محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن ابن ماجه کی حدیث نمبر 613 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه أبو داود (٣٧٦) والنسائي (٢٢٤) وابن ماجة (٦١٣) واللّفظ له كلّهم من طريق عبد الرحمن بن مهديّ، حَدَّثَنِي يحيى بن وليد، حَدَّثَنِي مُحِلُّ بن خليفة، حَدَّثَنِي أبو السمح فذكر الحديث،
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد 376، امام نسائی 224 اور امام ابن ماجہ 613 (الفاظ ابن ماجہ کے ہیں) نے عبدالرحمن بن مہدی کے واسطے سے روایت کیا ہے، انہیں یحییٰ بن ولید نے، انہیں محل بن خلیفہ طائی نے اور انہیں ابوالسمح (خادمِ رسول ﷺ) نے بتایا، پھر حدیث ذکر کی۔
ورواه أبو داود وغيره مع زيادة: "فأُتِيَ بِحَسَن أَوْ حُسَين رضي الله عنهما فبال على صدره؛ فجئت أغسله فقال:" يُغْسلُ من بولِ الجارية، ويُرشُّ من بول الغلام ". انظر: كتاب الطهارة، باب بول الطفل الرضيع.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابوداؤد وغیرہ نے اس زیادتی کے ساتھ روایت کیا ہے کہ: "آپ ﷺ کے پاس حضرت حسن یا حسین رضی اللہ عنہما لائے گئے تو انہوں نے آپ کے سینے پر پیشاب کر دیا؛ میں اسے دھونے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا اور دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر صرف پانی چھڑکا جائے گا"۔ 📝 نوٹ / توضیح: تفصیل کے لیے 'کتاب الطہارہ' میں شیر خوار بچے کے پیشاب سے متعلق باب ملاحظہ فرمائیں۔