صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
حیض کے احکام و مسائل
29. باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُسْلِمَ لاَ يَنْجُسُ:
29. باب: مسلمان کے نجس نہ ہونے کی دلیل۔
حدیث نمبر: 824
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني زهير بن حرب ، حدثنا يحيى يعني ابن سعيد ، قال حميد حدثنا. ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة واللفظ له، حدثنا إسماعيل ابن علية ، عن حميد الطويل ، قال: حدثنا بكر بن عبد الله ، عن ابي رافع ، عن ابي هريرة ، " انه لقيه النبي صلى الله عليه وسلم في طريق من طرق المدينة، وهو جنب، فانسل، فذهب فاغتسل، فتفقده النبي صلى الله عليه وسلم، فلما جاءه، قال: اين كنت يا ابا هريرة؟ قال: يا رسول الله، لقيتني وانا جنب، فكرهت ان اجالسك حتى اغتسل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سبحان الله، إن المؤمن لا ينجس ".حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ جُنُبٌ، فَانْسَلَّ، فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، فَتَفَقَّدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَهُ، قَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے مدنیہ کی ایک راہ میں اور جنبی تھے کھسک گئے اور غسل کرنے کو چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ڈھونڈا جب وہ آئے تو پوچھا: کہاں تھے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! جس وقت آپ مجھ سے ملے میں جنبی تھا، میں نے برا جانا، آپ کے پاس بیٹھنا جب تک غسل نہ کر لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! مؤمن کہیں نجس ہوتا ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 371
   صحيح البخاري283عبد الرحمن بن صخرالمسلم لا ينجس
   صحيح البخاري285عبد الرحمن بن صخرالمؤمن لا ينجس
   صحيح مسلم824عبد الرحمن بن صخرسبحان الله إن المؤمن لا ينجس
   جامع الترمذي121عبد الرحمن بن صخرالمسلم لا ينجس
   سنن أبي داود231عبد الرحمن بن صخرسبحان الله إن المسلم لا ينجس
   سنن النسائى الصغرى270عبد الرحمن بن صخرسبحان الله إن المؤمن لا ينجس
   سنن ابن ماجه534عبد الرحمن بن صخرالمؤمن لا ينجس

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 231  
´ جنبی مصافحہ کرے اس کے حکم کا بیان`
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَأَنَا جُنُبٌ، فَاخْتَنَسْتُ، فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ . فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ، وقَالَ فِي حَدِيثِ بِشْرٍ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنِي بَكْرٌ . . . .»
. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ کے ایک راستے میں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہو گئی، میں اس وقت جنبی تھا، اس لیے پیچھے ہٹ گیا اور (وہاں سے) چلا گیا، پھر غسل کر کے واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں (چلے گئے) تھے؟، میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، اس لیے ناپاکی کی حالت میں آپ کے پاس بیٹھنا مجھے نامناسب معلوم ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! مسلمان نجس نہیں ہوتا . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب فِي الْجُنُبِ يُصَافِحُ: 231]
فوائد و مسائل:
➊ جنبی سے مساس و مصافحہ بلاشبہ جائز ہے۔
➋ اس کا پسینہ اور لعاب بھی پاک ہیں۔
➌ مسلمان کا ناپاک ہونا ایک حکمی اور عارضی کیفیت ہوتی ہے جسے «مُحدِث» کہتے ہیں، میم کے ضمہ اور دال کے کسرہ کے ساتھ، اس کے بالمقابل مشرک معنوی طور پر نجس ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ» [9-التو بة: 28]
➍ غسل جنابت کو مؤخر کیا جا سکتا ہے، مگر افضل و اولیٰ یہ ہے کہ اس دوران میں وضو کر لے۔ جیسے کہ سنن ابی داود گزشتہ باب 89 میں بیان ہوا ہے۔
➎ سبحان اللہ کا کلمہ بطور تعجب بھی استعمال ہوتا ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 231   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 270  
´جنبی کو چھونے اور اس کے ساتھ بیٹھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ان سے ملے، اور وہ اس وقت جنبی تھے، تو وہ چپکے سے نکل گئے، اور (جا کر) غسل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں پایا، تو جب وہ آئے، تو آپ نے پوچھا ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! آپ اس حالت میں ملے تھے کہ میں جنبی تھا، تو میں نے ناپسند کیا کہ بغیر غسل کئے آپ کے ساتھ بیٹھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! ۱؎ مومن ناپاک نہیں ہوتا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 270]
270۔ اردو حاشیہ:
«سبحان اللہ» کلمہ تعجب ہے۔ گویا آپ نے ان کے طرز عمل اور تخیل پر تعجب کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنبی کے لیے جنابت کے فوراًً بعد غسل کرنا ضروری نہیں ورنہ آپ ان کے کھسکنے پر تعجب نہ فرماتے بلکہ ان کی تحسین فرماتے۔
➋ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حد درجے تک آپ کی عزت و احترام کرتے تھے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی صحابی کو گم پاتے تو فوراًً اس کے متعلق دریافت فرماتے تھے۔ اس سے ہمیں یہ رہنمائی ملی کہ قوم کے بڑے کو چاہیے کہ اگر وہ اپنے ماتحتوں میں سے کسی کو گم پائے تو فوری طور پر اس کے متعلق دریافت کرے اور اگر وہ کسی آزمائش میں مبتلا ہے تو اس کے دکھ درد کا شریک بنے۔ اور اس کی رہنمائی کرے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 270   
  حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود231  
12- مردہ انسان کے طاہر یا نجس ہونے میں اختلاف ہے۔
(احناف) انہوں نے بعض صحابہ مثلاًً حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہ کے فتاوی پر عمل کرتے ہوئے مردہ انسان کو نجس قرار دیا ہے۔
(جمہور) مردہ انسان پاک ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ»
مسلمان نجس نہیں ہوتا۔ [ابي داود 231] ۱؎
(راجح) مردہ آدمی نجس نہیں ہوتا کیونکہ حدیث میں ہے:
«الْمُسْلِمُ لَا يَنْجُسُ حَيًّا وَلَا مَيِّتًا»
مسلمان نہ تو زندہ حالت میں نجس ہوتا ہے اور نہ ہی مردہ حالت میں۔ [صحیح بخاری قبل الحديث 1253] ۲؎
اور جن دلائل سے مردار کا نجس ہونا ثابت کیا جاتا ہے ان سے زیادہ سے زیادہ صرف مردار کھانے کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ مثلاًً:
«حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ» [5-المائدة:3]
اور یہ ضروری نہیں جو چیز حرام ہے وہ نجس و پلید بھی ہو جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
«حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ» [4-النساء:23]
تمہاری مائیں تم پر حرام کر دی گئیں ہیں۔ [السيل الجرار 40/1]
------------------
۱؎ [فتح القدير 72/1، الشرح الصغير 44/1، مغني المحتاج 78/1، كشاف القناع 222/1، المهذب 47/1]
۲؎ [صحيح بخاري قبل الحديث 1253، بخاري مع الفتح 127/3، المغني لابن قدامة 63/1]
* * * * * * * * * * * * * *

   فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث\صفحہ نمبر: 152   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث534  
´جنبی سے مصافحہ کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنبی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کے کسی راستے میں انہیں ملے، تو وہ چپکے سے نکل لیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غائب پایا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟، کہا: اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کے وقت میں جنبی تھا، اور بغیر غسل کئے آپ کی محفل میں بیٹھنا مجھے اچھا نہیں لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 534]
اردو حاشہ:
(1)
  جنابت ایک حکمی نجاست ہے حسی نہیں یعنی اس حالت میں انسان پر شرعی طور پر کچھ پابندیاں لگ جاتی ہیں وہ اس طرح ناپاک نہیں ہوجاتا جس طرح ظاہری نجاست لگ جانے سے جسم یا لباس کا وہ حصہ ناپاک ہوجاتا ہے جہاں نجاست لگی ہو۔

(2)
مومن کا بدن پاک ہوتا ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ اس لیے جنبی سے مصافحہ کرنا، اس کے پاس بیٹھنا، اس کا کھانا پینا سب جائز ہے۔
لیکن جنبی کے لیے کھانے پینے کے لیے وضو کرلینا مناسب ہےبلکہ اسی حالت میں سونا چاہے تب بھی وضو کرلینا افضل ہے تاکہ مکمل طھارت نہیں تو جزوی طہارت ہی حاصل ہوجائے۔ (صحیح البخاری، الغسل، باب نوم الجنب، حدیث: 287)

(3)
بزرگوں اور استادوں کو چاہیے کہ اپنے چھوٹوں اور شاگردوں کا خیال رکھیں ان کے حالات سے ضروری حد تک باخبر رہیں تاکہ حسب ضرورت ان کی مدد اور رہنمائی کرسکیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 534   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 121  
´جنبی سے مصافحہ کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان سے ملے اور وہ جنبی تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں آنکھ بچا کر نکل گیا اور جا کر میں نے غسل کیا پھر خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ یا: کہاں چلے گئے تھے (راوی کو شک ہے)۔ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا۔ آپ نے فرمایا: مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 121]
اردو حاشہ:
1؎:
اور جب پسینے میں کوئی حرج نہیں تو بغیر پسینے کے بدن کی جلد (سے پاک آدمی کے ہاتھ اور جسم کے ملنے) میں بدرجہ اولی کوئی حرج نہیں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 121