مشكوة المصابيح
كتاب البيوع -- كتاب البيوع

نر کو مادہ پرچھوڑنے کی اجرت لینا منع ہے
حدیث نمبر: 2866
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِلَابٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ فَنَهَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُطْرِقُ الْفَحْلَ فَنُكْرَمُ فَرَخَّصَ لَهُ فِي الْكَرَامَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کلاب قبیلے کے ایک آدمی نے نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے بارے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے اسے منع کیا، تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تو جفتی کراتے ہیں لیکن (بن مانگے) ہدیہ کے طور پر ہمیں نوازا جاتا ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ہدیۃً رکھنے کی اجازت دے دی۔ صحیح، رواہ الترمذی۔

تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1274 وقال: حسن غريب)»

قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته