سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
205. باب : ما جاء في أين توضع النعل إذا خلعت في الصلاة
باب: نماز کے وقت جوتا نکال کر کہاں رکھا جائے؟
حدیث نمبر: 1432
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلْزِمْ نَعْلَيْكَ قَدَمَيْكَ، فَإِنْ خَلَعْتَهُمَا فَاجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْكَ، وَلَا تَجْعَلْهُمَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَا عَنْ يَمِينِ صَاحِبِكَ، وَلَا وَرَاءَكَ، فَتُؤْذِيَ مَنْ خَلْفَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوتے اپنے پاؤں میں پہنے رکھو، اور اگر انہیں اتارو تو اپنے پیروں کے درمیان رکھو، اور اپنے دائیں طرف نہ رکھو، نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھو، اور نہ پیچھے رکھو کیونکہ پیچھے والوں کو تکلیف ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1432]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے جوتے اپنے پاؤں میں رکھو (پہنے رہو)، اگر انہیں اتارو تو اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھو، انہیں اپنی دائیں طرف نہ رکھنا، نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھنا اور نہ ہی اپنے پیچھے رکھنا کہ اپنے پیچھے والے (نمازی) کو تکلیف دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12969، ومصباح الزجاجة: 504) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 90 (655) (ضعیف جدا)» (یہ حدیث سخت ضعیف ہے کیونکہ سند میں عبد اللہ بن سعید متروک اور منکر الحدیث ہے، لیکن ابو داود کی صحیح روایت میں سیاق اس سے مختلف ہے، «ألزم نعليك قدميك» اور «ولا ورائك فتؤذي من خلفك» صرف ابن ماجہ میں ہے، اس لئے یہ الفاظ منکر ہیں)
وضاحت: ۱ ؎: حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر جوتے پاک و صاف ہوں تو اس کو پہن کر نماز پڑھنا صحیح ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جوتے پہن کر نماز پڑھی ہے، نیز اس حدیث میں جوتے رکھنے کے آداب بھی سکھائے گئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا وما بين طرفيه قوي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1432
| ألزم نعليك قدميك فإن خلعتهما فاجعلهما بين رجليك ولا تجعلهما عن يمينك ولا عن يمين صاحبك ولا وراءك فتؤذي من خلفك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1432 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1432
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سند کے ساتھ تو یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم صحیح ابن خزیمہ میں یہ حدیث ان الفاظ میں وارد ہے۔
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
جب کوئی شخص نماز پڑھے۔
تواپنے جوتے اپنے دایئں طرف نہ رکھے۔
نہ اپنے بایئں طرف رکھے۔
سوائے اس حال کے کہ اس کے بایئں طرف کوئی نہ ہو۔ (نمازی کو)
چاہیے کہ انھیں اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھ لے۔ (صحیح ابن خذیمة، الصلاۃ، جماع أبواب الصلاۃ علی البسط، باب ذکر الزجر عن وضع المصلی نعلیه عن یسارہ إذا کان عن یسارہ مصلٍ۔
۔
۔)
اس پر علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔
اس کی سند حسن ہے۔
جیسے کہ میں نے صحیح ابو داؤد، حدیث:
(661)
میں بیان کیا ہے۔
اور اس سے پہلی والی روایت (1009)
کی سند کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ حاشہ حدیث: 1016)
یعنی شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے وہاں اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔
(2)
جوتے بایئں طرف رکھنا اس وقت منع ہیں۔
جب بایئں طرف کوئی نمازی موجود ہو۔
اس صورت میں وہ اس نمازی کی دایئں طرف ہو جایئں گے۔
(3)
جوتے پیچھے رکھنا جائز ہے۔
لیکن اگر پیچھے کوئی اور شخص نماز پڑھ رہا ہو تو یہ جوتے اس کےلئے اذیت کا باعث ہوں گے۔
اس صورت میں اپنے پیچھے نہ رکھے۔
ہاں ایسی جگہ رکھ سکتا ہے۔
جہاں وہ کسی دوسرے نمازی کے دایئں طرف نہ ہوں۔
یعنی بالکل پیچھے یا بالکل بایئں طرف رکھے۔
(4)
