الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان
The Book of Al-Umra
14. بَابُ الْقُدُومِ بِالْغَدَاةِ:
14. باب: (مسافر کا اپنے) گھر میں صبح کے وقت آنا۔
(14) Chapter. Arriving in the morning.
حدیث نمبر: 1799
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا احمد بن الحجاج، حدثنا انس بن عياض، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا خرج إلى مكة يصلي في مسجد الشجرة، وإذا رجع صلى بذي الحليفة ببطن الوادي، وبات حتى يصبح".(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ الشَّجَرَةِ، وَإِذَا رَجَعَ صَلَّى بذي الحليفة بِبَطْنِ الْوَادِي، وَبَاتَ حَتَّى يُصْبِحَ".
ہم سے احمد بن حجاج نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لے جاتے تو مسجد شجرہ میں نماز پڑھتے۔ اور جب واپس ہوتے تو ذو الحلیفہ کی وادی کے نشیب میں نماز پڑھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک ساری رات وہیں رہتے۔

Narrated Ibn `Umar: Whenever Allah's Apostle left for Mecca, he used to pray in the mosque of Ash-Shajra, and when he returned (to Medina), he used to pray in the middle of the valley of Dhul-Hulaifa and used to pass the night there till morning.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 27, Number 25


   صحيح البخاري2336عبد الله بن عمرأري وهو في معرسه من ذي الحليفة في بطن الوادي فقيل له إنك ببطحاء مباركة
   صحيح البخاري484عبد الله بن عمرينزل بذي الحليفة حين يعتمر وفي حجته حين حج تحت سمرة في موضع المسجد الذي بذي الحليفة وكان إذا رجع من غزو كان في تلك الطريق أو حج أو عمرة هبط من بطن واد فإذا ظهر من بطن واد أناخ بالبطحاء التي على شفير الوادي الشرقية فعرس ثم حتى يصبح ليس عند المسجد الذي بحجا
   صحيح البخاري7345عبد الله بن عمرأري وهو في معرسه بذي الحليفة فقيل له إنك ببطحاء مباركة
   صحيح البخاري1799عبد الله بن عمرإذا خرج إلى مكة يصلي في مسجد الشجرة إذا رجع صلى بذي الحليفة ببطن الوادي وبات حتى يصبح
   صحيح البخاري1532عبد الله بن عمرأناخ بالبطحاء بذي الحليفة فصلى بها
   صحيح البخاري1535عبد الله بن عمررئي وهو في معرس بذي الحليفة ببطن الوادي قيل له إنك ببطحاء مباركة
   صحيح مسلم3282عبد الله بن عمرأناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة فصلى بها
   صحيح مسلم3285عبد الله بن عمرأتي في معرسه بذي الحليفة فقيل له إنك ببطحاء مباركة
   صحيح مسلم2823عبد الله بن عمربات رسول الله بذي الحليفة مبدأه وصلى في مسجدها
   صحيح مسلم3286عبد الله بن عمرأتي وهو في معرسه من ذي الحليفة في بطن الوادي فقيل إنك ببطحاء مباركة
   صحيح مسلم3284عبد الله بن عمرإذا صدر من الحج أو العمرة أناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة التي كان ينيخ بها رسول الله
   صحيح مسلم3283عبد الله بن عمرينيخ بالبطحاء التي بذي الحليفة التي كان رسول الله ينيخ بها ويصلي بها
   سنن أبي داود2012عبد الله بن عمريهجع هجعة بالبطحاء ثم يدخل مكة
   سنن أبي داود2044عبد الله بن عمرأناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة فصلى بها
   سنن النسائى الصغرى2661عبد الله بن عمرإنك ببطحاء مباركة
   سنن النسائى الصغرى2660عبد الله بن عمربات رسول الله بذي الحليفة ببيداء وصلى في مسجدها
   سنن النسائى الصغرى2662عبد الله بن عمرأناخ بالبطحاء التى بذي الحليفة وصلى بها
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم129عبد الله بن عمراناخ بالبطحاء التى بذي الحليفة وصلى بها

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 129  
´سواری کو سترہ بنانا جائز ہے`
«. . . 228- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أناخ بالبطحاء التى بذي الحليفة وصلى بها. قال نافع: وكان عبد الله بن عمر يفعل ذلك. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ ذوالحلیفہ کے پاس بطحاء کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری بٹھائی اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ نافع نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 129]

تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 1532، ومسلم 430/1257 بعد ح1345، من حديث مالك به]
تفقہ
➊ سترے کا اہتمام کرنا چاہئے اور یہ کہ سواری کے جانور کو سترہ بنایا جا سکتا ہے۔
➋ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اتباع سنت میں ہر وقت مستعد رہتے تھے۔
➌ صحیح العقیدہ مسلمان کی ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے امام اعظم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتا رہے۔
➍ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کی نمازیں محصب (مکہ کے قریب ایک مقام) پر پڑھتے پھر رات کو مکہ میں داخل ہوتے اور طواف کرتے تھے۔ [الموطأ 1/405 ح934 وسنده صحيح]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 228   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1799  
1799. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوتے تو مسجد شجرہ میں نماز پڑھتے اور جب واپس تشریف لاتے تو ذوالحلیفہ کی وادی کے نشیب میں نماز ادا کرتے اور صبح تک وہاں رات بسر کرتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1799]
حدیث حاشیہ:
پھر مدینہ میں دن میں تشریف لاتے لہٰذا مناسب ہے کہ مسافر خاص طور پر سفر حج سے واپس ہونے والے دن میں اپنے گھروں میں تشریف لائے کہ اس میں بھی شارع ؑ نے بہت سے مصالح کو مد نظر رکھا ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 1799   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1799  
1799. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوتے تو مسجد شجرہ میں نماز پڑھتے اور جب واپس تشریف لاتے تو ذوالحلیفہ کی وادی کے نشیب میں نماز ادا کرتے اور صبح تک وہاں رات بسر کرتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1799]
حدیث حاشیہ:
مسافر کے لیے ممانعت ہے کہ وہ اچانک رات کے وقت اپنے گھر آئے جیسا کہ آئندہ بیان ہو گا، اس کے علاوہ صبح و شام جب چاہے اپنے گھر آ سکتا ہے، چنانچہ اس حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ واپس تشریف لاتے تو ذوالحلیفہ کی وادی میں رات بسر کرتے، صبح کے وقت اپنے گھر تشریف لاتے۔
اس میں شارع ؑنے بہت سی مصلحتوں کو پیش نظر رکھا ہے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 1799   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.