صحيح مسلم
کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ -- قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
39. باب اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى أَهْلِ الْفَضْلِ وَالْحُذَّاقِ فِيهِ وَإِنْ كَانَ الْقَارِئُ أَفْضَلَ مِنَ الْمَقْرُوءِ عَلَيْهِ:
باب: افضل کا اپنے سے کم کے آگے قرآن پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1864
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأُبَيٍّ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ، قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ، قَالَ: اللَّهُ سَمَّاكَ لِي، قَالَ: فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي ".
ہمام نےکہا: ہم سے قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھارے سامنے قراءت کروں۔"انھوں نےکہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا۔" تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں۔ انہوں نے پوچھا، کیا اللہ تعالیٰ نے آپصلی اللہ علیہ وسلم کو میرا نام لے کرفرمایا ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا نام لے کر فرمایا ہے۔ تو حضرت ابی رونے لگے۔
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1864  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اہل علم اور صاحب کمال کی قدر دانی کے لیے اس کو ایک اعلیٰ اور افضل شخصیت کا قرآن سنانا ایک پسندیدہ طرز عمل ہے،
جس سے اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اس کو شرف و سعادت نصیب ہوتا ہے۔
حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے قرآن میں مہارت و شغف کی بنا پر یہ بلند مقام نصیب ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام لے کر اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کو قرآن مجید سنانے کی سعادت سے مشرف فرمانے کا حکم دیا،
تاکہ آئندہ بھی کوئی استاد اپنے شاگرد کو قرآن سنانے میں عار محسوس نہ کرے اور تاکہ شاگرد اپنے استاد کا لہجہ اور طرز اور اچھی طرح محفوظ کرے اور آگے اپنے شاگردوں کو اسی طرح پڑھائے اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس دوہری سعادت کے حصول پر اس قدر فرحت و مسرت حاصل ہوئی کہ وہ اس کا حق شکر ادا نہ کر سکتے تھے،
اس لیے روپڑے کہ میں کیا،
میری حیثیت کیا،
اور کہاں اتنا شرف کہ رب کائنات نام لے کر،
اپنے رسول کو مجھے یہ شرف عنایت فرمانے کا حکم صادر فرمائے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1864