صحيح البخاري
كِتَاب الْمَغَازِي -- کتاب: غزوات کے بیان میں
44. بَابُ عُمْرَةُ الْقَضَاءِ:
باب: عمرہ قضاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 4254
ثُمَّ سَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ، قَالَ عُرْوَةُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، فَقَالَتْ:" مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدُهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ".
‏‏‏‏ پھر ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے (اپنے گھر میں) مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ نے ان سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! آپ نے سنا ہے یا نہیں، ابوعبدالرحمٰن (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے تھے جس میں سے ایک رجب میں کیا تھا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی عمرہ کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ تھے لیکن آپ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4254  
4254. پھر ہم نے حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے مسواک کرنے کی آواز سنی۔ حضرت عروہ نے ان سے پوچھا: اے ام المومنین! کیا آپ نے ابو عبدالرحمٰن (حضرت عبداللہ بن عمر ؓ) کی بات نہیں سنی؟ کہ نبی ﷺ نے چار عمرے کیے ہیں ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: نبی ﷺ نے جب بھی عمرہ کیا تو عبداللہ بن عمر ؓ آپ کے ہمراہ تھے لیکن آپ نے ماہ رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4254]
حدیث حاشیہ:
حضرت عائشہ ؓ کی یہ بات سن کر حضرت ابن عمر ؓ خاموش ہوگئے۔
اس سے حضرت عائشہ ؓ کی بات کا صحیح ہونا ثابت ہوا۔
(قسطلانی)
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4254   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4254  
4254. پھر ہم نے حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے مسواک کرنے کی آواز سنی۔ حضرت عروہ نے ان سے پوچھا: اے ام المومنین! کیا آپ نے ابو عبدالرحمٰن (حضرت عبداللہ بن عمر ؓ) کی بات نہیں سنی؟ کہ نبی ﷺ نے چار عمرے کیے ہیں ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: نبی ﷺ نے جب بھی عمرہ کیا تو عبداللہ بن عمر ؓ آپ کے ہمراہ تھے لیکن آپ نے ماہ رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4254]
حدیث حاشیہ:

حضرت عائشہ ؓ نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی کسی بات کا انکار نہیں کیا، صرف اس بات کی وضاحت کی کہ آپ نے کوئی عمرہ رجب میں نہیں کیا۔
یہ و ضاحت سن کر حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ خاموش ہو گئے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے بھول کر یا سہواً یہ بات کہہ دی تھی لہٰذا یہ کہنا صحیح نہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی بات مثبت ہے اور حضرت عائشہ ؓ اس کی نفی کرتی ہیں لہٰذامثبت نافی سے مقدم اور راجح ہوتا ہے۔
یہ اصول اپنی جگہ پر صحیح ہے لیکن اس کامحل متعین ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے متعلق محدثین نے تیرہ نسیانات کو جمع کیا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عمرہ رجب میں کیا تھا۔
حضرت عائشہ ؓ کا اعتراض تعداد پر نہیں تھا بلکہ ماہ رجب میں عمرہ کرنے پر تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمٰن ؓ پر رحم فرمائے۔
رسول اللہ ﷺ نے کوئی عمرہ رجب میں نہیں کیا۔
(صحیح البخاري، العمرة، حدیث: 1776۔
)

   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4254