الادب المفرد
كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ -- كتاب الوالدين
2. بَابُ بِرِّ الأُمِّ
والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
حدیث نمبر: 3
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أُمَّكَ“، قُلْتُ‏:‏ مَنْ أَبَرُّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أُمَّكَ“، قُلْتُ‏:‏ مَنْ أَبَرُّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أُمَّكَ“، قُلْتُ‏:‏ مَنْ أَبَرُّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أَبَاكَ، ثُمَّ الأَقْرَبَ فَالأَقْرَبَ‏.“‏
حضرت بہز بن حکیم اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: (پھر) کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ سے، پھر اس کے بعد جو تیرا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریبی ہو۔

تخریج الحدیث: «حسن: الارواء: 2232، 829، الترمذي، كتاب البر والصلة، باب ماجاء فى بر الوالدين، رقم: 1897»

قال الشيخ الألباني: حسن