🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش کل احادیث (18776)
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فيمن شهد أن لا إله إلا الله .
اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1
وَبِسَنَدِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَنْبَأَ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - يُحَدِّثُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَزِنُوا عَلَيْهِ حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوَسُ، قَالَ عُثْمَانُ: وَكُنْتُ مِنْهُمْ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي ظِلِّ أُطُمٍ مَنَ الْآطَامِ مَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَسَلَّمَ عَلَيَّ فَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّهُ مَرَّ وَلَا سَلَّمَ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَقَالَ لَهُ: مَا يُعْجِبُكَ أَنِّي مَرَرْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ! وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ - فِي وِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - حَتَّى سَلَّمَا جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: جَاءَنِي أَخُوكَ عُمَرُ، فَذَكَرَ أَنَّهُ مَرَّ فَسَلَّمَ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَمَا الَّذِي حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلَى، وَاللَّهِ قَدْ فَعَلْتَ، وَلَكِنَّهَا عُبِّيَّتُكُمْ يَا بَنِي أُمَيَّةَ. قَالَ: قُلْتُ وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ وَلَا سَلَّمْتَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ عُثْمَانُ. وَقَدْ شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ. فَقُلْتُ: أَجَلْ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ عُثْمَانُ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا عَلَيَّ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَلَكِنَّ الزُّهْرِيَّ وَثَّقَهُ وَأَبْهَمَهُ، وَقَدْ ذَكَرْتُهُ بِسَنَدِهِ حَتَّى لَا أَبْتَدِئَ الْكِتَابَ بِسَنَدٍ مُنْقَطِعٍ.
امام أحمد نے، اپنی سند کے ساتھ زہری کا یہ بیان نقل کیا ہے: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک اہل علم نے مجھے یہ بات بتائی: اُس نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس حوالے سے (شدید) غم محسوس ہوا، یہاں تک کہ اُن میں سے بعض حضرات وسوسے کا شکار ہو جاتے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں بھی اُن افراد میں سے ایک تھا ایک مرتبہ میں ایک عمارت کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا، اس دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے اور انہوں نے مجھے سلام بھی کیا، لیکن مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ گزرے ہیں، یا انہوں نے سلام کیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے، وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اُن سے کہا: کیا آپ اس بات پر حیران نہیں ہوں گے؟ کہ میں عثمان کے پاس سے گزرا، میں نے اُسے سلام کیا، لیکن اُس نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، آئے یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کی بات ہے، اُن دونوں حضرات نے مجھے سلام کیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کے بھائی عمر میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ وہ (آپ کے پاس سے) گزرے، اور انہوں نے آپ کو سلام کیا، لیکن آپ نے انہیں جواب نہیں دیا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں نے تو ایسا نہیں کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: جی ہاں! اللہ کی قسم! آپ نے ایسا کیا ہے اے بنو امیہ! یہ آپ لوگوں کی خود پسندی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ آپ گزرے ہیں، یا آپ نے سلام کیا ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عثمان ٹھیک کہہ رہا ہے، یہ کسی پریشانی کی وجہ ہے تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوا ہو گا، میں نے کہا: جی ہاں! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ معاملہ کیا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بولے: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی، اس سے پہلے کہ میں اُن سے اس معاملے کی نجات کے بارے میں دریافت کرتا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں اُٹھ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور میں نے اُن سے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا: (ایک مرتبہ) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس معاملے کی نجات کیا ہے؟ تو
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لے، جو میں نے اپنے چچا کو پیش کیا تھا اور انہوں نے اُسے قبول نہیں کیا تھا، تو وہ کلمہ اُس شخص کے لئے نجات کا باعث بن جائے گا۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، جبکہ امام ابویعلیٰ نے اسے مکمل روایت
کے طور پر نقل کیا ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، اس میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا تاہم
امام زہری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اسے مبهم رکھا ہے۔
میں نے اس کی سند اسی لئے بیان کر دی ہے تاکہ میں کتاب کا آغاز کسی منقطع سند کے ساتھ نہ کروں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 1]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 839,2، اخرجه الامام ابو يعلى فى مسند 9، أورده المؤلف فى زوائد المسند 1، أورده المؤلف فى كشف الاستار 1، أورده المؤلف فى المقصد العلى 7 كنز العمال 1640، 1404، طبقات ابن سعد 285»

Majma al-Zawa'id Hadith 1 in Urdu