صحيح البخاري
كِتَاب الْمَغَازِي -- کتاب: غزوات کے بیان میں
39. بَابُ غَزْوَةُ خَيْبَرَ:
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4199
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ , فَقَالَ: أُكِلَتِ الْحُمُرُ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ , فَقَالَ: أُكِلَتِ الْحُمُرُ؟، فَسَكَتَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ , فَقَالَ: أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ؟ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ:" إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ"، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آنے والے نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ اس پر آپ نے خاموشی اختیار کی پھر دوبارہ وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ بھی خاموش رہے ‘ پھر وہ تیسری مرتبہ آئے اور عرض کیا کہ گدھے ختم ہو گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے اعلان کرایا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع کرتے ہیں۔ چنانچہ تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھیں۔
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 69  
´گدھے کے جوٹھے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی آیا اور اس نے کہا: اللہ اور اس کے رسول تم لوگوں کو گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 69]
69۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ جنگ خیبر کی بات ہے جب مسلمانوں نے نبیٔ اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر اور غنیمت تقسیم ہونے سے پہلے گدھے پکڑ کر ذبح کر لیے تھے بلکہ ان کا گوشت پکانا شروع کر دیا تھا۔
➋ امام نسائی رحمہ اللہ نے شاید اس روایت کے الفاظ «إِنَّهَا رِجْسٌ» سے گدھے کے جوٹھے کے پلید ہونے پر استدلال کیا ہے، مگر جو اس کے جوٹھے کی طہارت کے قائل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اکثر گدھے کو بطور سواری استعمال کیا ہے، ظاہر ہے اس کا لعاب اور پسینہ وغیرہ کپڑوں کو لگتا ہو گا اور آپ نے کبھی بھی گدھے کے لعاب سے پرہیز کا حکم نہیں دیا اور یہی بات امت کے حق میں زیادہ بہتر ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ امت سے تنگی کو دور کرنے ہی کی کوشش کی ہے اور یسروا ولاتعسروا کی تلقین کرتے رہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 69   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4199  
4199. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک آنے والے نے آ کر کہا: گدھوں کا گوشت کھایا جا رہ ہے۔ اس پر آپ نے خاموشی اختیار کی۔ پھر وہ دوبارہ آیا اور کہا: گدھوں کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ آپ ﷺ اس مرتبہ بھی خاموش رہے۔ پھر وہ تیسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ گدھے ختم ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ایک منادی کے ذریعے سے اعلان کرایا: اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں، چنانچہ اس (اعلان) کے بعد تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں، حالانکہ ان میں گوشت پک رہا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4199]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عمر ؓ سے بھی خیبر کے دن گدھوں کے گوشت کی حرمت مروی ہے۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5521)
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ اس دن رسول اللہ ﷺ نے نکاح متعہ اور گدھوں کا گوشت حرام قراردیا۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5523)
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؓ نے گدھوں کا گوشت حرام قراردیا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5524)
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید ؓ سے کہا:
لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گدھوں کے گوشت سے منع فرمایاتھا؟ انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بصرے میں حکم بن عمرو غفاری بھی یہی کہتے ہیں لیکن علم کے سمندر حضرت ابن عباس ؓ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ یہ آیت پڑھتے ہیں:
کہہ دیجئے!جو وحی میری طرف آئی ہے، اس میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام کی گئی ہو۔
(الأنعام 145: 6۔
وصحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5529)

اس مسئلے کی مزید وضاحت کتاب الذبائح میں بیان ہوگی۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4199