صحيح البخاري
كِتَاب الدَّعَوَاتِ -- کتاب: دعاؤں کے بیان میں
67. بَابُ قَوْلِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ:
باب: «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہنا۔
حدیث نمبر: 6409
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقَبَةٍ، أَوْ قَالَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ: فَلَمَّا عَلَا عَلَيْهَا رَجُلٌ نَادَى، فَرَفَعَ صَوْتَهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا"، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو سلیمان بن طرخان تیمی نے خبر دی، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی یا درے پر چڑھنے لگے۔ بیان کیا کہ جب ایک اور صحابی بھی اس پر چڑھ گئے تو انہوں نے بلند آواز سے «لا إله إلا الله والله أكبر‏.‏» کہا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے۔ پھر فرمایا، ابوموسیٰ یا تو یوں (فرمایا) اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ میں نے عرض کیا، ضرور ارشاد فرمائیں، فرمایا کہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ۔
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3824  
´لاحول ولا قوۃ إلا باللہ کی فضیلت۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «لا حول ولا قوة إلا بالله» گناہوں سے دوری اور عبادات و طاعت کی قوت صرف اللہ رب العزت کی طرف سے ہے پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتلاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک حزانہ ہے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3824]
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل:

(1)
  یہ جملہ اللہ کے ذکر میں اہم جملہ ہےکیو نکہ اس میں اس بات کا اقرار ہےکہ ہر قوت کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے۔

(2)
اس میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد و توکل کے ساتھ ساتھ اس کے سامنے عاجزی اورمسکینی کا اظہار ہے، اور عبودیت کا یہ اظہار اللہ تعالٰی کو پسند ہے۔

(3)
نیکی کا کام انجام دے کر یا گناہ سے اجتناب کر کے دل میں فخر کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں نیکی برباد گناہ لازم کی کیفیت پیش آ سکتی ہے، اس سے بچاؤ کے لیے اس بات کی یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ یہ سب میری کوشش اور بہادری سے نہیں بلکہ محض اللہ کی توفیق اور اس کے احسان سے ہے۔

(4)
اس سوچ کے ساتھ یہ الفاظ پڑھنے سےیقینا جنت کی عظیم نعمتیں اور بلند درجات حاصل ہوں گے، اس لیے اسے جنت کا خزانہ قرار دیا گیا ہے۔

(5)
اللہ کا ذکر سری طور پر کرنا بہتر ہے کیونکہ اس میں ریا کاری نہیں ہوتی، البتہ جن مقامات پر ذکر بلند آواز کرنا مسنون ہے، وہاں بلند آواز ہی سے کرنا چاہیے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3824   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1341  
´ذکر اور دعا کا بیان`
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب ہو کر کہا اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تجھے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ جو یہ ہے «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہ برائی سے منہ موڑنا اور نیکی پر زور سوائے اللہ کی مدد کے ممکن نہیں ہے۔ (بخاری و مسلم) اور نسائی میں اتنا اضافہ ہے «ولا ملجأ من الله إلا إليه» کہ اللہ کے سوا کہیں پناہ نہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1341»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الدعوات، باب الدعاء إذا علا عقبة، حديث:6384، ومسلم، الذكر والدعاء، باب استحباب خفض الصوت بالذكر...، حديث:2704، والنسائي في الكبرٰي:6 /97، حديث:10190.»
تشریح:
اس حدیث میں بھی لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کی فضیلت کا بیان ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ چیز جس قدر نفیس اور قیمتی ہوتی ہے اس کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی اسی طرح بہت اہتمام سے کی جاتی ہے۔
اسے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔
اور یہ کلمات تو جنت کا خزانہ ہیں‘ اس لیے ان کی بھی محافظت کرنی چاہیے اور انھیں کثرت سے پڑھنا چاہیے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1341   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3374  
´دعا سے متعلق ایک اور باب​۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے جب ہم لوٹے اور ہمیں مدینہ دکھائی دینے لگا تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے تکبیر کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب بہرہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب و غیر حاضر ہے، وہ تمہارے درمیان موجود ہے، وہ تمہارے کجاؤں اور سواریوں کے درمیان (یعنی بہت قریب) ہے پھر آپ نے فرمایا: عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ «لا حول ولا قوة إلا بالله» (جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3374]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی:
جو اس کلمے کا ورد کرے گا وہ جنت کے خزانوں میں ایک خزانے کا مالک ہو جائے گا،
کیونکہ اس کلمے کا مطلب ہے برائی سے پھرنے اور نیکی کی قوت اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔
جب بندہ اس کا بار باراظہار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بے انتہا خوش ہوتا ہے،
بندے کی طرف سے اس طرح کی عاجزی کا اظہار تو عبادت حاصل ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3374   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6409  
6409. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ ایک گھاٹی یا درے میں داخل ہوئے جب ایک اور آدمی بھی اس پر چڑھا تو اس نے بآواز بلند لا إله إلا اللہ أکبر کہا: اس وقت رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے آپ نے فرمایا: تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے ابو موسیٰ عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے؟ میں نے کہا: ضرور بتائیں۔ آپ نے فرمایا: «لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6409]
حدیث حاشیہ:
لاحولَ گناہوں سے بچنے کی طاقت نہیں ہے ولا قوة اور نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے إلا باللہ مگر یہ کچھ محض اللہ کی مدد پر موقوف ہے۔
وہی انسان کے ہر حال کا مالک اور مختار ہے۔
اس کلمہ میں اللہ پاک کی عظمت وشان کا بیان ایک خاص اندازا سے کیا گیا ہے۔
اسی لئے یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے اسے جو بھی پڑھے گا اور دل میں جگہ دے گا وہ یقیناجنتی ہوگا۔
جعلنا اللہ منهم (آمین)
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6409   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6409  
6409. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ ایک گھاٹی یا درے میں داخل ہوئے جب ایک اور آدمی بھی اس پر چڑھا تو اس نے بآواز بلند لا إله إلا اللہ أکبر کہا: اس وقت رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے آپ نے فرمایا: تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے ابو موسیٰ عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے؟ میں نے کہا: ضرور بتائیں۔ آپ نے فرمایا: «لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6409]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ غزوۂ خیبر کا واقعہ ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے آہستہ آہستہ «لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» پڑھ رہا تھا تو آپ نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
(2)
واقعی اس کلمے میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان ایک خاص انداز سے بیان کی گئی ہے۔
اسے جنت کے خزانوں سے ایک خزانہ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے پڑھنے سے آخرت میں بہت زیادہ منافع کی توقع ہے، گویا یہ کلمہ ہی بہت نفیس اور عمدہ خزانہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی ایک حدیث مروی ہے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتاؤں جو عرش کے نیچے کا خزانہ ہے اور وہ «لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کلمہ کہنے والے میرے بندے نے میری اطاعت اختیار کر لی اور اس نے خود کو میرے حوالے کر دیا۔
(المستدرك للحاکم: 71/1)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6409