سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب الرجل يجدد الوضوء من غير حدث
باب: وضو ٹوٹے بغیر نیا وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 62
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ يَحْيَى أَتْقَنُ، عَنْ غُطَيْفٍ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَلَمَّا نُودِيَ بِالظُّهْرِ تَوَضَّأَ فَصَلَّى، فَلَمَّا نُودِيَ بِالْعَصْرِ تَوَضَّأَ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَهُوَ أَتَمُّ.
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، جب ظہر کی اذان ہوئی تو آپ نے وضو کر کے نماز پڑھی، پھر عصر کی اذان ہوئی تو دوبارہ وضو کیا، میں نے ان سے پوچھا (اب نیا وضو کرنے کا کیا سبب ہے؟) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جو شخص وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسدد کی روایت ہے اور یہ زیادہ مکمل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 62]
ابو غطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ظہر کی اذان دی گئی تو انہوں نے وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر عصر کے لیے اذان ہوئی تو انہوں نے (دوبارہ) وضو کیا، میں نے انہیں کہا: (جب آپ بے وضو نہیں ہوئے تو نیا وضو کرنے کی کیا ضرورت ہے؟) تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جو شخص باوضو ہوتے ہوئے وضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت جناب مسدد کی ہے، جو (محمد بن یحییٰ کی روایت سے) زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 62]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 44 (59)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 73 (512)، (تحفة الأشراف: 8590) (ضعیف)» (اس سند میں عبدالرحمن ضعیف ہیں اور ابوغطیف مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (59)،ابن ماجه (512)
عبد الرحمٰن بن زياد بن أنعم الإ فريقي ضعيف في حفظه (تقريب التهذيب:3862)
وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء: 199/2)
وقال الھيثمي: وقد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد: 56/5)
والحديث ضعفه الترمذي (59)
وانظر الحديث الآتي (ح 514)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
إسناده ضعيف
ترمذي (59)،ابن ماجه (512)
عبد الرحمٰن بن زياد بن أنعم الإ فريقي ضعيف في حفظه (تقريب التهذيب:3862)
وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء: 199/2)
وقال الھيثمي: وقد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد: 56/5)
والحديث ضعفه الترمذي (59)
وانظر الحديث الآتي (ح 514)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
62
| من توضأ على طهر كتب الله له عشر حسنات |
جامع الترمذي |
59
| من توضأ على طهر كتب الله له به عشر حسنات |
سنن ابن ماجه |
512
| من توضأ على كل طهر فله عشر حسنات |
Sunan Abi Dawud Hadith 62 in Urdu
غطيف الهذلي ← عبد الله بن عمر العدوي