صحيح البخاري
كِتَاب الْحَجِّ -- کتاب: حج کے مسائل کا بیان
121. بَابُ يُتَصَدَّقُ بِجُلُودِ الْهَدْيِ:
باب: قربانی کی کھال خیرات کر دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 1717
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ , وَعَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا شَيْئًا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ، ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حسن بن مسلم اور عبدالکریم جزری نے خبر دی کہ مجاہد نے ان دونوں کو خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبر دی، انہیں علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کی ہر چیز گوشت چمڑے اور جھول خیرات کر دیں اور قصائی کی مزدوری اس میں سے نہ دیں۔
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3099  
´ہدی کے اونٹوں پر جھول ڈالنے کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ہدی کے اونٹوں کی نگرانی کا حکم دیا، اور کہا کہ میں ان کی جھولیں اور ان کی کھالیں (غریبوں اور محتاجوں میں) بانٹ دوں، اور ان میں سے قصاب کو کچھ نہ دوں، آپ نے فرمایا: ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3099]
اردو حاشہ:
فوئاد و مسائل:

(1)
جانوروں کوسردی وغیرہ سے بچانے کے لیے ان پر جھول ڈالنی درست ہے۔

(2)
قربانی کے جانوروں کی کھالیں اور جھولیں صدقہ کردینی چاہیئں۔

(3)
قربانی کے جانور کا گوشت قصاب کو اجرت کے طور پر دینا جائز نہیں۔

(4)
قربانی کا جانور قصاب سے اجرت دے کر ذبح کروانا جائز ہےجبکہ خود اپنے ہاتھ سےذبح کرنا افضل ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3099   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1166  
´(احکام) قربانی کا بیان`
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم ارشاد فرمایا کہ میں قربانی کے اونٹوں کی نگرانی و حفاظت کروں۔ یہ حکم دیا کہ میں ان کا گوشت اور چمڑا اور جھول کو مساکین و غرباء پر تقسیم کر دوں اور قصاب کو اس سے کچھ بھی نہ دوں۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1166»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الحج، باب لا يعطي الجزار من الهدي شيئًا، حديث:1716، 1717، ومسلم، الحج، باب الصدقة بلحوم الهدايا، وجلودها وجلالها...، حديث:1317.»
تشریح:
1. اس حدیث میں قربانی کے اونٹوں سے مراد حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربان کردہ وہ اونٹ ہیں جنھیں حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے لائے تھے۔
ان کی تعداد ایک سو تھی۔
2.اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت‘ اس کا چمڑا اور اس سے متعلق سامان‘ پالان اور رسی وغیرہ سب کچھ خیرات کر دینا چاہیے اور قصاب کو اجرت اس گوشت میں سے نہیں دی جا سکتی۔
اجرت و معاوضہ الگ سے دینا چاہیے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1166   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1717  
1717. حضرت علی ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ وہ قربانی کے اونٹوں کی نگہداشت کریں اور ان کا گوشت چمڑا اور جھولیں سب خیرات کردیں، نیز قصاب کو بطور اجرت ان میں سے کوئی چیز نہ دیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1717]
حدیث حاشیہ:
یہ وہ اونٹ تھے جو آنحضرت ﷺ حجۃ الوداع میں قربانی کے لیے لے گئے تھے، دوسری روایت میں ہے کہ یہ سو اونٹ تھے ان میں سے تریسٹھ اونٹوں کو تو آنحضرت ﷺ نے اپنے دست مبارک سے نحر کیا، باقی اونٹوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نحر کر دیا۔
(وحیدی)
