صحيح مسلم
مُقَدِّمَةٌ -- مقدمہ
6ق. باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الأَخْبَارِ وَقَوْلِ الأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ ‏‏
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
حدیث نمبر: 42
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَوَيْتَ عَنْهُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَوْمُ الْفِطْرِ، يَوْمُ الْجَوَائِزِ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَجَّاجِ: انْظُرْ مَا وَضَعْتَ فِي يَدِكَ مِنْهُ، قَالَ ابْنُ قُهْزَاذَ: وَسَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ زَمْعَةَ يَذْكُرُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ: رَأَيْتُ رَوْحَ بْنَ غُطَيْفٍ صَاحِبَ الدَّمِ، قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ مَجْلِسًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَحْيِي مِنْ أَصْحَابِي، أَنْ يَرَوْنِي جَالِسًا مَعَهُ، كُرْهَ حَدِيثِه.
مجھے محمد بن عبد اللہ قہزاذ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عبد اللہ بن مبارک سے کہا: یہ کون ہے جس سے آپ نے عبد اللہ بن عمرو کی حدیث: عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے۔ روایت کی؟ کہا: سلیمان بن حجاج، ان میں سے جو (احادیث) تم نے اپنے پاس (لکھ) رکھی ہیں (یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں) ان میں (اچھی طرح) نظر کرنا (غور کر لینا۔) ابن قہزاذ نے کہا: میں نے وہب بن زمعہ سے سنا، وہ سفیان بن عبد الملک سے روایت کر رہے تھے، کہا: عبد اللہ، یعنی ابن مبارک نے کہا: میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے۔ میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے-
عبداللہ بن عثمان بن جبلہؒ کہتے ہیں، میں نے امام عبداللہ بن مبارکؒ سے پوچھا: یہ انسان کون ہے، جس سے آپ حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی یہ حدیث بیان کرتے ہیں؟: عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے۔ انھوں نے کہا: وہ سلیمان بن حجاج ہے، دیکھو میں نے اس سے تیرے ہاتھ میں کیسی چیز رکھ دی ہے! یعنی وہ ثقہ ہے، اور اس نے بہت عمدہ حدیث سنائی ہے۔

تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18927 و 18928)» ‏‏‏‏
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 42  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
پوری حدیث اس طرح ہے:
جب فطر کا دن ہوتا ہے،
فرشتے گلیوں اور راستوں کے آغاز میں کھڑے ہو کر آواز دیتے ہیں اے مسلمانوں کی جماعت! مہربان رب کی طرف چلو،
جو خیر کا حکم دیتا ہے اور اس پر بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔
اس کے حکم سے تم نے روزے رکھے،
اس طرح تم نے اپنے رب کی اطاعت کی،
اب اپنے انعامات قبول کرو،
چنانچہ جب وہ عید سے فارغ ہوجاتے ہیں،
آسمان سے منادی کرنے والا آواز لگاتا ہے،
راہ یاب ہوکر اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ! میں نےتمہیں تمہارے سارے گناہ معاف کردیئے ہیں،
اور اس دن کو انعامات کا دن کہا جاتا ہے۔
نیز سفیانؒ کہتے ہیں،
عبداللہ بن مبارکؒ نے کہا:
میں نے روح بن غطیف کو دیکھا،
جو درہم کے بقدر خون والی روایت بیان کرتا ہے۔
یعنی:
یہ روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اگر کسی کو درہم کے برابر خون لگ جائے،
تو وہ نئے سرے سے نماز پڑھے۔
اور یہ بے اصل حدیث ہے،
امام نووی لکھتے ہیں:
"هُوَ حَدِيْثٌ بَاِطلٌ لَا أَصْلَ لَهُ عِنْدَ الْمُحَدِّثِيْنَ" محدیثین کے نزدیک یہ حدیث باطل اور بے بنیاد ہے،
کیونکہ روح ضعیف اورمنکر الحدیث ہے۔
امام ابن مبارکؒ کہتے ہیں:
میں اس کے پاس ایک مجلس میں بیٹھا،
تو مجھے اپنے ساتھیوں سے شرم وحیا محسوس ہوئی کہ وہ مجھے اس کے پاس بیٹھا دیکھ لیں (تو کیا کہیں گے)
،
کیونکہ وہ اس سے حدیث لینا ناپسند کرتے ہیں۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 42