بعض علماء نے لکھا ہے کہ جب دایئں طرف جوتے رکھنا ممنوع ہے تو نمازی کا اپنے آگے جوتا رکھنا بطریق اولیٰ ممنوع ہوگا لیکن یہ استدلال اس لئے صحیح معلوم نہیں ہوتا۔
کہ جب ایک شخص جوتوں سمیت نماز پڑھے گا۔ (جو کہ ایک جائز امر ہے۔)
تو اس صورت میں بھی تو جوتے دوسرے نمازی کے آگے ہی ہوں گے۔
اس لئے محض جوتوں کے آگے ہونے کو تو ممنوع نہیں سمجھا جا سکتا۔
ممانعت کی واضح نص ہونی چاہیے۔
جو کہ ہمارے علم کی حد تک نہیں ہے۔
دوسرا استدلال معجم صغیر طبرانی کی اس روایت سے کیا جاتا ہے۔
جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
”جب تمھارا کوئی شخص جوتے اتارے توانھیں اپنے سامنے نہ رکھے۔
تاکہ جوتوں کی اقتداء لازم نہ آئے۔
۔
۔
۔“ (الحدیث)
لیکن شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ضعیف ہی نہیں۔
سخت ضعیف قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (الضعیفة، حدیث: 986)
اس لئے اس حدیث سے بھی استدلال صحیح نہیں۔
اس اعتبار سے نمازی کے آگے جوتے ہونے یا رکھنے کی ممانعت کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے زیادہ سے زیادہ نمازی کے آگے جوتے رکھنے کو خلاف ادب تصور کرکے اس سے بچنے کو بہتر قرار دیا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
اس سند کے ساتھ تو یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم صحیح ابن خزیمہ میں یہ حدیث ان الفاظ میں وارد ہے۔
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
جب کوئی شخص نماز پڑھے۔
تواپنے جوتے اپنے دایئں طرف نہ رکھے۔
نہ اپنے بایئں طرف رکھے۔
سوائے اس حال کے کہ اس کے بایئں طرف کوئی نہ ہو۔ (نمازی کو)
چاہیے کہ انھیں اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھ لے۔ (صحیح ابن خذیمة، الصلاۃ، جماع أبواب الصلاۃ علی البسط، باب ذکر الزجر عن وضع المصلی نعلیه عن یسارہ إذا کان عن یسارہ مصلٍ۔
۔
۔)
اس پر علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔
اس کی سند حسن ہے۔
جیسے کہ میں نے صحیح ابو داؤد، حدیث:
(661)
میں بیان کیا ہے۔
اور اس سے پہلی والی روایت (1009)
کی سند کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ حاشہ حدیث: 1016)
یعنی شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے وہاں اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔
(2)
جوتے بایئں طرف رکھنا اس وقت منع ہیں۔
جب بایئں طرف کوئی نمازی موجود ہو۔
اس صورت میں وہ اس نمازی کی دایئں طرف ہو جایئں گے۔
(3)
جوتے پیچھے رکھنا جائز ہے۔
لیکن اگر پیچھے کوئی اور شخص نماز پڑھ رہا ہو تو یہ جوتے اس کےلئے اذیت کا باعث ہوں گے۔
اس صورت میں اپنے پیچھے نہ رکھے۔
ہاں ایسی جگہ رکھ سکتا ہے۔
جہاں وہ کسی دوسرے نمازی کے دایئں طرف نہ ہوں۔
یعنی بالکل پیچھے یا بالکل بایئں طرف رکھے۔
(4)
بعض علماء نے لکھا ہے کہ جب دایئں طرف جوتے رکھنا ممنوع ہے تو نمازی کا اپنے آگے جوتا رکھنا بطریق اولیٰ ممنوع ہوگا لیکن یہ استدلال اس لئے صحیح معلوم نہیں ہوتا۔
کہ جب ایک شخص جوتوں سمیت نماز پڑھے گا۔ (جو کہ ایک جائز امر ہے۔)
تو اس صورت میں بھی تو جوتے دوسرے نمازی کے آگے ہی ہوں گے۔
اس لئے محض جوتوں کے آگے ہونے کو تو ممنوع نہیں سمجھا جا سکتا۔
ممانعت کی واضح نص ہونی چاہیے۔
جو کہ ہمارے علم کی حد تک نہیں ہے۔
دوسرا استدلال معجم صغیر طبرانی کی اس روایت سے کیا جاتا ہے۔
جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
”جب تمھارا کوئی شخص جوتے اتارے توانھیں اپنے سامنے نہ رکھے۔
تاکہ جوتوں کی اقتداء لازم نہ آئے۔
۔
۔
۔“ (الحدیث)
لیکن شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ضعیف ہی نہیں۔
سخت ضعیف قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (الضعیفة، حدیث: 986)
اس لئے اس حدیث سے بھی استدلال صحیح نہیں۔
اس اعتبار سے نمازی کے آگے جوتے ہونے یا رکھنے کی ممانعت کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے زیادہ سے زیادہ نمازی کے آگے جوتے رکھنے کو خلاف ادب تصور کرکے اس سے بچنے کو بہتر قرار دیا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1432]
Sunan Ibn Majah Hadith 1432 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي