الادب المفرد
كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ -- كتاب الوالدين
1. بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى‏:‏ ﴿‏‏وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا‏﴾ (العنكوت: 8)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے متعلق کہ ”ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیکی کا حکم دیا۔“
حدیث نمبر: 1
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْن مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ حَامِدِ بْنِ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ الجْبَّارِ البُخَارِيُّ المَعْرُوفُ بِابْنِ النَّيَازِكِيِّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ فَأَقْرَّ بِهِ قَدِمَ عَلَيْنَا حَاجًا فِي صَفَرَ سَنَةَ سَبْعِينَ وَثَلاثِمِئَةٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَناَ أَبُو الْخَيْرِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمِّدِ بْنِ الجَلِيلِ بْنِ خَالِدِ بْنِ حُرَيْثٍ البُخَارِيُّ الْكِرْمَانِيُّ الْعَبْقَسِيُّ البَزَّارُ سَنَة اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَثَلاَثِمِئَةٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ المُغَيرَةِ بْنِ الأَحْنَفِ الْجُعْفِيُّ البُخَاِرُّي قال‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ‏:‏ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ‏:‏ حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا، قُلْتُ‏:‏ ثُمَّ أَيٌّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ‏:‏ ثُمَّ أَيٌّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي بِهِنَّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي‏.‏
عمرو بن شیبانی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ ہمیں اس گھر والے نے بتایا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے کہا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ کے رستے میں جہاد کرنا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے انہی سوالوں پر اکتفا کیا، اگر میں مزید درخواست کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید چیزیں بتا دیتے۔

تخریج الحدیث: «أخرجه المصنف فى الصحيح، كتاب مواقيت الصلاة، رقم: 527، و كتاب الأدب، رقم: 5970، صحيح مسلم، كتاب الإيمان، رقم الحديث: 254، سنن النسائي، رقم: 610، 611»

قال الشيخ الألباني: صحیح