحہ 154]

تنبیہ: یہاں عبداللہ روپڑی رحمۃ اللہ وحدت الوجودیوں کو گمراہ قرار دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ہمہ اوست اور وحدت الوجودکی حقیقت ایک ہی ہے اور یہ ایک ہی عقیدے کے دو نام ہیں، بس ہمہ اوست کی اصطلاح ہندو وغیرہ کفار لوگ استعمال کرتے ہیں اور وحدت الوجود کی اصطلاح صوفیوں کے ہاں مستعمل ہے۔ عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: معلوم یوں ہوتا ہے کہ ''ہمہ اوست'' کی اصطلاح ان ملحدین کی تھی جنہوں نے اسلام کا لبادہ نہیں اوڑھا اور وحدۃ الوجود کی اصطلاح ان ملحدین کی ہے جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام اور اسلامی عقیدہ کی بیخ کنی کی جیسے ابن عربی، ابن سبعین، عفیف تلمسانی وغیر ہم۔
[ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحیدالوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 20]

اسی طرح شاہ ولی اللہ حنفی صوفی بھی ہمہ اوست اور وحدت الوجود کو قریب قریب ایک ہی عقیدہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: تو دونوں میں ایسی مشابہت پیدا ہو گئی کہ تمیز کرنا مشکل ہو گیا۔ اور صفائی اور باریکی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے رنگ میں اس طرح ظاہر ہوا کہ لوگوں کی نظروں کے لئے مشکل آن پڑی ''فکانما خمر لاقدح'' جیسے شراب ہے شیشہ نہیں گویا کہ شراب ہے جو منجمد ہے اور پیمانے کا وجود نہیں ''وکا نما قدح ولا خمر'' گویا پیمانہ ہے شراب نہیں۔
[انفاس العارفین، صفحہ 231]

مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمة اللہ نے عقیدہ وحدت الوجود پر بڑا تفصیلی رد کیا ہے۔ وہ اس عقیدہ کو ہندو مذہب سے مستعار عقیدہ قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہیں: ہم پہلے یہ بتلا چکے ہیں کہ یہ نظریہ خود اسلام کے وجود میں آنے سے ہزار ہا سال پہلے ہندؤں کے اپنشدوں میں موجود تھا. اس طرح یہ نظریہ دوسرے مذاہب میں بھی پایا جاتا تھا، تو جب عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ میں (یعنی دوسری صدی ہجری کے آخر میں) یونانی، لاطینی اور سنسکرت کی بے شمار کتابوں کا ترجمہ عربی زبان میں ہونے لگا تو ان کتابوں میں فلسفہ وحدت الوجود اور تصوف کی بیشمار مسائل پر بحث موجود تھی۔ انہی نظریات و مسائل سے ہمارے صوفیاء نے بھی متاثر ہونا شروع کیا۔
[شریعت و طریقت،صفحہ 92]

عبدالرحمن کیلانی رحمۃ اللہ کے نزدیک بھی صوفیوں کا وحدت الوجود کا عقیدہ غیر شرعی اور غیر اسلامی ہے۔ چناچہ لکھتے ہیں: چونکہ عقیدہ وحدت الوجود قرآن کی تعلیم سے براہ راست متصادم تھا اس لئے علمائے دین مخالف ہو گئے۔
[شریعت و طریقت،صفحہ 87]

مزید فرماتے ہیں: اب اتفاق کی بات ہے کہ وحدت الوجود کا مسئلہ عقل یا فلسفہ کا مسئلہ بھی ہے اور وجدان یا تصوف کا بھی۔ بالفاظ دیگر یہ خالص مادہ پرستانہ فلسفہ بھی ہے اور صوفیاء کا روحانی مسئلہ بھی۔ اور ان دونوں کا اس مسئلہ پر اتحاد و اتفاق بھی ہو جاتا ہے لیکن اس کے باجود وحی الہٰی سے متصادم ہے۔
[شریعت و طریقت،صفحہ 93]

حافظ زبیر علی زئی رحمۃ اللہ نے بھی وحدت الوجودیوں کا مفصل رد کیا ہے۔ اس عقیدہ سے متعلق اپنا نظریہ بیان کرتے ہوئے زبیر علی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: مروجہ وحدت الوجود کا عقیدہ قرآن و حدیث کے سراسر خلاف بلکہ کفر و باطل ہے۔
[تحقیقی،اصلاحی اور علمی مقالات، جلد 5، صفحہ 55]

