صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب كراء الارض بالذهب والورق:
باب: سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینا۔
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3953
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا، قَالَ: " كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ، وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَّا الْوَرِقُ، فَلَمْ يَنْهَنَا "،
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حنظلہ زُرَقی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انصار میں سب سے زیادہ ہمارے کھیت تھے۔ کہا: ہم زمین کو اس شرط پر کرائے پر دیتے کہ یہ (حصہ) ہمارے لیے ہے اور وہ (حصہ) ان کے لیے ہے، بسا اوقات اس حصے میں پیداوار ہوتی اور اس میں نہ ہوتی، تو آپ نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ البتہ آپ نے ہمیں چاندی کے عوض دینے سے منع نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3953]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سب سے زیادہ کھیت ہمارے خاندان کے تھے، اور ہم زمین اس شرط پر کرایہ یا بٹائی پر دیتے تھے کہ زمین کے اس حصہ کی پیداوار ہو گی، اور اس حصہ کی پیداوار کاشت کار کی ہو گی، بسا اوقات ہمارے حصہ کی زمین سے پیداوار حاصل ہو جاتی اور دوسرے حصہ سے پیداوار حاصل نہ ہوتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس صورت سے منع فرما دیا، لیکن چاندی کے عوض دینے سے منع نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3953]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3953 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3953
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر زمین کا مالک خود کاشت نہ کرے یا نہ کر سکے،
تو زمین اس کی ملکیت سے نکل نہیں جائے گی،
وہ ٹھیکہ پر زمین دے سکتا ہے،
یا بٹائی کی ایسی صورت میں جس میں صرف ایک فریق کا نقصان نہ ہو،
دے سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر زمین کا مالک خود کاشت نہ کرے یا نہ کر سکے،
تو زمین اس کی ملکیت سے نکل نہیں جائے گی،
وہ ٹھیکہ پر زمین دے سکتا ہے،
یا بٹائی کی ایسی صورت میں جس میں صرف ایک فریق کا نقصان نہ ہو،
دے سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3953]
Sahih Muslim Hadith 3953 in Urdu
حنظلة بن قيس الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري