صحيح البخاري
كِتَاب الصُّلْحِ -- کتاب: صلح کے مسائل کا بیان
14. بَابُ الصُّلْحِ بِالدَّيْنِ وَالْعَيْنِ:
باب: کچھ نقد دے کر قرض کے بدلے صلح کرنا۔
حدیث نمبر: 2710
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتٍ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، فَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا كَعْبُ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ، فَقَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ فَاقْضِهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنا قرض طلب کیا، جو ان کے ذمہ تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا واقعہ ہے۔ مسجد کے اندر ان دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ اٹھا کر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اے کعب! انہوں نے کہا یا رسول اللہ، میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا معاف کر دے۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کر دیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے) فرمایا کہ اب اٹھو اور قرض ادا کر دو۔
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2429  
´قرض کی وجہ سے قید کرنے اور قرض دار کو پکڑے رہنے کا بیان۔`
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے، اور کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی، تو وہ بولے: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا، تو وہ بولے: میں نے چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھو، جاؤ ان ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2429]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرض خواہ مقروض سےقرض کی واپسی کا تقاضا کرسکتا ہے۔

(2)
دوآدمیوں میں کسی بات پرجھگڑا ہو جائے تو صلح کرا دیں چاہیے خاص طورپروہ شخص جس کوجھگڑنے والوں پر کسی قسم کی فضیلت حاصل ہو اوراس کی بات مانی جاتی ہو تو اس کےلیے ضروری ہے کہ جھگڑا ختم کرائے۔

(3)
صلح کے لیے صاحب حق اپنا کچھ حق چھوڑ دے تو بہت ثواب کی بات ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2429   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3595  
´صلح کا بیان۔`
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پکارا اور کہا: اے کعب! تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کر دیا اللہ کے رسول۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3595]
فوائد ومسائل:
فائدہ: قاضی اور حاکم کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ عوام کے تنازعات میں ان کی صلح کرا دے۔
اور مالی حقوق میں صاحب حق خوشی سے اگر اپنا حق چھوڑدے تو جائز ہے، صلح میں جبر نہیں ہے۔
 
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3595   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2710  
2710. حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے، انھوں نے ابن ابی حدرد ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں مسجد کے اندر اپنے قرض کا تقاضا کیا۔ اس دوران میں ان دونوں کی آوازیں اس قدر بلند ہوئیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں اپنے گھر میں سماعت فرمایا۔ آپ اس وقت اپنے حجرے میں تشریف رکھتے تھے، چنانچہ آپ باہر تشریف لائے اوراپنے حجرے کا پردہ اٹھا کر حضرت کعب بن مالک ؓ کو آواز دی: اے کعب! انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! میں حاضر ہوں۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کردو۔ حضرت کعب ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ!میں نے ایسا کردیا۔ آپ نے مقروض سے فرمایا: اٹھو اور باقی ماندہ قرض ادا کردو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2710]
حدیث حاشیہ:
قرض کے متعلق صلح کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کچھ کمی کر دی جائے۔
اس کی دو صورتیں ہیں:
ایک یہ ہے کہ آئندہ ادائیگی کے وعدے پر اس میں کمی کر دی جائے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاتے ہی حضرت کعب بن مالک ؓ نے اپنے مقروض کا نصف قرض معاف کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اٹھو اور باقی ماندہ نصف جلد ادا کر دو۔
دوسری یہ ہے کہ نقد ادا کرنے پر اس میں سے کچھ کم کر دیا جائے، یعنی تین سو روپے قرض کی فوری ادائیگی پر ایک سو روپیہ چھوڑ دیا جائے، دو سو روپیہ وصول کر کے مقروض کو رہا کر دیا جائے۔
حدیث میں نقد ادائیگی کا ذکر نہیں ہے۔
امام بخاری ؒ نے نقد کو قرض پر قیاس کیا ہے۔
جب قرض میں صلح ہو سکتی ہے تو نقد ادائیگی میں بطریق اولیٰ صلح ہونی چاہیے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2710