🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

99. بَابُ مَنْ يُصَلِّي الْفَجْرَ بِجَمْعٍ:
باب: فجر کی نماز مزدلفہ ہی میں پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1682
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً بِغَيْرِ مِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ مِيقَاتِهَا".
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ نے عبدالرحمٰن بن یزید سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ دو نمازوں کے سوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور کوئی نماز بغیر وقت نہیں پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھیں اور فجر کی نماز بھی اس دن (مزدلفہ میں) معمول کے وقت سے پہلے ادا کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1682]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز وقت سے ہٹ کر ادا کی ہو، البتہ ان دو نمازوں کو وقت سے پہلے پڑھا ہے: آپ نے (مزدلفہ میں) مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھا اور نماز فجر بھی اس کے (عام) وقت سے پہلے پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1682]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1683
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مكة، ثُمَّ قَدِمْنَا جَمْعًا، فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، قَائِلٌ يَقُولُ: طَلَعَ الْفَجْرُ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ حُوِّلَتَا عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، فَلَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا وَصَلَاةَ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةَ"، ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى أَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ أَصَابَ السُّنَّةَ، فَمَا أَدْرِي أَقَوْلُهُ كَانَ أَسْرَعَ أَمْ دَفْعُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ.
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے (حج شروع کیا) پھر جب ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے دو نمازیں (اس طرح ایک ساتھ) پڑھیں کہ ہر نماز ایک الگ اذان اور ایک الگ اقامت کے ساتھ تھی اور رات کا کھانا دونوں کے درمیان میں کھایا، پھر طلوع صبح کے ساتھ ہی آپ نے نماز فجر پڑھی، کوئی کہتا تھا کہ ابھی صبح صادق نہیں ہوئی اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ہو گئی۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ دونوں نمازیں اس مقام سے ہٹا دی گئیں ہیں، یعنی مغرب اور عشاء، مزدلفہ میں اس وقت داخل ہوں کہ اندھیرا ہو جائے اور فجر کی نماز اس وقت۔ پھر عبداللہ اجالے تک وہیں مزدلفہ میں ٹھہرے رہے اور کہا کہ اگر امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت چلیں تو یہ سنت کے مطابق ہو گا۔ (حدیث کے راوی عبدالرحمٰن بن یزید نے کہا) میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ الفاظ ان کی زبان سے پہلے نکلے یا عثمان رضی اللہ عنہ کی روانگی پہلے شروع ہوئی، آپ دسویں تاریخ تک جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر لبیک پکارتے رہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1683]
حضرت عبدالرحمان بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ آیا، پھر ہم مزدلفہ آئے تو انہوں نے دو نمازیں ادا کیں، ہر نماز کے لیے الگ الگ اذان اور اقامت کہی اور دونوں کے درمیان کھانا کھایا، پھر جب صبح نمودار ہوئی تو نمازِ فجر ادا کی، اس وقت اتنا اندھیرا تھا کہ کوئی کہتا فجر ہو گئی اور کوئی کہتا ابھی فجر نہیں ہوئی، فراغت کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء) اس مقام (مزدلفہ) میں اپنے وقت سے ہٹا دی گئی ہیں، لوگوں کو چاہیے کہ وہ مزدلفہ میں اس وقت داخل ہوں جب اندھیرا ہو جائے، اور نمازِ فجر اس وقت پڑھیں، پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ٹھہرے رہے حتیٰ کہ روشنی ہو گئی، پھر کہنے لگے: اگر امیر المؤمنین (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) اس وقت منیٰ کی طرف روانہ ہوتے تو سنت کے مطابق عمل کرتے، راوی کہتا ہے کہ مجھے یہ علم نہیں ہو سکا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان پہلے ہوا یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کوچ پہلے ہوا، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسلسل تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1683]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں