صحيح البخاري
كِتَاب النِّكَاحِ -- کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
74. بَابُ مَنْ أَجَابَ إِلَى كُرَاعٍ:
باب: جس نے بکری کے کھر کی دعوت کی تو اسے بھی قبول کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 5178
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے بکری کے کھر کی دعوت دی جائے تو میں اسے بھی قبول کروں گا اور اگر مجھے وہ کھر بھی ہدیہ میں دیئے جائیں تو میں اسے قبول کروں گا۔
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 780  
´روزہ دار دعوت قبول کرے اس کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت ملے تو اسے قبول کرے، اور اگر وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ دعا کرے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 780]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی صاحب طعام کے لیے برکت کی دعا کرے،
کیو نکہ طبرانی کی روایت میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے واردہے جس میں ((وَإِنْ كَانَ صَائِمََا فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ)) کے الفاظ آئے ہیں،
باب کی حدیث میں ((فَلْیُصَلِّ)) کے بعد يعني الدعاء کے جو الفاظ آئے ہیں یہ ((فَلْیُصَلِّ)) کی تفسیر ہے جو خود امام ترمذی نے کی ہے یا کسی اور راوی نے،
مطلب یہ ہے کہ یہاں نماز پڑھنا مراد نہیں بلکہ اس سے مراد دعا ہے،
بعض لوگوں نے اسے ظاہر پر محمول کیا ہے،
اس صورت میں اس حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرے اس کے گھر جائے اور گھر کے کسی کونے میں جا کر دو رکعت نماز پڑھے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں پڑھی تھی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 780   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2460  
´روزہ دار کو ولیمہ کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو اس کے حق میں دعا کر دے۔‏‏‏‏ ہشام کہتے ہیں: «صلاۃ» سے مراد دعا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2460]
فوائد ومسائل:
مسلمانوں کو موقع بموقع آپس میں دعوتوں کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے، اس سے آپس کے تعلقات مضبوط ہوتے اور محبتیں بڑھتی ہیں۔
روزے دار بھی دعوت میں شریک ہو اور ان کے لیے دعا کرے۔
اگر روزہ نفلی ہو تو توڑنا جائز ہے۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2460   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5178  
5178. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر مجھے سری پائے کی دعوت دی جائے تو میں اسے ضرور قبول کروں گا۔ اور اگر مجھے سری پائے کا ہدیہ دیا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5178]
حدیث حاشیہ:
کیسا ہی کم حصہ ہو میں لے لوں گا کسی مسلمان کی دل شکنی نہ کروں گا۔
یہی وہ اخلاق حسنہ تھے جس کی بنا پر اللہ نے آپ کو ﴿وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ (القلم: 4)
سے نوازا۔
غریبوں کی دعوت میں نہ جانا، غریبوں سے نفرت کرنا، یہ فرعونیت ہے ایسے متکبر لوگ خدا کے نزدیک مچھر سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5178   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5178  
5178. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر مجھے سری پائے کی دعوت دی جائے تو میں اسے ضرور قبول کروں گا۔ اور اگر مجھے سری پائے کا ہدیہ دیا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5178]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ دعوت ولیمہ میں اگر صرف سری پائے ہی کا اہتمام ہو تو بھی اسے ضرور قبول کرنا چاہیے۔
اسے ٹھکرانے سے اجتناب کرنا ہوگا۔
(2)
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال تواضع اور حسن خلق کا پتا چلتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت قبول کرنے کی رغبت اس لیے دلائی ہے کہ یہ محبت و الفت میں اضافے کا باعث ہے، نیز دعوت کا اہتمام کرنے والے کے لیے خوشی و مسرت کا ذریعہ ہے، نیز آپس میں مل بیٹھنے کا بہترین موقع ہے۔
(فتح الباري: 306/9)
بہرحال کسی وقت بھی اپنے بھائی کی دل شکنی نہیں کرنی چاہیے اگرچہ وہ معمولی چیز کی دعوت دے۔
غریبوں کی دعوت میں نہ جانا اور ان سے نفرت کرنا یہ فرعونیت ہے۔
ایسے متکبر لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں کیڑے مکوڑوں سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔
والله المستعان
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5178