وحدثنا اصبغ، قال: اخبرنا ابن وهب، قال: اخبرني عمرو، عن بكير، عن كريب، عن ميمونة،" ان النبي صلى الله عليه وسلم اكل عندها كتفا، ثم صلى ولم يتوضا".وحَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا مجھے ابن وہب نے خبر دی، کہا مجھے عمرو نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے، ان کو میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا۔
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 210
´کوئی شخص ستو کھا کر صرف کلی کرے اور نیا وضو نہ کرے` «. . . عَنْ مَيْمُونَةَ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . . . .» ”. . . میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا . . .“[صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ مَنْ مَضْمَضَ مِنَ السَّوِيقِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ:: 210]
تشریح: یہاں حضرت امام رحمہ اللہ نے ثابت فرمایا کہ بکری کا شانہ کھانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں فرمایا تو ستو کھا کر بھی وضو نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلی حدیث میں ہے۔
صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 210