الادب المفرد
كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ -- كتاب الوالدين
4. بَابُ بِرِّ وَالِدَيْهِ وَإِنْ ظَلَمَا
والدین کے ظلم کے باوجود ان سے حسن سلوک کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْقَيْسِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ لَهُ وَالِدَانِ مُسْلِمَانِ يُصْبِحُ إِلَيْهِمَا مُحْتَسِبًا، إِلاَّ فَتْحَ لَهُ اللّٰهُ بَابَيْنِ يَعْنِي‏:‏ مِنَ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدٌ، وَإِنْ أَغْضَبَ أَحَدَهُمَا لَمْ يَرْضَ اللّٰهُ عَنْهُ حَتَّى يَرْضَى عَنْهُ، قِيلَ‏:‏ وَإِنْ ظَلَمَاهُ‏؟‏ قَالَ‏:‏ وَإِنْ ظَلَمَاهُ‏.‏
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے: جس مسلمان کے ماں باپ بحالت اسلام زندہ ہوں، اور وہ اپنی صبح کا آغاز ان کے ساتھ حسن سلوک سے کرتا ہو، اور یہ کام وہ ثواب کی نیت سے کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھول دیتا ہے۔ اگر والدین میں سے ایک ہو، تو ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ اور اگر ان کو ناراض کر دے تو اللہ تعالیٰ اس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک وہ اس سے راضی نہیں ہو جاتے۔ کسی نے کہا: اگر وہ اس پر ظلم کرتے ہوں تو؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگرچہ وہ ظلم کرتے ہوں۔

تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه ابن المبارك فى الزهد: 31 و ابن أبى شيبه: 25407 و البيهقي فى شعب الإيمان: 2537»

قال الشيخ الألباني: ضعیف