سنن ترمذي
أبواب العيدين عن رسول الله صلى الله عليه وسلم -- کتاب: عیدین کے احکام و مسائل
35. باب مَا جَاءَ لاَ صَلاَةَ قَبْلَ الْعِيدِ وَلاَ بَعْدَهَا
باب: نماز عید سے پہلے اور اس کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 538
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ خَرَجَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ عید کے دن نکلے تو انہوں نے نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد اور ذکر کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8576) (حسن صحیح)»

قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، الإرواء (3 / 99)
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 390  
´نماز عیدین کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ عیدین کی نماز خطبہ (عیدین) سے پہلے پڑھتے تھے۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 390»
تخریج:
«أخرجه البخاري، العيدين، باب الخطبة بعد العيد، حديث:963، ومسلم، صلاة العيدين، حديث:888.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عیدین میں نماز پہلے ادا کی جائے اور خطبہ بعد میں۔
بنو امیہ کے دور میں مروان بن حکم وہ پہلا حکمران ہے جس نے نماز سے پہلے خطبہ دینے کا آغاز کیا۔
اسی وقت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس پر احتجاج کیا اور برملا کہا کہ تو نے سنت کے خلاف کیا ہے۔
(صحیح مسلم‘ صلاۃ العیدین‘ باب صلاۃ العیدین‘ حدیث:۸۸۹)
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 390   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 531  
´عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے اور اس کے بعد خطبہ دیتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 531]
اردو حاشہ: 1 ؎:
مگر ایک صحابی رسول ﷺ نے اُسے اس بدعت کی ایجاد سے روک دیا تھا رضی اللہ عنہ وارضاہ۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 531