صحيح البخاري
كِتَاب الصَّلَاةِ -- کتاب: نماز کے احکام و مسائل
30. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} :
باب: اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ”مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ“۔
حدیث نمبر: 395
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ، عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ الْعُمْرَةَ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟ فَقَالَ:" قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ".
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا ہم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے بیت اللہ کا طواف عمرہ کے لیے کیا لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کی، کیا ایسا شخص (بیت اللہ کے طواف کے بعد) اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے سات مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی، پھر صفا اور مردہ کی سعی کی اور تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ (الاحزاب: 21)
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2959  
´طواف کے بعد کی دو رکعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، پھر طواف کی دونوں رکعتیں پڑھیں۔ وکیع کہتے ہیں: یعنی مقام ابراہیم کے پاس، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف نکلے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2959]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
طواف کعبہ سات چکروں سے پورا ہوتا ہے۔

(2)
طواف کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنی چاہیے۔

(3)
طواف کی دو رکعتیں مقام ابراہیم کے قریب ادا کرنا سنت ہے۔
اگر وہاں جگہ نہ ہوتو مسجد حرام میں کسی اور مناسب جگہ پر بھی ادا کی جاسکتی ہے۔

(4)
بعض لوگ لاعلمی کی وجہ سے مقام ابراہیمی کی طرف منہ کرتے ہیں اگرچہ کعبہ کی طرف رخ نہ رہے یہ غلط ہے۔
نماز کے لیے کعبہ کی طرف منہ کرنا چاہیے۔
مقام ابراہیم سامنے ہو یا نہ ہو۔

(5)
صفا اور مروہ کے درمیان سعی طواف کعبہ کے بعد کی جاتی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2959   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:395  
395. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، ان سے ایک شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے بیت اللہ کا طواف کیا لیکن صفا اور مروہ کے درمیان ابھی سعی نہیں کی، تو کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آ سکتا ہے؟ انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ (ایک دفعہ) مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے، پھر آپ نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھیں، اس کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی فرمائی۔ یقینا رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:395]
حدیث حاشیہ:
اس عنوان سے امام بخاری ؒ کےکئی ایک مقاصد ہیں:
ایک تو مقام ابراہیم کی تعین ہے، کیونکہ اس کے متعلق اختلاف ہے۔
بعض کے نزدیک بیت اللہ، مسجدحرام، حرم پاک یا مقامات حج سب مقام ابراہیم ہیں۔
امام بخاری ؒ نے اس کی تعین کردی کہ اس سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔
دوسرا یہ کہ ارشاد باری تعالیٰ ميں امر وجوب كے ليے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے کہ مقام ابراہیم کے پاس طواف کی دو رکعت پڈھنا بہتر ہے، واجب نہیں، تیسرا یہ کہ مصلی کا تعین کرنا ہے کہ اس سے مراد جائے نماز ہے، یعنی اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھناہے، وہ اس طرح کہ استقبال کعبہ بھی برقراررہے۔
چوتھا یہ کہ حکم صرف طواف کی دورکعت کے لیے ہے تمام نمازوں کے لیے نہیں، چنانچہ ان تمام مقاصد کے لیے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد مقام ابراہیم ؑ کے پیچھے کھڑے ہوکر دورکعت اداکیں جوتحیہ طواف ہیں۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ابراہیم کے پاس حکم نماز کے باوجود استقبال کعبہ کی فرض کی تاکید میں فرق نہیں آیا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہوکرنماز پڑھنے کے باوجود استقبال کعبہ کو ترک نہیں فرمایا۔
چونکہ اس روایت میں سائل کے سوال کا جواب دو ٹوک الفاظ میں نہیں تھا بلکہ حضرت ابن عمر ؓ نے اشارہ کردیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا عمل مبارک یہ ہے۔
اب تم خود غور کرو کہ صفا اور مروہ کی سعی سے پہلے بیوی سے صحبت کرناجائز ہے یا نہیں؟اس لیے امام بخاریؒ نے روایت جابر بن عبداللہ ؓ کو پیش فرمایا جس میں صراحت ہے کہ صفا اور مروہ کی سعی سے پہلے کسی صورت میں بیوی سے مقاربت نہ کی جائے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 395