الادب المفرد
كِتَابُ -- كتاب
283. بَابُ مَنْ دَعَا بِطُولِ الْعُمُرِ
لمبی عمر کی دعا کرنا
حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، أَهْلَ الْبَيْتِ، فَدَخَلَ يَوْمًا، فَدَعَا لَنَا، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: خُوَيْدِمُكَ أَلا تَدْعُو لَهُ؟ قَالَ: ”اللَّهُمَّ، أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ حَيَاتَهُ، وَاغْفِرْ لَهُ“، فَدَعَا لِي بِثَلاثٍ، فَدَفَنْتُ مِائَةً وَثَلاثَةً، وَإِنَّ ثَمَرَتِي لَتُطْعِمُ فِي السَّنَةِ مَرَّتَيْنِ، وَطَالَتْ حَيَاتِي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنَ النَّاسِ، وَأَرْجُو الْمَغْفِرَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر والوں کے پاس تشریف لایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے لیے دعا کی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ اپنے ننھے خادم کے لیے دعا نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ، أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ حَيَاتَهُ، وَاغْفِرْ لَهُ.» اے اللہ! اسے مال اور اولاد کی کثرت سے نواز، اس کی عمر لمبی فرما اور اسے بخش دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی میرے لیے دعا کی۔ چنانچہ میں اپنی اولاد سے ایک سو تین کو دفن کر چکا ہوں۔ اور مال کی کثرت کا حال یہ ہے کہ میرے پهل سال میں دو مرتبہ کھائے جاتے ہیں اور عمر اس قدر دراز ہوئی کہ اب مجھے لوگوں سے شرم آتی ہے اور میں مغفرت کی امید بھی رکھتا ہوں۔

تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن سعد فى الطبقات: 19/7 و رواه البخاري: 1982 و مسلم مختصرًا: 2481 - انظر الصحيحة: 2241، 2541»

قال الشيخ الألباني: صحيح
  الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 653  
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس روایت سے معلوم ہوا کہ اگر صحت اور ایمان کی سلامتی ہو تو لمبی عمر بہت اچھی ہے کیونکہ نیکی کا موقع زیادہ ملتا ہے۔ تاہم بے کار عمر کہ جس میں انسان اللہ کی بندگی نہ کرسکے اس سے اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔
(۲) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجے میں بہت نوازا گیا اور ان کے مال و جان میں خوب برکت دی گئی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ایک سو بیس سے چند زائد بیٹے اور بیٹیاں حجاج بن یوسف کے دور تک فوت ہوچکے تھے جبکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ خود زندہ تھے۔ فوت ہونے کی وجہ ۹۶ ہجری میں پھیلنے والا طاعون بنا جس میں تین دن میں ستر ہزار لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ان کے لڑکے، لڑکیاں اور آگے ان کی اولاد ان کی زندگی میں ایک سو سے زائد تھی۔ کثیر تعداد میں اولاد اک والدین کی زندگی میں فوت ہو جانا برکت کے منافي نہیں کیونکہ دنیا میں مصیبت پہنچے اور آدمی صبر کرے تو اجر و ثواب ملتا ہے اور آخرت میں بھی نا بالغ فوت ہونے والی اولاد مفید ثابت ہو گی۔ (مزید دیکھیں، فتح الباری:۴؍ ۲۲۹)
(۳) ابن قتیبہ وغیرہ نے لکھا ہے کہ بصرہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی چند افراد ایسے تھے کہ جنہوں نے اپنی زندگی میں سو بیٹے دیکھے! ان میں ابوبکرہ، خلیفہ بن بدر اور مہلب بن ابی صفرہ شامل ہیں۔ (فضل اللہ الصمد)
   فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 653