شیخ الحدیث ابو عمر عبدالعزیز النورستانی حفظہ اللہ وحدت الوجود کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں: بہرحال عقیدہ وحدۃ الوجود کو توحید وجودی کہو، شرک وجودی کہو یا کفر وجودی یہ نظریہ کفر ہی کفر اور زندقہ ہے۔
[ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحیدالوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 16]

شیخ الحدیث محمد رفیق اثری حفظہ اللہ کے نزدیک بھی وحدت الوجود کفر، شرک اور الحاد ہے۔ اس سلسلے میں وہ عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ کی رائے کی مکمل موافقت کرتے ہیں، چناچہ اپنے دستخط شدہ فتوے میں لکھتے ہیں: وحدۃ الوجود یا وحدۃ الشہود یا توحید وجودی کے بارے میں مولانا عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ کی مفصل تحریر کا مطالعہ کیا، اسے فکر سلف صالحین و محدثین رحمہم اللہ کے عین مطابق پایا، میں ان کی تائید و تصدیق کرتا ہوں۔
(ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحید الوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 39)

بدیع الدین شاہ راشدی رحمۃ اللہ کا شمار بھی وحدۃ الوجود کے شدید مخالفین میں ہوتا ہے انہوں نے اپنی مایہ ناز تصنیف توحید خالص میں وحدۃ الوجود کے قائلین کے دلائل کا تعاقب و علمی رد کرتے ہوئے ان کا خوب محاسبہ و محاکمہ کیا ہے۔
[توحید خالص، صفحہ 253 تا454]

شیخ الحدیث ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کہتے ہیں: وحدۃ الوجود کی بھول بھلیاں ہوں یا وحدۃ الشہود کی موشگافیاں ہوں، ان کا ٹھیٹھ اسلام جسے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا تھا، سے کوئی تعلق نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فرمودات میں ان اصطلاحات اور اس کی تفصیلات کا کوئی تذکرہ نہیں۔ ایک مسلمان کیلئے ان اصطلاحات کی تعلیم و تفہیم قطعاً غیرضروری ہے۔ بلکہ وحدۃ الوجود سے توحید اور شرک کی تفریق ختم ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
[ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحیدالوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 40]

10۔ شیخ الحدیث ابو زکریا عبدالسلام رستمی حفظہ اللہ وحدۃ الوجود کو عین شرک و کفر قرار دیتے ہیں۔
وجہ ششم: وحدۃ الوجود عین حلول ہے اور عقیدہ حلول عین کفر اور شرک ہے۔
وجہ ھفتم: عقیدہ وحدۃ الوجود اور حلول شرک کیلئے زینہ بلکہ عین کفر اور شرک ہے۔
[ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحیدالوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 43]

11۔ ابو محمد امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ عقیدہ وحدۃ الوجود کا فیصلہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: اہل السنة و الجماعة کے تمام محققین علماء کرام کا یہ متفق علیہ فتویٰ ہے کہ عقیدہ وحدت الوجود اور توحید وجودی کفریہ اور شرکیہ عقیدہ ہے بلکہ یہ یہود اور نصاریٰ کے کفر سے بھی بڑھ کر کفر ہے۔
[ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحید الوجودی اور اس کا شرعی حکم، صفحہ 55]

ہم اللہ سے سلامتی و عافیت کا سوال کرتے ہیں، اور ہدایت سے بھٹکے لوگوں کی ہدایت کی امید کرتے ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ کہتے ہیں:

یہ کہنا کہ ہر چیز کا وجود اللہ تعالی کا وجود ہی ہے، یہ لادینیت کی انتہا ہے، مشاہدات، عقل اور شریعت سے اس عقیدے کی خرابی واضح ہے، اس قسم کی لا دینیت سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی صفات کو ثابت کیا جائے اور اس کی مخلوقات سے مشابہت کی نفی کی جائے، یہی اللہ پر ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کا دین اور طریقہ کار ہے۔
[درء تعارض العقل و النقل"(1/283)]