موطا امام مالك رواية ابن القاسم
روزوں کے مسائل

سفر میں روزہ رکھنے کا اختیار ہے
حدیث نمبر: 249
147- قال مالك: حدثني حميد الطويل عن أنس بن مالك قال: سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے کو برا نہیں سمجھتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا ۔

تخریج الحدیث: «147- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 295/1 ح 661، ك 18 ب 7 ح 23) التمهيد 169/2، وقال: ”هذا حديث متصل صحيح“ الاستذكار:611، و أخرجه البخاري (1947) من حديث مالك به ورواه مسلم (118/99) من حديث حميد الطويل به صرح بالسماع عنده.»
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 249  
´سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا دونوں طرح جائز ہے`
«. . . عن انس بن مالك قال: سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم . . .»
. . . سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے کو برا نہیں سمجھتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 249]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1947، من حديث مالك به ورواه مسلم 99/118، من حديث حميد الطّويل به وصرّح بالسماع عنده]

تفقه:
➊ سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا دونوں طرح جائز ہے۔
● اگر رمضان کے روزے افطار کئے تو بعد میں اُن کی قضا میں روزے رکھنا ہوں گے۔
● اگر سفر میں گرمی زیادہ ہو اور سخت مشقت ہو تو افطار کرنا افضل ہے۔
➋ نیز دیکھئے: [ح 465]
➌ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سفر میں روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [موطأ امام مالك 1/295 ح663 وسنده صحيح]، جبکہ عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ سفر میں روزہ رکھتے تھے۔ [ايضاً ح664 وسنده صحيح]
➍ اگر دو کاموں کا ثبوت شریعت میں ہو تو ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔
➎ کتاب و سنت کے خلاف بات پر رد کرنا بالکل صحیح ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 147