مسند عبدالرحمن بن عوف
متفرق
9. حديث إبراهيم بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه
جناب ابراہیم کی اپنے باپ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے حدیث
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي: ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِطَعَامٍ، فَقَالَ: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ - وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي - فَلَمْ نَجِدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ بِهِ إِلَا بُرْدَةً، وَقُتِلَ حَمْزَةُ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ بِهِ إِلَا بُرْدَةً، أَوْ رَجُلٍ آخِرَ - شَكَّ فِي حَمْزَةَ أَوْ رَجُلٍ آخِرَ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي فَلَمْ نَجِدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَا بُرْدَةً، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي.
ابراہیم ابن سعد نے بیان کیا، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے دادا سے۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دن کھانا رکھا گیا، انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر شہید ہوئے۔ وہ مجھ سے بہتر تھے اور ہمارے پاس ایک چادر کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی جس سے انہیں کفن دیا جاتا۔ اور حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے تو کفن کے لیے ایک چادر کے علاوہ کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ (راوی کو) شک لاحق ہوا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا یا کسی اور آدمی کے بارے میں کہا کہ وہ مجھ سے بہتر تھے۔ ہمارے پاس کفن کے لیے ایک چادر کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔ فرمایا: میں (اللہ تعالیٰ سے) ڈرتا ہوں کہیں ہمیں پاکیزہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ہی نہ دے دی جائیں (اور آخرت میں ہمارے لیے کچھ بھی نہ ہو) پھر وہ رونے لگے۔