صحيح البخاري
كِتَاب الْبُيُوعِ -- کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
51. بَابُ الْكَيْلِ عَلَى الْبَائِعِ وَالْمُعْطِي:
باب: ناپ تول کرنے والے کی مزدوری بیچنے والے پر اور دینے والے پر ہے (خریدار پر نہیں)۔
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَاسْتَعَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ، أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ، فَطَلَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَفْعَلُوا، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، وَعَذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَيَّ، فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ، أَوْ فِي وَسَطِهِ، ثُمَّ قَالَ: كِلْ لِلْقَوْمِ، فَكِلْتُهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمُ الَّذِي لَهُمْ، وَبَقِيَ تَمْرِي، كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ"، وَقَالَ فِرَاسٌ: عَنْ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّاهُ، وَقَالَ هِشَامٌ: عَنْ وَهْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جُذَّ لَهُ فَأَوْفِ لَهُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں جریر نے خبر دی، انہیں مغیرہ نے، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ (میرے باپ) شہید ہو گئے تو ان کے ذمے (لوگوں کا) کچھ قرض باقی تھا۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کوشش کی کہ قرض خواہ کچھ اپنے قرضوں کو معاف کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چاہا، لیکن وہ نہیں مانے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجور کی قسموں کو الگ الگ کر لو۔ عجوہ (ایک خاص قسم کی کھجور) کو الگ رکھ اور عذق زید (کھجور کی ایک قسم) کو الگ کر۔ پھر مجھے بلا بھیج۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پر یا بیچ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کر دو۔ میں نے ناپنا شروع کیا۔ جتنا قرض لوگوں کا تھا۔ میں نے سب کو ادا کر دیا، پھر بھی تمام کھجور جوں کی توں تھی۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی کمی نہیں ہوئی تھی۔ فراس نے بیان کیا کہ ان سے شعبی نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ برابر ان کے لیے تولتے رہے، یہاں تک کہ ان کا پورا قرض ادا ہو گیا۔ اور ہشام نے کہا، ان سے وہب نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کھجور توڑ اور اپنا قرض پورا ادا کر دے۔
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3347  
´قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرا کچھ قرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3347]
فوائد ومسائل:
قرض ادا کرتے ہوئے اگر انسان اپنی خوشی سے کچھ مذید دے تو یہ احسان ہے۔
سود کے زمرے میں نہیں آتا۔
اس حدیث کو بنک کے سود کے حامی اپنی دلیل کے طور پرپیش کرتے ہیں۔
حالانکہ بنک اپنے گاہکوں سے احسان پر مبنی ایسا سلوک نہیں کرتے۔
بلکہ اصل زر سے زائد کا معاہدہ طے ہوتا ہے۔
جس کا لینا دینا بالکل ناجائز اور حرام ہے۔
اس حدیث میں واضح ہے کہ قرض پرکوئی اضافہ طے نہ تھا۔
نہ رسول اللہ ﷺ نے زائد دینے کا معاہدہ کیا تھا۔
نہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مطالبہ تھا۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3347   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2127  
