سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. بَابُ: مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ قَتْلُ الْكَلْبِ الْعَقُورِ
باب: محرم کس طرح کے جانور مار سکتا ہے، کٹ کھنے کتے کے قتل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2831
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَمْسٌ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ: جُنَاحٌ الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم کے مارنے میں کوئی حرج (گناہ) نہیں ہے۔ کوا، چیل، بچھو، چوہیا اور کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید7 (1826)، بدء الخلق 16 (3315)، صحیح مسلم/الحج 9 (1199)، (تحفة الأشراف: 8365)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 40 (1846)، سنن ابن ماجہ/الحج 91 (3088)، موطا امام مالک/الحج 28 (88)، مسند احمد (2/138)، سنن الدارمی/المناسک 19 (1857) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کٹ کھنے کتے سے مراد وہ تمام درندے ہیں جو لوگوں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیتے ہوں، مثلاً شیر، چیتا، بھیڑیا وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه