صحيح مسلم
كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ -- لباس اور زینت کے احکام
3ق. باب تَحْرِيمِ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَغَيْرِ ذٰلَكَ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 5410
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ أَبِي ذِبْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ، يقول: أَلَا لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ ".
شعبہ نے خلیفہ بن کعب ابی زبیان سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: سنو!اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ کیونکہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کو (یہ حدیث بیا ن کرتے ہوئے) سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ر یشم نہ پہنو، کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔"
ابو ذیبان خلیفہ بن کعب بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خطبہ میں یہ کہتے ہوئے سنا: خبردار! اپنی عورتوں کو ریشمی لباس نہ پہناؤ، کیونکہ میں نے عمر بن خطاب کو یہ کہتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشم نہ پہنو، کیونکہ جس نے اسے پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5410  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے عموم سے یہ سمجھتے تھے کہ ریشم مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے حرام ہے،
بعض صحابہ اور تابعین کا یہی موقف تھا،
لیکن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزر چکا ہے کہ آپ نے حضرت علی اور اسامہ رضی اللہ عنہما کو فرمایا تھا کہ ریشمی جوڑے کے دو پٹے بنا کر عورتوں کو دے دیں اور سنن اور منصور احمد کی روایت ہے،
جسے ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے،
کہ آپ نے ریشم اور سونے کو مردوں کے لیے حرام قرار دیا اور عورتوں کے لیے حلال ٹھہرایا۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5410