سنن دارمي
من كتاب البيوع -- خرید و فروخت کے ابواب
42. باب لاَ رِبَا إِلاَّ في النَّسِيئَةِ:
سود صرف ادھار دینے میں ہے
حدیث نمبر: 2616
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْر، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "إِنَّمَا الرِّبَا فِي الدَّيْنِ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: مَعْنَاهُ: دِرْهَمٌ بِدِرْهَمَيْنِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود صرف قرض کی صورت میں ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یعنی (ایک) درہم کے بدلے دو درہم ادا کرے۔ (تو سود ہے)۔

تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2622]»
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2178، 2179]، [مسلم 1596]، [نسائي 4594]، [ابن ماجه 2257]، [ابن حبان 5023]، [الحميدي 555]

وضاحت: (تشریح حدیث 2615)
اس کی صورت یہ ہے کہ ایک درہم کسی کو ادھار دے اور کہے کہ ایک ماہ بعد دو درہم ادا کرنے ہوں گے، سو یہ عین سود ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما صرف اسی کو ربا (سود) سمجھتے تھے کہ ایک جنس ادھار فروخت کی جائے تب ہی ربا ہوگی، اگر تفاضل کے ساتھ ایک درہم دو درہم کے بدلے نقد بیچے تو جائز و درست ہے، اس پر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ وغیرہ نے اعتراض کیا تو انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور تمام صحابہ کا اجماع اس پر ہو گیا کہ ادھار اور تفاضل ایک جنس میں سود و بیاج کا سبب ہے۔
بعض علماء نے کہا: «لا ربا إلا فى النسئية» منسوخ ہے، اور بعض نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس قول سے رجوع کر لیا تھا۔