🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب في قضاء القاضي إذا أخطأ
باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3587
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُثْمَانَ الشَّامِيُّ" وَلَا إِخَالُنِي رَأَيْتُ شَأْمِيًّا أَفْضَلَ مِنْهُ" يَعْنِي حُرَيْزَ بْنَ عُثْمَانَ.
معاذ بن معاذ کہتے ہیں ابوعثمان شامی نے مجھے خبر دی اور میری نظر میں ان سے (یعنی حریز بن عثمان سے) کوئی شامی افضل نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3587]
احمد بن عبدہ الضبی کہتے ہیں کہ ہمیں معاذ بن معاذ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوعثمان شامی (حریز بن عثمان) نے بیان کیا اور (معاذ بن معاذ نے کہا کہ) میں کسی شامی کو حریز بن عثمان سے افضل نہیں سمجھتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ناسخین کی غلطی سے کسی دوسری حدیث کی سند کی بابت یہ کلام یہاں درج ہو گیا ہے، یا اس سند سے مروی حدیث درج ہونے سے رہ گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حريز بن عثمان الرحبي، أبو عون، أبو عثمانثقة رمي بالنصب
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← حريز بن عثمان الرحبي
ثقة متقن
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3587 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3587
فوائد ومسائل:
فائدہ: اوپر والی روایت سندا ضعیف ہے۔
لیکن یہی بات نیچے والی سند سے صحیح طریق سے مروی ہے۔
ان تینوں احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اجتہاد سے فیصلے فرماتے تھے۔
جو غلطیوں سے پاک ہوتے تھے۔
اورآئندہ کےلئے حجت تھے۔
کیونکہ علی سبیل الافتراض اگر کوئی غلطی ہوتی تو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آپ کو مطلع فرما دیتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام قاضیوں کو بہت زیادہ محنت سے حقائق سمجھنے چاہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3587]

Sunan Abi Dawud Hadith 3587 in Urdu