صحيح البخاري
كِتَاب الْأَشْرِبَةِ -- کتاب: مشروبات کے بیان میں
16. بَابُ الشُّرْبِ قَائِمًا:
باب: کھڑے کھڑے پانی پینا۔
حدیث نمبر: 5617
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مِنْ زَمْزَمَ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عاصم احول نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3422  
´کھڑے ہو کر پینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا، تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ۱؎۔ شعبی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عکرمہ سے بیان کی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3422]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
عکرمہ نے اپنی معلومات کے مطابق بیان کیا ایسے معاملات میں اثبات کی خبر کو نفی کی خبر پر ترجیح دی جاتی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3422   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1882  
´کھڑے ہو کر پینے کی رخصت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر زمزم کا پانی پیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1882]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ممکن ہے ایسا نبی اکرم ﷺ نے بیان جواز کے لیے کیا ہو،
اس کا بھی امکان ہے کہ بھیڑبھاڑ کی وجہ سے بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی ہو،
یا وہاں خشک جگہ نہ رہی ہو،
اس لیے آپ نہ بیٹھے ہوں،
یہ عام خیال بالکل غلط ہے کہ زمزم کا پانی کھڑے ہوکر پینا سنت ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1882   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5617  
5617. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5617]
حدیث حاشیہ:
آداب زمزم سے ہے کہ کعبہ رخ کھڑے ہو کر اسے پیا جائے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ دعا پڑھی جائے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ۔
(مستدرك حاکم)
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5617   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5617  
5617. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5617]
حدیث حاشیہ:
(1)
جمہور اہل علم کے نزدیک کھڑے کھڑے پانی پینے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ کوئی عذر بیٹھنے سے مانع ہو۔
(2)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کھڑے کھڑے پانی پینے پر جھڑکا۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5277 (2025)
جمہور اہل علم کے نزدیک یہ نہی تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے، تاہم بیٹھ کر پانی پینا بہتر ہے۔
(3)
جو حضرات کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ خیال کرتے ہیں، ان کے نزدیک بھی وضو سے بچا ہوا پانی اور آب زمزم کھڑے ہو کر پینا سنت ہے، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے واقعے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث میں اس امر کی صراحت ہے۔
واللہ أعلم
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5617