🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : نوع آخر من الذكر والدعاء بين التكبير والقراءة
باب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان ایک اور دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 899
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ثُمَّ يَقْرَأُ".
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے: «اللہ أكبر وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللہم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك وبحمدك» اللہ بہت بڑا ہے، میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں اللہ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب (پالنہار) ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ! تو صاحب قدرت و اقتدار ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تیری ذات تمام عیوب سے پاک ہے، اور تو لائق حمد وثناء ہے)، پھر قرآت فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 899]
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے (پھر کہتے:) «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» ﴿میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ سب کو چھوڑ کر اسی کا ہو چکا ہوں۔ اسی کا فرمانبردار ہوں اور مشرک نہیں۔﴾ [سورة الأنعام: 79] ﴿یقیناً میری نماز، میری دیگر عبادات، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔﴾ [سورة الأنعام: 162-163] اے اللہ! تو ہے حقیقی بادشاہ۔ تیرے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں۔ تو ہر قسم کے نقائص و عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفوں کا مالک ہے۔ پھر قراءت فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11230)، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف بأرقام: 1053، 1129 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن مسلمة الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← محمد بن مسلمة الأنصاري
ثقة ثبت عالم
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
ثقة
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة حافظ متقن
👤←👥محمد بن حمير السليحي، أبو عبد الله، أبو عبد الحميد
Newمحمد بن حمير السليحي ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن عثمان القرشي، أبو زكريا، أبو سليمان، أبو عمرو
Newيحيى بن عثمان القرشي ← محمد بن حمير السليحي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 899 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 899
899 ۔ اردو حاشیہ: «أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ سے مراد ہے کہ اس امت میں سے سب سے پہلا مسلمان ہوں، یہ نہیں کہ پوری مخلوق میں سب سے پہلا مسلمان ہوں کیونکہ آپ سے پہلے بھی جتنے انبیائے کرام علیہم السلام آئے، ان سب کی دعوت اسلام ہی کی طرف تھی اور وہ مسلمان تھے۔ اس جملے کے متعلق فقہائے مدینہ سے مروی ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے، عام مسلمانوں کو «أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» کہنا چاہیے۔ دیکھیے: [سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 262]
مگر درست بات یہ ہے کہ دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے اور «أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» کا مطلب بھی بالکل بجا ہے، یعنی بندہ اقرار کرتا ہے کہ میں تیرے احکام قبول کرنے میں سب سے پیش پیش ہوں۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 899]

Sunan an-Nasa'i Hadith 899 in Urdu