مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كَيْفَ تُؤْخَذُ أَيَّةُ شَيْءٍ مِنَ الْجِزْيَةِ دَافِعِيهَا؟)
جزیہ دینے والوں سے کوئی چیز کیسے لی جائے
حدیث نمبر: 4040
4040 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَمَرُّ بِقَوْمٍ، فَلَا هُمْ يُضَيِّفُونَا، وَلَا هُمْ يُؤَدُّونَ مَا لَنَا عَلَيْهِمْ مِنْ حَقٍّ، وَلَا نَحْنُ نَأْخُذُ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِنْ أَبَوْا إِلَّا أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا فَخُذُوا) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ہم کسی قوم کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ نہ تو ہماری مہمان نوازی کرتے ہیں اور نہ وہ ہمارا وہ حق دیتے ہیں جو ان پر عائد ہوتا ہے اور ہم بھی ان سے اپنا حق (زبردستی) حاصل نہیں کرتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ انکار کریں اور تمہیں زبردستی لینا پڑے تو لو۔ “ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 4040]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1589)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح