سنن نسائي
كتاب مناسك الحج -- کتاب: حج کے احکام و مناسک
139. بَابُ : طَوَافِ الرِّجَالِ مَعَ النِّسَاءِ
باب: مردوں کا عورتوں کے ساتھ طواف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2930
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَدِمَتْ مَكَّةَ وَهِيَ مَرِيضَةٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" طُوفِي مِنْ وَرَاءِ الْمُصَلِّينَ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ" , قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ: وَالطُّورِ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ مکہ آئیں، اور وہ بیمار تھیں، تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا سوار ہو کر نمازیوں کے پیچھے سے طواف کر لو، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ کعبہ کے پاس «والطور» پڑھ رہے تھے۔

تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 2928 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 302  
´ معذور اور بیمار شخص سواری پر طواف کر سکتا ہے`
«. . . عن أم سلمة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أنها قالت: شكوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أني أشتكي فقال: طوفي من وراء الناس وأنت راكبة . . .»
. . . ‏‏‏‏ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے پیچھے ہٹ کر سواری کی حالت میں ہی طواف کرو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/0: 302]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 464، ومسلم 1276، من حديث مالك به]

تفقه
➊ اس پر اجماع ہے کہ معذور اور بیمار شخص سواری (مثلاً کرسی، ہاتھ والی چارپائی وغیرہ) پر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر سکتا ہے۔ دیکھئے: [التمهيد 13/99،]
➋ قول راجح میں یہ صبح کی نماز تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا رہے تھے۔
➌ جس طرح نماز میں عورتیں مردوں کی صف سے پیچھے ہوتی ہیں اسی طرح طواف کے دوران میں بھی انھیں مردوں سے ہٹ کر اور پیچھے رہ کر طواف کرنا چاہیے۔ اگر علیحدہ طواف کا بندوبست نہ ہو تو اضطراری حالت کی وجہ سے مردوں کے ساتھ ہی، علیحدہ رہ کر طواف کرنا جائز ہے جیسا کہ صحيح بخاري [1618] کی حدیث سے ثابت ہے۔
➍ عورت پر نماز باجماعت میں شرکت ضروری نہیں ہے خواہ وہ مسجد میں ہو۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 91   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2930  
´مردوں کا عورتوں کے ساتھ طواف کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ مکہ آئیں، اور وہ بیمار تھیں، تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا سوار ہو کر نمازیوں کے پیچھے سے طواف کر لو، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ کعبہ کے پاس «والطور» پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2930]
اردو حاشہ:
(1) یہ صبح کی نماز تھی۔
(2) حضرت ام سلمہؓ کو اوپر اوپر سے طواف کرنے کا حکم مردوں سے دور رہنے کی خاطر نہیں بلکہ ان کی بیماری کے پیش نظر دیا گیا تھا۔ باقی عورتوں نے مردوں کے ساتھ ہی طواف کیا تھا۔ اس جگہ کا تقدس ہی ایسا ہے کہ باوجود اکٹھے طواف کرنے کے ذہن ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں سال اکٹھے طواف ہوتے ہوئے گزر چکے ہیں مگر کبھی کسی کو کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی حالانکہ حج کے دنوں میں طواف کے دوران میں مردوں اور عورتوں کا شدید ازدحام ہوتا ہے۔ سچ فرمایا باری تعالیٰ نے: ﴿فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا﴾ (آل عمران: 3: 97) یقینا دنیا ایسے عظیم الشان تقدس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2930   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2961  
´بیمار کے سواری پر طواف کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ بیمار ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرنے کا حکم دیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «والطور وكتاب مسطور» کی قرات فرما رہے تھے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2961]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی معقول عذر کی بناء پر طواف سواری پر کیا جاسکتا ہے۔

(2)
آج کل معمر افراد جو چل کر طواف نہیں کرسکتے ڈولی وغیرہ پر طواف کرلیتے ہیں۔
اس حدیث کی روشنی میں ان کا یہ عمل درست ہے۔
اسی طرح زیادہ رش اور ہجوم کی صورت میں طواف کا دوگانہ بھی مسجد سے باہر ادا کیا جا سکتا ہے۔ (صحيح البخاري، الحج، باب من صلي ركعتي الطواف خارجاً من المسجد، حديث: 1626)

(3)
حدیث میں جس نماز کا ذکر ہے وہ فجر کی نماز تھی۔ (صحيح البخاري، حوالہ مذکورہ بالا)

(4)
رسول اللہ ﷺ نے ایک بار خود بھی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا تھا۔ (صحيح البخاري، الحج، باب المريض يطوف راكباً، حديث: 1632 وسنن ابن ماجة، المناسك، باب: 28، حديث: 2948/ 2949)
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2961   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1882  
´طواف واجب کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو ۱؎، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور «الطور * وكتاب مسطور» کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1882]
1882. اردو حاشیہ: سواری پر طواف کرنا رسول اللہ ﷺکی خصوصیت نہ تھی بلکہ ہر صاحب عذر کو اس کی رخصت حاصل ہے۔
➋ طواف میں عورتوں کو حتیٰ الامکان اختلاط سے بچنا چاہیے۔
➌ عورتوں کو مردوں کی جماعت میں شریک ہونا واجب نہیں ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1882