سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3946 ترقیم الرسالہ : -- 4013
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّصْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ وَلَدِهِ مَارِيَةَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَوَجَدْتُهُ حَفْصَةُ مَعَهَا، فَقَالَتْ لَهُ:" تُدْخِلُهَا بَيْتِي، مَا صَنَعْتَ بِي هَذَا مِنْ بَيْنَ نِسَائِكَ إِلا مِنْ هَوَانِي عَلَيْكَ، فَقَالَ: لا تَذْكُرِي هَذَا لِعَائِشَةَ فَهِيَ عَلَيَّ حَرَامٌ إِنْ قَرَبْتُهَا، قَالَتْ حَفْصَةُ: وَكَيْفَ تُحَرَّمُ عَلَيْكَ وَهِيَ جَارِيَتُكَ؟ فَحَلَفَ لَهَا لا يَقْرَبُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَذْكُرِيهِ لأَحَدٍ، فَذَكَرَتْهُ لِعَائِشَةَ فَآلَى لا يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، فَاعْتَزَلَهُنَّ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1" ، قَالَ: وَالْحَدِيثُ بِطُولِهِ طَوِيلٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ام ولد، سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آئے، جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس خاتون کو دیکھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: آپ اسے میرے گھر کے اندر لے آئے ہیں؟ آپ نے اپنی دیگر ازواج کو چھوڑ کر میرے ساتھ ایسا اس لیے کیا ہے، کیونکہ (آپ کے نزدیک میری کوئی حیثیت نہیں ہے)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عائشہ کے سامنے اس کا ذکر نہیں کرنا، یہ (کنیز) میرے لیے حرام ہے کہ میں اس کے قریب جاؤں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حلف اٹھایا کہ آپ اس (کنیز) کے قریب نہیں جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بات کا تذکرہ کسی سے نہیں کرنا۔“ لیکن سیدہ حفصہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی ازواج) سے ایلاء کیا کہ آپ ایک ماہ تک اپنی ازواج کے پاس تشریف نہیں لے جائیں گے۔ آپ نے 29 دن تک اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کیے رکھی پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں اس کے بعد طویل حدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 4013]
ترقیم العلمیہ: 3946
تخریج الحدیث: «إسناده وهم ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 89، 2468، 4913، 4914، 4915، 5191، 5218، 5843، 6218، 7256، 7263، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1479، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1921، 2178، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3453، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2134، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 9112، 11546، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2461، 2691، 3318، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 4153، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4013، 4014، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 227، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9694»
«قال الدارقطني: حدث به مرزوق بن أبي الهذيل عن الزهري فقال عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن
«قال الدارقطني: حدث به مرزوق بن أبي الهذيل عن الزهري فقال عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن
الحكم على الحديث: إسناده وهم ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 4013 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي