سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
The Rites of Hajj (Kitab Al-Manasik Wal-Hajj)
58. باب الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ
58. باب: عرفات میں وقوف (ٹھہرنے) کا بیان۔
Chapter: Standing At ’Arafah.
حدیث نمبر: 1910
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا هناد، عن ابي معاوية، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، قالت:" كانت قريش ومن دان دينها يقفون بالمزدلفة، وكانوا يسمون الحمس، وكان سائر العرب يقفون بعرفة، قالت: فلما جاء الإسلام، امر الله تعالى نبيه صلى الله عليه وسلم ان ياتي عرفات فيقف بها ثم يفيض منها، فذلك قوله تعالى: ثم افيضوا من حيث افاض الناس سورة البقرة آية 199".
(مرفوع) حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمُسَ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، قَالَتْ: فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِهَا ثُمَّ يُفِيضُ مِنْهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہرتے تھے اور لوگ انہیں حمس یعنی بہادر و شجاع کہتے تھے جب کہ سارے عرب کے لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے، تو جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات آنے اور وہاں ٹھہرنے پھر وہاں سے مزدلفہ لوٹنے کا حکم دیا اور یہی حکم اس آیت میں ہے: «‏‏‏‏ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» (سورۃ البقرہ: ۱۹۹) تم لوگ وہاں سے لوٹو جہاں سے سبھی لوگ لوٹتے ہیں - یعنی عرفات سے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 91 (1665)، وتفسیر البقرة 35 (4520)، م /الحج 21 (1219)، سنن النسائی/ الحج 202 (3015)، (تحفة الأشراف: 17195)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 53 (884)، سنن ابن ماجہ/المناسک 58 (3018) (صحیح)» ‏‏‏‏

Aishah said “Quraish and those who followed their religion used to station at Al Muzdalifah and they were called Al Hums and the rest of Arabs used to station at ‘Arafah. When Islam came, Allaah the most High commanded His Prophet ﷺ to go to ‘Arafah and station there then go quickly from it. That is in accordance with the words of Him Who is exalted “Then go quickly from where the people went quickly. ”
USC-MSA web (English) Reference: Book 10 , Number 1905



قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري (4520) صحيح مسلم (1219)

   صحيح البخاري4520عائشة بنت عبد اللهقريش ومن دان دينها يقفون بالمزدلفة وكانوا يسمون الحمس وكان سائر العرب يقفون بعرفات فلما جاء الإسلام أمر الله نبيه أن يأتي عرفات ثم يقف بها ثم يفيض منها فذلك قوله ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس
   صحيح البخاري1665عائشة بنت عبد اللههذه الآية نزلت في الحمس ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس قال كانوا يفيضون من جمع فدفعوا إلى عرفات
   صحيح مسلم2954عائشة بنت عبد اللهقريش ومن دان دينها يقفون بالمزدلفة وكانوا يسمون الحمس وكان سائر العرب يقفون بعرفة فلما جاء الإسلام أمر الله نبيه أن يأتي عرفات فيقف بها ثم يفيض منها فذلك قوله ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس
   سنن أبي داود1910عائشة بنت عبد اللهأمر الله نبيه أن يأتي عرفات فيقف بها ثم يفيض منها فذلك قوله ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس
   سنن النسائى الصغرى3015عائشة بنت عبد اللهيقف بعرفة ثم يدفع منها فأنزل الله ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1910  
´عرفات میں وقوف (ٹھہرنے) کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہرتے تھے اور لوگ انہیں حمس یعنی بہادر و شجاع کہتے تھے جب کہ سارے عرب کے لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے، تو جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات آنے اور وہاں ٹھہرنے پھر وہاں سے مزدلفہ لوٹنے کا حکم دیا اور یہی حکم اس آیت میں ہے: «‏‏‏‏ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» (سورۃ البقرہ: ۱۹۹) تم لوگ وہاں سے لوٹو جہاں سے سبھی لوگ لوٹتے ہیں - یعنی عرفات سے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1910]
1910. اردو حاشیہ: (الحمس۔احمس)کی جمع ہے۔معنی ہیں شجاع اور بہادر اور جاہلیت میں یہ قریش کنانہ اور ان کے متبعین کالقب تھا۔اس معنی میں کہ یہ اپنے دین میں بہت سخت تھے یا ممکن ہے۔(الحمساء) کی نسبت سے یہ لقب اختیار کیا ہو جو کہ کعبہ کا ایک نام ہے۔(تعلیق الشیخ محی الدین عبد الحمید نیز دیکھئے۔حدیث 190
➎ فائدہ۔28-22)
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1910