مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الطهارة -- طہارت اور پاکیزگی کے احکام و مسائل

کوئی چیز حائضہ کو لگ جائے تو ناپاک نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 106
اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانْ، نَا الشَّیْبَانِیُّ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَیْمُوْنَة، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَاَنَا اِلٰی جَنْبِهٖ، فَیُصِیْبُ ثَوْبِیْ ثِیَابَهٗ اِذَا سَجَدَ، وَاَنَا حَائِضٌ.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو میرا کپڑا آپ کے کپڑے کو لگ جاتا، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔

تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الحيض، باب جواز غسل راس زوجها الخ، رقم: 298. سنن ابوداود، كتاب الطهارة، باب فى الحائض تناول من المسجد، رقم: 261. سنن ترمذي، رقم: 134. مسند احمد: 45/1»
   الشيخ حافظ عبدالشكور ترمذي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مسند اسحاق بن راهويه 106  
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو میرا کپڑا آپ کے کپڑے کو لگ جاتا، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:106]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز حائضہ کو لگ جائے تو وہ ناپاک نہیں ہوتی، یہ سختی اس امت میں نہیں ہے جیسا کہ یہودیوں کا نظریہ تھا۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہوجاتی تو وہ اس کے ساتھ کھانا پینا اور گھروں میں میل جول رکھنا چھوڑ دیتے تھے۔ صحابہ کرام نے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ﴾ (البقرۃ: 2؍222) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان سے ہر طرح کا فائدہ اٹھا سکتے ہو، البتہ جماع وہم بستری نہیں کرسکتے۔ (مسلم، رقم:302۔ سنن ابي داود، رقم: 258)
   مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 106