🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
146. باب ما يقول إذا رفع رأسه من الركوع
باب: جب آدمی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 847
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ. ح وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، كُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقُولُ حِينَ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ، قَالَ مُؤَمَّلٌ: مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ". زَادَ مَحْمُودٌ: وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ. وَقَالَ بِشْرٌ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ. لَمْ يَقُلْ: اللَّهُمَّ، لَمْ يَقُلْ مَحْمُودٌ: اللَّهُمَّ، قَالَ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء» اور مومل کے الفاظ «ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت»، محمود نے اپنی روایت میں: «ولا معطي لما منعت» کا اضافہ کیا ہے، پھر: «ولا ينفع ذا الجد منك الجد» میں سب متفق ہیں، بشر نے اپنی روایت میں: «ربنا لك الحمد» کہا «اللهم» نہیں کہا، اور محمود نے «اللهم» نہیں کہا، اور «ربنا لك الحمد» کہا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 847]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہہ لیتے تو کہتے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ» اور مومل کے الفاظ «مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ» اے اللہ! اے ہمارے رب! تیری ہی تعریف ہے، جس سے کہ آسمان بھر جائیں، زمین بھر جائے اور ان کے علاوہ جو تو چاہے بھر جائے۔ اے وہ ذات جو تعریف و بزرگی کے اہل ہے! سب سے حق بات جو بندے کو کہنی لائق ہے اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں، یہی ہے کہ جو تو عنایت فرما دے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور محمود نے زیادہ کیا: «وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ» اور جو تو روک لے کوئی دے نہیں سکتا۔ پھر «وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اور تیرے مقابلے میں کسی کی بڑائی اور بزرگی فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ سب کا اتفاق ہے۔ بشر نے «اللَّهُمَّ» کے بغیر «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» (باضافہ واو) روایت کیا ہے۔ ولید بن مسلم نے سعید سے روایت کیا تو کہا: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» اور «وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ» کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ان کو صرف ابومسہر ہی نے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 40 (477)، سنن النسائی/الافتتاح 115 (1069)، (تحفة الأشراف: 4281)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 18 (877)، مسند احمد (3/87)، سنن الدارمی/ الصلاة 71 (1352) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (477)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥قزعة بن يحيى البصري، أبو الغادية
Newقزعة بن يحيى البصري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥عطية بن قيس الكلابي، أبو يحيى
Newعطية بن قيس الكلابي ← قزعة بن يحيى البصري
ثقة
👤←👥سعيد بن عبد العزيز التنوخي، أبو محمد، أبو عبد العزيز
Newسعيد بن عبد العزيز التنوخي ← عطية بن قيس الكلابي
ثقة إمام لكنه اختلط في آخر عمره
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← سعيد بن عبد العزيز التنوخي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
👤←👥محمد بن مصعب القرقساني، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن مصعب القرقساني ← عبد الله بن يوسف الكلاعي
مقبول
👤←👥بشر بن بكر البجلي، أبو عبد الله
Newبشر بن بكر البجلي ← محمد بن مصعب القرقساني
ثقة
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← بشر بن بكر البجلي
ثقة
👤←👥عبد الأعلى بن مسهر الغساني، أبو مسهر
Newعبد الأعلى بن مسهر الغساني ← أحمد بن عمرو القرشي
ثقة
👤←👥محمود بن خالد السلمي، أبو علي
Newمحمود بن خالد السلمي ← عبد الأعلى بن مسهر الغساني
ثقة
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← محمود بن خالد السلمي
ثقة
👤←👥مؤمل بن الفضل الجزري، أبو سعيد
Newمؤمل بن الفضل الجزري ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1069
سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد أهل الثناء والمجد خير ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
صحيح مسلم
1071
ربنا لك الحمد ملء السماوات والأرض وملء ما شئت من شيء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وكلنا لك عبد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
سنن أبي داود
847
اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت
بلوغ المرام
233
‏‏‏‏اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والارض وملء ما شئت من شيء ...
