صحيح البخاري
كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ -- کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
7. بَابُ إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ. وَالْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ:
باب: اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا (جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر باآواز بلند) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر (زور سے) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ (با آواز بلند) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3231
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ: لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟، قَالَ:" لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ مَا لَقِيتُ وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ، وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ، فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ: ذَلِكَ فِيمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے کہا، ان سے عروہ نے کہا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کیا آپ پر کوئی دن احد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا یہ وہ موقع تھا جب میں نے (طائف کے سردار) کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے (اسلام کو قبول نہیں کیا اور) میری دعوت کو رد کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہو کر واپس ہوا۔ پھر جب میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھ کو کچھ ہوش آیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اس میں موجود ہیں، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا اور جو انہوں نے رد کیا ہے وہ بھی سن چکا۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے، آپ ان کے بارے میں جو چاہیں اس کا اسے حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی، انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر انہوں نے بھی وہی بات کہی، آپ جو چاہیں (اس کا مجھے حکم فرمائیں) اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں (جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی۔
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3231  
3231. حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: کیا آپ پر اُحد کے دن سے سخت دن بھی کبھی آیا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے تمہاری قوم کی طرف سے سخت تکالیف کا سامنا کیا ہے اور لوگوں سے سخت تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن تھی۔ جب میں نے خود کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری خواہش کے مطابق جواب نہ دیا۔ میں رنجیدہ منہ چلتا ہوا وہاں سے لوٹا۔ (مجھے ہوش نہیں تھا کہ کدھر جارہا ہوں؟)جب قرن ثعالب پہنچا توذرا ہوش آیا۔ میں نے اوپر سر اٹھایا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کردیا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس میں حضرت جبرئیل ؑ موجود ہیں۔ انھوں نے مجھے آواز دی کہ اللہ تعالیٰ نے وہ جواب سن لیاہے جو آپ کی قوم نے آپ کو دیا ہے اور اس نے آپکے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجاہے۔ آپ اسے کافروں کے متعلق جو چاہیں حکم دیں؟پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3231]
حدیث حاشیہ:
یہ طائف کا مشہور واقعہ ہے جب آنحضرت ﷺ اپنے شفیق چچا ابوطالب کے انتقال کے بعد بغرض تبلیغ اسلام طائف تشریف لے گئے تھے، آپ ﷺ نے وہاں کے سرداروں کو خصوصیت کے ساتھ اسلام کی دعوت دی، مگر وہ لوگ بدتمیزی سے پیش آئے اور آپ کے پیچھے اوباش لڑکوں کو لگادیا جن کی حرکات سے آپ کو سخت تکلیف کا سامنا ہوا، مگر ان حالات میں بھی آپ نے ان پر عذاب پسند نہیں فرمایا، بلکہ ان کی ہدایت کی دعا فرمائی جو قبول ہوئی۔
حضرت امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو لاکر اس سے بھی فرشتوں کا وجود ثابت فرمایا۔
اخشبین سے مراد مکہ کے دو مشہور پہاڑ جبل ابوتبیس اور جبل قعیقعان مراد ہیں۔
لفظ عقبہ جو روایت میں آیاہے یہ طائف کی طرف ایک گھاٹی کا نام ہے۔
طائف کی طرف آپ ﷺ شوال10نبوی میں تشریف لے گئے تھے۔
پہلے وہاں کے لوگوں نے خود آپ کو بلا بھیجا تھا بعد میں وہ مخالف ہوگئے اور انہوں نے آپ ﷺ پر پتھر مارے، ایک پتھر آپ کی ایڑی میں لگا اور آپ زخمی ہوگئے۔
اس قدر ستانے کے باوجود آپ ﷺ نے ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔
صلی اللہ علیه وسلم
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3231   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3231  
3231. حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: کیا آپ پر اُحد کے دن سے سخت دن بھی کبھی آیا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے تمہاری قوم کی طرف سے سخت تکالیف کا سامنا کیا ہے اور لوگوں سے سخت تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن تھی۔ جب میں نے خود کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری خواہش کے مطابق جواب نہ دیا۔ میں رنجیدہ منہ چلتا ہوا وہاں سے لوٹا۔ (مجھے ہوش نہیں تھا کہ کدھر جارہا ہوں؟)جب قرن ثعالب پہنچا توذرا ہوش آیا۔ میں نے اوپر سر اٹھایا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کردیا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس میں حضرت جبرئیل ؑ موجود ہیں۔ انھوں نے مجھے آواز دی کہ اللہ تعالیٰ نے وہ جواب سن لیاہے جو آپ کی قوم نے آپ کو دیا ہے اور اس نے آپکے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجاہے۔ آپ اسے کافروں کے متعلق جو چاہیں حکم دیں؟پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3231]
حدیث حاشیہ:

یہ واقعہ نبوت کے دسویں سال پیش آیا جب حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ اور جناب ابوطالب فوت ہوچکے تھے اور کفار کی ایذا رسانی میں شدت آگئی تھی۔
آپ اس امید پر طائف تشریف لے گئے کہ وہاں کچھ سہارا ملے گا۔
آپ وہاں قبیلہ ثقیف کے تین سرداروں کے پاس گئے اور اپنی قوم کے مظالم کی ان سے شکایت کی تو انھوں نے آپ کی مدد کرنے کی بجائے آپ سے سخت رویہ اختیار کیا جس سے آپ کو شدید دھچکا لگا۔
آپ وہاں دس روز ٹھہرے۔

عقبہ، منی کے میدان میں ایک وادی کا نام ہے۔
اسی طرح قرن ثعالب بھی مکہ سے دوسراحل پر واقع ہے۔
طائف میں سرداروں نے آپ سے بدتمیزی کی اور اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگادیا۔
انھوں نے آپ کو پتھر مارے۔
ایک پتھر آپ کی ایڑی پر لگا جس سے آپ زخمی ہوگئے۔
اس قدر ستائے جانے کے باوجود آپ نے ان کے لیے دعائے خیر کی جو اللہ تعالیٰ کے ہوں قبول ہوئی۔

امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے فرشتوں کا وجود اور ان کی کارکردگی ثابت کی ہے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3231