2127. حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ (میرےوالد) حضرت عبد اللہ بن عمروبن حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب وفات پائی تو ان پر کچھ قرض تھا لہٰذا میں نے نبی ﷺ سے سفارش کرائی کہ قرض خواہ کچھ معاف کردیں۔ نبی ﷺ نے ان کے لیے ان لوگوں سے سفارش کی لیکن انھوں نے اسے منظور نہ کیا۔ تب نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "جاؤ اپنی کھجوروں کو چھانٹ کر ہر قسم علیحدہ علیحدہ کرلو۔ عجوہ اور غدق ابن زید الگ الگ کر کے مجھے اطلاع دینا۔ "چنانچہ میں نے یہی کیا اس کے بعد نبی ﷺ کو بلانے کے لیے(کسی کو) بھیجا۔ آپ تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پریا اس کے درمیان بیٹھ گئے۔ پھر مجھے فرمایا: " قرض خواہوں کو ناپ ناپ کردو۔ "میں نے ناپ کر سب کے حصے پورے کردیے، پھر بھی اس قدر کھجوریں باقی رہیں جیسے ان سے کچھ بھی کم نہ ہواہو۔ فراس نے امام شعبی سے بیان کیا، انھیں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ﷺ سے کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2127]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے جہاں ایک عظیم معجزہ نبوی ثابت ہوا، وہاں یہ مسئلہ بھی نکلا کہ اپنے قرض خواہوں کو حضرت جابر رضی اللہ عنہ ان کے قرض کے عوض میںکھجوریں دے رہے تھے۔
اور ناپ تول کا کام بھی خود ہی انجام دے رہے تھے۔
اسی سے یہ نکلا کہ ادا کرنے والا ہی خود اپنے ہاتھ سے وزن کرے۔
یہی باب کا مقصد ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2127   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2127  
2127. حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ (میرےوالد) حضرت عبد اللہ بن عمروبن حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب وفات پائی تو ان پر کچھ قرض تھا لہٰذا میں نے نبی ﷺ سے سفارش کرائی کہ قرض خواہ کچھ معاف کردیں۔ نبی ﷺ نے ان کے لیے ان لوگوں سے سفارش کی لیکن انھوں نے اسے منظور نہ کیا۔ تب نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "جاؤ اپنی کھجوروں کو چھانٹ کر ہر قسم علیحدہ علیحدہ کرلو۔ عجوہ اور غدق ابن زید الگ الگ کر کے مجھے اطلاع دینا۔ "چنانچہ میں نے یہی کیا اس کے بعد نبی ﷺ کو بلانے کے لیے(کسی کو) بھیجا۔ آپ تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پریا اس کے درمیان بیٹھ گئے۔ پھر مجھے فرمایا: " قرض خواہوں کو ناپ ناپ کردو۔ "میں نے ناپ کر سب کے حصے پورے کردیے، پھر بھی اس قدر کھجوریں باقی رہیں جیسے ان سے کچھ بھی کم نہ ہواہو۔ فراس نے امام شعبی سے بیان کیا، انھیں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ﷺ سے کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2127]
حدیث حاشیہ:

مذکورہ بالا عنوان کے دو جز ہیں:
٭ ناپ تول فروخت کرنے والے کے ذمے ہے۔
٭دینے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناپ تول کرے یا اس کی مزدوری دے۔
پہلا حصہ پہلی حدیث سے ثابت ہوا۔
اس حدیث سے جہاں ایک عظیم معجزہ ثابت ہوا وہاں یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ ناپ تول کاکام دینے والے کے ذمے ہے،خواہ وہ قرض اتارنے والا ہی کیوں نہ ہو۔
چونکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ قرض اتارنے کے لیے کھجوریں دے رہے تھے،اس لیے ناپ تول کردینا بھی انھی کی ذمہ داری تھی۔
بہر حال جنس دینے والا خود اپنے ہاتھ سے وزن کرکے دےگا،خواہ وہ فروخت کرنے والا ہو یا قرض اتارنے والا ہو۔
اگر وہ خود وزن نہیں کرتا تو اس کی مزدوری برداشت کرے۔
(2)
واضح رہے کہ عذق ابن زید اور عجوہ کھجوروں کی اقسام ہیں۔
مدینہ طیبہ میں کئی قسم کی کھجوریں پائی جاتی ہیں۔
شیخ ابو محمد جو جوینی نے لکھا ہے:
مدینہ طیبہ میں سیاہ کھجوروں کی اقسام ساٹھ سے زائد ہیں اور سرخ کھجوروں کی اقسام ان سے بھی زیادہ ہیں۔
(فتح الباری: 4/436)
(3)
فراس کی روایت کو امام بخاری رحمہ اللہ نے خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاری،الوصایا،حدیث: 2781)
ہشام سے مراد ہشام بن عروہ ہیں اور اس روایت کو بھی امام بخاری رحمہ اللہ نے موصولاً بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاری،الاستقراض،حدیث: 2396)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2127