مسند احمد
مسند النساء -- 0
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
0
حدیث نمبر: 26137
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟" فَقُلْنَا: لَا , هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ" فَفَعَلْنَا , فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ , ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟" فَقُلْنَا: لَا , هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ" فَفَعَلْنَا , فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ , ثُمَّ أَفَاقَ , فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟" فَقُلْنَا: لَا , هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ , فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ , وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا , فَقَالَ: يَا عُمَرُ , صَلِّ بِالنَّاسِ , فَقَالَ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ , فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ , ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً , فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ , فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ , فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لَا تَتَأَخَّرَ , وَأَمَرَهُمَا , فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ , فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا , فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , فَقُلْتُ: أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ هَاتِ , فَحَدَّثْتُهُ , فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ قُلْتُ لَا , قَالَ هُوَ عَلِيٌّ .
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے بارے کچھ بتائیں گی؟ فرمایا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت جب بوجھل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟ ہم نے کہا نہیں، یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے ایک ٹب میں پانی رکھو، ہم نے ایسے ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور جانے کے لئے کھڑے ہونے ہی لگے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بےہوشی طاری ہوگئی، جب افاقہ ہوا تو پھر یہی سوال پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟ ہم نے حسب سابق وہی جواب دیا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ نماز عشاء کے لئے مسجد میں بیٹھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے رقیق القلب آدمی تھے، کہنے لگے اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، انہوں نے کہا اس کے حقدار تو آپ ہی ہیں، چنانچہ ان دنوں میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے وقت دو آدمیوں کے درمیان نکلے جن میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور اپنے ساتھ آنے والے دونوں صاحبوں کو حکم دیا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سماعت کے بعد ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے یہاں آیا ہوا تھا، میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے سنائی ہے؟ انہوں نے کہا ضرور بیان کرو، چنانچہ میں نے ان سے ساری حدیث بیان کردی، انہوں نے اس کے کسی حصے پر نکیر نہیں فرمائی، البتہ اتنا ضرور پوچھا کہ کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس آدمی کا نام بتایا جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں۔