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 847 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 847
847۔ اردو حاشیہ:
➊ احادیث میں «ربنا لك الحمد» ، «ربنا ولك الحمد» ، «اللهم ربنا لك الحمد» اور «اللهم ربنا ولك الحمد» سب طرح سے آیا ہے اور سب جائز ہے۔
➋ امام اور مقتدی دونوں ہی یہ کلمات کہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 847]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 233
نماز کی صفت کا بیان
«. . . وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا رفع رأسه من الركوع قال: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما شئت من شيء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وكلنا لك عبد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» . رواه مسلم. . . .»
. . . سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اوپر اٹھاتے تو «اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما شئت من شيء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وكلنا لك عبد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» کہتے تھے۔ (یعنی) اے اللہ! ہمارے آقا و پروردگار تعریف صرف تیرے ہی لئے ہے اتنی تعریف جس سے آسمان و زمین بھر جائے اور اس کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جسے تو چاہے۔ اے بزرگی اور تعریف کے مالک! تو اس کا زیادہ مستحق ہے جو کچھ بندہ کہے اور سبھی تیرے بندے ہیں۔ اے اللہ! جو کچھ تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو ہی نہ دے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں اور کسی کو اس کی بزرگی اور بخت آپ (عذاب) کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ (مسلم) . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 233]
لغوی تشریح:
«مِلْءَ السَّمٰوَاتِ» «مِلْء» کا ہمزہ منصوب پڑھیں تو یہ مصدر، یعنی مفعول مطلق ہو گا اور مرفوع پڑھنے کی صورت میں یہ مبتدا محذوف کی خبر ہو گی۔
«مِنْ شَيْءٍ» «مَا شِئْتَ» کا بیان ہے، یعنی جو کچھ بھی تو چاہے۔
«بَعْدُ» مبنی علی الضم ہے کیونکہ اس کے بعد مضاف إلیہ محذوف ہے، البتہ نیت میں موجود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین بھر کی حمد و ثنا کے بعد «اهل الثناء و الحمد» اگر «اهل» کے لام پر ضمہ پڑھیں تو اس صورت میں یہ «انت» مبتدا محذوف کی خبر بنے گا، یعنی تو بزرگی اور تعریف کا مالک ہے۔ اور حرف ندا کے محذوف ماننے کی صورت میں اسے منصوب بھی پڑھا گیا ہے۔ اور ثناء کے معنی زبان سے کسی کی تعریف کرنا ہیں جب کہ المجد عظمت و بزرگی کے معنی میں ہے۔
«أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ» «أَحَقُّ» رفعی حالت میں ہے اور ما موصولہ کی طرف مضاف ہے اور مبتدا محذوف کی خبر واقع ہو رہا ہے اور وہ ہے «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کا قول۔ بندے کے اقوال و کلمات میں سے «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» والا قول سب سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے کہ اسے کہا جائے۔ اور یہ بھی امکان ہے کہ یہ مبتدا ہو اور «اَللّٰهُمَّ! لَا مَانِعَ» خبر ہو۔ اور اس کا یہ قول کہ ہم سب تیرے بندے ہیں مبتدا اور خبر کے درمیان بطور جملہ معترضہ آیا ہو۔ لیکن پہلی تاویل زیادہ مناسب ہے۔
«ذَالجدِّ» صاحب بزرگی۔ جد کی جیم پر فتحہ ہے اور اس کے معنی ہیں: وافر حصہ، استغنا اور عظمت و غلبہ۔
«مِنْكَ» تیرے مؤاخذے اور گرفت سے، یا یہ معنی ہیں کہ تیرے ہاں جو پکڑ اور مؤاخذہ ہے۔ «اَلْجَدُّ» یہ مرفوع ہے اور «لَا يَنْفَعُ» کا فاعل ہے، یعنی کسی بڑے مالدار آدمی کو اس کی مالداری اور تونگری تیری پکڑ اور گرفت سے نہیں بچا سکتی۔ بس عمل صالح ہی وہاں نفع دے گا۔

فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث اس بات پر دلیل اور حجت ہے کہ قومہ کی حالت میں یہ دعا پڑھنا مسنون ومشروع ہے۔ جن حضرات نے اس دعا کو نفل نماز کے ساتھ مخصوص کیا ہے ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔ صرف اپنے ذہن کی بات ہے۔ صحیح مسلم میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی روایت اس خیال کی تردید کے لیے کافی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض نماز میں اس کا پڑھنا ثابت ہے۔ [صحيح مسلم، الصلاة، باب اعتدال أركان الصلاة۔۔۔، حديث: 471] اس دعا کے اس جملے «وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کے مالک وخالق کے پاس محض دنیوی جاہ و جلال اور عظمت و بزرگی کچھ بھی کام نہ دے گی اور نہ کسی حسب ونسب کا امتیاز کچھ فائدہ مند ثابت ہو گا۔ وہاں تو عمل صالح کی قدر و قیمت ہو گی اور بس۔ کسی کا عالی نسب ہونا، بزرگوں کی اولاد ہونا اور کسی معروف و مشہور خاندان سے تعلق ہونا عذاب الٰہی سے نہیں چھڑا سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو سیدنا نوح علیہ السلام کا بیٹا، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا باپ اور آخرالزمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا ابوطالب، عتاب الٰہی اور عذاب الٰہی کا شکار نہ ہوتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے خاندان والوں کو بلا کر صاف طور پر کہہ دیا کہ عمل صالح کرو ورنہ اللہ کے عذاب سے بچنا مشکل ہے۔ اور اپنی لخت جگر سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا سے صاف فرما دیا تھا کہ بیٹی! میں تجھے عذاب الٰہی سے ہرگز نہیں بچا سکتا، اس خوش فہمی میں نہ رہ جانا کہ میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر ہوں۔ محض میری بیٹی ہونا تجھے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت اور پکڑ سے نہیں بچا سکتا۔ اعمال صالحہ کر جو تجھے عذاب الٰہی سے بچا سکیں۔ [صحيح البخاري، الوصايا، باب هل يدخل النساء والولد فى الأقارب، حديث: 2753]
اولوالعزم پیغمبر اور خاص کر رسول آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی اولاد سے یہ فرما دیں تو اور کون ہے جو غرور نسب میں مبتلا ہو کر بھی کامیاب و کامران ہو جائے؟
➋ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قومہ میں صرف سیدھا کھڑا ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ مسنون دعاؤں میں سے کوئی دعا (مثلًا یہی دعا) پڑھنی چاہیے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 233]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1071
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: اے ہمارے آقا! تیرے ہی لیے تعریف ہے، آسمان و زمین بھر کر اور ان کے سوا جس ظرف کی پورائی تو چاہے، اے ثناء اور عظمت کے حقدار، صحیح ترین جو بات بندہ کہتا ہے اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں۔ (وہ یہ ہے) اے اللہ! جو چیز تو عنایت فرمانا چاہے، اس کو کوئی روک نہیں سکتا، اور جس چیز سے تو محروم کر دے وہ کوئی دے نہیں سکتا اور... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1071]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
ثَّنَاء:
تعریف وتوصیف۔
(2)
مَجْد:
عظمت وبزرگی،
شرف ورفعت۔
(3)
جَدّ:
نصيبه،
خوش قسمتی،
اقتدار عظمت وبزرگی،
دولت وتونگری،
اگر جَدّ (ض۔
ن)
جَدّا سے مصدر مراد لیں تو معنی ہو گا محنت وکوشش کرنا۔
(4)
أھل الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ:
نداء یا مدح کی بنا پر منصوب ہے۔
اور حَقّ مَاقَالَ العَبْدُ،
مبتدا ہےاور اللَّهم لَا مَانِعَ الخ خبر ہے۔
اور كُلُّنَا لَكَ عَبدٌ جملہ معترضہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1071]

Sunan Abi Dawud Hadith 847 in Urdu