صحيح البخاري
كِتَاب الْبُيُوعِ -- کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
82. بَابُ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ، وَهْيَ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ وَبَيْعُ الْعَرَايَا:
باب: بیع مزابنہ کے بیان میں اور یہ خشک کھجور کی بیع درخت پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے اور خشک انگور کی بیع تازہ انگور کے بدلے میں ہوتی ہے اور بیع عرایا کا بیان۔
حدیث نمبر: 2188
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے برابر میوے کے بدل بیچ ڈالے۔
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 498  
´اندازے سے مال بیچنے کا حکم`
«. . . 237- وبه: عن ابن عمر عن زيد بن ثابت: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أرخص لصاحب العرية أن يبيعها بخرصها. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کے مالک کو اجازت دی ہے کہ وہ اندازے سے (اُکا) انہیں بیچ سکتا ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 498]

تخریج الحدیث: [واخرجه البخاري 2188، و مسلم 1539/60، من حديث مالك به]
تفقہ:
➊ دیکھئے حدیث سابق: 157
➋ اگر دکاندار اور گاہک دونوں راضی ہوں تو مال کو اندازے سے یعنی اُکا بیچا جا سکتا ہے۔ ➌ دین اسلام مکمل دین ہے جس میں زندگی کے ہر مرحلے اور مسئلے کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ والحمد للہ
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 237   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2269  
´عرایا کی بیع یعنی کھجور کے درخت کو انداز ے سے خشک کھجور کے بدلے خریدنے کا بیان۔`
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی بیع میں اجازت دی ہے کہ اندازہ سے اس کے برابر خشک کھجور کے بدلے خرید و فروخت کی جائے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ عریہ یہ ہے کہ ایک آدمی کھجور کے کچھ درخت اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے اندازہ کر کے اس کے برابر خشک کھجور کے بدلے خریدے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2269]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عام قانون یہی ہے کہ کھجور کے بدلے میں کھجور کا تبادلہ دست بدست اور برابر برابر ہونا چاہیے لیکن عرایا کا مسئلہ اس عام قانون سے مستثنیٰ ہے۔

(2)
امام مالک رحممۃ اللہ علیہ نے عرایا کی تفسیر یوں کی ہے:
عریہ یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو کھجور کا ایک درخت (پھل کھانے کے لیے)
دیتا ہے، پھر اس کے (بار بار)
باغ میں آنے سے تکلیف محسوس کرتا ہے تو اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ (اسے دیا ہوا وہ)
درخت خشک کھجوروں عوض خرید لے۔ (صحیح البخاري، البیوع، باب تفسیر العرایا، قبل حدیث: 2192)
 اس کا طریقہ یہ کہ درخت کے پھل کا اندازہ لگایا جائے کہ خشک ہو کر اتنے من ہوگا، پھر اتنے من خشک کھجوریں اسے دے کر درخت واپس لے لیا جائے۔
اس صورت میں خشک کھجوروں کےعوض تازہ کھجوریں (درخت پر لگی ہوئی)
خریدی گئی ہیں اور خشک کھجوریں ماپ تول کر دی گئی ہیں۔
یہ جائز ہے بشرطیکہ ان کی مقدار پانج وسق (بیس من)
سے کم ہو۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2269   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2188  
2188. حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عریہ کے مالک کو اجازت دی کہ وہ کھجور کو اندازے سے فروخت کرسکتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2188]
حدیث حاشیہ:
یعنی باغ والے کے ہاتھ۔
یہ صحیح ہے کہ عریہ بھی مزابنہ ہے مگر آنحضرت ﷺ نے اس کی اجازت دی۔
اس وجہ سے کہ عریہ خیر خیرات کا کام ہے۔
اگر عریہ میں یہ اجازت نہ دی جاتی تو لوگ کھجور یا میوے کے درخت مسکینوں کو للہ دینا چھوڑ دیتے۔
اس لیے کہ اکثر لوگ یہ خیال کرتے کہ ہمارے باغ میں رات بے رات مسکین گھستے رہیں گے۔
اور ان کے گھسنے اور بے موقع آنے سے ہم کو تکلیف ہوگی۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2188   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2188  
2188. حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عریہ کے مالک کو اجازت دی کہ وہ کھجور کو اندازے سے فروخت کرسکتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2188]
حدیث حاشیہ:
(1)
مزابنہ، زبن سے مشتق ہے جس کے معنی دفع کرنے کے ہیں۔
چونکہ مزابنہ، جو تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے سے عبارت ہے، اس کے عوضین میں فرق زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اس میں لڑائی جھگڑے کا زیادہ احتمال ہے۔
فریقین میں سے کوئی اپنے حق میں نقصان محسوس کرے گا تو اس بیع کو دفع کرنے کی کوشش کرے گا۔
حدیث میں اس کی دو صورتیں بیان ہوئی ہیں:
٭تازہ کھجور خشک کھجور کے عوض فروخت کرنا۔
٭انگور و منقی کے عوض فروخت کرنا۔
اگرچہ عوضین ماپ اور وزن میں برابر ہی کیوں نہ ہوں، تاہم تازہ پھل خشک ہونے کے بعد کم ہوجاتا ہے، اس لیے منع کیا گیا ہے، البتہ محدود پیمانے پر عرایا کی اجازت ہے۔
اس کا تعلق عرب کے عطایا خاصہ سے ہے۔
عرب لوگ غرباء اور مساکین کو کھجور کے درخت عنایت کردیتے کہ تم ان کا پھل استعمال کرسکتے ہو لیکن جب ان کا آنا جانا ہوتا تو باغ والا تنگی محسوس کرتا، اس لیے انھیں اجازت دی گئی کہ وہ درختوں پر کھجور کا اندازہ کرکے اتنی مقدار میں خشک کھجوریں دے دیں اور درخت اپنے پاس رہنے دیں۔
یہ بیع اصلاً ناجائز ہے کیونکہ ہوسکتا ہے ایک طرف کی کھجوریں زیادہ ہوں لیکن شارع ؑ نے اس کی اجازت دی ہے کیونکہ یہ فقراء کی بیع ہے۔
حدیث میں پانچ وسق یا اس سے کم مقدار میں اس طرح خریدوفروخت کرنے کی اجازت ہے۔
(2)
ان احادیث میں لفظ محاقلہ بھی استعمال ہوا ہے۔
اس کے معنی یہ ہیں:
خوشے میں گندم کی بیع صاف گندم کے عوض کرنا۔
اس سے بھی رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2188