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں ثم أعطی علیا فنحر ما عبرو أشرکه في هدیه ثم أمر من کل بدنة ببضعة فجعلت في قدر فطبخت فأکلا من لحمها و شربا من مرقها۔
یعنی آپ ﷺ نے بقایا اونٹ حضرت علی ؓ کے حوالہ کر دئیے اور انہوں نے ان کو نحر کیا اور آپ ﷺ نے ان کو اپنی ہدی میں شریک کیا پھر ہر ہر اونٹ سے ایک ایک بوٹی لے کر ہانڈی میں اسے پکایا گیا پس آپ دونوں نے وہ گوشت کھایا اور شوربا پیا۔
یہ کل سو اونٹ تھے جن میں سے آنحضرت ﷺ نے تریسٹھ اونٹ نحر فرمائے باقی حضرت على ﷺ نے نحر کئے۔
قال البغوي في شرح السنة و أما إذا أعطی أجرته کاملة ثم تصدق علیه إذا کان فقیراً کما تصدق علی الفقراء فلا بأس بذلك (فتح)
یعنی امام بغوی نے شرح السنہ میں کہا کہ قصائی کو پوری اجرت دینے کے بعد اگر وہ فقیر ہے تو بطور صدقہ قربانی کا گوشت دے دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
و قد اتفقوا علی أن لحمها لا یباع فکذلك الجلود و الجلال و أجازہ الأوزاعي و أحمد و إسحاق و أبوثور (فتح)
یعنی اس پر اتفاق ہے کہ قربانی کا گوشت بیچا نہیں جاسکتا اس کے چمڑے اور جھول کا بھی یہی حکم ہے مگر ان چیزوں کو امام اوزاعی اور احمد و اسحق اور ابوثور نے جائز کہا ہے کہ چمڑا اور جھول بیچ کر قربانی کے مستحقین میں خرچ کردیا جائے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1717   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1717  
1717. حضرت علی ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ وہ قربانی کے اونٹوں کی نگہداشت کریں اور ان کا گوشت چمڑا اور جھولیں سب خیرات کردیں، نیز قصاب کو بطور اجرت ان میں سے کوئی چیز نہ دیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1717]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ قربانی کے اونٹوں کی تعداد سو تھی۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1718)
ابوداود کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تیس اونٹ خود ذبح کیے اور باقی حضرت علی ؓ کے سپرد کر دیے کہ وہ انہیں نحر کریں۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1764)
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ قربان گاہ تشریف لے گئے، وہاں جا کر تریسٹھ اونٹ خود ذبح کیے اور باقی اونٹ حضرت علی ؓ نے نحر کیے اور آپ نے انہیں اپنی قربانیوں میں شریک کیا۔
پھر ہر اونٹ سے ایک ایک بوٹی لے کر ہنڈیا میں پکایا گیا۔
پھر آپ دونوں نے گوشت کھایا اور شوربا پیا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2950(1218)
ابوداود کی روایت کو شیخ البانی ؒ وغیرہ نے منکر اور صحیح مسلم کی روایت کو راجح قرار دیا ہے، تاہم اگر ابوداود کی روایت صحیح ثابت ہو جائے تو پھر ان روایات میں تطبیق اس طرح ہے کہ پہلے آپ نے تیس اونٹ ذبح کیے، پھر حضرت علی ؓ نے سینتیس اونٹ نحر کیے، اس کے بعد پھر رسول اللہ ﷺ نے تینتیس اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کیے۔
(2)
قربانی کی کھالیں غرباء و مساکین میں تقسیم کر دینی چاہئیں۔
انہیں فروخت کر کے ان کی رقم بھی دی جا سکتی ہے۔
قربانی کی کھال کو ڈول یا مصلے کی شکل میں خود بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قربانی اور ہدی کے گوشت کو مت فروخت کرو، خود کھاؤ اور اپنے تصرف میں لاؤ، اسی طرح ان کی کھالیں خود استعمال کرو، انہیں مت فروخت کرو، ان کا گوشت خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔
(مسندأحمد: 15/4)
بہرحال قصاب کو بطور اجرت دینا منع ہے، ہاں اسے گوشت بطور صدقہ ہدیہ دینا جائز ہے مگر احتیاط اسی میں ہے کہ اسے گوشت نہ دیا جائے کیونکہ اس طرح مزدودی میں وہ کچھ نہ کچھ لحاظ کرے گا۔
(فتح الباري: 703/3)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1717